مرنے کے بعد (افسانہ) خوشونت سنگھ

سن انیس سو پنتالیس کی ایک شام۔ مجھے بخار ہے۔ میں بستر میں پڑا ہوں، لیکن کوئی گھبراہٹ والی بات نہیں ہے، بالکل ہی گھبرانے والی بات نہیں، کیونکہ مجھے میرے حال پر ہی چھوڑ دیا گیا ہے۔ میرے پاس میری تیمارداری کے واسطے کوئی بیٹھا بھی نہیں ہے۔ لیکن اگر میرا بخار اچانک ہی مزید پڑھیں

گھر کا قیدی (افسانہ) صبا ممتاز

رشید نے اینٹوں کو ترتیب سے لگاتے ہوئے اپنے پتھریلے ہاتھوں کو دیکھا۔کبھی کبھی تو خونی بولی بولتے تھے۔ بھٹے پر مٹی کو پتھر بناتے بناتے نرم و نازک تن سخت جاں ہوگیا تھا۔ ایک دل ہی تورہ گیا تھا۔گوشت کا یہ لوتھڑا وقت کی سختیاں سہتے سہتے اور بھی نرم ہوگیا تھا۔چھوٹی چھوٹی بات مزید پڑھیں

جنس گراں(افسانہ) ڈاکٹر شاکرہ نندنی

ڈاکٹر شاکرہ نندنی کا مشاہدہ بھرپور ہے اور ان کو ادب کا بھی علم ہے اور زبان کا بھی۔ یہاں میں بہت سے افسانے اس لیے واپس بھیج دیتا ہوں کہ اردو کے افسانے میں انگریزی کے بےشمار الفاظ محض فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں جبکہ ہماری زبان میں اس کا لفظ موجود مزید پڑھیں

خاموشی کا دائرہ (افسانہ) ڈاکٹر شاکرہ نندنی، پرتگال

اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور ادیبوں اور دانشوروں کا شہر ہے اس مٹی سے جنم لینے والے لوگوں میں بےشمار نامور لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے علم و ادب میں نام کمایا ہے اور آج بھی سند تصور کئے۔ ڈاکٹر شاکرہ نندنی ایک بہترین افسانہ نگار، شاعرہ ہیں۔ یہ ہر طرح ایک نابغہ مزید پڑھیں

گائے (افسانہ) ڈاکٹر انور سجاد

اب سے چند گھنٹے پہلے ڈاکٹر انور سجاد انتقال کر گئے۔ ادارہ ان کے لواحقین کے غم میں برابر شریک ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ان کا یہ افسانہ ان کے مداحوں کے لیے پیش کیا جا رہا مزید پڑھیں

پھا (افسانہ) سعادت حسن منٹو

سعادت حسن منٹو کے بہت سے افسانے اور دوسری نگارشات غیر مطبوعہ رہیں جو ان کی زندگی میں شائع نہیں ہوئیں اور ان کے مرنے کے بعد ملنے والے کاغذات سے جمع کی گئیں اور ان کو ’’باقیات منٹو‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا یہ افسانہ بھی باقیات منٹو سے لیا گیا ہے گوپال مزید پڑھیں

جستجو (افسانہ) صبا ممتاز بانو

شب نے ستاروں کی شال اوڑھ لی تھی۔مسافر کے اعصاب شل ہو چکے تھے اور وہ پوری طرح نڈھا ل ہو چکا تھا۔تھکن اس کی ہمت کو پسپا کیے دے رہی تھی لیکن سفر اس کا مقدر بن چکا تھا۔ اس کا پہلا سفر اس کی زبان سے نکلنے والے پہلے لفظ ’’اللہ جی ‘‘ مزید پڑھیں

سوا سیر گیہوں (افسانہ) منشی پریم چند

کسی گاؤ ں میں شنکر نامی ایک کسان رہتا تھا۔ سیدھا سادا غریب آدمی تھا۔ اپنے کام سے کام، نہ کسی کے لینے میں، نہ کسی کے دینے میں، چھکاپنجا نہ جانتا تھا۔ چھل کپٹ کی اسے چھو ت بھی نہ لگی تھی۔ ٹھگے جا نے کی فکر نہ تھی۔ ود یانہ جانتا تھا۔ کھانا مزید پڑھیں

چندہ (افسانہ) سیمیں خان درانی

سیمین خان درانی عصر حاضر میں معاشرے کی نبض پر جس طرح شناس ہیں شاید آج وہ اپنی مثال میں واحد مصنفہ ہیں تو اس قدر مشکل اور تلخ ترین حقائق کو صفحات پر اتارتی ہیں کہ پڑھنے والے بے اختیار چیخ پڑتے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ اس وقت قلم سے جہاد کرنے مزید پڑھیں

کیا یہ بدن میرا تھا؟(افسانہ) صبا ممتاز بانو

آفتاب اپنی حدت کھو چکا تھا۔ نقرئی کرنیں اس کے وجود میں پوری طرح سما چکی تھیں۔تحت ِتاریکی بچھ چکا تھا۔نرم خود روگھاس نے پانی سے رازو نیاز شروع کردیا تھا۔پیڑوں کی دنیا آباد ہو چکی تھی۔راستے کو چْپ لگتی جارہی تھی۔اکا دکا مسافر گزرتا تو دھرتی کھنکنے لگتی۔ ایسے میں ویران پگڈنڈی پر تیز مزید پڑھیں

ستاروں سے آگے (افسانہ) قرۃالعین حیدر

کرتار سنگھ نے اونچی آواز میں ایک اور گیت گانا شروع کر دیا۔ وہ بہت دیر سے ماہیا الاپ رہا تھا جس کو سنتے سنتے حمیدہ کرتار سنگھ کی پنکج جیسی تانوں سے، اس کی خوبصورت داڑھی سے، ساری کائنات سے اب اس شدت کے ساتھ بیزار ہو چکی تھی کہ اسے خوف ہو چلا مزید پڑھیں

ماں جی (افسانہ) قدرت اللہ شہاب

قدرت اللہ شہاب ماں جی کی پیدائش کا صحیح سال معلوم نہ ہو سکا۔ جس زمانے میں لائل پور کا ضلع نیا نیا آباد ہو رہا تھا، پنجاب کے ہر قصبے سے غریب الحال لوگ زمین حاصل کرنے کے لئے اس نئی کالونی میں جوق در جوق کھنچے چلے آ رہے تھے۔ عرف عام میں مزید پڑھیں