گھر کا قیدی (افسانہ) صبا ممتاز

رشید نے اینٹوں کو ترتیب سے لگاتے ہوئے اپنے پتھریلے ہاتھوں کو دیکھا۔کبھی کبھی تو خونی بولی بولتے تھے۔ بھٹے پر مٹی کو پتھر بناتے بناتے نرم و نازک تن سخت جاں ہوگیا تھا۔ ایک دل ہی تورہ گیا تھا۔گوشت کا یہ لوتھڑا وقت کی سختیاں سہتے سہتے اور بھی نرم ہوگیا تھا۔چھوٹی چھوٹی بات مزید پڑھیں

جنس گراں(افسانہ) ڈاکٹر شاکرہ نندنی

ڈاکٹر شاکرہ نندنی کا مشاہدہ بھرپور ہے اور ان کو ادب کا بھی علم ہے اور زبان کا بھی۔ یہاں میں بہت سے افسانے اس لیے واپس بھیج دیتا ہوں کہ اردو کے افسانے میں انگریزی کے بےشمار الفاظ محض فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں جبکہ ہماری زبان میں اس کا لفظ موجود مزید پڑھیں

خاموشی کا دائرہ (افسانہ) ڈاکٹر شاکرہ نندنی، پرتگال

اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور ادیبوں اور دانشوروں کا شہر ہے اس مٹی سے جنم لینے والے لوگوں میں بےشمار نامور لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے علم و ادب میں نام کمایا ہے اور آج بھی سند تصور کئے۔ ڈاکٹر شاکرہ نندنی ایک بہترین افسانہ نگار، شاعرہ ہیں۔ یہ ہر طرح ایک نابغہ مزید پڑھیں

گائے (افسانہ) ڈاکٹر انور سجاد

اب سے چند گھنٹے پہلے ڈاکٹر انور سجاد انتقال کر گئے۔ ادارہ ان کے لواحقین کے غم میں برابر شریک ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ان کا یہ افسانہ ان کے مداحوں کے لیے پیش کیا جا رہا مزید پڑھیں

سمجھوتہ (افسانہ) تاسوز وایشیکارا

ترجمہ: ستار طاہر “اگر تم سچ مچ اندھے ہو گئے تو میں یہ دکھ برداشت کرسکوں گی۔ تمہیں ٹھوکریں کھانے اور اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے مجھ سے تو نہ دیکھا جائے گا۔ خدا کرے ایسا نہ ہو ورنہ ہمارا تمام مستقبل تباہ ہوجائے گا۔” اس کی بیوی نے اُٹھتے بیٹھتے کبھی مدہم کبھی اونچے سروں مزید پڑھیں

سوا سیر گیہوں (افسانہ) منشی پریم چند

کسی گاؤ ں میں شنکر نامی ایک کسان رہتا تھا۔ سیدھا سادا غریب آدمی تھا۔ اپنے کام سے کام، نہ کسی کے لینے میں، نہ کسی کے دینے میں، چھکاپنجا نہ جانتا تھا۔ چھل کپٹ کی اسے چھو ت بھی نہ لگی تھی۔ ٹھگے جا نے کی فکر نہ تھی۔ ود یانہ جانتا تھا۔ کھانا مزید پڑھیں

چندہ (افسانہ) سیمیں خان درانی

سیمین خان درانی عصر حاضر میں معاشرے کی نبض پر جس طرح شناس ہیں شاید آج وہ اپنی مثال میں واحد مصنفہ ہیں تو اس قدر مشکل اور تلخ ترین حقائق کو صفحات پر اتارتی ہیں کہ پڑھنے والے بے اختیار چیخ پڑتے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ اس وقت قلم سے جہاد کرنے مزید پڑھیں

کیا یہ بدن میرا تھا؟(افسانہ) صبا ممتاز بانو

آفتاب اپنی حدت کھو چکا تھا۔ نقرئی کرنیں اس کے وجود میں پوری طرح سما چکی تھیں۔تحت ِتاریکی بچھ چکا تھا۔نرم خود روگھاس نے پانی سے رازو نیاز شروع کردیا تھا۔پیڑوں کی دنیا آباد ہو چکی تھی۔راستے کو چْپ لگتی جارہی تھی۔اکا دکا مسافر گزرتا تو دھرتی کھنکنے لگتی۔ ایسے میں ویران پگڈنڈی پر تیز مزید پڑھیں

ستاروں سے آگے (افسانہ) قرۃالعین حیدر

کرتار سنگھ نے اونچی آواز میں ایک اور گیت گانا شروع کر دیا۔ وہ بہت دیر سے ماہیا الاپ رہا تھا جس کو سنتے سنتے حمیدہ کرتار سنگھ کی پنکج جیسی تانوں سے، اس کی خوبصورت داڑھی سے، ساری کائنات سے اب اس شدت کے ساتھ بیزار ہو چکی تھی کہ اسے خوف ہو چلا مزید پڑھیں

ماں جی (افسانہ) قدرت اللہ شہاب

قدرت اللہ شہاب ماں جی کی پیدائش کا صحیح سال معلوم نہ ہو سکا۔ جس زمانے میں لائل پور کا ضلع نیا نیا آباد ہو رہا تھا، پنجاب کے ہر قصبے سے غریب الحال لوگ زمین حاصل کرنے کے لئے اس نئی کالونی میں جوق در جوق کھنچے چلے آ رہے تھے۔ عرف عام میں مزید پڑھیں

کرب (افسانہ) چیخوف

انتون چیخوف پہاڑوں سے گھرے اس گاؤں سے جہاں باکو رہتا تھا بڑے شہر کا فاصلہ پچاس کلو میٹر تھا۔ باکو ایک ترکھان تھا، خراد کی مشین اس کی زندگی کا محور تھی، اسے اپنی خراد اور اپنے ہنر پر بڑا فخر تھا۔ وہ اس خراد پر لکڑی کی خوبصورت چیزیں ایسی مہارت سے بناتا مزید پڑھیں

سبز قدم (افسانہ) صبا ممتاز بانو

خوابوں کو آنکھوں کی دہلیز کا راستہ پار نہ کرنے دیا جائے تو زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پیڑوں پر گیت گاتے پرندے خوشی کی نوید دیتے ہیں تو پتوں پر پھوٹنے والی کونپلیں تخلیق کی اہمیت کا احساس دلاتی ہیں۔ مامتا کا جذبہ بھی عورت کے اندر کونپل کی طرح پھوٹتا ہے اور مزید پڑھیں