شب برأت اور نو جوانوں کی بے راہ روی

Spread the love

حکیم محمد شیراز، سائنسداں و لکچرر
حکیم محمد دانش، پی جی اسکالر
کشمیر یونیورسٹی ، کشمیر۔


ارشاد ربانی ہے:
ترجمہ: قسم ہے اس کتاب روشن کی۔ کہ ہم نے اس (کتاب) کو مبارک رات میں نازل کیا ہم تو خبر دار کرنے والے ہیں۔ (سورۃ دخان۔آیۃ نمبر ۱، ۲)

اکثر علما ئے کرام کا استنباط ہے کہ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے مگر بعض علما کا کہنا ہے کہ اس سے مراد لیلۃ البرأت ہے۔ بہر کیف جمہور علما کہ نزدیک شب قدر ایک با برکت رات ہے۔ شب برات یا شب برأت اسلامی تقویم کے آٹھویں مہینے شعبان کی 15 ویں رات کو کہتے ہیں، اس رات کو مغفرت اوررحمت کی رات بھی کہا جاتا ہے۔

احادیث کا یہ بھی مضمون ہے کہ اس رات میں اللہ پاک آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں اور دو افراد کے علاوہ سب مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے ایک مشرک دوسرے مشاہن۔ (شعب الایمان للبیہقی جلد 3ص 379)

مشاہن یعنی ایسا شخص جس کے دل میں اس درجہ کا کینہ ہو کہ وہ بدلہ لینے اور نقصان پہنچانے کے در پہ ہو۔ امام ابن تیمیہ ؒ سے نصف شعبان کی رات نماز کے بارے میں سوال کیا گیا: تو امام ابن تیمیہ نے جواب دیا اگر ’’اس رات میں کوئی تنہا یا مخصوص جماعت کے ساتھ نماز پڑھے جیسا کہ اسلاف کے بہت سے لوگوں کا یہ معمول تھا، تو یہ اچھا عمل ہے۔‘‘ نامور عالم اور شارح حدیث علامہ عبد الرحمان مبارک پوری ترمذی کی شرح میں لکھتے ہیں، ’’معلوم ہونا چائیے کہ نصف شعبان کے بارے میں متعدد حدیثیں وارد ہوئی ہیں ان سب کے مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان احادیث کی کوئی نہ کوئی اصل ہے۔‘‘ اس کے بعد نصف شعبان پر متعدد حدیثیں نقل کی ہیں اور کہا ہے: یہ تمام حدیثیں ان لوگوں پر حجت ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ نصف شعبان کی فضیلت کے سلسلے میں کوئی حدیث نہیں۔

تقسیمِ امور کی رات:

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک لوگوں کی موت کا وقت اس رات میں لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ انسا ن شادی کرتا ہے اور اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں حالانکہ اس کا نام مُردوں کی فہرست میں لکھا جاچکا ہوتا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج 16 ص 126، شعب الایمان للبیہقی ج 3 ص 386)(اس حدیث کے بارے میں بعض لوگوں کو کلام ہے کہ مقدر تو انسان کا پہلے ہی لکھا جا چکا ہے،اس طرح اس حدیث کے بارے میں متعدد اعتراضات ہیں )

مغفرت کی رات:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں،
’’ایک رات میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس نہ پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکلی میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع (قبرستان) میں تشریف فرما ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمانِ دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گر ہوتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔‘‘

یہ روایت حدیث کی اکثر کتب میں مذکور ہے، کثرت ِ روایت کے سبب یہ حدیث درجہ صحت کو پہنچ گئی ہے۔ اس کو ترمذی، ابن ماجہ، مسند احمد بن حنبل، مشکوٰۃ، مصنف ابنِ ابی شعبہ، شعب الایمان للبیہقی وغیرہ میں اس کو روایت کیا گیا ہے۔ قبیلہ بنو کلب کثرت سے بکریاں پالتے تھے جن کی مثال اس حدیث میں بیان کی گئی ہے۔

رحمت کی رات:

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔

’’جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے، ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ اس کے گناہ بخش دوں، ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے وہ ملتا ہے۔ وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے سوائے بدکار عورت اور مشرک کے۔‘‘ (ابنِ ماجہ ص 101)

شبِ بیداری:

مسلمان اس رات میں نوافل ادا کرتے ہیںاور ایک دوسرے سے معافی چاہتے ہیں۔ سلف صالحین کا معمول اس رات میں نماز، تسبیحات و تلاوت کا رہا ہے۔تاہم اجتماعی عبادات احادیث سے ثابت نہیں۔

قبرستان کی زیارت:

کیونکہ حدیث میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اس رات کو قبرستان جانا ثابت ہے اس لیے مسلمان بھی اس رات کو قبرستان جاتے ہیں۔

شب برأت اور خرافات:

چوں کہ شب برات عام راتوں کے مانند نہیں ہے بلکہ بہت سی احادیث سے اس رات کا فضیلت و عبادت کی رات ہونا ثابت ہے اس لیے اس رات میں جاگ کر انفرادی طور پر عبادت کرنا، نوافل پڑھنا، کلام پاک کی تلاوت کرنا اور ذکر اذکار میں مشغول رہنا اور اپنے والدین اور تمام مسلمان مردون اور عورتوں کے لیے مغفرت کی دعا کر نا اور دینی و دنیوی جو بھی ضرورت ہو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرنا وغیرہ مستحب ہیں۔ اس کے علاوہ اس رات میں دیگر خرافات جو عوام میں رائج ہے جیسے، چراغاں کرنا، قسم قسم کے کھانے پکانا اور انھیں تقسیم کرنا اور نئے کپڑوں کا اہتمام کرنا بے اصل ہیں۔ شریعت سے ان سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ ناجائز و بدعت ہیںاور 15 شعبان کو روزہ رکھنا یہ ایک ضعیف حدیث سے ثابت ہے، لیکن اس کا ضعف اس درجہ کا نہیں ہے کہ فضائل کے باب میں اس پر عمل جائز نہ ہو اس لیے اکثر علمائے کرام کی تحقیق کے مطابق 15 شعبان کو روزہ رکھنا مستحب ہے۔ یعنی روزہ رکھنے کی صورت میںثواب ہو گا اور نہ رکھنے کی صورت میں کوئی گناہ وغیرہ نہ ہو گا۔

شب برأت اور نو جوانوں کی بے راہ روی:

شب برأت کے موقع پر شب بیداری نیز زیارت قبور کے نام پر مسلمان نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے جس طرح موٹر بائیک ریسنگ کو رواج دیا ہے، اس کے نتیجہ میں کئی قیمتی جانیں تلف ہو رہی ہیں، اور یہ سراسر لائق اصلاح و قابل تنبیہ ہے۔ دارالعلوم دیو بند کے فتویٰ کے مطابق شب برأت کا کوئی اجتماعی اہتمام نہ کیا جائے بلکہ اپنے گھروں میں عبادات کا وہی معتدل طرز اپنایا جائے، جس کا نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا تھا۔ نصف شعبان کی عبادت کے نام پر مسلم معاشرہ میں آج جس قدراغیار کی نقالی اور منکرات کا مشاہدہ ہوتا ہے اسے شعائر اسلامی سے ہر گز معتبر نہیں کیا جا سکتااوراس پر نکیر کرنا ہر ایمان والے کا فریضہ ہے۔ بقول شاعر:

حقیت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی
ؔ

Please follow and like us:

Leave a Reply