راسپوٹین کی موت(افسانہ) منٹو

Spread the love

سعادت حسن منٹو

راسپوٹین دنیا کا سب سے بڑا گنہگار اور بدخصلت انسان جو روس میں پیدا ہوا، ولی سمجھا جاتا تھا، مگر درحقیقت وہ ایک شیطان تھا جس کے ہاتھوں زارِ روس کی عظیم الشان سلطنت برباد ہوئی اس کی گناہوں بھری زندگی اس قدر حیرت خیز ہے کہ اس پر کسی خیالی افسانے کا گمان ہوتا ہے۔

چھ فٹ دو انچ لمبے قد کا یہ گرانڈیل راہب جس کا سرگنبد نما تھا کئی سال روس پر اپنی شیطانی صفات کی بدولت حکمران رہا۔ اس کی حیرت انگیز قوت کاراز اس چیز میں مضمر ہے کہ ہپناٹزم میں اسے کمال حاصل تھا۔اس قوت کے ذریعہ سے وہ مضبوط سے مضبوط ترین آدمی کو بھی اپنا گروید ہ بنالیتا تھا۔ ہپناٹزم جاننے کے علاوہ علم کشف میں بھی اسے مہارت حاصل تھی چنانچہ اسی علم کی وساطت سے زارینہ سے اس کاتعارف ہوا۔

واقعات بتاتے ہیں کہ بہت جلد راسپوٹین نے زارینہ کو محصور کرلیا۔ اس کے علاوہ اس نے شاہی محل کی تمام پیش خادموں، زارینہ کی تمام خوبصورت سہیلیوں اور خاندانِ شاہی کی قریب قریب تمام بیگموں کو اپنا مرید بنالیا۔ یہ تمام عورتیں بہ رضا و رغبت اس کی خواہشوں کے سامنے جُھک گئیں۔ یہ بات بہت ہی شرمناک ہے مگر حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ خود زارینہ کو بھی آہستہ آہستہ اس کا یقین ہوگیا تھا کہ جب تک راسپوٹین کے ساتھ جسمانی گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے خدا کے ہاں نجات ممکن ہی نہیں عورتیں چھپ چھپ کر اور بھیس بدل کر اس شیطان راہب کے پاس جاتی تھیں ، نہیں معلوم کہ اس میں ایسی کون سی طاقت تھی کہ عورت سامنے آتے ہی بالکل مسحور اور بے بس ہوکر رہ جاتی تھی۔

پہلی جنگ عظیم شروع ہوچکی تھی۔ زار اورزارینہ کو یقین تھا کہ راسپوٹین خدا کی طرف سے اس لیئے آیا ہے کہ روس کو فتح و ظفر اور عزت و شان سے ہم آغوش کردے، لیکن راسپوٹین اصل میں جرمن جاسوس تھا اور اس کی کوشش یہی تھی کہ روس اپنے اتحادیوں سے جدا ہوکر جرمن سے صلح کرلے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حد درجہ غلیظ ہونے کے باوجود راسپوٹین سے نہ زارینہ کوگِھن آتی تھی نہ کسی دیگر خاتون کو۔وہ بالکل غسل نہیں کرتا تھا۔اس نے کبھی منہ ہاتھ بھی نہیں دھویا تھا۔ اس کے بدن سے سخت بدبو آتی تھی اس کے لمبے لمبے ناخنوں میں ہر وقت میل بھرا ر ہتا تھا داڑھی اس کی بے حد مکروہ تھی جس کے بال میل اور چکناہٹ کے باعث آپس میں جمے رہتے تھے۔ بہت ہی بدتمیز تھا یورپی آداب کے خلاف ہاتھ سے کھانا کھاتا تھا۔ اور اپنی بھری ہوئی انگلیاں شہزادیوں کی طرف بڑھا دیتا تھا جو ان کو چوس کر صاف کردیتی تھیں۔

1916ء کے آخر میں روس کی ناگفتہ بہ حالت تھی۔اڑھائی سال سے ملک میں بدامنی اور قحط کا دور دورہ تھا۔فوجوں کے سپاہی اپنے وطن کی محبت کا جذبہ دل میں رکھتے تو تھے لیکن وہ ایک بے مقصد لڑائی لڑتے لڑتے اُکتا گئے تھے جس میں انہیں پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا تھا۔ ان کو حکومت کی طرف سے پورے ہتھیار بھی نہیں دیئے جاتے تھے کہ وہ جرمنوں کا بہ طریقِ احسن مقابلہ کرسکیں چنانچہ فوجوں میں بددلی پھیل گئی اور 1916ء میں دس لاکھ روسی سپاہی بستر بوریا باندھ کر اپنے گھر چل دیئے۔

جب حالات اس درجہ مکدّر ہوگئے توشاہی خاندان کے مردوں کے کان کھڑے ہوئے چنانچہ گرانڈ ڈیوک تکوس اور میکائل کی سرکردگی میں ایک وفدزار کے پاس گیا۔ اور زارینہ کے چال چلن پر شبہ کا اظہارکیا اور درخواست کی کہ ملک کی بدحالی اور بدانتظامی دُور کرنے کے لیئے فوری طور پر کچھ کیا جائے۔ زار نے اس وفد کی کوئی بات نہ سنی چنانچہ اس کے رشتہ داروں نے سوچا کہ روس کو بچانے کے لیئے اب ایک ہی راستہ باقی رہ گیا ہے وہ یہ کہ خود کچھ کیا جائے۔ چنانچہ سینٹ پیٹرز برگ میں امراء نے شاہی محل کی آخری سازش کا انتظام کیا۔پروگرام میں سب سے پہلے راسپوٹین کا قتل تھا۔

17دسمبر کی رات کو شاہزادہ یوسوپوف نے مجلس رقص وسُرود قائم کی اور راسپوٹین کو اس میں مدعو کیا۔ چونکہ راسپوٹین موسیقی کا دلدادہ تھا۔اس لیئے سازشیوں کو یقین تھا کہ وہ ضرور آئیگا۔

یوسوپوف: شیطان آج ہمارے جال سے بچ کر نہیں جائے گا۔ پال ، تم نے زہر کی طرف سے اپنا اطمینان کرلیا۔

پال سیتپانوف: کرچکا ہوں۔ چند قطرے ایک کتے کے حلق میں ٹپکائے جو فوراً ہی مرگیا۔ اس کی لاش باہر صحن میں پڑی ہے۔

یوسوپوف: آج اس رات اس کتے راسپوٹین کی لاش بھی اسی صحن میں پڑی ہونی چاہیے۔۔۔ تمہارا خیال کیا ہے ، کہیں دعوت میں آنے سے انکار نہ کردے۔

پال سیتپانوف: میرا خیال ہے انکار نہیں کرئے گا۔ اس لیے کہ ہم اسے ایک معشوقہ کا لالچ بھی تو دے چکے ہیں۔

یوسوپوف: میں بھول ہی گیا تھا۔ جب اس نے اس معشوقہ کے سراپا کی تعریف سنی ہوگی توپانی بھر آیا ہوگا، غلیظ شیطان کے منہ میں۔

پال سیتپانوف: باقی لوگ کہاں ہیں۔

یوسوپوف: سب اپنی اپنی جگہ پر مستعد ہیں۔تم بالکل بے فکر رہو۔

پال سیتپانوف: ایسا نہ ہو کہ مجھے دیکھ کر ٹھٹک جائے۔ اس سے میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔

یوسوپوف: تم بے فکر رہو میں سب ٹھیک کر لوں گا۔۔۔ اس سے کہہ دو ں گا کہ پال سیتپانوف اپنا آدمی ہے۔ غیر نہیں!

پال سیتپانوف: اچھا یوں ہی سہی ۔۔۔ میرا تو دل دھڑک رہا ہے۔کم بخت کے اتنے افسانے سن چکا ہوں کہ اب وہ مجھے بُھوت معلوم ہوتا ہے۔

یوسوپوف: دوست آج یہ بھوت نہیں رہے گا ۔۔۔ روس کی مقدس سرزمین پر آج اس کا ناپاک وجود نہیں رہے گا کیا ہم سب اس کا حلف نہیں اُٹھا چکے۔ اس غدار و دجّال اور گنہگار انسان کو مارنا بہت بڑا کارِ ثواب ہے۔

پال سیتپانوف: اس میں کیا شک ہے۔

یوسوپوف: دس بجنے والے ہیں۔ آؤ اب شراب میں زہر ملا دیں۔

پال سیتپانوف: یہ دوبوتلیں ہیں۔ ان میں سے ایک میں یہ زہر گھو ل دو۔۔۔ دوسری بوتل میں کچھ نہ ڈالو مگر زہر والی بوتل پر نشان ضرور لگا دیناچاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ عین اس وقت پر گڑ بڑ ہوجائے۔

یوسوپوف: میں نشان لگائے دیتا ہوں۔ اوّل تو اس کی بھی ضرورت نہیں۔ کیونکہ شراب کی طرح دونوں بوتلیں بھی مختلف ہیں۔

پال سیتپانوف: اس میں ڈال دوں۔

یوسوپوف: ڈال دو۔ اور اچھی طرح ملا دو۔

شراب میں زہر ملا دیا گیا۔ سب تیاریاں مکمل ہوگئیں۔ پرنس یوسوپوف کے گھر میں کئی آدمی چھپے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نام پرنس منزی تھا اور دوسرا پال سیتپانوف۔ ان کے علاوہ ایک مشہور رقاصہ بھی تھی۔ جس کا لالچ راسپوٹین کودیا گیا تھا۔

سب انتظامات مکمل تھے مگر اندیشہ اس بات کا تھا کہ راسپوٹین کہیں پرنس یوسوپوف کی دعوت مسترد نہ کردے۔ وعدہ خلافی نہ کرجائے۔ رات کے گیارہ بج گئے۔ راسپوٹین نہ آیا۔ اب پرنس اور اس کے ساتھیوں کو سخت تشویش ہوئی۔

متری: کہیں جاسوسوں نے اس کو ہماری سازش سے آگاہ تو نہیں کردیا۔

یوسوپوف: نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ہمارے سوا اس سازش سے اور کون آگاہ ہے۔ اگر اس کو پتہ چل گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خود اس شیطان کے جاسوس ہیں۔

پال سیتپانوف: سوال یہ ہے کہ وہ ابھی تک آیا کیوں نہیں۔

یوسوپوف: کسی معشوقہ کے ہاں رُک گیا ہوگا۔

پال سیتپانوف: ہوسکتا ہے کہ ایسا ہی ہو۔

متری: حرا م زادے پر عورتیں یو ں ٹوٹتی ہیں جیسے شہد پر مکھیاں ۔

یوسوپوف: آج آ جائے تو یہیں سارا چھۃ ہی نچوڑ دوں۔

پال سیتپانوف: یوسوپوف! تم ٹیلیفون کرو اور اس کے گھر سے پتہ لو کہ کہاں ہے۔

یوسوپوف: ٹھیک۔لو میں ابھی کرتا ہوں (نمبر ملتا ہے) ہیلو ۔۔۔ ہیلو۔۔۔ مقدس باپ کہاں ہیں؟ ۔۔۔ کیا کہا؟۔۔۔ چلے گئے؟۔۔۔ کب ؟ ۔۔۔ کہاں؟

(ٹیلیفون کا چونگا رکھ دیتا ہے)

پال سیتپانوف: کہاں گیا؟

متری: گھر میں نہیں ہے کیا؟

یوسوپوف: خادم بتاتا ہے کہ مقدس باپ ٹھیک گیارہ بجے گھر سے نکل گئے تھے۔

متری: مقدس باپ ۔۔۔ شیطان کا بچہ ۔۔۔ مقدس باپ !!

یوسوپوف: ایسا نہ ہو کہ ہماری سازش یہاں دھری کی دھری رہ جائے۔

متری: روس کی نجات اس وقت ناممکن ہے جب تک یہ شیطان زندہ ہے۔

اگر وہ آج نہ آئے تو اسے کل بلایا جائے اور کسی نہ کسی حیلے سے اس کا کام تمام ضرور کر دیا جائے۔

پال سیتپانوف: سب انتظامات مکمل ہیں۔ ایسا موقع شاید ہی پھر کبھی ہاتھ آئے۔

یوسوپوف: کچھ دیر اور انتظار کرلیتے ہیں۔ شاید آجائے۔

پال سیتپانوف: اگر اسے آنا ہوتا تو اب تک آگیا ہوتا۔ جہاں خوبصورت عورت، رقص و سُرود اور شراب کا سوال ہو وہاں وہ کبھی دیر نہیں کرتا۔ عین وقت پر پہنچا کرتا ہے۔

متری: ہوسکتا ہے کہ ہماری دعوت میں اسے کوئی دلفریب بات نظر نہ آئی ہو۔

یوسوپوف: دعوت کو دلفریب بنانے میں ہم نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ خوبصورت عورت، رقص ، شراب اور تخلیہ یہ سب چیزیں ہم اسے دعوت میں پیش کرچکے ہیں۔ اس کے یہاں نہ آنے کی کوئی اور ہی وجہ ہوگی۔

متری: ٹھہرو۔۔۔ یہ تم نے آواز سُنی ۔و

یوسوپوف: وہ آگیا ۔۔۔ یہ آواز اسی کی موٹر کی ہے۔وہ آگیا ۔۔۔ اب تم سب تیار ہوجاؤ ۔۔۔ دیکھو ایسی بات نہ ہوکہ وہ تاڑ جائے۔

ٹھیک گیارہ بج کر بیس منٹ پر راسپوٹین کی موٹر دروازے پر آکر رُکی۔وہ اس میں سے اترا موٹر خفیہ دروازے پر روکی گئی تھی راہب کو بڑی احتیاط کے ساتھ اندر داخل کیا گیا کہ کوئی دیکھنے نہ پائے۔
راسپوٹین اسی وقت سیاہ جُبّہ پہنے تھا۔ جواہرات سے مرصع عظیم الشان طلائی صلیب اس کے سینے پر لٹک رہی تھی۔اندر داخل ہوکر اس نے اپنا بیش قیمت اوور کوٹ اتار دیا۔ باہرشدید قسم کی برف باری ہو رہی تھی اور سخت سردی تھی۔

یوسوپوف: تشریف لے آیئے۔۔۔ بے کھٹکے اندر تشریف لے آیئے۔

راسپوٹین: مجھے دیر ہوگئی۔

یوسوپوف: خاص دیرتو نہیں ہوئی۔ زہے نصیب کہ آپ تشریف لے آئے ہیں۔

راسپوٹین: جب تم نے بلایا تو مجھے آنا ہی پڑا۔۔۔ تمہاری دعوت سے انکار بھی ہوسکتا تھا جب کہ تم نے ۔۔۔ یہ کون ہے؟

یوسوپوف: مقدس باپ، آپ مطمئن رہیں۔خلوت کا یہاں پورا پورا بندوبست ہے۔ یہ پال سیتپانوف ہیں۔ میرے پرانے دوست ، ہم پیالہ و ہم نوالہ ۔۔۔ آؤ پال مقدس باپ کی زیارت کا شرف حاصل کرو۔

راسپوٹین: (پال کی طرف شفقت آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے) تم سے مل کر مسرت ہوئی ہے۔

پال ستیپانوف: یہ میری عین خوش نصیبی ہے۔

راسپوٹین: بیٹھ جاؤ ۔۔۔ اس کرسی پر بیٹھ جاؤ۔

پال سیتپانوف: (کرسی پر بیٹھ کر) آج پہلی مرتبہ آپ کے دیدار ہوئے ہیں۔۔۔ یہ شرف مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔آپ کی عظمت و بزرگی۔۔۔

راسپوٹین: راسپوٹین کا یہ ادنیٰ ثبوت ہے کہ اگر نکولس دوم روس کا زار ہے تو میں عیسیٰ مسیح ہوں۔ میں روس کو اور تمام دنیا کو نجات دلانے آیا ہوں۔ زار اورز ارینہ میرے سامنے ادب سے جھکتے اور میرا ہاتھ چومتے ہیں، ان کے بچے مجھے سجدہ کرتے ہیں۔ میرا بہت بڑا مرتبہ ہے۔

پال سیتپانوف: (مصنوعی طور پر متاثر ہوکر) اس میں کیا شک ہے مقدس باپ۔

راسپوٹین: یوسوپوف وہ عورت کہاں ہے جس کا تم نے ذکر کیا تھا۔۔۔ وہ حسینہ جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔مگر مجھ سے تعارف کرنے کی خواہش مند ہے۔

یوسوپوف: ابھی تک آئی نہیں مقدس باپ

راسپوٹین: کیا وجہ ہے کہ اس کے نہ آنے کی۔ تمہارے بیان کے مطابق اسے میری ملاقات کا اشتیاق تھا۔؟

یوسوپوف: جی ہاں، بہت زیادہ اشتیاق تھا۔ اور میرا خیال ہے کہ بس اب آتی ہی ہوگی ۔۔۔ متری باہر اس کا انتظار کر رہاہے۔ میں جا کر دیکھتا ہوں۔

راسپوٹین: جاؤ پرنس متری کو یہاں بھیج دو اورتم اس خاتون کا انتظار کرو۔

یوسوپوف: بہت اچھا مقدس باپ (چلا جاتا ہے)

راسپوٹین: پال، اس عورت کو جس کا ذکر ابھی ہو رہا تھا، کیا تم جانتے ہو!

پال سیتپانوف: جانتا ہوں ۔۔۔ بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔

راسپوٹین: کیسی ہے؟

پال سیتپانوف: بہت حسین عورت ہے اور ناچتی بھی خوب ہے۔ میں نے ایسی رقاصہ آج تک نہیں دیکھی۔

راسپوٹین: خوب۔خوب ۔۔۔

پال سیتپانوف: مقدس باپ، میں ہپناٹزم کے متعلق بہت کچھ سن چکا ہوں۔کہتے ہیں کہ ایسا علم موجود ہے، جس سے آدمی دوسروں کو مسحور کرلیتا ہے۔لیکن مجھے یقین نہیں آتا۔ اس لیے کہ کوئی قابلِ یقین بات نظر نہیں آتی۔ صرف آنکھوں کے ذریعے ٹکٹکی باندھ کر کسی تندرست آدمی کو بے حس کردینا کہاں تک درست ہوسکتا ہے۔ اور پھر اس بے حس آدمی سے عجیب و غریب کام لینا ۔۔۔ میں کیا عرض کروں، کچھ سمجھ میں نہیں آتا ۔

ایک عجیب چکر میں پھنس جاتا ہوں جب اس علم کے متعلق سوچتا ہوں۔

راسپوٹین: (ہنستا ہے) تم میری رائے پوچھنا چاہتے ہو؟

پال سیتپانوف: جی ہاں!

راسپوٹین: تم نے سنا ہوگا کہ میں ہپناٹزم کا عامل ہوں۔

راسپوٹین: جی ہاں۔آپ کے متعلق یہ بات عام مشہور ہے۔

راسپوٹین: جو بالکل غلط ہے۔۔۔ خدائے ذوالجلال نے مجھے جو قوت بخشی ہے اس کو لوگ جہالت اوربیوقوفی کے باعث ہپنا ٹزم سمجھتے ہیں اس نے مجھے برکت بخشی ہے اس نے مجھے ہدایت کار بنا یا ہے۔امن اور نجات کی کلید میرے ہاتھ میں دی ہے دنیا و آخر میں میرا مقام بلند ہے۔لوگ ان رفعتوں کو دوسرے رنگ میں دیکھتے ہیں وہ مجھے جادو گر سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ کم عقل اور جاہل ہیں۔ لیکن جو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں خدا کا بھیجا ہواپیغمبر ہوں۔

(پرنس متری اندر آتا ہے)

راسپوٹین: آؤ پرنس متری تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔

متری: میں اس خاتون کی راہ دیکھ رہا تھا مقدس باپ۔

راسپوٹین: ابھی تک نہیں آئی!

متری: جی نہیں، لیکن بس اب آیا ہی چاہتی ہے۔

راسپوٹین: تو بیٹھ جاؤ میرے پاس ۔۔۔ بوتل کھولو، پیو اور پلاؤ

متری: (پاس بیٹھ جاتا ہے اور زہر والی بوتل کھول کر راسپوٹین کے گلاس میں شراب انڈیلتا ہے) فرمایئے کتنی پیئیں گے۔

راسپوٹین: گلاس بھر دو ۔۔۔ پال کو بھی دو۔

متری: (بوتل میز پر رکھ دیتا ہے) لو پال لو پال تم بھی لے لو۔۔۔ کیا سوچ رہے ہو؟

پال سیتپانوف: میں سامنے تصویر کی طرف دیکھ رہا ہوں ۔۔۔ مصوری کا نادر نمونہ ہے ۔۔۔ مقدس باپ، آپ نے ملاحظہ فرمائی یہ تصویر۔

راسپوٹین: (تصویر کی طرف دیکھتا ہے) منظر کشی خوب کی گئی ہے۔مجھے اس کا فریم بھی پسند آیا ہے (اس دوران میں پال سیتپانوف دوسری بوتل سے اپنے گلاس میں شراب انڈیل لیتا ہے۔ )

متری: میں آرٹسٹ کا نام بھو ل گیا ہوں مجھے یوسوپوف نے بتایا تھا، بھلا سا نام ہے۔

پال سیتپانوف: (گلاس اٹھاکر) مقدس باپ کی صحت کے لیے۔

راسپوٹین: (اپنا گلاس اٹھا کر لبوں کے ساتھ لگاتا ہے) متری تم بھی پیو (گلاس غٹاغٹ پی جاتا ہے)
متری: حیرت ہے کہ وہ خاتون ابھی تک نہیں آئی۔

پال سیتپانوف: (راسپوٹین کی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے)

یوسوپوف شاید ابھی تک اس کا انتظار کر رہا ہے۔

راسپوٹین: آجائے گی۔۔۔ آج برف باری بھی تو بہت ہو رہی ہے۔

پال اور متری سخت متخیر تھے کہ راسپوٹین اتنا زہر پی چکا ہے۔جو بارہ آدمیوں کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے۔مگر اسے کچھ بھی نہیں ہوا۔ وہ بالکل تندرست تھا جیسے اس نے کبھی زہر پیا ہی نہیں۔ شراب پینے کے بعد اس نے میز پر سے بسکٹ اٹھا کر کھائے اورباتیں کرتا رہا بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس نے نظر بچا کر اپنا گلاس کانچ کے اس اگالدان میں انڈیل دیا تھا جو اس کے پاس ہی رکھا تھا مگر بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ نہیں اس نے سچ مچ زہر پیاتھا۔ بہرحال اس کے متعلق اختلاف ضرور ہے۔ پرنس یوسوپوف اور اس کے ساتھی اوپر کی منزل میں تھے۔اور دیر ہونے کے باعث سخت پریشان ہو رہے تھے ۔

انہیں یقین تھا کہ راسپوٹین زہر پیتے ہی مرجائے گا۔ جب بہت دیر ہوگئی اور پال اس کی موت کی خوشخبری سنانے کے لیے نہ آیا تو یہ لوگ دبے پاؤں نیچے اترے اور کمرے کے پاس جاکر تعجب سے راسپوٹین کی باتیں سننے لگے ۔

راسپوٹین: ایک گلاس اور رہے۔

پال: لیجیے(گلاس میں زہریلی شراب انڈیلتا ہے)

راسپوٹین: (گلاس خالی کرکے ) آج سردی غضب کی ہے، خون منجمد ہوا جارہاہے۔ تین گلاس ختم کرچکا ہوں، ابھی تک بدن میں گرمی پیدا نہیں ہوئی۔۔۔ لیکن تم لوگ یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر میری طرف کیا دیکھ رہے ہو؟

پال: کچھ نہیں ۔۔۔ کچھ نہیں

متری: (گھبرا کر) یہ صریحاً جادوگری ہے۔

راسپوٹین: (مسکرا کر ) کیا جادو گری ہے؟ ۔۔۔ جادو گری سب بکواس ہے۔ تم بہک رہے ۔۔۔ تمہیں ہو کیا گیا ہے۔

پال: (اُٹھ کھڑا ہوتا ہے) خُدا کی قسّم یہ شخص جادو گر ہے۔۔۔

متری: پال، پستول نکالو اور ملعون کا خاتمہ کردو، یہ زہر اسے ہلاک نہیں کرسکے گا۔

راسپوٹین: (ہنستا ہے) تو مجھے زہر دیا گیا ہے ۔۔۔ دوستو! زہر مجھے ہلاک نہیں کرسکتا ۔۔۔ جس شخص کو حکمت الٰہی نے بھیجا ہے جس کو خُدا نے بے شمارقوتیں عنایت کر رکھی ہیں اس کی طرف کوئی آنکھ اُٹھا کرنہیں دیکھ سکتا۔۔۔ یہ زہر میرا بال تک بیکانہیں کرسکتا ۔۔۔(ہنستا ہے) جاؤ، یوسوپوف کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ وہ حسین خاتون ابھی آئی ہے، یا نہیں (ہنستا ہے) اس کے بعد پھر مجھے ہلاک کرنے کی تجویز سوچنا ۔۔۔ خدا تم پر اپنی برکت نازل کرئے۔

متری: پال اس شیطان کی تقریر نہ سنو۔۔۔ اپنا کام کرو۔۔۔ اس کے رعب میں نہ آؤ۔

پال: (اپنے حواس درست کرتا ہے اور جیب سے پستول نکال کر فائر کرتا ہے ) ایک دو، تین۔

راسپوٹین، کے سینے میں گولیاں اتار کر پال کمرے سے باہر نکلا۔ جہاں اسے پرنس یوسوپوف وغیرہ ملے۔پال نے ان سے کہا۔شیطان بالآخر جہنم رسید ہوگیا اب روس اس کے شرسے آزاد ہے ۔۔۔

چنانچہ یہ سب لوگ اوپر کی منزل میں شراب پینے لگے مگر تھوڑی ہی دیر میں انہیں نیچے کی منزل میں کچھ گڑ بڑ معلوم ہوئی۔ اتنے میں دروازہ کھلا اور راسپوٹین اندر داخل ہوا۔ ان سب کو یقین تھا کہ پھیپھڑے پر گولیاں کھا کر وہ مرکھپ چکا ہوگا۔ جب اسے زندہ دیکھا تو ان کے ہوش اُڑ گئے۔راسپوٹین خون میں نہایا ہوا تھا۔ لڑکھڑاتا ہوا وہ محل کے پھاٹک تک پہنچ گیا اور اسے کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔

یوسوپوف: متری کہیں سچ مچ یہ راہب خدا رسیدہ ہی تو نہیں؟

متری: ہوسکتا ہے کہ خدا اس کی حفاظت کر رہا ہو۔

یوسوپوف: زہر پی کر اور گولیاں کھا کر بھی کم بخت نہیں مرا۔

متری: بڑا سخت جان ہے۔

پال: کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔

راسپوٹین: (ایک ہاتھ سے اپنا زخم پکڑ کر جس میں سے خون جاری تھا) تم نے مجھے قتل کرنے کی پوری پوری کوشش کی ہے لیکن یہ دیکھو میں زندہ ہوں ۔۔۔

میں زندہ ہوں اور اسی طرح زندہ رہوں گا۔کوئی انسانی قوت مجھے ہلاک نہیں کرسکتی زہر اور یہ گولیاں مجھ پر کیا اثر کرسکتی ہیں (ہنستا ہے) تم لوگ بے وقوف ہو کیا اب بھی تمہیں میری عظمت پر شک ہے کیا اب بھی تم مجھے ہلاک کرنے کی ناکام سعی کرتے رہو گے۔۔۔

پھاٹک کھول دو۔ میں باہر جانا چاہتا ہوں اور عنقریب خدا مجھے تم سے انتقام لینے کا موقع عطا کردے گا۔

پال: متری، دوڑو۔ اس ملعون کی پیٹھ میں اپنا خنجر دستے تک اُتاردو۔ اس کی باتوں میں نہ آؤ۔ یہ خدا رسیدہ بزرگ نہیں شیطان ہے جو ہمیں مرعوب کرنا چاہتاہے۔

راسپوٹین: تم بے وقوف ہو تمہارا زہر اورتمہاری گولیاں مجھے ہلاک نہ کرسکیں۔ یہ خنجر میرا کیا بگاڑے گا؟ ۔۔۔ آؤ اس کو بھی آزما دیکھو۔

پال: متری خدا کے لیئے اس کی باتیں نہ سنو! یہ ہم پر جادو کرنا چاہتا ہے۔دوڑو جانے نہ پائے ۔۔۔ لاؤ خنجر مجھے دو۔

راسپوٹین نے جب دروازہ کا ہتا گھمایا تو پال کو جوش آگیا۔ وہ خرافات کا قائل نہ تھا۔خنجر لیکر تیر کی طرح دوڑا اور راسپوٹین کی پیٹھ میں دستے تک اُتار دیا۔

اب روس کا یہ دجّال راہب آخری بار لڑکھڑا یا اورفرش پر اوندھے منہ گر پڑا۔ کہتے ہیں کہ جب اس کی لاش اُٹھا کر ان لوگوں نے دریا میں پھینکنا چاہی تو اس وقت بھی راسپوٹین کے جسم میں جان کی رمق باقی تھی ۔۔۔

جب اس کو دریابُرد کیا گیا تو ان لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا ۔۔۔ کیونکہ اب واقعی راسپوٹین رُوس کا مہیب بھوت مرچکا تھا۔

Leave a Reply