مرنے کے بعد (افسانہ) خوشونت سنگھ

سن انیس سو پنتالیس کی ایک شام۔ مجھے بخار ہے۔ میں بستر میں پڑا ہوں، لیکن کوئی گھبراہٹ والی بات نہیں ہے، بالکل ہی گھبرانے والی بات نہیں، کیونکہ مجھے میرے حال پر ہی چھوڑ دیا گیا ہے۔ میرے پاس میری تیمارداری کے واسطے کوئی بیٹھا بھی نہیں ہے۔ لیکن اگر میرا بخار اچانک ہی مزید پڑھیں