گوری: شاکرہ نندنی

برطانیہ میں ایک ربع صدی گزارنے کے باوجود آج تک یہ عقدہ نہ کھل سکا کہ گوری کو آخر گوری کیوں کہتے ہیں؟ ہم نے تو لال گلابی رنگوں پر مشتمل گوریاں ہی دیکھی ہیں ، ہاں البتہ غصے میں گوری نیلی اور غم میں پیلی ضرور ہو تی دیکھی ہیں ۔ لیکن رنگت اصلی مزید پڑھیں

عشق باز ٹڈا (خواجہ حسن نظامی)

ہزاروں لاکھوں ننھی سی جان کے کیڑوں پتنگوں میں ٹڈا ایک بڑے جسم اور بڑی جان کا عشق باز ہے اور پروانے آتے ہیں تو روشنی کے گرد طواف کرتے ہیں۔ بے قرار ہو ہو کر چمنی سے سر ٹکراتے ہیں۔ ٹڈے کی شان نرالی ہے۔ یہ گھورتا ہے۔ مونچھوں کو بل دیتا ہے اور مزید پڑھیں

دھوپ چھاوں (چراغ حسن حسرت)

مسافروں سے بھری ہوئی لاری شور مچاتی کچی سڑک پر بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ ہوا میں خنکی تھی فضا میں اکتاہٹ ہمارے داہنے ہاتھ بھوری لال پیلی چٹانیں چپ کھڑی تھیں۔ بائیں ہاتھ ایک برساتی نالہ پتھروں سے سر پٹکتا دھیمے سروں میں ایک اداس گیت گاتا بہہ رہا تھا۔ ان سے ذرا ہٹ مزید پڑھیں

قدرِ ایّاز: کرنل محمد خان

کرنیلوں کو رہنے کیلئے اکثر خاصے عمدہ ” سی ” کلاس بنگلے ملتے ہیں۔ مجھے خوش قسمتی سے ایک ایسا بنگلہ مل گیا جو اپنی کلاس میں بھی انتخاب تھا۔ یعنی مجھے کرنیلوں میں وہ امتیاز حاصل نہ تھا جو میرے بنگلے کو بنگلوں میں تھا۔ بوڑھے بیروں سے روایت تھی کہ ولسن روڈ کا مزید پڑھیں

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

انسانوں کی اک قسم شوہروں کی بھی ہوتی ہے، یہ ہر ملک ہر جگہ پائے جاتے ہیں، کالا گورا، لمبا چھوٹا، دُبلا موٹا، گول مٹول، غرض ہر رنگ اور سائز میں یہ آپ کو مل جائے گا۔ میری بیوی اک بلا ہے سوچتا ہوں نہ جانے کیا بلا ہے اس کے ظلم کی جانے کیا مزید پڑھیں

سیلفی (شاکرہ نندنی کے قلم سے ایک شائستہ تحریر)

ہم نے دیکھا ہے کہ عورتیں دنیا کے ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں فنی مہارتیں ہوں یا علم و ادب ہر کام میں عورتیں برابر کھڑی ہیں مگر مزاح نگاری میں عورتوں کا وجود و ورود کم کم ہی ملتا ہے خاص کر اردو ادب میں تو اس کا مزید پڑھیں

اگر چنگیز خان زندہ ہوتا(از قلم: چراغ حسن حسرت)

اگر وہ ہندوستان اور پاکستان میں پیدا ہوتا تو کسی خانہ بدوش قبیلے کا سردار ہوتا نہ کسی علاقے کا حاکم بلکہ یہ تو لیڈر ہوتا یا پھر شاعر ہوتا۔ لیڈر ہوتا تو سیاست کے گلے پر کند چھری پھیرتا۔ اخبارنویس کی ٹانگ اس طرح توڑتا کہ بچاری ہمیشہ کے لیے لنگڑی ہو کر رہ مزید پڑھیں

ہم تقریر کرنے سے کتراتے ہیں(ابن انشا)

لاہور کے سرکلر روڈ پر اردو بازار کے باہر ایک زمانے میں لاہور اکیڈیمی کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ تھا جو ابن انشا کی کتب شائع کرتا تھا اور ان کا وارث تھا، یہ ادارہ ان کے بھائی چوہدری سردار محمد صاحب چلاتے تھے، یہ ادارہ بہت بڑی دکان سے سمٹ کر حنا ڈائجسٹ مزید پڑھیں

خوجی (چراغ حسن حسرت)

لیجیے ان سے ملیے ان کا نام خوجی ہے وطن لکھنو پیشہ امیرو ں کی مصاحبت چھوٹے چھوٹے ہاتھ پاؤں چھوٹا سا قد، کالی کالی رنگت گلیور صاحب کے سفر نامے میں آپ نے بونوں کی بستی کا حال پڑھا ہو گا۔ میاں خوجی کو دیکھ کے بے اختیار بونے یاد آ جاتے ہیں۔ خوجی مزید پڑھیں

اسکول ماسٹر کا خواب (مشتاق احمد یوسفی کی شگفتہ تحریر)

4 ستمبر 1923 تا 20 جون 2018 یوسفی صاحب سے محض ایک ملاقات ہوئی حلقہ ارباب ذوق کے ایک جلسہ میں حسین مجروح اور عامر فراز کی نظامت کا دور تھا میں پاک ٹی ہاوس صرف ان کی زیارت کے لیے پہنچا تھا کیا خوب انسان تھے اور کیا ہی خوب مصنف، جب جلسہ ختم مزید پڑھیں

میبل اور میں

میبل لڑکیوں کے کالج میں تھی، لیکن ہم دونوں کیمبرج یونیورسٹی میں ایک ہی مضمون پڑھتے تھے۔ اس لیے اکثر لیکچروں میں ملاقات ہو جاتی تھی۔ اس کے علاوہ ہم دوست بھی تھے۔ کئی دلچسپیوں میں ایک دوسرے کے شریک ہوتے تھے۔ تصویروں اور موسیقی کا شوق اسے بھی تھا، میں بھی ہمہ دانی کا مزید پڑھیں

مانگے تانگے کی چیزیں(طنز و مزاح)

پچھلے دنوں ایک پرانے رسالے کی ورق گردانی کر رہا تھا کہ مانگے تانگے کی چیزوں کے متعلق ایک مضمون نظر آیا۔ اصل مضمون تو بیری پین کا ہے اردو میں کسی صاحب نے اس کا چربا اتارا ہے۔ ماحصل یہ کہ مانگے تانگے کی چیزیں برتنا گناہ ہے۔ جیب میں زور ہے تو جس مزید پڑھیں