کراچی:شیرخوار احسن کی نماز جنازہ ادا۔سچل تھانے کے 4 پولیس اہلکار گرفتار۔مقدمہ درج

Spread the love

سرکاری نائن ایم ایم پستول سے براہ راست فائرنگ کانسٹیبل امجد نے کی۔ عبدالصمد، خالد اور پیارو کا اسلحہ بھی ضبط

یہ تاثر غلط ہے کہ مقدمہ والدین کی مرضی کے بغیر اور نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی

اس سے پہلے بھی مقابلے میں مارے جانے والے شہریوں کے لواحقیقن کو پولیس دھمکا رہی ہے آج تک کسی کو انصاف نہیں ملا

کراچی(کرائم رپورٹر)کراچی کے علاقے صفورا چورنگی کے قریب پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے ڈیڑھ سالہ احسن کی نماز جنازہ گلستان جوہر بلاک 8 میں ادا کردی گئی۔جس میں اہل علاقہ، عزیز و اقارب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

دوسری جانب شیرخوار احسن کو قتل کرنے کے مقدمہ میں سچل تھانے کے 4 پولیس اہلکاروں کو گرفتارکرکے اسلحہ برآمد کرلیا گیا ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ نے بتایا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ مقدمہ والدین کی مرضی کے بغیر اور نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا۔

علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جارہی ہے جن کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھائی جائیں گی۔کراچی پولیس چیف کے مطابق سچل تھانے میں ایف آئی آر نمبر 2019/211 دو موٹرسائیکلوں پر سوار 4 پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کی گئی ہے۔ایس ایچ او سچل پولیس اسٹیشن جاوید ابڑو کے مطابق واقعے میں براہ راست فائرنگ پولیس کانسٹیبل امجد نے سرکاری اور چھوٹے ہتھیار نائن ایم ایم پستول سے کی۔

پولیس کے مطابق اس واقعے کے دوران ملزم کے ساتھ موجود تین دیگر اہلکاروں عبدالصمد، خالد اور پیارو کو بھی گرفتارکرلیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار چاروں پولیس اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے، ملزمان کو اس مقدمہ کے تحت عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ لیا جائیگا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز صفورا چورنگی کے قریب ڈیڑھ سالہ مقتول احسن کے والد کاشف راجہ اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ رکشے میں سامان خریدنے جارہے تھے کہ ملزمان کا تعاقب کرنے والے موٹر سائیکل پر سوار پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کی جس کی زد میں آکر ننھا احسن موقع پر جاں بحق ہوگیا۔

واقعہ کا مقدمہ متوفی کے والد کاشف راجہ نے چار موٹر سائیکل سوار پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کرایا تھا۔دوسری جانب احسن کی والدہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اْن کے سامنے پولیس والوں نے فائرنگ کی ہے اور وہاں کوئی مقابلہ نہیں ہو رہا تھا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔اس سے قبل ڈیفنس میں امل، انتظار، شارع فیصل پر مقصود اور نارتھ کراچی میں 18 سالہ طالبہ نمرہ بھی پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہوچکی ہیں۔

اس سلسلہ میں شیر خوار احسن کے چچا نے الزام لگایا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف غفلت برتنے کی دفعات کے تحت مقدمہ کا اندراج کیا گیا ہے جبکہ ان کا موقف تھا کہ مقدمہ میں قتل کی دفعات سمیت دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی جانی چاہیے۔ احسن کے چچا نے یہ بھی کہا کہ بچے کی والدہ کے مطابق وہاں کوئی پولیس مقابلہ نہیںہو رہا تھا۔

یہ بھی یاد رہے کہ کراچی میں پولیس اہلکاروں کی غفلت یا پھرتی کے پیش نظر یہ آٹھواں شہری ہلاک ہوا ہے اور اس سے قبل ہلاک شدگان کو کسی قسم کا کوئی انصاف نہیں ملا بلکہ تمام خاندانوں کو پولیس دھمکاتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ ہو پیروی سے باز رہیں تاعدالت مدعیان کی طرف سے عدم پیروی پرمقدمہ خارج کر دے اور یہ اہلکار دوبارہ بحال ہو سکیں۔

Please follow and like us:

Leave a Reply