چڑیا اور کوّا

ایک تھی چڑیا اور ایک تھا کوا! چڑیا کا گھر تھا چھوٹا سا سرکاری کوارٹر، کوے کا گھر تھا بڑا سرکاری بنگلہ۔ چڑیا چھریرے بدن کی تھی اور کوا فربہ اندام تھا۔ چڑیا بس سے آفس آتی تھی، کوا کار سے آفس جاتا تھا۔ کوا چڑیا کے ساتھ چھیڑخانی کرتا تھا، وہ اسے ٹالتی تھی، مزید پڑھیں

گیدڑ اور عرب (Schakale und Araber)

کہانی: فرنززکافکا، ترجمہ: مقبول ملک (فرانز کافکا کی ایک کہانی، جرمن سے براہ راست اردو میں) ہم نے ایک نخلستان میں پڑاؤ ڈال رکھا تھا۔ ہم سفر ساتھی سو چکے تھے۔ سفید رنگت والا ایک دراز قد عرب، جو اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا تھا، میرے پاس سے گزرا اور خواب گاہ کی طرف چلا مزید پڑھیں

ایک لوٹا پانی(افسانہ)اسلم آزادشمسیؔ

اسلم آزاد شمسی کا شمار میں بھارت کے نامور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ان کا اپنا انداز فکر اور اسلوب ہے ان کے ہاں بہت بڑے بڑے فلسفے کی باتیں نہیں ہوتیں البتہ روزمرہ زندگی سے جڑی عام چیزیں اور واقعات ہی ان کے موضوعات ہیں۔ زیر نظر افسانہ دو دن پہلے موصول ہوا مزید پڑھیں

گرگٹ (افسانہ) انتون چیخوف

پولیس کا داروغہ اوچمیلوف نیا اوورکوٹ پہنے، بغل میں ایک بنڈل دبائے بازار کے چوک سے گزر رہا تھا۔ اس کے پیچھے پیچھے لال بالوں والا پولیس کا ایک سپاہی ہاتھ میں ایک ٹوکری لیے لپکا چلا آ رہا تھا۔ ٹوکری ضبط کیے گئے کروندوں سے اوپر تک بھری ہوئی تھی۔ چاروں طرف خاموشی۔۔۔۔ چوک مزید پڑھیں

شیشہ (ایک پُرتگالی کہانی) ڈاکٹر شاکرہ نندنی

کہتےھیں کہ ایک بادشاہ نےایک عظیم الشان محل تعمیر کروایا جس میں ھزاروں آئینےلگائےگئےتھےایک مرتبہ ایک کتا کسی نہ کسی طرح اس محل میں جا گھسا رات کےوقت محل کا رکھوالا محل کا دروازہ بند کر کےچلا گیالیکن وہ کتا محل میں ھی رہ گیا کتے نےجب چاروں جانب نگاہ دوڑائی تو اسےچاروں طرف ھزاروں مزید پڑھیں

چھبیس مزدور اور ایک دوشیزہ (افسانہ) میکسم گورکی، ترجمہ سعادت حسن منٹو

ہم تعداد میں چھبیس تھے۔چھبیس متحرک مشینیں ایک مکان میں مقید۔ جہاں ہم صبح سے لے کر شام تک بسکٹوں کے لئے میدہ تیار کرتے۔ ہماری زندان نما کوٹھڑی کی کھڑکیاں اینٹوں اور کوڑا کرکٹ سے بھری ہوئی کھائی کی طرف کھلتیں جن کا نصف حصہ آہنی چادر سے ڈھکا ہوا اور شیشے گردو غبار مزید پڑھیں

قوانین کا معاملہ‏ (Zur Frage der Gesetze)کہانی: فرانزکافکا ترجمہ: مقبول ملک

فرانز کافکا کی ایک کہانی، قوانین کا معاملہ‏ (Zur Frage der Gesetze) جرمن سے براہ راست اردو میں کہانی کا ہمارے موجودہ حالات سے مطابقت رکھنا کوئی اتفاق نہیں ہے ہم روز اول ہی سے تساہل پسند ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہی رہے۔ ہم ہر وقت مزید پڑھیں