15 اپریل کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1450ء جنگ فورمینی میں فرانسینیوں نے فتح حاصل کر کہ انگریزوں کا شمالی فرانس پر غلبہ توڑ دیا۔

1632ء تیس سالہ جنگ کے دوران جنگ باراں میں سویڈن نے ہولی رومن مملکت کو ہرا دیا۔

1783ء امریکی انقلابی جنگ کا اختتام۔

1827ء کینیڈا کی سب سے بڑی جامعہ، یونیورسٹی آف ٹورنٹو چارٹر ہوئی

1877ء انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا کرکٹ ٹیسٹ میچ کھیلا گیا

1912ء ٹائی ٹینک جہاز نیو فاؤنڈ لینڈ میں برفانی تودے سے ٹکرانے کے بعد ڈوب گئی

1923ء انسولین کے ذریعے ذیابطیس(شوگر) کا علاج شروع ہوا

1927ء سوئٹزرلینڈ اور سوویت یونین سفارتی تعلقات قائم کرنے پر رضامند ہوئے

1937ء شکاگو میں پہلا بلڈ بینک قائم ہوا

1954ء برطانیہ اور ہالینڈ کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے

1955ء آزادی کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے آبپاشی کے منصوبے کوٹر ی بیراج کا افتتاح ہوا

1957ء برطانیہ ایٹمی دھماکا کرنے والا تیسرا ملک بن گیا

1963ء پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر کے مسئلے پر کلکتہ مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا

1990ء میخائیل گوربارچوف سویت یونین کے پہلے انتظامی صدر منتخب ہوئے

1994ء مراکش معاہدے پر دستخط ہوئے اور گیٹ کو ڈبل یو ٹی او میں تبدیل کر دیا گیا۔

1997ء حاجی کیمپ میں آگ لگنے سے 343 حاجی جاں بحق۔

ولادت

1452ء لیونارڈو ڈا ونچی، اطالوی مصور

1684ء کیتھرین اول، روسی ملکہ

1870ء استاد امام دین گجراتی، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی زبان کے شہرۂ آفاق مزاحیہ شاعر تھے۔ امام دین گجراتی 15 اپریل، 1870ء کو گجرات، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام امام الدین تھا۔ ان کی تعلیم صرف پرائمری تک تھی۔ وہ بلدیہ گجرات کے شعبۂ محصول چونگی میں ملازم تھے۔ امام دین گجراتی کے کلام کو اردو اور پنجابی شاعری میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ ابتدا میں وہ پنجابی شاعری کرتے رہے مگر بعد ازاں اپنے قریبی دوست اور شاعر و صحافی راحت ملک کے بڑے بھائی ملک عبد الرحمان خادم کے اصرار پر وہ اردو میں بھی شعر کہنے لگے۔ چونکہ وہ اردو زبان پر ملکہ نہیں رکھتے تھے لہٰذا انہوں نے اپنی شاعری کے لیے اردو اور پنجابی زبان کی آمیزش سے اپنا الگ انداز ایجاد کر لیا جو اس وقت بھی کافی مقبول ہوا اور آج بھی بے انتہا مقبول ہے حتیٰ کہ آج بہت سے شاعر استاد امام دین گجراتی کا انداز اپنا کر کافی شہرت حاصل کرچکے ہیں۔ ان کے مجموعہ ہائے کلام میں بانگ دہل، بانگ رحیل اور صور اسرافیل کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک کتاب شاعری کا پرنسپل بھی مرتب کی تھی۔ ان کی تصانیف مین بانگ دہل، بانگ رحیل، صور اسرافیل، شاعری کا پرنسپل شامل ہیں ان کا انتقال 22 فروری، 1954ء کو گجرات میں ہوا۔

1922ء حسرت جے پوری 15 اپریل 1922ءکو راجستھان کے جے پور شہر میں پیدا ہوئے۔ حسرت کا اصل نام اقبال حسین تھا۔1949ء میں فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور پھر مڑ کر نہیں دیکھا۔ ان کا پہلا فلمی نغمہ ’’جیا بے قرار ہے چھائی بہار ہے‘‘ سپر ہٹ ہوا۔

مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں۔

1928ء موسیٰ صدر شیعہ عالم دین اور مجتہد تھے۔ 1928ء میں ایران کے شہر قم میں پیدا ہوئے، تہران یونیورسٹی سے 1956ء میں اسلامی شریعت اور سیاسیات میں ڈگریاں حاصل کیں، اعلی تعلیم کی خاطر نجف چلے گئے، وہاں سے 1960ء میں لبنان کی طرف سفر کیا اور لبنان میں شیعوں کی حالت زار کو دیکھ کر وہیں پر قیام پزیر ہو گئے اور رفاہی کاموں کا اجرا کیا۔ جن میں بہت سے سکولز، چیرٹی سنٹرز شامل ہیں۔ اسرائیل کے حملوں سے شیعہ علاقوں کے دفاع کے لیے امل نامی مسلح تنظیم کی بنیاد رکھی۔ لبنان میں شیعوں کے متحد کرنے کے لیے المجلس الاسلامی الشیعی الاعلی کی بنیاد رکھی۔ 1978ء میں لیبیا کے سرکاری دورے میں اغوا کر لیے گئے اور ابھی ان کے زندہ یا فوت ہونے کا کچھ علم نہیں ہے۔

1929ء جسٹس(ر)نسیم حسن شاہ( سابق(ر) چیف جسٹس آف پاکستان،تاحیات صدرِ انجمن ِ حِمایت ِ اِسلام) پاکستان کے بارہویں منصف اعظم پاکستان تھے۔ وہ 1993ء سے 1994ء تک اِس عہدے پر فائز رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پهانسی دلوانے میں ان کا بڑا کردار تھا۔ 3 فروری 2015ء کو نسیم حسن شاہ 86 سال کی عمر میں لندن میں انتقال کرگئے۔

1931ء پنجاب کے وزیراعلی،ادیب اور مصور حنیف رامے شیخوپورہ میں پیدا ہوئے

1940ء جیفری آرچر، برطانوی ادیب

1955ء عماد الدین محمد عبد المنعم الفاید، جسے عام طور پر دودی الفاید کے نام سے جانا جاتا ہے مصری ارب پتی تاجر محمد الفاید کا بیٹا تھا۔ وہ شہزادی ڈیانا کے ساتھ رومانوی تعلق میں تھا جو 31 اگست 1997ء کو شہزادی ڈیانا کے ہمراہ پیرس میں ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

1958ء میاں افتخار حسین 5 اپریل 1958ء کو پبی ضلع نوشہرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں محمد رفیق نے فوج میں بہ طور وائرلیس آپریٹر فرائض انجام دیے۔ انہوں نے 1990ء کا الیکشن لڑا اور جیت گئے۔ صوبائی اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی سیکریٹری اور ضلعی ڈیڈک کمیٹی کے چیئرمین بنے۔ 1993ء کا الیکشن پی پی پی کے مقابلے میں صرف 149 ووٹوں سے ہارا۔1997ء کا الیکشن پھر جیتا۔ 2002ء کا الیکشن پھر پاکستان پیپلز پارٹی کے مقابلے میں ہارا، لیکن 2008ء کا الیکشن جیت لیا اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور کلچر مقرر کیے گئے۔2013ء کے انتخابات میں وہ ناکام ٹھہرے۔ اس وقت وہ اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہیں

1984ء − طلعت اقبال، بونيری پاکستان

وفات

1845ء مہاراجا چندو لال، حیدرآباد دکن کی مشہور شخصیت تھے جنہوں نے ریاست حیدرآباد کے وزیر اعظم کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیے۔چندو لال بیک وقت فارسی اور اردو کے شاعر بھی تھے۔ اپنے عہد وزارت میں چندو لال نے بیشتر اردو شعرا کو حیدرآباد دکن بلوایا اور وہیں اُنہیں سکونت اختیار کرنے کے بہترین انتظامات کیے۔ ان کی پیدائش کا سال 1766 بیان کیا گیا ہے۔

1642ء سلیمان ثانی 1687ء سے 1691ء تک خلافت عثمانیہ کی باگ ڈور سنبھالنے والا سلطان تھا۔ وہ 15 اپریل 1642ء کو توپ قاپی محل، استنبول میں پیدا ہوا اور 1691ء میں اپنے انتقال تک عہدہ سلطانی پر موجود رہا۔ وہ محمد رابع کا چھوٹا بھائی تھا۔ اس کی زندگی کا بیشتر حصہ حرم میں گزرا۔ عثمانی سلطنت کے دور میں کئی شہزادوں کی طویل زندگیاں حرم میں گزریں تاکہ وہ سلطان کے خلاف بغاوت نہ کر سکیں۔ 1687ء میں اپنے بھائی کے تخت سے ہٹائے جانے کے بعد اقتدار پر بیٹھا۔ اس کے عہد میں زیادہ تر اختیارات صدراعظم احمد فاضل کوپریلی کے ہاتھ میں رہے۔ 1691ء میں ادرنہ محل میں انتقال کر گیا۔

1865ء ابراہم لنکن، سابق امریکی صدر ایک ڈاکیے اور کلرک سے زندگی شروع کر کے امریکہ کا سولہواں صدر بنا۔ اپنی ذاتی محنت سے قانونی امتحان پاس کر لیا۔ وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ آہستہ آہستہ امریکن کانگرس کا رکن بن گیا۔ 1856ء میں امریکہ کی جمہوری جماعت میں شامل ہو گیا۔ 1860ء میں امریکہ کا صدر منتخب ہوا۔ 1864ء میں دوبار صدر منتخب ہوا۔ 1863ء میں حبشیوں کی آزادی کا اعلان کیا۔ حبشیوں کو غلامی سے آزاد کرانے کی سر توڑ کوشش کی۔ انسان کو انسان کا غلام ہونا غیر فطری سمجھتا تھا۔ 1865ء میں کسی پاگل نے اسے اس وقت گولی مار کر قتل کر ڈالا جب وہ فورڈ تھیٹر میں ڈراما دیکھ رہا تھا۔

1980ء ژاں پال سارتر، فلسفی اور ادیب، ناول نگار، کھلاڑی، باکسر

مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں

1982ء خالد اسلامبولی، مصری صدر انور سادات کے قاتل کو 5 دیگر افراد سمیت سزائے موت دے دی گئی

2013ء صاحبزادہ فضل کریم محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد قادری کے صاحبزادے اور پاکستان کے ایک مذہبی سیاست دان تھے وہمرکزی جمعیت علماء پاکستان اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ تھے آپ کے والد گرامی محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد قادری، اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا محمد احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی کے شجرہء طریقت سے فیض یافتہ تھے۔

2017ء مختار مسعود، آواز دوست، سفر نصیب، لوحِ ایام، حرفِ شوق کے مصنف مختار مسعود کے منفرد اسلوب میں ان کی زبان کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ فارسی اور اُردو ادب سے گہرا لگائو، نپی تلی نثر، جچے ہوئے جملے، احتیاط سے تراشی ہوئی ترکیبیں اور تاریخ و ادب کے حوالے، اُن کی تحریر کو ایک امتیازی شان عطا کرتے ہیں۔ وہی شان، جو صاحبِ طرز اور صاحبِ اسلوب نثر نگاروں کی پہچان ہوتی ہے، پھر اس پر مستزاد ہے، ان کا مدلل تجزیہ اور بے خوفی سے اسے پیش کرنے کا دو ٹوک انداز، جو اُن کی تحریر کو دلبری کے ساتھ دلیری بھی دیتا ہے۔ افسوس کہ ہم نے اُن کی وہ قدر نہ کی، جو کرنی چاہیے تھی۔ 2003ء میں ملنے والا ستارئہ امتیاز اُن کی امتیازی خصوصیات کا ایک چھوٹا سا اعتراف تھا اور اس اعزاز کے ملنے سے انہیں تو کوئی فرق نہیں پڑا ہو گا، البتہ اس اعزاز کے لیے یہ اعزاز ہے کہ مختار مسعود نے اسے قبول کر لیا۔ مختار مسعود کے محبوب شاعر، اقبال کا یہ مصرع خود اقبال اور مختار مسعود دونوں پر صادق آتا ہے۔ ان کی پیدائش 26دسمبر 1926 کو ہوئی۔ اُردو کے دلبر اور دلیر ادیب، مختار مسعود 15 اپریل2017ء کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ اُن کی وفات، صرف ایک شخصیت کا بچھڑنا نہیں، بلکہ ایک مخلص انسان، ایک دردِ مند شہری، ایک سچا پاکستانی، ایک دیانت دار سرکاری افسر اور اُردو کا ایک صاحبِ طرز ادیب رخصت ہو گیا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply