بے روز گاری کا جرم (افسانہ)

Spread the love

گائے ڈی موپساں

رینڈل ایک ماہ سے زیادہ کام کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھرتا رہا۔ جب اسے اپنے وطن ویلی ایوری مین، جو صوبے لاماشے کا ایک گاؤں تھا، کہیں کام نہ مل سکا تو وہ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگیا تاکہ کہیں اور ہاتھ پیر مارے۔وہ ستائیس سال کا بڑھئی تھا جو چل پھر کا کام کرتا تھا۔ وہ بہت اچھا کاریگر تھا مگر وہ خاندان میں سب سے چھوٹا تھا اور دو ماہ سےمجبوراً اپنے رشتے داروں کے رحم وکرم پر آن پڑا تھا۔ عام بے کاری کی وجہ سے اب اس کے پاس محض گھومنے پھرنے کا ہی کام رہ گیا تھا۔ بمشکل تمام اسے روٹی نصیب ہوتی تھی۔

اس کی دو بڑی بہنیں جو دن میں کہیں باہر کام کرنے جاتی تھیں اور انہی کی مزدوری کی وجہ سے شام کو گھر میں دو پیسے آتے تھے۔

جیکسن رینڈل بے روزگار تھا حالانکہ خاندان میں وہ سب سے زیادہ صحت مند اور مضبوط جسم و اعصاب کا مالک تھا۔ چونکہ کوئی کام نہیں ملا تھا، اس لیے اب وہ دوسروں کے ٹکڑوں پر ہی پل رہا تھا۔

جب وہ ہر جگہ سے مایوس ہوگیا تو آخر میونسپلٹی میں اپنے ضلع کے افسر سے ملنے گیا اور وہاں سکریٹری سے یہ ہدایت ملی کہ وہ لیبر ین سنز جائے ۔۔۔ وہاں اسے کام مل جائے گا۔ چنانچہ اس نے اپنے کاغذات اور سندیں، ایک نیا جوتا، ایک جوڑا قمیص پاجامہ، یہ سب سامان اپنے آسمانی رنگ کے ایک رومال میں باندھ کر اس کو اپنے لٹھ پر باندھ روانہ ہوگیا۔

راستے میں وہ متوتر چلتا رہا، اس نے ایک لمحے کو بھی سانس نہ لیا۔ اپنا طویل سفر طے کرنے کے لیے اُس نے دن دیکھا نہ رات، ناتو اسے بارش کی فکر تھی نہ دھوپ کا غم۔ وہ تو اس جگہ پہنچنے کے لیے بے قرار تھا جو اس کے ذہن کے مطابق ایک پراسرار جگہ تھی جہاں روزگا اس کا منتظر تھا۔ جب وہ وہاں پہنچا تو اس نے طے کرلیا تھا کہ وہ اپنے پیشے کاکام کرے گا لیکن ہر بڑھئی کی دکان سے اسے ناکامی ہوئی۔

دکانداروں نے اسے بتایا کہ کاروبار بہت مندی کا شکار ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے پہلے سے کام پر لگے ہوئے کاریگروں کو بھی چھٹی دے دی ہے۔ اپنا یہ ذریعہ معاش ختم ہوتا دیکھ کر اس نے اب یہ ارادہ کر لیا کہ اسے جو بھی کام ملے گا وہ خوشی خوشی کرے گا۔۔۔۔۔۔ اس نے نہریں بنانے کے لیے زمین کھودی، سائیس بنا، پتھر توڑے لکڑیاں چیریں، درختوں کی شاخیں چھاندیں، کنویں کھودے، لکڑیوں کے گٹھے اٹھائے۔ پہاڑوں پر بکریاں چرائیں، اور گارا تک ڈھویا اور یہ سب کام اس نے چند ٹکوں کے بدلے کیے اسے یہ کام اتفاقیہ دو تین دن تک ملتے رہے جنہیں وہ اتنی معمولی مزدوری میں شرم وندامت کے ساتھ کرتا رہا۔ اس نے اپنے آقا کو خوش کرنے کے لیے پوری جانفشانی سے کام کیا وہ چاہتا تھا کہ اس کے مالک خواہ وہ دیہاتی ہوں یا کسان جب بھی ان کو ضرورت ہو وہ کام کے لیے اسے ہی بلائیں۔

اب ایک ہفتے سے نہ تو اس کے پاس کوئی کام تھا اور نہ پیسے بچے تھے۔ صرف روٹی کا ایک ٹکڑا بچا تھا، وہ بھی اسے چند ہمدرد عورتوں نے بھیک کی طرح دیا تھا۔

اندھیرا ہو رہا تھا اور جیکسن رینڈل تھک گیا تھا، اس کے پیر جواب دے چکے تھے۔ معدہ خالی تھا اور وہ مایوسی اور شکستہ دلی کے ساتھ ننگے پاؤں سڑک کے ایک طرف گھاس پر چل رہاتھا۔ اس کا جوتا پھٹ چکا تھا اور دوسرا جوڑا اس نے حفاظت سے رکھا ہوا تھا۔ موسم خزاں کے آخری دن تھے۔ پانی سے بھرے ہوئے سیاہ بادل درختوں کے اوپر تیزی سے دوڑتے پھر رہے تھے۔

ہفتے کی اس شام جب کلیسا میں کوئی تقریب ہورہی تھی، پورا قصبہ سنسان تھا۔ کھیتوں میں ادھر ادھر غلے اور گھاس پھوس کے بڑے بڑے انبار زرد کلاہ باراں کی طرف لگے ہوئے تھے۔ اور خالی کھیت اگلی فصل کے لیے جوتے جاچکے تھے۔

رینڈل بھوکا تھا۔ ایک جنگلی جانور کی طرح بھوک سے بے تاب ہورہا تھا۔ اس کی اس بھوک کی وہی کیفیت تھی جو بھیڑیے کو انسان پر حملے کے لئے مجبور کردیتی ہے۔ ضعف و ناتوانی سے نڈھال ہوکر اس نے بڑے بڑے ڈگ بھرنے شروع کیے تاکہ چھوٹے چھوٹے قدموں کی مصیبت سے بچ جائے۔ اس کا سر بھاری ہورہاتھا۔ اور خون کی تیز گردش کی وجہ سے اس کی کنپٹیا پھٹی جارہی تھیں۔ اس نے اپنی لاٹھی مضبوطی سے تھام لی، اس نے سوچ لیا تھا کہ کھانے کے لیے جو بھی اپنے گھر کی طرف جاتا ہوا ملا اس کا سر پھوڑ ڈالے گا۔

اس نے سڑک کی طرف دیکھا۔ چشمِ تصور میں دیکھ رہا تھا کہ زمین سے اکھاڑے ہوئے آلو اب زمین پر پڑے ہیں۔ اس کے ذہن میں کہیں یہ بات گونج رہی تھی کہ اگر یہ کہیں اسے یہ آلو مل جائیں تو وہ جنگل سے خشک لکڑیاں چن کر آگ جلائے اس طرح اپنے لئے عمدہ کھانا تیارکر لے۔ سب سے پہلے وہ اپنے سرد ہاتھوں سے ان کے ریشے پکڑ کر بھونے گا، لیکن یہ سب ایک تصور تھا، ایک خیال تھا۔ آلو کی فصل کا تو یہ موسم ہی نہیں تھا، اگر وہ کچھ کھانا چاہے تو روز کی طرح آج بھی اسے کھیت سے چقندر نکال کر کچے ہی کھالینے چاہیے۔

اپنے تیز قدموں کی طرح، خیالات کی فراوانی کی وجہ سے وہ دو دن تک بڑ بڑاتا رہا۔ اس سے پہلے اس کے دماغ میں خیالات کا اتنا ہجوم نہیں آیا تھا۔ وہ اپنا دماغی توازن کھو بیٹھا تھا۔ اس کی وہ صنعتی لیاقت اور ذہنی قوت جو اس کے پیشے کے لیے ضروری تھی، سب برباد ہوچکی تھی۔ اس کے علاوہ کمزوری، نقاہت اور کام نہ ملنے کی وجہ سے مایوسی، ناامیدی اور پریشانی، ہر جگہ سے صاف انکار، کھلی ہوا میں گھاس پر لیٹ کر راتیں گزارنا، بھوک پیاس کی شدت سے ان سب نے مل کر اسے ایک پیٹ بھرے کی نظر میں ۔۔۔

اس شخص کی نظر میں جس کا گھر بارہو، آوارہ اور بد معاش بنا دیا تھا۔ رہ رہ کر ایک سوال وہ اپنے آپ سے کرتا تھا۔ “پھر جب یہ حالات ہیں تو تم اپنے گھر کیوں نہیں رہے؟؟” مصیبتوں اور تکلیفوں نے اس کے مضبوط ہاتھ ناکارہ بنا دیے تھے۔ اسے اپنے عزیزوں اور رشتےداروں کی یاد نے، جن کے پاس ایک دھڑی بھی نہ تھی اور بھی زیادہ غصے سے بھر دیا تھا۔ ضبط کے باوجود ہر ہر لمحے اس کا رنج و غم بڑھتا جارہا تھا اور رہ رہ کر وہ اپنے دانت پیستا اور بڑبڑاتا۔

جب اس کے ننگے پیروں میں پتھروں کی ٹھوکریں لگتیں وہ کراہ اُٹھتا۔ “اُف کیسی مصیبت ہے، کتنی تکلیفیں ہیں! آہ ! کتنی بدبخت ہے یہ دنیا کتنی خودغرض، مکار، دغاباز، کمینی اور اذیتوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ دنیا اور اس میں رہنے والے کس قدر کھاؤ، اُڑاؤ اور پیٹو ہیں۔ کتنے غلیظ، نجس اور گندے ہیں ۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ میں ایک درست کار، ایک ہوشیار بڑھئی، ایک عمدہ کاریگر ۔۔۔۔۔۔ آہ! مجھے اسطرح بھوکے مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔ میرے لیے ۔۔۔۔۔ میرے لیے ان کے پاس دو پیسے بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اف! بارش بھی ہونے لگی ۔۔۔

اپنی قسمت کی اس ناانصافی پر وہ بے حد غضب ناک اور برہم تھا۔ وہ انسانوں کو اپنی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتا تھا۔ دنیا کے تمام انسانوں کو، قدرت کو ۔۔۔۔ اس بڑی اور اندھی ماں کو جو مہربان، بے انصاف سنگدل، بے رحم ظالم، دھوکے باز، فریبی اور خائن ہے۔

صبح کے کھانے کا وقت تھا مکانوں کی چمنیوں سے آہستہ آہستہ دھواں نکل رہا تھا۔ اس کا خیال انسانوں کی اس کمزوری کی طرف منتقل ہونے لگا جسے چوری، ڈاکہ اور تشدد کہتے ہیں، بالکل غیرارادی طور پر اس کا دل چاہا کہ وہ ان مکانوں میں گھس جائے اور ان میں رہنے والوں کو قتل کردے اور خود ان کی جگہ میز پر بیٹھ کر کھانا کھائے۔

وہ اپنے دل میں کہنے لگا۔ “مجھے بھی حق ہے کہ میں کھاؤں پیوں اور زندہ رہوں۔” لیکن کمینے انسان مجھے مار ڈالنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔ ان رذیلوں نے مجھے بھوکا مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے ۔۔۔۔۔ اور میں کہتا ہوں کہ مجھے کام دو، میں محنت کرکے پیٹ بھرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔ بدمعاش، سور کے بچے ۔۔۔۔۔” اس کے بدن کے ہر حصے میں سخت درد ہونے لگا۔ اس کے دل میں دھڑکن تیز ہوگئی اور درد کی وجہ سے اس کا سر پھٹنے لگا۔ اس پر بے ہوشی سی طاری ہونے لگی۔ اس کے دماغ میں صرف یہ خیال گونج رہا تھا کہ ” میں بھی اسی دنیا میں رہتا ہوں، اس ہوا میں میں بھی سانس لیتا ہوں ۔۔۔ پھر جب ہوا کسی کی ملکیت نہیں ۔۔۔ ہوا پر کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی تو روٹی پر کیوں پابندی لگائی ہے؟ میرا بھی حق ہے کہ میں بھی سب کی طرح کھاؤں ۔۔۔ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ مجھ سے روٹی چھین لے۔”

برفیلی سرد، موسلادھار نہایت نفیس بارش شروع ہوگئی۔ وہ چلتے چلتے رُک گیا اور بڑبڑانے لگا۔ ہائے کتنی بدقسمتی ہے! مجھے گھر سے آئے ہوئے ایک مہینہ گزر چکا ۔ اس نے گھر کے متعلق سوچا۔ اسے خیال پیدا ہوا کہ واپس گھر چلنا چاہیے کیوں کہ وہ اپنے گھر پر زیادہ آسانی سے کوئی کام تلاش کرے گا۔ وہاں اسے سب جانتے ہیں ۔۔۔۔۔ اور اب تک جو کچھ گزر چکا ہے اسے بھول جانا چاہیے کیونکہ وہ اپنے گھر پر زیادہ آسانی سے کوئی کام تلاش کرے گا۔ وہاں اسے سب جانتے ہیں ۔۔۔۔ اور اب تک جو کچھ گزر چکا ہے، اسے بھول جانا جاہیے

یہاں ان سڑکوں پر راہ گیر اس کے متعلق کیا خیال کرتے ہوں گے ۔۔۔ اپنے وطن میں اگر اسے اپنے پیشے کا کام نہیں ملا تو وہ کوئی دوسرا کام کرنے لگے گا۔ زمین کھودے گا یا سڑک پر پتھر توڑنے والوں میں شامل ہو جائے گا۔ اگر اس کام سے اسے دو آنے روز کی آمدنی بھی ہونے لگے گی تو وہ کسی طرح اپنی گزر بسر تو کر ہی لے گا اس نے اپنی دستی اپنے گلے میں باندھی تاکہ سینے اور پیٹھ پر بہتا ہوا سرد پانی روک سکے لیکن اس کی یہ کوشش فضول تھی۔

پانی کپڑوں میں سے گزر کر پھر اس کا جسم شرابور کرنے لگا۔ وہ سخت مایوس اور سنجیدہ نظروں سے اپنا جسم دیکھنے لگااس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کس جگہ اپنا سر چھپا کر تھوڑا سکون حاصل کرے۔ اس مہذب اور متمدن دنیا میں پناہ کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔

رات آئی اور پورے قصبےپر تاریکی چھاگئی۔ دور سبزہ زار پر اس نے ایک سیاہ نشان دیکھا۔ یہ ایک گائے تھی۔ وہ پگڈنڈی سے ہٹ کر سڑک پر آگیا اور سوچے سمجھے بغیر اس کی طرف روانہ ہوگیا۔ جب وہ اس کے قریب پہنچا تو گائے نے اپنا سر اُٹھایا ۔۔۔ اور ایک دم اسے یہ خیال آیا کہ اگر اس کے پاس کوئی برتن ہوتا تو وہ کچھ دودھ دوہ لیتا۔ وہ کھڑا ہوگیا اور گائے کی طرف غور سے دیکھنے لگا۔ گائے نے بھی اس کی طرف منہ اُٹھایا۔ اور پھر یکا یک ایک زور کی ٹھوکر مار کر کہا: “اُٹھ!”
غریب جانور اپنے بھاری تھن لٹکا کر آہستگی سے کھڑا ہوگیا اور رینڈل اس کے پیروں میں گھس کر اس کا دودھ پینے لگا۔ جب تک اس جاندار کے تھنوں میں دودھ کا ایک قطرہ بھی باقی رہا، وہ برابر پیتا رہا لیکن بہت تیز بارش شروع ہوگئی تھی اور اس اجڑی زمین میں سر چھپانے کو کوئی جگہ نہیں تھی۔ اس وقت اسے بہت سردی لگنے لگی۔ دور کسی مکان کی کھڑکی میں اس نے روشنی کی ایک جھلک دیکھتی۔

گائے بھد سے پھر بیٹھ گئی اور رینڈل بھی اسی کے پاس بیٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ گائے کا دودھ پی کر وہ اس کو بہت مشکور ہو گیا تھا۔ دو بڑی گرم سانسیں کسی فوارے کی طرح جانور کے نتھنوں سے نکل کر اِس سرد موسم میں کاریگر کے منہ پر لگیں تو وہ حیرت سے کہنے لگا۔ “ارے تمہارے پیٹ میں سردی نہیں ہے؟” اس نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ دئیے اور خود وہ اس کے قریب کھسک گیا، وہاں اسے کچھ گرمی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔ اور پھر اسے خیال آیا کہ اس بڑے پیٹ کے پاس لیٹ کر رات گزارنا چاہیے۔ اس نے اپنا سر گائے کے تھنوں کے قریب کرلیا جن سے کچھ دودھ پی کر وہ پرسکون ہو گیا تھا اور اسی سکون کے باعث اسے نیند آگئی۔

اس دوران وہ متعدد بار بیدار ہوا اس کی پیٹھ اور پیٹ کا وہ حصہ جو ہوا میں کھلا تھا اسے ایسا معلوم ہونے لگا کہ منجمد ہو گیا ہے۔ اس نے کروٹ بدل لی اور پھر گہری نیند سو گیا۔ مرغ کی بانگ نے اسے جگایا۔ صبح ہونے والی تھی۔ بارش رک گئی اور مطلع بالکل صاف ہو چکا تھا۔ گائے جگالی کر رہی تھی۔ رینڈل اپنے ہاتھ ٹیک کر زمین پر جھکاتا کہ گائے کے مرطوب تھنوں کو پیار کرے۔ وہ کہنے لگا۔ “خدا حافظ میری محبوبہ، کل شام تک کے لیے خدا حافظ۔ تو کتنی نیک اور پیار کے قابل ہے۔ اس نے اپنے نئے جوتے پہنے اور روانہ ہوگیا۔

دو گھنٹے تک وہ اس سیدھی اور لمبی سڑک پر برابر چلتا رہا لیکن اب اس میں چلنے کی ہمت نہ رہی اور وہ بے دم ہوکر زمین پر بیٹھ گیا۔ دن کافی چڑھ آیا تھا اور کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔ مرد اپنے نیلگوں لباسوں میں اور عورتیں سفید ٹوپیاںسروں پر سجائے پیدل یا گاڑیوں میں بیٹھے آس پاس کے گاؤں میں جارہے تھے تاکہ اتوار کا دن وہ اپنے دوستوں اور رشتےداروں کے ساتھ گزاریں۔

ایک تنومنددیہاتی اپنی خوف سے چلاتی ہوئی بھیڑوں کا ایک گلہہانکتا ہوا آرہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک بہت چست و چالاک کتا تھا، جو بھیڑوں کو گلے سے باہر نہیں نکلنے دیتا۔

رینڈل اپنی جگہ سے اُٹھ کر سڑک پر آیا اور اپنی ٹوپی اُٹھا کر دیہاتی کو سلام کیا اور غصے سے کہنے لگا۔ “جناب کیا آپ کے پاس بھوک سے مرتے ہوئے آدمی کے لیے کچھ کام ہے؟

دیہاتی نے اے آوارہ گرد خیال کرتے ہوئے قہر آلود نظروں سے دیکھا اور غصے سے کہنے لگا، میرے پاس ان بدمعاشوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، جو سڑکوں پر ادھر ادھر مارے مارے پھرتے ہوں۔

رینڈل پھر ایک گڑھے پر آکر بیٹھ گیا اور دوبارہ التجا کرنے سے پہلے وہ بہت دیر تک بیٹھا کسی آدمی کا انتظار کرتا رہا، جس کی صورت سے نیکی اور رحم دلی ظاہر ہوتی ہو۔ آخر ایک آدمی کا انتخاب کرکے جو اُوورکوٹ پہنے تھا اور جس کے کوٹ پر سونے کی زنجیر لٹک رہی تھی، کہنے لگا۔

جنابِ عالی! دو مہینے سے کام کی تلاش میں پھر رہا ہوں لیکن مجھے اب تک کوئی کام نہیں ملا اور اب میرے پاس ایک پھوٹی کوڑی تک نہیں ہے۔

اس نیم شریف آدمی نے کاریگر کو غور سے دیکھا اور پھر جواب دیتے ہوئے کہا۔ جاؤ اور جاکر وہ نوٹس بورڈ پڑھ لو جو گاؤں کے سرے لٹکا ہوا ہے، تمہیں معلوم ہے وہ کیا ہے؟ بستی کی حدود میں بھیک مانگنا ممنوع ہے اور تم مجھے جانتے ہو میں کون ہوں؟ میں اس ضلع کا حاکم ہوں ۔۔۔ اگر تم فورا” ہی یہاں سے نکل نہ گئے تو میں تمہیں گرفتار کروادوں گا۔

رینڈل جسے حاکمِ ضلع کی بات سن کر غصہ آگیا تھا، جھنجلا کر کہنے لگا۔

میرے لیے تو یہی صورت بہتر ہے کہ تم مجھے گرفتار کر لوقیدمیں کم از کم میں بھوک سے تو نہ مروں گا اور مجھے سر چھپانے کو جگہ بھی تو مل جائے گی۔

واپس جاکر وہ دوبارہ اسی گڑھے پر بیٹھ گیا۔ ابھی اسے آئے پندرہ منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ دو سپاہی سڑک پر دکھائی دئیے۔ وہ پہلو بہ پہلو آہستہ آہستہ چل رہے تھے اور ان کی چمک دار ٹوپیاں سورج کی روشنی میں جگمگا رہی تھیں، ان کی زرد وردیاں اور پیتل کے بٹن ایک اوباش آوارہ گرد کو ڈرا کر بھگانے کے لیے کافی تھے، وہ سمجھ گیاکہ سپاہی اسی کے پاس آرہے ہیں مگر وہ اپنی جگہ بیٹھا رہا۔ اس نے دل میں سوچ لیا تھا کہ ان کا مقابلہ کرے گا تاکہ وہ اسے گرفتار کر لیں۔

سپاہی اس کی طرف اس طرح آرہے تھے جیسے انہوں نے کاریگر کو دیکھا نہ ہو۔ اپنا توازن قائم کیے اور فوجی انداز میں ہنسی کی چال چلتے ہوئے وہ جب اس کے پاس سے گزرنے لگے تو ایکدم ٹھہر گئے۔ افسر نے غصے سے دھمکا کر پوچھا۔

یہاں بیٹھے تم کیا کررہے ہو؟”

میں یہاں آرام کر رہا ہوں۔” کاریگر نے سکون سے جواب دیا۔
کہاں سے آئے ہو؟”

ویلی ایوری

یہ کہاں ہے؟”

صوبہ اماشے میں۔
وہیں کے رہنے والے ہو؟
“ہاں”
وہاں سے کیوں آئے؟

روزگار کی تلاش میں۔

افسراپنے چالاک ساتھی کی طرف مڑا اور غصے کے لہجے میں کہنے لگا۔ “میں ان بدمعاشوں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔” اور کاریگر کی طرف مڑ کر بولا ۔”تمہارے کاغذات ہیں؟”

بتاؤ رینڈل نے اپنی شکستہ سندیں اور میلے کچیلے پھٹے پُرانے کاغذ جیب سے نکال کر دئیے جنہیں اس نے رک رک کر اور ہجے کر کرکے پڑھا اور یہ دیکھ کر کہ وہ سب صحیح ہیں، اسے واپس کر دئیے۔

مگر اس نے رینڈل کو ایسی شکی اور مشتبہ نظروں سے دیکھا جو کہہ رہی تھیں کہ تم مجھ سے بھی زیادہ چالاک نکلے اور مجھے بھی فریب دے دیا۔

افسر نے چند لمحوں تک اسے دیکھنے کے بعد پھر پوچھا۔ “اچھا تمہارے پاس کچھ روپیہ بھی ہے؟”

نہیں”
ایک پیسہ بھی نہیں؟”
تو پھر تم کھاتے پیتے کہاں سے ہو؟”
جو کچھ کہیں سے مل جاتا ہے، کھا پی لیتا ہوں۔”
اچھا تو تم بھیک مانگتے ہو؟”

رینڈل نے استقلال سے جواب دیا۔ “ہاں صاحب جب بھوک سے جان نکلنے لگتی ہے تو مانگتا ہوں۔”
ٹھیک ہے” افسر نے کہا اور پھر اپنا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بولا، “تمہارے پاس جائز طریقے سے کھانے پینے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اس لیے تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم خود کو میرے حوالے کر دو اور میرے ساتھ ضلع کے حاکم اعلٰی کے پاس چلو۔”

کاریگر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا۔ “جو حکم۔” اور پھر وہ ان کے کہنے سے پہلے ہی ان دونوں کے بیچ میں آکر کھڑا ہوگیا، اور افسر سے مخاطب ہو کر بولا۔ “چلو مجھے قید کرادو۔ وہاں بارش کے ایام میں سر چھپانے کو جگہ مل جائے گی۔”

اور پھر وہ سب کے سب گاؤں کی طرف چل دئیے۔

ایک میل دور ہی سے درختوں کی شاخوں کے درمیان سے مکانوں کے سرخ کھپرل نظر آنے لگے۔ جس وقت وہ گاؤں میں پہنچے، عبادت شروع ہونے والی تھی۔ کلیسا کا احاطہ آدمیوں سے بھرا ہوا تھا۔ آدمی اس ملزم کو دیکھنے لگے جو دو سپاہیوں کی حراست میں آرہا تھا اور جس کے پیچھے گاؤں کے شرارتی لڑکے غل غپاڑا کرتے چلے آرہے تھے۔ مرد اور عورتیں اس قیدی کو نفرت اور حقارت سے دیکھ رہی تھیں۔ سب اس پر پتھر پھینکنے کو تیار تھے۔

ان کی خواہش تھی کہ ان کا بس چلے تو وہ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں۔ اپنے پیروں سے اسے کچلیں اور روند ڈالیں۔ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ اس نے ڈاکہ ڈالا ہے یا کسی کو قتل کیا ہے؟ ایک شخص۔ جو پہلے کبھی سپاہی رہ چکا تھا، کہنے لگا کہ “یہ تو عادی مجرم ہے۔ فرار ہو گیا تھا، اب ہاتھ آیا ہے۔”

ایک تمباکو فروش نے اپنا خیال ظاہر کیا کہ “نہیں یہ وہ شخص ہے جو صبح مجھے ایک کھوٹی اکنی دے گیا تھا۔”

تیسرے آدمی نے جو لوہے کا سامان فروخت کرتا تھا، اپنی رائے پیش کی کہ “یہ تو فلاں بیوہ کا قاتل ہے، پولیس چھ مہینے سے اس کی نگرانی کر رہی تھی۔”

سپاہی اسے میونسپل کے دفتر میں لے گئے، جہاں رینڈل نے دوبارہ حاکمِ ضلع کو دیکھا۔ وہ ایک اسکول ماسٹر کے بازو میں اپنی منصفی کی کرسی پر متکبرانہ انداز سے بیٹھا تھا۔

مجسٹریٹ اسے دیکھتے ہی چلاتا، “ارے! ارے! تم آخر یہاں آگئے، دیکھو میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تمہیں گرفتار کرادوں گا۔” اور پھر اس افسر کی طرف ہوا جو اسے گرفتار کر کرکے لایا تھا۔

اچھا! اس نے کیا جرم کیا ہے؟”

جنابِ عالی! یہ ایک آوارہ گرد ہے، بے خانماں۔ نہ اس کا کوئی وطن ہے نہ گھر بار۔۔۔۔ یہ سب باتیں خود اسی نے بتائی ہیں۔ البتہ اس کے پاس کچھ کاغذات اور سندیں ہیں جو ٹھیک اور درست معلوم ہوتی ہیں، میں نے اسے بھیک مانگنے کےجرم میں گرفتار کیا ہے۔

مجسٹریٹ نے رینڈل سے کاغذات طلب کیے اور انہیں پڑھا۔ دوبارہ پڑھا پھر واپس کر دیے۔ پھر اس نے افسر سے کہا، اس کی تلاشی لی جائے۔ اور جب تلاشی میں اس کے پاس کچھ نہیں نکلا تو مجسٹریٹ سخت پریشان ہوا اور کاریگر سےکہنے لگا۔

آج صبح سڑک پر بیٹھے تم کیا کر رہے تھے؟”

میں کام کی تلاش میں بیٹھا تھا۔”

کام کی تلاش میں سڑک پر۔۔”

تو اور کیا جناب آپ کا خیال ہے۔ میں جنگل میں جاکر چھپ جاؤں تو مجھے کام ملے گا؟” سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر رینڈل پر نفرت و حقارت کی نگاہ ڈالی۔ گویا وہ کسی عجیب مخلوق سے تعلق رکھتا تھا۔ مجسٹریٹ نے پھر اس سے کہا۔
اچھا میں تمہیں اس وقت چھوڑتا ہوں ۔۔۔۔ جاؤ بھاگ جاؤ۔ اب کبھی میرے سامنے نہ آنا۔”
کاریگر سخت پریشان ہوا ۔۔۔۔ مجسٹریٹ سے کہا۔ ” میں نے اپنے روزگار کی تلاش میں اتنی دوڑ دھوپ کی ہے کہ اب میں خود۔۔۔۔”

خاموش رہو” مجسٹریٹ نے ڈانٹا اور پھر سپاہیوں سے کہا کہ ” اس منہ زور کو گاؤں کی حد سے دو سو گز دور نکال دو اور پھر اسے مجبور کرو کہ یہ اپنا سفر جاری رکھے اور دوبارہ واپس نہ آنے پائے”

جناب آپ کچھ بھی کیجیے۔” کاریگر نے مایوسی سے کہا۔ ” مگر مجھے کچھ کھانے کو دیجیے۔” مگر اس کی سنتا کون! مجسٹریٹ بھڑک اُٹھا۔ خوب ایک تو جرم کرو اور کھانے کو بھی مانگو؟ دور ہو جاؤ۔ تم جیسوں کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔”

لیکن رینڈل استقلال سے کہے جارہا تھا۔ “آپ لوگ مجھے بھوکا مار کر اس بات کے لیے مجبور کررہے ہیں کہ میں واقعی کسی جرم کا ارتکاب کروں اور یاد رکھیے، میرا جرم آپ جیسے پیٹ بھروں کے لیے مصیبت بن جائے گا۔”

مجسٹریٹ کھڑا ہو گیا اور سپاہوں سے مخاظب ہو کر کہا۔ “لے جاؤ۔ لے جاؤ۔ اسے دیکھ کر مجھے سخت غصہ آرہا ہے۔”

دونوں سپاہیوں نے اس کے بازو پکڑ کر اسے باہر نکال دیا۔ اس نے بھی کوئی مدافعت نہ کی اور گاؤں سے گزرتا ہوا پھر ایک بار اس گڑھے کے پاس آگیا۔ جب وہ دو سو گز دور آگیا تو سپاہی نے اس سے کہا۔ ” دفعان ہو جاؤ۔ اب کبھی یہاں نہ آنا، اور اگر پھر میں نے تم کو گرفتار کرلیا تو یہ تمہارے لیے بہت بُرا ہوگا۔”

رینڈل نے کوئی جواب نہیں دیا اور سوچے سمجھے بغیر ایک طرف چل دیا۔ پندرہ بیس منٹ تک وہ گھومتا پھرتا رہا۔ اس پر غشی طاری ہونے لگی تھی۔ اسے کسی چیز کا ہوش نہ رہا۔ جب وہ ایک چھوٹے سے مکان کے پاس سے گزرا جس کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی تو وہ یکایک رُک گیا۔ مکان میں سے بھنے ہوئے گوشت اور شوربے کی خوشبو آرہی تھی۔ بھوک کی خوفناک شدت نے اسے دیوانہ کردیا۔ وہ سخت مضطرب اور بے چین ہوگیا اور کسی جنگلی جانور کی طرح بےتاب ہو کر مکان کی طرف چھپٹا۔
مکان اور دروازے پر جاکر وہ گڑگڑانے لگا اور التجا کرتے ہوئے بلند آواز میں کہا۔

میں آپ کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں، کچھ میری بھی خبر لو، میں بھوک سے مرا جارہا ہوں، اس نے دروازے پر دستک دی لیکن جب اندر سے کوئی جواب نہیں ملا تو اس نے پوری قوت سے اپنی لکڑی دروازے پر ماری۔ اور پھر گڑگڑانے لگا۔ خدا کے لیے کچھ پر رحم کرو، دروازہ تو کھولو۔”

اس کے باوجود بھی جب اندر سے کوئی جواب نہیں ملا تو کھڑکی کے پاس آگیا اور اب بالکل قریب سے گوشت، چوزے، گوبھی اور شوربے کی خوشبو آئی، اب ضبط کرنا اس کے اختیار سے باہر ہوگیا تھا وہ اچک کر کھڑکی پر چڑھ گیا اور مکان میں داخل ہوگیا۔ دو آدمیوں کے لیے میز پر کھانے کا سامان رکھا تھا۔ اس نے خیال کیا کہ مکان والے گرجا چلے گئے ہوں گے اور وہاں سے واپس آکر کھانے کے لیے یہ چیزیں چھوڑ گئے ہوں گے۔ چولھے پر نہایت عمدہ ابلا ہوا گوشت رکھا تھا اور دوسری طرف دودکش پر ترکاریوں کا شوربا، ڈبل روٹیاں اور شراب کی دو پوری بھری ہوئی بوتلیں رکھی تھیں۔ رینڈل نے سب سے پہلے روٹی پر ہاتھ مارا اور اتنی طاقت سے اسےتوڑا گویا وہ کسی آدمی کا گلا دبا رہا ہو اور پھر کسی ندیدے کی طرح کسی پیٹو اور حریص آدمی کی مانند، اس نے روٹی کا ٹکڑا اپنے منہ میں رکھ لیا اور جلدی جلدی سے اسے نگلنے لگا۔

چولھے پر چڑھے گوشت کی خوشبو نے اسے پانی کی طرف متوجہ کرلیا۔ اس نے کڑھائی کا ڈھکن ہٹایا اور کانٹے سے گائے کے گوشت کا ایک بڑا ٹکڑا نکال لیا، پھر اس نے گاجر، گوبھی اور پیاز کی ترکاریاں رکابی بھر بھر کے نکالیں اور یہ ساری چیزیں میز پر رکھ کر خود ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ پہلے گوشت کے چار ٹکڑے کیے۔ پھر نہایت اطمینان سے اپنے گھر کی طرح انہیں کھانے لگا۔ ان ترکاریوں کے علاوہ جب وہ بہت سا گوشت بھی کھا چکا تو اسے پیاس لگنے لگی، وہ اُٹھا اور دودکش پر سے شراب کی بوتل اُٹھا لایا۔

جب وہ شراب میں ڈالنے لگا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ براندی تھی۔ اچھا ہے اس نے اپنے دل میں کہا، سردی میں ٹھٹھرنے کے بعد یہ شراب میرے بدن اور خون میں آگ لگائے گی۔ اور یہ بہت اچھا ہوگیا۔ اس نے تھوڑی سی شراب پی۔ وہ بہت تیز اور نہایت عمدہ تھی۔ شاید اتنے عرصے تک شراب نہ ملنے کی وجہ سے وہ اس کا عادی نہ رہا ہو۔ اس کے باوجود وہ پورا گلاس دو گھونٹ میں ختم کر گیا۔ اب اسے سکون ہوا۔ الکحل کے اثر سے وہ بے خود ہوگیا۔ اسے ایسا محسوس ہونے لگاکہ خوشی و مسرت کی لہریں اس کے جسم میں دوڑنے لگی ہیں اور اس پر مستی اور بے خودی کا ایک دورہ سا پڑنے لگا۔

مگر وہ اب تک کھائے جارہا تھا۔ اگرچہ اب اس کے کھانے میں پہلے کی طرح بے تکا پن نہیں تھا۔ آہستہ آہستہ وہ شوربہ میں روٹی ڈبوتا اور کھا لیتا۔ اس کا بدن جلنے لگا اور اس کی رگیں پیشانی کے آس پاس پھرکنے لگیں۔ یکایک اس نےگرجا کی گھنٹی سنی، نماز ختم ہورہی تھی۔ اسے فوری خطرے کا احساس ہوگیا۔

اپنی حفاظت کی وہ تدبیر جو غیر محسوس طریقے سے انسان میں ہوتی ہے، اس میں عود آئی اور وہ ایک دم کھڑا ہوگیا۔ اپنی روٹی کا بچا ہوا ٹکڑا اور شراب کی بوتل اس نے اپنی جیب میں رکھی اور کھڑکی کی طرف دوڑا اور سڑک پر نگاہ ڈالی۔ وہ اب تک سنسان تھی اور کوئی آدمی نظر نہیں آرہا تھا۔

وہ کھڑکی سے نیچے کودا اور سڑک پر چلنے کے بجائے کھیتوں میں ہوتا ہوا جنگل کی طرف بھاگا۔

اب وہ اپنے جسم میں چُستی و طاقت و توانائی اور خوشی و مسرت محسوس کررہا تھا، اپنے کیے پر اسے ذرا بھی ملال اور صدمہ نہ تھا بلکہ وہ خوش اور مطمٔین تھا۔ وہ کھیتوں اور باڑوں میں سے اچھلتا کودتا ہوا بھاگا جارہا تھا، جب وہ ایک گھنے درخت کے نیچے پہنچا تو اس نے دوبارہ اپنی جیب سے شراب کی بوتل نکالی اور رکے بغیر تھوڑی سی پی لی۔ اب اس کے خیالات میں ہیجان پیدا ہونے لگا اور اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں، شراب اور کھانے سے اس کے پیروں میں لچک پیدا ہوگئی تھی۔ وہ کوئی گیت گاتا ہوا برابر آگے بڑھتا چلا جارہا تھا۔

اس وقت وہ ایک گھنی، تاریک اور سرد دلدل کے پاس سے گزر رہا تھا، اس کے پاؤں کے نیچے سبزہ زار تھا۔ سبزہ زار دیکھ کر اسے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اپنے بچپن کی طرح اس وقت بھی گھاس پر سوئے اور قلابازیاں لگائے۔۔۔۔ اس کا دماغ بے قابو ہو رہا تھا۔ اس نے گھاس پر خوب قلابازیاں لگائیں اور پھر کوئی گیت گانے لگا۔

وہ چلتے چلتے ایک ڈھلوان سڑک کے کنارے پہنچا۔ سڑک پر ایک دراز قد لڑکی جارہی تھی۔ اس کے پاس دو گھڑے تھے جن میں دودھ بھرا ہوا تھا۔ شاید وہ اپنے گاؤں واپس جارہی تھی۔ رینڈل نے اسے دیکھا تو تھوڑا اور آگے جھک گیا اور اس کی آنکھیں اس کتے کی طرح چمکنے لگیں، جسے اپنے شکار کا کھوج مل گیا ہو۔ جب لڑکی اس کے قریب آئی تو کھڑی ہوگئی اور اپنا سر اُٹھا کر کہنے لگی، “کیا تم تھے جو ابھی گا رہے تھے؟”

اس نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اپنی جگہ سے سڑک پر کود پڑا۔ حالانکہ وہ سڑک سے تقریبا” چھ فٹ بلند جگہ پر تھا۔ جب وہ لڑکی کے سامنے اس طرح یکایک کودا تو وہ سہم گئی اور کہنے لگی، “اے تم نے تو مجھے ڈرا دیا۔”

اس نے لڑکی کا کہنا بالکل نہ سنا۔ وہ شراب کے نشے میں بدمست ہورہا تھا۔ وہ کسی دوسری خواہش کے ماتحت دیوانہ ہورہا تھا۔ ایک ایسی خواہش جو بھوک سے بھی زیادہ بے تاب کردینے والی ہے۔۔۔ جس میں شراب سے بھی زیادہ نشہ ہے۔ جو شراب سے بڑھ کر انسان کے بدن میں آگ پھونک دیتی ہے اور خصوصا” اس آدمی کی خواہش جو دو ماہ سے صبر کیے ہوئے ہو، جو جوان اور تندرست ہو جس کی رگ رگ میں فطری خواہشات پوری کرنے کے لیے آگ سلگ چکی ہو۔

لڑکی اسے گھورنے لگی۔ وہ اس سے خوف زدہ ہورہی تھی، اس کی سرخ سرخ آنکھیں، تمتمایا چہرہ، کھلا ہوا منہ اور دراز بازو، ان سب سے وہ ڈر رہی تھی لیکن رینڈل نے ایک لفظ کہے بغیر اس کے شانے پکڑ کر اسے سڑک پر پچھاڑ دیا۔

اس کے دونوں گھڑے دور دور تک لڑھکتے چلے گئے۔ ان میں بھرا ہوا تمام دودھ زمین پر بہنے لگا۔ وہ چلا چلا کر شور مچانے لگی۔ لیکن یہ دیکھ کر کہ اس سنسان اور اجاڑ جگہ کون اس کی امداد کرے گا، وہ خاموش ہوگئی اور پھر معمولی سا غصہ اور تھوڑی سی جدوجہد کے بعد جب اس نے دیکھا کہ وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہچانا چاہتا اور وہ مضبوط اور خوبصورت بھی ہے تو وہ مغلوب ہوگئی اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا۔

تھوڑی دیر بعد جب وہ اُٹھی تو اسے اپنے گھڑے اور دودھ کا خیال آیا۔ وہ غصے سے کانپنے لگی۔ اب اس کی باری تھی۔ اس نے اپنے پاؤں سے کھڑاؤں اُتاری اور مطالبہ کیا کہ وہ دودھ کی قیمت ادا کرے ورنہ وہ اس کا سر توڑ دے گی۔

وہ لڑکی کےاس حملے کے لیے بالکل تیار نہ تھا۔ وہ گھبرا گیا اور اس کی آنکھیں کھل گئیں، اپنے کیے پر وہ سخت خوفزدہ ہو رہا تھا، اس نے وہاں رک نا مناسب نہ سمجھا اور بھاگ کھڑا ہوا، لیکن لڑکی نے اس پر پتھروں کی بارش شروع کر دی، کچھ پتھر اس کی پیٹھ پر بھی لگے۔

وہ دیر تک دوڑتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ تھک گیا، اس کے پیروں میں سخت درد ہونے لگا۔ اس کے خیالات منتشر ہونے لگے تھے اور اس کا دماغ پریشان ہورہاتھا۔ اسے کسی چیز کا خیال نہیں رہا اور وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور فوراً ہی اسے نیند آگئی لیکن جلد ہی اسے کسی کے کھردرے اور مضبوط ہاتھوں نے جگا دیا۔ اس نے اپنے اوپر دو چمکدار چمڑے کی بنی ہوئی ٹوپیاں جھکی ہوئی دیکھیں، وہی دونوں سپاہی جو ایک مرتبہ اسے گرفتار کرچکے تھے، اپ پھر اس کی مشکیں کس رہے تھے۔

افسر نے خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے رینڈل سے کہا “میں پہلے ہی جانتا تھا کہ تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آؤ گے۔ اورمجھے پھر سے تمہیں گرفتار کرنا پڑے گا۔” رینڈل نے کوئی جواب نہیں دیا اور چپ چاپ کھڑا ہوگیا۔ اب اگر رینڈل ذرا بھی کوئی حرکت کرے تو وہ اسے مارنے پیٹنے کو تیار تھا۔۔۔ وہ ان کا شکار تھا۔ جیل کی چڑیا تھی۔ پھر مجرموں کے شکاری بھلا کیسے نکل جانے دیتے۔
اچھا چلو” افسر نے حاکمانہ انداز سے کہا اور تینوں روانہ ہوگئے۔

شام ہوچکی تھی اور موسمِ خزاں کی شفق ماند ہوتی جارہی تھی۔

ادھر اُدھر تاریکی کے سیاہ دھبے زمین پر دکھائی دینے لگے تھے۔ آدھ گھنٹے میں وہ گاؤں پہنچ گئے۔ سارے گھروں کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ دیہاتی مرد اور عورتیں لڑکیاں اور لڑکے اس طرح جوش میں تھے، جیسے ہر مکان میں چوری ہوئی ہے اور ہر لڑکی کا دامن عصمت تار تار کردیا گیا ہے۔ وہ گالیوں سے اس کا تکا بوٹی کردینا چاہتے تھے۔ پہلے ہی دروازے سے اس پر طعنہ زنی شروع ہوگئی اور حاکمِ ضلع کے مکان تک یہی حال رہا۔ حاکمِ ضلع اپنے مکان میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا۔ خود اس کے دل میں بھی غصے اور انتقام کی آرزو شدت سے پیدا ہوچکی تھی۔ جیسے اس نے آوارہ گرد کو دیکھا وہ چلا اُٹھا۔

اچھا! تم آگئے بدمعاش! اب تمہیں سزا ملے گی۔۔۔۔” یہ کہہ کر اس نے خوشی اور مسرت سے ہاتھ ملے اور پھر سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا، “میں سمجھتا تھا کہ تم باز نہیں آؤ گے، میں نے تو سڑک پر دیکھ کر تمہیں پہلی نظر میں پہچان لیا تھا۔” اور پھر اطمینان و سکون کا سانس لے کر کہنے لگا۔

اچھا بدمعاش! کمینے! حرام خور! ۔۔۔۔۔ میں تمہیں بیس سال کی سزا دیتا ہوں۔”

Please follow and like us:

Leave a Reply