(کون ہے جو سپنوں میں آیا)حسرت جے پوری

Spread the love

15 اپریل 1922 تا 17 ستمبر 1999

تحریر و تحقیق:محمد مدثربھٹی

80 کی دہائی کا ذکر ہے جب میں بہت چھوٹا تھا اکثر صبح کے وقت جب میں گھر سے نکلتا تو سکول کے سامنے ایک ہوٹل پر بہت رش رہتا تھا جہاں لوگ چائے پیتے اور ریڈیو پر صبح کا فرمائشی پروگرام چلتا جس میں میزبان گیتوں کے ساتھ شاعر، موسیقی کار اور فلموں کا تذکرہ کرتے تھے، اسی پروگرام کے توسط سے میں نے حسرت جے پوری کو جانااور آج تک ان کے لکھے ہوئے نغمےاسی طرح سنتا ہوں جس طرح وہ کسی نے ابھی میرے سامنے پیش کئے ہیں۔ پھر ٹیپ ریکارڈر کا رواج عام ہوا ہے میوزک سنٹروں پر مرضی کے گانے ریکارڈ کرانے والوں کا رش ہوتا تھا۔ اکثر عشاق جو آمنے سامنے رہتے تھے اپنےٹیپ ریکارڈر پر کسی مخصوص گیت کو چلاتے جس کا مطلب ہوتا کہ موصوفہ صحن یا چھت پر تشریف لے آئیں تاکہ اپنی ادبی نگارشات کا تحریری شکلوں میں تبادلہ بھی کر لیا جائے اور آنکھوں کو بھی خیرہ کر لیا جائے۔

اس زمانےکی بہت باتیں تو میں یاد نہیں رکھ سکا مگر کچھ گیت جو مجھے آج بھی یاد ہیںجن کے بارے میں ریڈیو میزبان بہت لہک کر بیان کرتا تھا ان میں سسرال فلم کا گیت تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے، این ایوننگ ان پیرس کا نغمہ، تیرے گھر کے سامنے ایک گھر بناوں گا، آرزو فلم کا اجی روٹھ کر اب کہاں جائیے گا اور احسان تیرا ہو گا مجھ پر دل چاہتا ہے وہ کہنے دو آج بھی میری سماعتوں میں رس گھولتے ہیں۔

ایک مدت سے میری خواہش تھی کہ حسرت جے پوری کے بارے میں چند الفاظ لکھ کر ان کو خراج تحسین پیش کروںیہ خواہش آج پوری ہوئی ہے۔

اس وقت فلموں میں فلم کے نام پر مبنی نغمے یعنی ٹائٹل سانگ شامل کرنے کا چلن تھا۔ حسرت ٹائٹل سانگ لکھنے میں ماہر تھے۔ رات اور دن دیا جلے (رات اور دن)، گمنام ہے کوئی (گمنام)، رخ سے ذرا نقاب ہٹا دو میرے حضور (میرے حضور)، دنیا کی سیر کر لو انساں کے دوست بن کر – اراؤنڈ دی ورلڈ اِن ایٹ ڈالر (اراؤنڈ دی ورلڈ)، این ایوننگ اِن پیرس (این ایوننگ اِن پیرس)، کون ہے جو سپنوں میں آیا، کون ہے جو دل میں سمایا، لو جھک گیا آسماں بھی، عشق میرا رنگ لایا (جھک گیا آسماں)، دیوانہ مجھ کو لوگ کہیں (دیوانہ)، تیرے گھر کے سامنے اک گھر بناؤں گا (تیرے گھر کے سامنے)، دو جاسوس کریں محسوس، یہ دنیا بڑی خراب ہے (دو جاسوس)، میں ہوں خوش رنگ حنا (حنا)۔

ہندی فلموں میں ٹائٹل گیت لکھنے والوں کو جمع کیا جائے تو ان کی تان ہمیشہ نگار حسرت جے پور ی پر آن ٹوٹے گی۔ حسرت جے پوری ہرقسم کے گیت لکھے ہندی فلموں کے زریں عہد میں ٹائٹل گیت لکھنا بہت بڑی بات سمجھی جاتی تھی۔فلم سازوں کو جب بھی ٹائٹل گیت کی ضرورت ہوتی تو ان کے قدم حسرت جے پوری کے در پر پہنچ جاتے۔

ان کا اصل نام اقبال حسین تھا۔انہوں نے انگریزی میڈیم سے عصری تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے دادا فدا حسین سے گھر پر ہی اردو اور فارسی سیکھی۔حسرت نے تقریباََ 20 سال کی عمر میں شاعری شروع کی اور چھوٹی چھوٹی نظمیں لکھنے لگے ۔حسرت جے پوری نے 1940 میں کام کی تلاش میں ممبئی کا رخ کیا اورگزر بسر کے لئے بس کنڈکٹر کے طور پر کام کرنا شروع کیا جس کے لیے انہیں ماہانہ 11 روپے تنخواہ ملتی تھی۔ اس ملازمت کے دوران میں مشاعروں میں بھی شریک ہونے لگے اور ایک مشاعرے کے دوران جب انہوں نے اپنا کلام پیش کیا تو اس کو سن کے راج کپور کے والد پرتھوی راج کپور بہت متاثر ہوئی مشاعرے کے اختتام پر ان کے ملاقات کی اور ان کے کلام کی بہت تعریف کرتے ہوئے انہیں راج کپور سے ملنے کا مشورہ دیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہندی فلموں میں شنکر جے کشن بھی اپنی بقا کی جنگ پوری شدت سے لڑ رہے تھےادھر شنکر جے کشن کو پہلی فلم برسات ملی اور دوسری طرف شنکر جے کشن کو ایک نو آموز شاعر ملا۔

راج کپور سے پہلی ملاقات رائل اوپیرا ہاؤس میں ہوئی۔یہ وہی تھیٹر ہے جس کے باہر ایک زمانے میں حسرت جے پوری مٹی کے کھلونے بیچا کرتے تھے۔راج کپور نے حسرت کی شنکر جے کشن سے ملاقات کرائی شنکر جے کشن نے حسرت جے پوری کو ایک دھن سنائی اور اس پر ان سے گانا لکھنے کے لئے کہا۔ دھن کے الفاظ کچھ یوں تھے: امبووا کا پیڑہے وہیں منڈیر ہے آجا میرے بالما کاہے کی دیر ہے شنکر جے کشن کی اس دھن کو سن کر حسرت جے پوری نے جو گیت لکھا ،وہ یوں ہے: جیا بے قرار ہے چھائی بہار ہے آجا میرے بالما تیرا انتظار ہےحسرت جے پوری 1949 میں ریلیز ہونے والی فلم برسات میں اس گیت کی کامیابی کے بعد بطور گیت کار اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

برسات کی کامیابی کے بعد راج کپور، حسرت جے پوری اور شنکر جے کشن کی جوڑی نے کئی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ راج کپور کے ساتھ حسرت جے پوری کی جوڑی 1971 تک قائم رہی۔ گیت کار شلیندر کے ساتھ نغمہ نگار حسرت جے پوری نے راج کپور کیلئے 1971تک گیت لکھے۔شلیندر کی موت اور ’’میرا نام جوکر ‘‘ اور ’’کل آج اور کل ‘‘کی ناکامی کے بعد راج کپور نے دیگر موسیقاروں اور گیت کاروں کی خدمت حاصل کرنا شروع کردیں۔راج کپور فلم پریم روگ کے ذریعے حسرت صاحب کو واپس لینا چاہتے تھے مگر قرعہ فال امیر قزلباش کے نام نکلا،لیکن ’’رام تیری گنگا میلی ‘‘ میں راج کپور نے حسرت کو ایک گیت لکھنے کو کہا اور اس فلم کے لئے حسرت نے’’ سن صاحبہ سن، پیار کی دھن ‘‘ نغمہ لکھا جو اس فلم کا سب سے زیادہ مقبول گیت ثابت ہوا۔ گیت کار شلیندرنے ’’تیسری قسم ‘‘نامی فلم پروڈیوس کی تب انہوں نے اس فلم کے گیت حسرت سے لکھوائے۔ حسرت نے 1951کی فلم ’’ہلچل‘‘ کے منظرنامے بھی لکھے تھے۔بطور نغمہ نگار ان کی آخری فلم ’’ہتیا:دی مرڈر‘‘ 2004تھی۔ حسرت کوجے پوری کو دو مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔حسرت ورلڈ یونیورسٹی ٹیبل کے ڈاکٹریٹ ایوارڈ اور اردو کانفرنس میں جوش ملیح آبادی ایوارڈ سے بھی نوازاگیا۔فلم میرے حضور میں ہندی اور برج زبان پر مشتمل نغمہ جھنک جھنک تیری باجے پائلیا، کے لیے انہیں امبیڈکر ایوارڈ سے نواز گیا۔ حسرت جے پوری نے یوں تو بہت سے رومانوی نغمے لکھے لیکن حقیقی زندگی میں انہیں اپنا پہلا پیار نہیں مل پایا۔

لڑکپن کے جس دور میں محبت کی کوئل کوکتی ہے اس زمانے میں حسرت کو بھییہ کوک سنائی دی۔وہ سینے پر لوٹتے اس افعی کو قید تو کرنا چاہتے تھے مگرخوف نے ان کےاعصاب کو شل کر دیا،جس زمانے کی یہ واردات ہے اس وقت حسرت کو شاعری باقاعدہ عارضے کی طرح لاحق ہو چکی تھی۔ بچپن میں ہندو لڑکی رادھا سے عشق ہوگیا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بذریعہ خط محبت کا اظہار کرنا چاہا لیکن رادھا کو خط دینے کی ہمت نہیں کرپائے۔ بعد میں راج کپور نے اپنی فلم سنگم میں اس خط میں تحریرکردہ نظم’یہ میراپریم پتر پڑھ کر،تم ناراض نہ ہونا،کابخوبی استعمال کیا۔

کہا جاتا ہے کہ جب تک انہوں نے اقبال حسین کے نام سے جدوجہد کی تب تک کامیاب نہ ہوئے لیکن جب اقبال حسین نے حسرت تخلص اختیار کیا تو کامیابی ان کا مقدر بن گئی۔ حسرت جے پوری نے تین عشروں پر محیط اپنے فلمی کیریئر میں 300 سے زائد فلموں کے لیے تقریبا 2000 گیت لکھے۔اپنے نغموں او ر گیتوں سے کئی برسوں مسحور کرنے والا یہ شاعر اور نغمہ نگار نے17 ستمبر 1999 کو اس دنیا کو الوداع کہہ گیا۔

حسرت جے پوری نے یادگار ہندی فلموں برسات، داغ، آہ، انارکلی، بوٹ پالش، چوری چوری، یہودی، جنگلی، ہمراہی، دل ایک مندر، میرے حضور، گمنام، جانور، میرا نام جوکر وغیرہ کے لیے گیت لکھے۔ ان کے لکھے مقبول گیتوں میں ’جیا بے قرار ہے چھائی بہار ہے ‘، ’چھوڑ گئے بالم‘، ’اب میرا کون سہارا‘، ’بچھڑے ہوئے پردیسی‘، ’آج کل تیرے میرے پیار کے چرچے ‘، ’بدن پہ ستارے لپیٹے ہوئے ‘، ’دل کا بھنور کرے ‘، ’احسان تیرا ہوگا مجھ پر‘، ’بہاروں پھول برساؤ‘، ’زندگی اک سفر ہے سہانہ‘، ’دل کے جھرونکوں میں تجھ کو‘، ’اکیلے اکیلے کہاں جا رہے ہو‘، ’جانے کہاں گئے وہ دن‘، ’آجا صنم مدھر چاندنی میں ہم ‘، ’تم سے اچھا کون ہے ‘، ’سن صاحبا سن پیار کی دھُن‘، ’پردے میں رہنے دو‘، ’اک گھر بناؤں گا‘، ’تجھے جیون کی ڈور سے ‘، ’کون ہے جو سپنوں میں آیا‘، ’تیری پیاری پیاری صورت کو‘، ’سو سا ل پہلے مجھے تم سے پیار تھا‘، ’یہ میرا پریم پتر پڑھ کر‘، ’تم نے پکارا اور ہم چلے آئے ‘، ’دنیا بنانے والے ‘، ’تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے ‘، ’گمنام ہے کوئی بدنام‘، ’جانے نہ نظر پہچانے جگر‘، ’اے گل بدن‘، ’آجا رے اب میرا دل پکارے ‘، ’پنکھ ہوتے تو اڑ جاتی‘، ’ہے نہ بولو بولو‘، ’بیدردی بالما تجھ کو‘، ’آواز دے کے ہمیں تم بلاؤ‘، ’اک بے وفا سے پیار کیا‘، ’میں کا کروں رام مجھے بڈھا‘، ’آجا تجھ کو پکارے میرے گیت‘، ’برسات میں جب آئے گا ساون کا مہینہ‘ وغیرہ شامل ہیں۔

Please follow and like us:

Leave a Reply