آئی ایم ایف پاکستان کو 3 سال کیلئے 6 سے 8 ارب ڈالرز دیگا

Spread the love

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خزانہ اسد عمر نے پاکستان اور ائی ایم ایف کے

درمیان معاملات طے پانے کی تصدیق کردی۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے

اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دورہ امریکہ میں

آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دنیا کے بڑے سرمایہ کاروں سے ملاقات ہوئی، آئی

ایم ایف کے ساتھ اصولی اتفاق ہوگیا ہے، آئی ایم ایف کا وفد اپریل کے آخری ہفتے

میں پاکستان آئے گا۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے فوراً

بعد ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے فنڈز ملیں گے، زرمبادلہ ذخائر پر

2016 ء سے جاری دباؤ کم ہوجائے گا اور ذخائر بڑھیں گے۔انہوں نے بتایا کہ

معاشی اصلاحات پر کام ہورہا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے بعد کیپیٹل مارکیٹ

کی حالت بہتر ہوگی، معاشی استحکام نظر آئے گا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو

کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ دورہ امریکہ کے دوران ایف اے ٹی ایف کے

صدر سے بھی ملاقات ہوئی، بھارت کے روئیے کے بارے میں ان سے خدشات کا

اظہار کیا ہے، ایف اے ٹی ایف کے صدر نے یقین دہانی کرائی کہ فیصلے تکنیکی

بنیادوں پر ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط کا عام

آدمی پر اثر نہیں پڑے گا اور اس سے مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوگا، آئی ایم ایف

سے 6 سے 8 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوگا، معاہدے کے بعد ساڑھے 7 ارب عالمی

مالیاتی بینک سے آئیں گے، ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے آنیوالی امداد اس کے علاوہ

ہوگی جب کہ آئی ایم ایف سے بھی فنڈ دستیاب ہوں گے۔اسد عمر نے مزید کہا کہ

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوگا، پاکستان جلد ہی بانڈ زجاری کرے گا،

کیپیٹل مارکیٹ اس وقت مثبت ہے، شرح سود 9 سے کم ہوکر7 فیصد پر آگئی ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کو انکی سفارشات پر عملدرآمد کا

مسودہ بھجوادیں گے، مسودے پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے ایف اے ٹی ایف

کا وفد مئی کے تیسرے ہفتے پاکستان آئے گا، آئی ایم ایف سے چینی قرضوں پر

حالیہ دورے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ حکومت

کے دور میں توانائی شعبے کے 600 ارب روپے کو بہرحال کہیں سے پورا

کرناہے، حکومت کا بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں، (ن) لیگ کے

دور میں پیدا ہونیوالی بجلی کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن نیپرا جاری کررہی ہے۔ان کا

کہنا تھا کہ سرکاری کمپنیوں، بجلی کی ترسیل اور پبلک فنانس کے بجٹ میں

بہتری معاہدے میں شامل ہے، سی پیک کے حوالے سے تفصیلات آئی ایم ایف کو

اکتوبر میں دے چکے ہیں، سی پیک پر کچھ چھپانے کو نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ

.معیشت میں بہتری سے متعلق حکومتی اقدامات سے عوام پر بوجھ پڑے گا،

Please follow and like us:

Leave a Reply