میری ذاتی رائے میں 18 ویں ترمیم پر نظر ثانی میں کوئی حرج نہیں: رانا تنویر حسین

Spread the love

پی ٹی آئی کوئی ایسی قانون سازی دکھائے جو وہ عوام کی فلاح کے لئے لائی ہو اور ہم نے پاس نہ ہونے دی ہو

پی ٹی آئی والے رونا دھونا چھوڑیں اور کام پر توجہ دیںاور ملک کو آگے لے کر چلیں، چور، چور اور ڈاکو، ڈاکو کہنے سے لوگوں کا پیٹ نہیں بھرتا

ایف بی آر کا 2013میں ریونیو 1900ارب تھا اور (ن) لیگ کی حکومت اسے 4000پے چھوڑ کے گئی ہے

کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ دو، دو، تین، تین ماہ بعد آئی جی پولیس کا تبادلہ کر دیا جائے، انٹرویو

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیک (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور سابق وفاقی وزیر برائے دفائی پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت کی کوئی سمت ہی نہیں اور حکومت یہ سمجھنے سے ہی قاصر ہے کہ معاملات ہیں کیا۔

گورننس نام کی کوئی چیز اس وقت ملک میں نہیں۔ پی ٹی آئی کوئی ایسی قانون سازی دکھائے جو وہ عوام کی فلاح کے لئے لائی ہو اور ہم نے پاس نہ ہونے دی ہو۔ یہ میری ذاتی رائے ہے اور پارٹی کی رائے نہیں کہ 18ویں ترمیم پر نظر ثانی میں کوئی حرج نہیں ہے ، پارلیمانی کمیٹی بیٹھے ، کوئی بھی قانون آئیڈیل نہیں ہوتا اس میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے ۔

18ویں ترمیم میں جہاں ، جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں ان کو بہتر کیا جا سکتا ہے تاہم اگر ترمیم کو سرے سے ہی ختم کرنا چاہیں تو یہ مناسب نہیں ہے۔ پی ٹی آئی والے رونا دھونا چھوڑیں اور کام پر توجہ دیںاور ملک کو آگے لے کر چلیں۔ چور، چور اور ڈاکو، ڈاکو کہنے سے لوگوں کا پیٹ نہیں بھرتا۔

ان خیالات کا اظہار رانا تنویر حسین نے نجی ٹی ی سے انٹرویو میں کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور وفاق میں پی ٹی آئی حکومتوں کی گورننس پر بہت بڑے سوالیہ نشان کھڑے ہیں۔ معیشت کو چھوڑیں وہ ایک علیحدہ سوال ہے کہ انہوں نے کیا گل کھلائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کا 2013میں ریونیو 1900ارب تھا اور (ن) لیگ کی حکومت اسے 4000پے چھوڑ کے گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ دو، دو ، تین، تین ماہ بعد آئی جی پولیس کا تبادلہ کر دیا جائے۔ہم کہتے ہیں پی ٹی آئی حکومت رہے مگر یہ کچھ کر کے تو دکھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ہم سے بات کر کے دو، تین بل پارلیمنٹ سے پاس کروائے ہیں۔

پی ٹی آئی سے کام تو ہو نہیں رہا، قوم پے رحم کریں اور خدا کے لئے ٹھنڈے دل کے ساتھ بیٹھ کر سوچیں اور گالیاں دینی بند کریں اور چور، چور کہنا بند کریں اور ایک سمت لیں اور آگے بڑھیں تاکہ ملک بہتری کی طرف جائے۔

رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کی حکومت نے شرح نمو 5.8پر چھوڑی، زرمبادلہ کے ذخائر23ارب ڈالرز تک گئے اور جب ہماری حکومت ختم ہوئی تویہ 18ارب ڈالرز تھے، اسٹاک ایکسچینج ہمیں 12ہزار پوائنٹس پر ملا جو 53ہزار پوائنٹس کو چھو کر واپس آیا اور یہ پی ٹی آئی کے شور اور میاں نواز شریف کی نااہلی کی وجہ سے ہوا، ہم نے 12ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا، دہشت گردی کم کردی، 1700کلومیٹر طویل موٹرویز بنا کر دیئے،

سارا کچھ بہتر دیا اور پی ٹی آئی حکومت نے اس کو برقرار رکھنا تھا اور اس کو بہتر اور میزید مضبوط کرنا تھا ، ان سے آکر چلا نہیں اور یہ چور، چور کر رہے ہیں۔ پی ایس ڈی پی میں 300سے 350ارب روپے کم کر دیئے، یہ سی پیک سے 24ارب ڈالرز کم کر رہے ہیں، یہ ملک کو کدھر لے کر جا رہے ہیں مجھے تو ان کی کوئی سمجھ نہیں آ رہی، یہ کر کیا رہے ہیں، بیروزگاری بڑھ رہی ہے اور فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، لوگو ں کا کاروبار ٹھپ ہے اور لوگوں کی چیخیں نکل رہی ہیں۔

Please follow and like us:

Leave a Reply