شیشہ (ایک پُرتگالی کہانی) ڈاکٹر شاکرہ نندنی

کہتےھیں کہ ایک بادشاہ نےایک عظیم الشان محل تعمیر کروایا جس میں ھزاروں آئینےلگائےگئےتھےایک مرتبہ ایک کتا کسی نہ کسی طرح اس محل میں جا گھسا رات کےوقت محل کا رکھوالا محل کا دروازہ بند کر کےچلا گیالیکن وہ کتا محل میں ھی رہ گیا کتے نےجب چاروں جانب نگاہ دوڑائی تو اسےچاروں طرف ھزاروں مزید پڑھیں

وہ …….. (افسانہ) ڈاکٹر شاکرہ نندنی

اسکے قدم پھر لاہور کی ہیرا منڈی کی جانب اٹھ رہے تھے وہ مجبور تھا ‘ وہ اپنے قدم روک رہا تھا مگر اسکا جسم اسے کھینچ کر وہاں لے جا رہا تھا ” کہ چل تیری ضرورت صرف وہاں پوری ہو گی‘‘ وہ پچیس سال کا خوبصورت جوان تھا اسکی جوانی اپنے عروج پر مزید پڑھیں

ہم سفر (ڈاکٹر شاکرہ نندنی)

مجھے مت جانے دو ،روک لو مجھے، میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا، گر……اگر میں چلی گئی تو تم لوگوں کا ساتھ کون دے گا؟ تمہاری اصلاح کون کرے گا؟ تمہیں شرمندگی سے کون بچائے گا؟کتنی بے دردی سے تم لوگ مجھے ……روک لو ……ر……و……ک……لو دیکھو ایسا نہ کرو ……میرے ساتھ رہنے پر تمہیں کسی مزید پڑھیں

جنس گراں(افسانہ) ڈاکٹر شاکرہ نندنی

ڈاکٹر شاکرہ نندنی کا مشاہدہ بھرپور ہے اور ان کو ادب کا بھی علم ہے اور زبان کا بھی۔ یہاں میں بہت سے افسانے اس لیے واپس بھیج دیتا ہوں کہ اردو کے افسانے میں انگریزی کے بےشمار الفاظ محض فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں جبکہ ہماری زبان میں اس کا لفظ موجود مزید پڑھیں

خاموشی کا دائرہ (افسانہ) ڈاکٹر شاکرہ نندنی، پرتگال

اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور ادیبوں اور دانشوروں کا شہر ہے اس مٹی سے جنم لینے والے لوگوں میں بےشمار نامور لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے علم و ادب میں نام کمایا ہے اور آج بھی سند تصور کئے۔ ڈاکٹر شاکرہ نندنی ایک بہترین افسانہ نگار، شاعرہ ہیں۔ یہ ہر طرح ایک نابغہ مزید پڑھیں