کتبہ (افسانہ) غلام عباس

شہر سے کوئی ڈیڑھ دو میل کے فاصلے پر پُر فضا باغوں اور پھلواریوں میں گھر ی ہوئی قریب قریب ایک ہی وضع کی بنی ہوئی عمارتوں کا ایک سلسلہ ہے جو دُور تک پھیلتا چلا گیا ہے ۔ عمارتوں میں کئی چھوٹے بڑے دفتر ہیں جن میں کم و بیش چار ہزار آدمی کام مزید پڑھیں

تہی دست (افسانہ) صباممتاز بانو

’’زندگی اکیلے رہنے سے نہیں، کسی کے ساتھ سے حسین ہوتی ہے‘‘ یہ مشہور فقرہ اس نے پہلی دفعہ نہیں سنا تھا یہ تو کئی لوگ اسے کہہ چکے تھے کہ زندگی کا مزہ اکیلے پن میں نہیں مگر جب یہ فقرہ اس نے کہا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس مزید پڑھیں

سرخ پھول اورسبزٹہنی(شاکرہ نندنی)

اِسمتھ ايک بہت پيارا چھ سال کا ذہين بچہ تھا۔ اس کے ماں باپ نے اسے ايک بہت بڑے سکول ميں پہلی کلاس ميں داخل کروايا۔ اس کو ڈھيرساری سيڑھياں چڑھ کرلمبےبرآمدےميں سےگزرکرآخری سرےپربنے ہوئےکلاس روم ميں جاناپڑتاتھا۔ چھوٹا ساتھا، تھک جاتاتھا ليکن اسےسکول جانا اچھا لگتا تھا۔ کچھ دنوں بعد اس کی کلاس ٹيچر مزید پڑھیں

ذرا ہور اُوپر(افسانہ) واجدہ تبسم

نواب صاحب نوکر خانے سے جھومتے جھامتے نکلے تو اصلی چنبیلی کے تیل کی خوشبو سے ان کا سارا بدن مہکا جا رہا تھا۔ اپنے شاندار کمرے کی بے پناہ شاندار مسہری پر آ کر وہ دھپ سے گرے تو سارا کمرہ معطر ہو گیا………. پاشا دولہن نے ناک اٹھا کر فضا میں کچھ سونگھتے مزید پڑھیں

وہ …….. (افسانہ) ڈاکٹر شاکرہ نندنی

اسکے قدم پھر لاہور کی ہیرا منڈی کی جانب اٹھ رہے تھے وہ مجبور تھا ‘ وہ اپنے قدم روک رہا تھا مگر اسکا جسم اسے کھینچ کر وہاں لے جا رہا تھا ” کہ چل تیری ضرورت صرف وہاں پوری ہو گی‘‘ وہ پچیس سال کا خوبصورت جوان تھا اسکی جوانی اپنے عروج پر مزید پڑھیں

ہم سفر (ڈاکٹر شاکرہ نندنی)

مجھے مت جانے دو ،روک لو مجھے، میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا، گر……اگر میں چلی گئی تو تم لوگوں کا ساتھ کون دے گا؟ تمہاری اصلاح کون کرے گا؟ تمہیں شرمندگی سے کون بچائے گا؟کتنی بے دردی سے تم لوگ مجھے ……روک لو ……ر……و……ک……لو دیکھو ایسا نہ کرو ……میرے ساتھ رہنے پر تمہیں کسی مزید پڑھیں

عشق بڑا بے درد (افسانہ) شاکرہ نندنی

وہ بد ھ مت کے قدیم بھکشوؤں کی طرح ہمارے درمیان میں بیٹھا تھا۔ آگ کے الاؤ کی وجہ سے اُس کے سال خوردہ مگر سفید چہرے پر پڑنے والی روشنی اُس کے خد و خال کو ایک ایسے بت کی شکل میں پیش کر رہے تھے جیسے ابھی ابھی کسی سنگ تراش نے اُسے مزید پڑھیں

بیگانگی (افسانہ) ممتاز مفتی

بیگانگی رشید نے اٹھ کر آنکھیں کھولیں۔ دو ایک انگڑائیاں لیں اور کھوئے ہوئے انداز میں سیڑھیوں کے قریب جا بیٹھا۔ اس نے کوٹھے پر ایک سرسری نگاہ ڈالی۔ تمام چارپائیاں خالی پڑی تھیں۔ سب لوگ نیچے جا چکے تھے۔ جہاں تک نگاہ کام کرتی تھی، سامنے اونچے اونچے مکانوں کا انبار دکھائی دیتا تھا۔ مزید پڑھیں

مرنے کے بعد (افسانہ) خوشونت سنگھ

سن انیس سو پنتالیس کی ایک شام۔ مجھے بخار ہے۔ میں بستر میں پڑا ہوں، لیکن کوئی گھبراہٹ والی بات نہیں ہے، بالکل ہی گھبرانے والی بات نہیں، کیونکہ مجھے میرے حال پر ہی چھوڑ دیا گیا ہے۔ میرے پاس میری تیمارداری کے واسطے کوئی بیٹھا بھی نہیں ہے۔ لیکن اگر میرا بخار اچانک ہی مزید پڑھیں

گھر کا قیدی (افسانہ) صبا ممتاز

رشید نے اینٹوں کو ترتیب سے لگاتے ہوئے اپنے پتھریلے ہاتھوں کو دیکھا۔کبھی کبھی تو خونی بولی بولتے تھے۔ بھٹے پر مٹی کو پتھر بناتے بناتے نرم و نازک تن سخت جاں ہوگیا تھا۔ ایک دل ہی تورہ گیا تھا۔گوشت کا یہ لوتھڑا وقت کی سختیاں سہتے سہتے اور بھی نرم ہوگیا تھا۔چھوٹی چھوٹی بات مزید پڑھیں

جنس گراں(افسانہ) ڈاکٹر شاکرہ نندنی

ڈاکٹر شاکرہ نندنی کا مشاہدہ بھرپور ہے اور ان کو ادب کا بھی علم ہے اور زبان کا بھی۔ یہاں میں بہت سے افسانے اس لیے واپس بھیج دیتا ہوں کہ اردو کے افسانے میں انگریزی کے بےشمار الفاظ محض فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں جبکہ ہماری زبان میں اس کا لفظ موجود مزید پڑھیں

خاموشی کا دائرہ (افسانہ) ڈاکٹر شاکرہ نندنی، پرتگال

اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور ادیبوں اور دانشوروں کا شہر ہے اس مٹی سے جنم لینے والے لوگوں میں بےشمار نامور لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے علم و ادب میں نام کمایا ہے اور آج بھی سند تصور کئے۔ ڈاکٹر شاکرہ نندنی ایک بہترین افسانہ نگار، شاعرہ ہیں۔ یہ ہر طرح ایک نابغہ مزید پڑھیں