قربانی (افسانہ) شاکرہ نندنی

ساجد کے دل میں کب سے تھا کہ وہ بھی ایک بار قربانی کرے۔ مگر اس کی مالی حالت اس بات کی اجازت نہ دیتی تھی۔ بڑے دنوں بعد،آج اس کی یہ حالت ہوئی تھی کہ وہ قربانی کر سکے۔ وہ آج بہت خوش تھا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کر رہا تھا۔ وہ مزید پڑھیں

حجاب (افسانہ) شاکرہ نندنی

دنیا میں ہر شخص نے حجاب اوڑھ رکھا ہے۔ تاجر، ادیب، ملا، پنڈت، افسر، ملازم، دوکاندار، خریدار، سیاستدان۔ کیا یہ سب لوگ بظاہرجیسے نظر آتے ہیں حقیقتاً ویسے ہیں؟ یہ سب لوگ محبت،خلوص، ایمان اور سچائی وغیرہ کے حجاب اوڑھ کر نفرت، ریاکاری اور جھوٹ کے کھیل کھیلتے ہیں لیکن ان کے حجابوں نے ان مزید پڑھیں

محرومِ وراثت (افسانہ) علامہ راشد الخیری

محمد احسن تحصیلدار کے دونوں بچے محسن اور رضیہ تھے تو حقیقی بہن بھائی، مگر نہ معلوم احسن کس طبیعت کا باپ تھا کہ اُس کی وہی نظر محسن پر پڑتی تو محبت میں ڈُوبی اور اور رضیہ پر پڑتی تو زہر میں بُجھی۔ سمجھدار، پڑھا لکھا، مگر ظالم کی عقل پر ایسے پتھر پڑے مزید پڑھیں

پرواز کے بعد (افسانہ) قرۃ العین حیدر

جیسے کہیں خواب میں جنجر آخر کیا ہو گا ‘‘۔ فکرِ جہاں کھا ی رہے۔ وہ اپنے پیر ذرا اور نہ سیراجرز یا ڈائنا ڈربن کی آواز میں ’’سان فرینڈ وویلی‘‘ کا نغمہ گایا جا رہا ہو اور پھر ایک دم سے آنکھ کھل جائے۔ یعنی وہ کچھ ایسا سا تھا جیسے مائیکل اینجلو نے مزید پڑھیں

مامتا (افسانہ) احمد ندیم قاسمی

آج احمد ندیم قاسمی کو ہم سے بچھڑے 13 برس بیت گئے ہیں۔ وہ 20 نومبر 1916 کوپنجاب کے ضلع خوشاب میں پیداہوئے تھے انہوں نے 50 سے زائد کتب تصنیف کیں جن میں شاعری اور افسانے بھی شامل ہیں احمدندیم قاسمی نے انگریزی زبان میں بھی شاعری کی ان کی نظم ”دی فیڈ ” مزید پڑھیں

اغوا (افسانہ) راجندر سنگھ بیدی

’’آلی ………. آلی ………. ‘‘ دلاور سنگھ نے زور سے پکارا۔ آلی ………. علی جُو، ہمارے ٹھیکے کا کشمیری مزدور تھا۔ منشی دلاور سنگھ کی آواز سن کر علی جُو ایک پل کے لیے رُکا۔ ڈوبتے ہوئے سورج کی کرنیں ابھی تک لیموں کی طرح تُرش تھیں اور علی جُو کی سُرخ رگوں سے بھری مزید پڑھیں

تہی دست (افسانہ) صباممتاز بانو

’’زندگی اکیلے رہنے سے نہیں، کسی کے ساتھ سے حسین ہوتی ہے‘‘ یہ مشہور فقرہ اس نے پہلی دفعہ نہیں سنا تھا یہ تو کئی لوگ اسے کہہ چکے تھے کہ زندگی کا مزہ اکیلے پن میں نہیں مگر جب یہ فقرہ اس نے کہا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس مزید پڑھیں

ذرا ہور اُوپر(افسانہ) واجدہ تبسم

نواب صاحب نوکر خانے سے جھومتے جھامتے نکلے تو اصلی چنبیلی کے تیل کی خوشبو سے ان کا سارا بدن مہکا جا رہا تھا۔ اپنے شاندار کمرے کی بے پناہ شاندار مسہری پر آ کر وہ دھپ سے گرے تو سارا کمرہ معطر ہو گیا………. پاشا دولہن نے ناک اٹھا کر فضا میں کچھ سونگھتے مزید پڑھیں

وہ …….. (افسانہ) ڈاکٹر شاکرہ نندنی

اسکے قدم پھر لاہور کی ہیرا منڈی کی جانب اٹھ رہے تھے وہ مجبور تھا ‘ وہ اپنے قدم روک رہا تھا مگر اسکا جسم اسے کھینچ کر وہاں لے جا رہا تھا ” کہ چل تیری ضرورت صرف وہاں پوری ہو گی‘‘ وہ پچیس سال کا خوبصورت جوان تھا اسکی جوانی اپنے عروج پر مزید پڑھیں

چھبیس مزدور اور ایک دوشیزہ (افسانہ) میکسم گورکی، ترجمہ سعادت حسن منٹو

ہم تعداد میں چھبیس تھے۔چھبیس متحرک مشینیں ایک مکان میں مقید۔ جہاں ہم صبح سے لے کر شام تک بسکٹوں کے لئے میدہ تیار کرتے۔ ہماری زندان نما کوٹھڑی کی کھڑکیاں اینٹوں اور کوڑا کرکٹ سے بھری ہوئی کھائی کی طرف کھلتیں جن کا نصف حصہ آہنی چادر سے ڈھکا ہوا اور شیشے گردو غبار مزید پڑھیں

گھر کا قیدی (افسانہ) صبا ممتاز

رشید نے اینٹوں کو ترتیب سے لگاتے ہوئے اپنے پتھریلے ہاتھوں کو دیکھا۔کبھی کبھی تو خونی بولی بولتے تھے۔ بھٹے پر مٹی کو پتھر بناتے بناتے نرم و نازک تن سخت جاں ہوگیا تھا۔ ایک دل ہی تورہ گیا تھا۔گوشت کا یہ لوتھڑا وقت کی سختیاں سہتے سہتے اور بھی نرم ہوگیا تھا۔چھوٹی چھوٹی بات مزید پڑھیں

جنس گراں(افسانہ) ڈاکٹر شاکرہ نندنی

ڈاکٹر شاکرہ نندنی کا مشاہدہ بھرپور ہے اور ان کو ادب کا بھی علم ہے اور زبان کا بھی۔ یہاں میں بہت سے افسانے اس لیے واپس بھیج دیتا ہوں کہ اردو کے افسانے میں انگریزی کے بےشمار الفاظ محض فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں جبکہ ہماری زبان میں اس کا لفظ موجود مزید پڑھیں