188

سری نگر کے 50 پولنگ اسٹیشنوں پر کوئی ووٹ نہیں ڈالا گیا لوگوں نے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی

Spread the love

مقبوضہ کشمیر میں ٹرن آوٹ45.7 رہا۔بھارتی الیکشن کمیشن کا دعویٰ

لالبازار ، صورہ ، آنچار ، لہی باغ اور بژھ پورہ علاقوں میں پولنگ اسٹیشنوں میں دن بھر الو ہی بول رہے تھے

پکھر پورہ میں قائم سبھی پولنگ مراکز میں دن بھر سناٹا چھا رہا پولنگ عملہ شام تک ایک ووٹر کا چہرہ نہیں دیکھ سکا

سری نگر(کے پی آئی) بھارتی الیکشن کمشن نے دعوی کیا ہے کہ بھارتی لوک سبھا کے دوسرے مرحلے کے

انتخابات میں جموں و کشمیر میں بھاری ٹرن اوٹ رہاریاست میںسرینگر اور ادھمپور پارلیمانی نشستوں کیلئے

ہوئی دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران پولنگ کی مجموعی شرح45.7 فیصد رہی۔سرینگر میں ووٹنگ

کی شرح 14.1 رہی جبکہ اودہمپور حلقے میں پولنگ کی شرح 70.2 ریکارڈ کی گئی۔ چیف الیکٹورل افسر

شلیندر کمار نے پریس کانفرنس کے دوران یہ دعوی کیا تاہم حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے 90

پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ نہیں ڈالے گئے۔ سری نگر کے 50 پولنگ اسٹیشنوں پر کوئی ووٹ نہیں ڈالا گیا

ریاستی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سری نگر شہر خاص کے راجوری کدل، نوہٹہ، جامع مسجد، صراف

کدل، گوجوارہ، بہوری کدل، ملارٹہ، زینہ کدل، مہاراج گنج، وازہ پورہ اور دوسرے علاقوں میں قائم پولنگ

اسٹیشنوں میں دن بھر اُلو بول رہے تھے۔ لوگوں نے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ ادھر لالبازار ،

صورہ ، آنچار ، لہی باغ اور بژھ پورہ علاقوں میں بھی پولنگ اسٹیشنوں میں دن بھر الو ہی بول رہے تھے ۔

وہی وسطی ضلع بڈگام کے پکھر پورہ علاقے میں قائم کئی پولنگ مراکز کی طرف کسی بھی شہری نے رخ

نہیں کیا ۔جس دوران شام دیر گئے تک پولنگ عملہ شام تک ایک ووٹر کا چہرہ نہیں دیکھ سکے۔ وسطی ضلع

بڈگام کے پکھر پورہ علاقے میں قائم سبھی پولنگ مراکز میں دن بھر سناٹا چھا رہا ہے جبکہ گائوں میں مکمل

کرفیو جیسا سما رہا ۔جس کے نتیجے میں لوگوں نے دن بھر گھروں میں ہی بیٹھنے کو ترجیحی دی ہے کچھ

پولنگ مراکزجن میں پکھر پورہ،کرا پورہ،ڈلوان پورہ،فٹلی اور موہن پورہ میں کوئی بھی ووٹ نہیں پڑا تاہم

علاقے کے کندجن علاقے میں 11 ووٹ پڑے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں