دیوار (افسانہ) ژاں پال سارتر

Spread the love

سارتر کے یوم وفات کے موقع پر ان قارئین کے لیے خصوصی اشاعت

سارتر کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے یہاں کلک کریں

یہ افسانہ سرینگر کے ایک استاد ڈاکٹر پرویز احمد کے بلاگ سے لیا گیا ہے اور ان کی باضابطہ اجازت کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ہمیں چونے سے پتے ایک سفید ہال میں دھکیل دیا۔ میری آنکھیں چندھیانے لگیں۔ وہاں کی تیز روشنی میں میری آنکھوں میں تکلیف شروع ہوگئی۔تبھی میں نے ٹیبل کے نیچے چارسویلین کو ایک کاغذ پرجھکا ہوا دیکھا۔ انہوں نے پیچھے دوسرے قیدیوں کو ایک قطار میں کھڑا کررکھا تھا۔ ان کے پاس پہنچنے کے لیے ہمیں پورا ہال پار کرناپڑا۔ قیدیوں میں سے میں کئی لوگوں کو جانتا تھا۔ ان میں کچھ غیر ملکی بھی تھے۔ میرے سامنے کھڑے دونوں افسر گورے چٹے اور گول سر والے تھے۔ میرے انداز سے وہ فرانسیسی، ان میں ناٹے قد والا باربار اپنی پینٹ کو اوپر کھینچ کر اپنے حواس پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔ سنتری، قیدیوں کو یکے بعد دیگرے ٹیبل کے پاس لے جانے لگے۔ افسروں نے ہر ایک سے ان کا نام اور پتہ پوچھا۔ زیادہ پوچھ تاچھ نہیں کی۔ زیادہ سے زیادہ اِدھراُدھر کا ایک آدھ سوال پوچھ لیا۔ جواب وہ دھیان سے نہیں سن رہے تھے۔ خاموشی سے سامنے دیکھتے ہوئے کاغذات پر لکھنا شروع کردیتے تھے۔ انہوں نے ٹام سے جاننا چاہا کہ کیا وہ انٹرنیشنل بریگیڈ کا ممبر ہے؟ ٹام اپنی جیب سے برآمد ہونے والے کاغذات کی وجہ سے انکار نہ کرسکا۔ زوان سے انہوں نے کچھ نہیں پوچھا۔ صرف اس کا نام جاننے کے بعد دیر تک کاغذوں پر کچھ لکھتے رہے۔

’’میرا بھائی جوز باغی ہے۔‘‘زوان نے کہنا شروع کیا۔’’آپ جانتے ہیں کہ وہ یہاں سے فرار ہوچکا ہے؟ میں کسی پارٹی کا ممبر نہیں ہوں، نہ ہی سیاست سے کوئی تعلق رکھتا ہوں۔ میں کسی دوسرے کے کیے کی سزا بھگتنے کو تیار نہیں۔‘‘ زوان کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ ایک سنتری اسے پکڑ کر باہر لے گیا۔ اس کے بعد میری باری تھی۔’’تمہارا نام پابلوا بیتیا؟‘‘ ایک افسر نے پوچھا۔

’’ہاں۔‘‘

اس نے کاغذات دیکھ کر پوچھا۔’’رامن گریس کہاں ہے؟‘‘

’’مجھے پتہ نہیں۔‘‘وہ ایک منٹ تک کچھ لکھتا رہا۔ اس کے بعد سنتری وہاں سے مجھے باہر لے آیا۔ برآمدے میں ٹام اور زوان انتظار کر رہے تھے۔

’’اس کا مطلب؟‘‘ ٹا م نے ایک پہرے دار سے پوچھا۔

’’مطلب کا کیا مطلب؟‘‘ پہرے دار نے جواب دینے کی بجائے سوال کیا۔

’’یہ جرح تھی یا سزا؟‘‘

’’سزا۔‘‘ پہرے دار نے کہا۔ ’’وہ ہمارے ساتھ کیا کریں گے؟‘‘

’’تمہاری سزا تمہاری کوٹھری میں سنائی جائے گی۔‘‘ ہماری کوٹھری ایک اسپتال کا تہہ خانہ تھی۔ سیلن کی وجہ سے بے حد ٹھنڈی۔ ہم اس میں ساری رات کانپتے رہے۔

’’کیا ہم مارے جائیں گے؟‘‘ ایک طویل خاموشی کے بعد ٹام نے کہا۔

’’میرا بھی ایسا ہی خیال ہے لیکن وہ لڑکے کو کچھ نہیں کہیں گے۔‘‘

’’اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں۔ یہ ایک فوجی کا بھائی ہے، بس۔‘‘ ٹام نے کہا۔

بس زوان کی جانب دیکھا۔ مجھے لگا کہ وہ کچھ بھی نہیں سن رہا ہے۔’’تمہیں پتہ ہے یہ لوگ سرگوسا میں کون سا طریقہ اپناتے ہیں؟‘‘ ٹام نے کہنا جاری رکھا، ’’وہاں قیدیوں کو سڑک کے اوپر لٹاکر اوپر سے ٹرک دوڑاتے ہیں۔ یہ اطلاع مجھے مراکش کے رہنے والے ایک شخص سے ملی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ گولیاں بچانے کے لیے یہ طریقہ اپناتے ہیں۔‘‘

’’اس سے گیس کی بچت تو ہوتی نہیں ہوگی؟‘‘ میں نے طیش میں آکر کہا۔ مجھے ٹام پرغصہ آرہا تھا۔ اسے ایسی بات کہنا نہیں چاہیے تھی۔

ٹام پھر سے بتاتا گیا، ’’پھر افسران وہاں ٹہلتے ہوئے آتے ہیں۔ مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سگریٹ پیتے رہتے ہیں۔ تم کیا سوچتے ہو وہ قیدیوں کو ایک دم سے ختم کردیتے ہیں۔۔۔؟آہ۔۔۔نہیں! وہ انہیں چیختے ہوئے چھوڑدیتے ہیں۔‘‘

’’میں یقین نہیں کرتا کہ ہمارے ساتھ ایسا ہوگا؟‘‘ میں نے کہا۔ چاروں دیواروں کے روشن دانوں اور چھت کے درمیان گول کٹاؤ سے ہوکر جس سے آسمان صاف دکھائی دیتا تھا نیا دن داخل ہورہا تھا۔ میں ایک دم ’سُن‘ نہیں تھا۔ پھر بھی اپنے کندھے اوربازوؤں کو محسوس نہیں کررہا تھا۔ بیچ بیچ میں خیال آتا جیسے کوئی چیز کھوگئی ہو۔ پھراچانک یاد آیا انہوں نے میرا کوٹ تو واپس کیا ہی نہیں۔ دن کیسے اور کب گزرگیا اس کا پتہ ہی نہیں چلا۔ رات میں آٹھ بجے دو پہرے داروں کے ساتھ ایک میجراندر آیا۔ میجر کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔ ’’ان تینوں کے نام کیا ہیں؟‘‘ اس نے پہرے دار سے دریافت کیا۔ ’’اسٹین واک،ابیتیا اور مربل۔‘‘ اس نے جواب دیا۔

میجر آنکھوں پر چشمہ چڑھا کر فہرست دیکھنے لگا۔ اسٹین واک۔۔۔اسٹین واک ۔۔۔ ہاں ٹھیک ہے۔ تمہیں موت کی سزا دی گئی ہے۔ صبح تمہیں گولی سے اڑا دیا جائے گا۔‘‘

’’باقی لوگوں کو بھی؟‘‘ ٹام نے پوچھا۔ میجر نے اپنے کندھے ہلائے۔ ٹام اور میری طرف مڑکر بولا،’’تم میں سے کوئی واسک ہے؟‘‘

’’ہم میں سے کوئی واسک نہیں۔‘‘ ہمارے جواب سے میجر ناراض ہوگیا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ یہاں تین واسک ہیں؟ لیکن میں ان کی کھوج میں وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ میں جانتا ہوں کہ تمہیں پادری کی ضرورت تونہیں ہوگی۔‘‘ہم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ’’ایک بیلجین ڈاکٹر یہاں جلد آئے گا۔‘‘ میجر نے آگے کہا، ’’اسے تم لوگوں کے ساتھ رات بتانے کو کہا گیا ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی فوجی سلام ٹھوک کر وہ باہر چلاگیا۔ ’’میں نے پہلے ہی کہا تھا۔ ہم مار دیے جائیں گے۔‘‘ ٹام بولا۔

’’ہاں۔‘‘ میں نے کہا، ’’اس لڑکے کے لیے بہت برا ہوا۔‘‘ یہ بات میں نے ہمدردی جتانے کے لیے کہی تھی۔ یوں تو میں زوان کو پسند نہیں کرتا تھا۔ اس کا چہرہ پچکا ہوا تھا اور ذہنی تناؤ کی وجہ سے اس کے سارے نقوش گھل مل کر بدصورتی میں بدل گئے تھے۔ تین دن پہلے وہ ایک چست نوجوان تھا۔ تب وہ زیادہ برا دکھائی نہیں دیتا تھا لیکن اب وہ ایک بوڑھی عورت جیسا نظر آرہا تھا۔ مجھے محسوس ہورہا تھا کہ اگر وہ اسے چھوڑ بھی دیں تو وہ دوبارہ کبھی جوان نہیں ہوگا۔

میرے دل میں اس کے لیے رحم دلی ہونی چاہیے تھی لیکن اب رحم دلی سے مجھے چڑ بلکہ وحشت سی ہورہی تھی۔ تاریکی بڑھتی جارہی تھی۔ روشن دان سے ہلکی سی روشنی چھن کر اڑرہی تھی۔ کوئلے کا ڈھیر آسمان کے ٹکڑے کے نیچے ایک کالے دھبے کی طرح نظر آرہا تھا۔ اچانک تہہ خانے کا دروازہ کھلا۔ دو پہرے داروں کے درمیان ایک گورے چٹے آدمی نے جو کتھئی وردی میں تھا اندر داخل ہوا، اس نے ہمیں سلام کیا اور بولا، ’’میں ڈاکٹر ہوں۔ مجھے ان تکلیف بھرے لمحات میں آپ کی مدد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ اس کی آواز وہاں کے لوگوں سے الگ اور پراعتماد لگ رہی تھی۔

’’تم یہاں کیا کرنا چاہوگے؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔ ’’میں آپ کی مرضی کے مطابق کام کروں گا۔ آپ کے آخری لمحات کو آسان بنانے میں میں آپ کی مدد کروں گا۔‘‘

’’تم یہاں کیوں آئے؟ جب کہ اور بھی بہت مجرم ہیں؟ سارا اسپتال ان سے بھرا پڑا ہے۔‘‘

’’مجھے بطور خاص یہیں بھیجا گیا ہے۔‘‘ اس نے گول مول جواب دیا۔ اس نے ہمیں انگلش سگریٹ دینے کی کوشش کی۔ ہم نے انکار کردیا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ حیرت زدہ تھا۔ ’’تمہیں یہاں دیانت داری دکھانے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے۔‘‘ میں نے کہا،’’اس کے علاوہ میں تمہیں جانتا ہوں۔ اپنی گرفتاری کے دن میں نے تمہیں بیرکوں کے احاطے میں فاشسٹوں کے ساتھ دیکھا تھا۔‘‘ میں نے اپنا بیان جاری رکھا مگر پتہ نہیں مجھے کیا ہوا؟ ڈاکٹر نے میری دلچسپی ایک دم ختم کردی۔ میں نے جسم کو ایک جھٹکا دیا اور اس طرف سے نظریں پھیرلیں۔

میں نے دونوں ساتھیوں کی جانب دیکھا۔ ٹام نے ہتھیلیوں میں چہرہ چھپا لیا تھا۔چھوٹے سے زوان کی حالت سب سے زیادہ خراب تھی۔ اس کا منہ کھلا ہوا تھا۔نتھنے کانپ رہے تھے۔ ڈاکٹر نے قریب جاکر تسلی کے لیے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا لیکن زوان کی آنکھیں جذبات سے عاری تھیں۔ دوغلا! ڈاکٹرکے بارے میں میں نے غصے سے سوچا اگر یہ میرے پاس نبض دیکھنے آیا تو اس کا حلیہ بگاڑدوں گا۔ وہ میرے پاس نہیں آیا لیکن وہ مجھے گھور رہا تھا۔ میں نے سر اٹھا کراسی کی طرف دیکھا۔ ’’تمہیں یہاں سردی نہیں لگتی؟‘‘ اس نے اپنائیت سے پوچھا وہ خود بھی سردی کا مارا لگ رہا تھا۔

’’مجھے نہیں لگتی۔‘‘ میں نے کہا۔

اس نے پھر بھی اپنی نظریں میرے چہرے سے نہیں ہٹائیں۔ میرے ہاتھ خود بہ خود اپنے چہرے پر چلے گئے۔ میں پسینے میں شرابور تھا۔ میں نے رومال سے اپنی گردن کو پوچھنا شروع کیا۔ رومال بھیگ گیا لیکن پسینہ نکلتا ہی جارہا تھا۔ میری پینٹ بینچ سے چپک گئی تھی۔

اسی وقت زوان بولا،’’تم ڈاکٹر ہو؟‘‘

’’ہاں۔‘‘ڈاکٹر نے جواب دیا۔

’’کیا ۔۔۔تکلیف ہوتی ہے؟۔۔۔کافی دیر تک۔۔۔؟‘‘

’’ہوں! کب ۔۔۔ ۔ ارے نہیں، قطعی نہیں۔ سب کچھ بہت جلد ختم ہوجاتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے اس طرح کہا جیسے نقد سودا لینے والے کسی گاہک کو پھسلا رہا ہو۔

’’لیکن وہ کہہ رہے تھے۔۔۔کبھی کبھی انہیں دوبارہ گولی چلانا پڑتی ہے؟‘‘

’’کبھی کبھی۔‘‘ ڈاکٹر نے اس بات کی حمایت میں سر ہلایا، ’’اس حالت میں جب گولی نازک حصے تک نہیں پہنچتی۔‘‘

’’تب انہیں پھر سے بندوق لوڈ کرنا پڑتی ہوگی۔ دوبارہ نشانہ لگانا پڑتا ہوگا؟‘‘ ایک لمحہ سوچنے کے بعد پھر گویا ہوا، اس میں وقت لگتا ہوگا!‘‘

اسے تکلیف سے ڈر لگتا تھا۔ اپنی کم عمری کی وجہ سے وہ صرف اسی کے بارے میں سوچ سکتا تھا۔ میں نے تکلیف کے بارے میں نہیں سوچا۔ پسینہ آنے کا یہ سبب نہیں تھا کہ میں ڈرا ہوا تھا۔ میں اٹھا اورٹہلتا ہوا کوئلے کے ڈھیر تک جا پہنچا۔ ٹام اچک کر کھڑا ہوگیا اور مجھے نفرت سے دیکھنے لگا۔ میرے جوتوں کی آواز نے اسے ناراض کردیا تھا۔ وہ دھیمی آواز میں بڑبڑانے لگا۔ بنا بولے اُسے آرام نہیں آتا تھا۔
’’تم کچھ سمجھ رہے ہو؟ میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔‘‘ اس نے کہا۔

میں نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔

’’کیا بات ہے؟‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔

’’میرے ساتھ کچھ ہونے والا ہے؟ جسے میں بالکل سمجھ نہیں پاتا۔‘‘ ٹام نے کہا۔ اس کے بدن سے عجیب طرح کی بو کا بھبکا اٹھ رہا تھا۔

’’کچھ دیر بعد تمہاری سمجھ میں سب کچھ آجائے گا۔‘‘ میں نے دانت بھینچتے ہوئے کہا۔

مجھے محسوس ہوا کہ عام دنوں کی بہ نسبت میں اس وقت بو کو بہت زیادہ محسوس کررہا تھا۔ ’’بات واضح نہیں ہوئی۔‘‘ اس نے ضد سے کہا۔ ’’میں نڈر ہونا چاہتا ہوں لیکن اس سے پہلے ہر بات سمجھ لینا چاہتا ہوں۔ سنو پہلے وہ ہمیں احاطے میں لے جائیں گے۔ ٹھیک! ہمارے سامنے کھڑے ہوجائیں گے۔ ان کی تعداد کتنی ہوگی؟‘‘

’’پتہ نہیں۔ پانچ یا آٹھ، اس سے زیادہ نہیں۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔ وہ آٹھ ہوں گے۔ کوئی چلا کر کہے گا۔ نشانہ لگاؤاور میں اور بندقوں کو اپنی طرف تنا ہوا دیکھوں گا۔ تب شاید میں دیوار میں سماجانا چاہوں گا، میں اپنی پیٹھ سے دیوار کو دھکا دوں گا۔ اپنی طاقت کی آخری بو ند سے لیکن دیوار اپنی جگہ رہے گی۔ کسی بھیانک خواب کی طرح۔میں اس حالت کا تصور کرسکتا ہوں۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’میں بھی تصور کرسکتا ہوں لیکن میں اس بات کو اہمیت نہیں دینا چاہتا۔‘‘

مجھ سے مایوس ہوکر ٹام اپنے آپ سے باتیں کرنے لگا۔ لگتا تھا ڈاکٹر کچھ نہیں سن رہا۔ اسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ ہم کیا سوچتے ہیں۔ وہ ہمارے جسموں کی نگرانی کرنے کے لیے آیا تھا۔ اجسام جو دھیرے دھیرے مردہ ہوتے جارہے تھے۔

’’ایک بھیانک خواب کی طرح لگتا ہے۔‘‘ ٹام کہہ رہا تھا، ’’میں پاگل نہیں ہورہا ہوں لیکن کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ مجھے اپنی لاش دکھائی دیتی ہے۔‘‘ وہ لفظوں کو چبا چبا کربول رہا تھا۔ یقینی طور پر وہ کچھ نہیں سوچنا چاہتا تھا۔ اسی لیے اپنے آپ سے باتیں کررہاتھا۔ اس سے پڑے ہوئے مریض جیسی بدبو اٹھ رہی تھی۔

’’سور، تو پینٹ میں پیشاب کررہا ہے۔‘‘ میں نے کڑھ کر کہا۔

’’نہیں،نہیں!‘‘ اس نے بے چین ہوکر کہا۔ ’’یہ بات نہیں ہے۔‘‘

ڈاکٹرنے قریب آکر مصنوعی انداز میں اس سے پوچھا، ’’کیا آپ بے چینی محسوس کررہے ہیں؟‘‘

’’لیکن میں خوف زدہ نہیں ہوں۔ میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ قطعی خوف زدہ نہیں ہوں میں۔‘‘ ٹام نے کہا ڈاکٹر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ٹام کونے میں پیشاب کرنے چلاگیا۔ وہاں سے لوٹا اور خاموش ہوکر بیٹھ گیا۔ ہم تینوں بغور ڈاکٹر کو دیکھنے لگے کیوں کہ وہ زندہ آدمی کی طرح فکرمند لگ رہاتھا۔ تہہ خانے کی سردی میں وہ اس طرح کانپ رہا تھا جیسے ایک زندہ آدمی کو کانپنا چاہیے۔ آخر میں وہ زوان کے پاس آیا۔ وہ اس کی گردن کی جانچ کرنا چاہتاتھا۔ زوان نے اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیا لیکن اس کی آنکھیں ڈاکٹر پر مرکوز تھیں۔ اس نے ہاتھ کو منہ سے کاٹنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر فوراً پیچھے ہٹ گیا اور لڑکھڑاکر دیوار سے جاٹکرایا۔ پل بھر وہ ہماری طرف گھبرائے ہوئے انداز میں دیکھنے لگا۔ پھر اس کی سمجھ میں آگیا۔ ہم اس کی طرح انسان نہیں رہ گئے تھے۔ میں ہنسنے لگا۔ میں نے اپنے اندر ایک ساتھ راحت اور بے چینی محسوس کی۔ میں صبح یا موت کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتا تھا۔ جیسے ہی میں کسی چیز کے بارے میں سوچنا شروع کرتا، مجھے اپنی طرف تنی ہوئی بندوق کی نالیاں دکھائی دینے لگتی تھیں۔میں اپنی زندگی کی ڈور کے آخری سرے پرتھا۔ میں اپنی زندگی کے کچھ گھنٹے بے کار گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ وہ صبح مجھے جگانے آئیں گے۔ میں نیند کی کیفیت میں ا ن کے پیچھے اور بنا اُف کیے ختم ہوجاؤں گا۔ میں نے سوچا۔

میں ٹہلتا ہوا بیتی زندگی کے بارے میں سوچنے لگا۔ یادوں کی بے ترتیب بھیڑ ذہن میں داخل ہوگئی۔ اچھی اور بری دونوں قسم کی یادیں۔ میں نے ایک ناٹے قد والے آدمی کا چہرہ دیکھا، جسے مار ڈالا گیاتھا۔ اپنے چاچا اور رامن گریس کا چہرہ دیکھا۔ اپنی پوری زندگی دیکھی۔ کس طرح میں تین مہینے بے روزگار رہا اور بھوک سے مرتے مرتے بچا۔ مجھے گرینڈا میں ایک بینچ پر گزاری ہوئی رات کا خیال آیا۔ تب میں تین دن کا بھوکا تھا۔ میں غصے میں تھا اورمرنے سے نفرت کرتا تھا۔ اس رات کے خیال سے مجھے ہنسی آگئی۔ کس پاگل پن کے ساتھ خوشی، عورتوں اور آزادی کے پیچھے دوڑتا رہا۔ کس لیے؟ میں اسپین کوآزاد کرانا چاہتا تھا۔ میں مارگل کا معتقد تھا۔ میں بغاوت میں شامل ہوا۔ میں نے جلسوں میں تقاریر کیں۔ میں نے ہر بات کوا یسی سنجیدگی سے لیا جیسے مجھے کبھی مرنا ہی نہ ہو۔

مجھے لگ رہا تھا جیسے میری پوری زندگی میرے سامنے کھڑی ہواور محسوس کیا کہ یہ ایک شرم ناک جھوٹ ہے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں کیوں کہ اب یہ ختم ہونے والی ہے۔ مجھے حیرت ہورہی تھی کہ میں کیسے لڑکیوں کے ساتھ ہنس بول لیتا تھا۔ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ مجھے اس طرح ختم ہونا ہے تو میں چھوٹی انگلی کے برابر بھی حرکت نہ کرپاتا۔ میری زندگی ایک بند بورے کی طرح میرے روبرو تھی۔ ایک لمحہ پہلے میں نے اُسے پرکھنے کی کوشش کی تھی۔ خود سے کہنا چاہتا تھا یہ ایک خوبصورت زندگی ہے؟ لیکن اس پر کوئی فیصلہ نہ دے سکا۔یہ صرف ایک نقشہ تھا۔ میں نے حیاتِ جاوداں کا سوانگ بھرتے ہوئے اپنا وقت خرچ کیا اور کچھ بھی حاصل نہ کرسکا۔ میں بہت سی چیزوں کی قربانی دے سکتا تھا۔ جسے مین گنل کا ذائقہ، شدید گرمی میں کیڈل کے پاس چھوٹے سے مجسمے میں غسل۔۔۔لیکن موت نے سب بدذائقہ کردیا تھا۔

اچانک ڈاکٹر کے دماغ میں ایک نایاب خیال آیا۔ اس نے کہا، ’’دوستو،اگر فوجی حکومت نے اجازت دی تو میں آپ کے عزیز و اقارب کے پاس آپ کی خبر یا نشانی بھیجنے کا انتظام کرسکتا ہوں۔‘‘

’’میرا تو کوئی نہیں!‘‘ ٹام غرایا۔

میں چپ رہا۔ پل بھر انتظار کرنے کے بعد ٹام نے میری طرف حیرت سے دیکھا۔ ’’تمہیں کونچا کے پاس کوئی پیغام نہیں بھیجنا ہے؟‘‘

’’نہیں۔‘‘ میں نے کہا۔

مجھے اس طرح کی جذباتی ہمدردیوں سے قربت تھی۔ اس میں میری غلطی تھی۔پچھلی بار میں نے اس سے کونچا کا ذکر کیا تھا۔ مجھے اپنے آپ پر قابو رکھنا چاہیے تھا۔ میں کونچا کے ساتھ ایک سال رہا لیکن اب اسے دیکھنے یا اس سے بات کرنے کی مجھے حسرت نہیں تھی۔ یہاں تک کہ اسے اپنی بانہوں میں بھرنے کی آرزو بھی نہیں تھی۔ میں جانتا تھا، میرے مرنے کی خبر سن کر وہ چلاچلا کر روئے گی۔ مہینوں تک اسے اپنی زندگی بے کار لگے گی لیکن اس کے باوجود مجھے مرنا تو تھا ہی۔

ٹام بھی بالکل تنہا تھا لیکن دوسری طرح سے۔ وہ حیرت سے مسکراتا ہوا بینچ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس نے احتیاط سے مکڑی کو چھوا اور فوراً ہاتھ کھینچ لیا۔جیسے صرف چھونے سے ہی وہ ٹوٹ جائے گی۔ اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو بینچ چھونے کی حرکت نہ کرتا۔ میں نے محسوس کیا کہ میری پینٹ گیلی ہورہی ہے میں سمجھ نہیں پایا کہ یہ پیشاب ہے یا پسینہ۔ پھر بھی احتیاط کے طور پر میں پیشاب کرنے کے لیے کوئلے کے ڈھیر کے پاس چلاگیا۔

تبھی بیلجین ڈاکٹر نے جیب گھڑی نکال کر دیکھی، بولا، ’’ساڑھے تین بج گئے۔‘‘

’’دوغلا۔‘‘ میں نے دل ہی دل میں کہا۔ اس نے یہ بات ضرور کسی مقصد سے کہی تھی، ٹام اچھل کر کھڑا ہوگیا۔ ہم بھول چکے تھے کہ وقت گزر رہا ہے۔ معصوم زوان چیخنے لگا۔ ’’میں مرنا نہیں چاہتا۔‘‘ پھر پورے تہہ خانے میں ہوا میں ہاتھ گھماتا ہوا دوڑنے لگا۔ پھر روتا ہواچٹائی پر ڈھیر ہوگیا۔

ٹام اسے سنجیدگی سے دیکھتا رہا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے زوان کو حوصلہ دینے کی اس کے دل میں تمنا نہیں رہی۔ شاید ایسی حالت میں ہمدردی بھی فضول ہوچکی تھی۔ زوان رو رہا تھا اوراپنے اوپر ترس کھا رہا تھا۔ ایک سیکنڈ، صرف ایک سیکنڈ کے لیے میرا بھی دل چاہا کہ رولوں۔ دل نے چاہا کہ میں بھی اپنی حالت پر چیخوں چلاؤں لیکن ہوا الٹا۔ جیسے ہی اس کے کانپتے ہوئے کمزورکندھوں پر میری نظر گئی میں نہ خود پر ترس کھاسکتا تھا نہ دوسروں پر۔ میں نے اپنے آپ دہرایا۔ ’’میں ایک صاف ستھری موت مرنا چاہتا ہوں۔‘‘

ٹام اٹھ بیٹھا اور چھت کے روشن دان کے نیچے کھڑا دن کی روشنی کا انتظار کرنے لگا۔ میں نے صاف ستھری موت کا عہد کرلیا تھا اوراسی کے بارے میں سوچ رہا تھا لیکن اس پل سے جب ڈاکٹر نے گھڑی دیکھ کر وقت بتایا مجھے لگ رہا تھا جیسے وقت اڑا جارہا ہے۔ بوند بوند کرکے تیزی کے ساتھ رس رہا ہو۔ اس وقت اندھیرا ہی تھا جب میں نے ٹام کی آواز سنی۔

’’تم نے وہ آہٹیں سنیں؟‘‘ ٹام نے پوچھا۔

’’باہریارڈ میں کچھ لوگ مارچ کر رہے تھے۔‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’وہ کیاکررہے ہوں گے۔ وہ اندھیرے میں تو گولی چلا نہیں سکتے۔‘‘

تبھی وہ آہٹیں بند ہوگئیں۔

’’وہ پچھواڑے والے یارڈ میں ہوں گے۔‘‘میں نے کہا۔

ٹام نے ڈاکٹر سے ایک سگریٹ مانگی۔ پھر مجھ سے پوچھا، ’’تم کچھ اندازہ لگا سکتے ہو کہ باہر کیا ہورہا ہے؟‘‘ وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا کہ دروازے پر آہٹ ہوئی۔ اگلے ہی پل تہہ خانے کا دروازہ کھلا۔ ایک لیفٹیننٹ دو سپاہیوں کے ساتھ اندر آیا۔ ٹام کے ہاتھ سے سگریٹ چھوٹ گئی۔

’’اسٹین واک۔‘‘

ٹام نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن پیڈرو نے اس کی جانب اشارہ کردیا۔

’’زوان ہربل۔‘‘

’’وہاں،چٹائی پر۔‘‘

زوان اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ دونوں سپاہیوں نے اسے کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔ جیسے ہی انہوں نے اسے چھوڑا وہ پھر گرپڑا۔ سپاہی جھجکے۔ ’’یہ بیمار نہیں ہے اسے اٹھا کر لے چلو۔ وہیں دیکھیں گے۔‘‘ کہتا ہوا لیفٹیننٹ ٹام کی جانب مڑا، ’’اسے لے چلو۔‘‘

ٹام سپاہیوں کے درمیان چل پڑا۔ دونوں کندھوں پر زوان کو ٹانگے سپاہی چل پڑے۔ زوان کے ہوش و حواس گم نہیں ہوئے تھے۔ اس کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں۔رخساروں پر آنسو بہہ رہے تھے۔ میں ان کے ساتھ چلنے کو ہوا تو لیفٹیننٹ نے روک دیا۔ ’’تم ابیتیا ہو؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’یہیں ٹھہرو۔ تمہارے لیے بعد میں آئیں گے۔‘‘

وہ چلے گئے، ڈاکٹر بھی۔ میں تنہا رہ گیا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ پھر بھی چاہ رہا تھا کہ جو بھی ہونا ہو، صحیح ڈھنگ سے ہوجائے۔ قریب قریب مجھے بندوقوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ہر آواز پر میں کانپ جاتا۔ میں چیخ کر اپنے بال نوچنا چاہتا تھا۔ میں نے دانت بھینچے اور دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ٹھونس لیے۔ میں ایک اچھی موت مرنا چاہتا تھا۔

ایک گھنٹے کے بعد وہ پھر آئے۔ وہ مجھے پہلی منزل پر بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گئے۔ جو بے حد گرم اور سگریٹ کے دھوئیں سے بھرا ہوا تھا۔ دو افسر سگریٹ پیتے ہوئے آرام کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔

’’تم ابیتیا ہو؟‘‘ایک نے پوچھا۔

’’ہاں۔۔۔‘‘

’’رامن گریس کہاں ہے؟‘‘

’’مجھے نہیں معلوم؟‘‘

سوال کرنے والا افسر چھوٹے قد کا اور موٹاتھا۔ چشمے کے پیچھے سے جھانکتی ہوئی اس کی آنکھیں بے حد ظالم لگ رہی تھیں۔ اس نے حکم دیا، ’’یہاں آؤ۔‘‘

میں اس کے پاس پہنچا۔ اس نے میرے کندھے پکڑ لیے اور ایسے دیکھنے لگا جیسے میں زمین میں دھنس جاؤں گا۔ اس کے علاوہ میرے بازوؤں کو پوری قوت کے ساتھ بھینچنے لگا۔ یہ کام مجھے تکلیف دینے کے لیے نہیں تھا ایک کھیل جیسا تھا۔ وہ مجھے اپنی طاقت سے توڑنا چاہتے تھے۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس کے لیے میرے چہرے پراپنی بدبودار سانسیں بھی چھوڑنی چاہیے۔ ایک پل ہم دونوں اسی حالت میں کھڑے رہے۔ میرا دل چاہا کہ میں ہنس دوں۔ مرتے ہوئے آدمی کوڈرانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کا طریقہ کامیاب نہیں ہوا۔ مجھے زور کا دھکا دینے کے بعد وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔

’’تمہاری یا اس کی زندگی میں سے کسی ایک کا سوال ہے۔ تم ہمیں بتا دوکہ وہ کہاں ہے؟ تو تمہاری زندگی بچ سکتی ہے۔‘‘

میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور سوچنے لگا اپنی وردی میں چست درست یہ لوگ بھی کبھی نہ کبھی مریں گے۔ چاہے کچھ وقت کے بعد۔ میں نے اپنے آپ سے کہا، ’’یہ لوگ مڑے ہوئے کاغذات میں ناموں کو تلاش کرتے ہیں۔ لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں اور ظلم کرنے کے لیے بھاگتے ہیں۔ اسپین کے مستقبل کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں۔ یہ بھی کبھی نہ کبھی تومریں گے ہی۔‘‘

اب مجھے ان کی معمولی سے معمولی حرکتیں بھی ڈرامائی نظر آنے لگیں۔ مجھے اس پر کچھ افسوس ہوا۔ مجھے لگا کہ یہ لوگ خطرناک ہوچکے ہیں۔ چھوٹے قدوالا افسر ہاتھ کی چھڑی سے جوتوں کو ٹھونکتا ہوا اب مجھے گھور رہا تھا۔ اس کا گھورنا کسی خونخوار جنگلی جانور جیسا اثر ڈالنے کے مترادف تھا۔

’’تو تمہاری سمجھ میں کچھ آیا؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’مجھے نہیں معلوم کہ گریس کہاں ہے۔ میرے خیال میں اسے میڈرڈ میں ہی کہیں ہونا چاہیے۔‘‘میں نے کہا۔

’’تمہیں غوروفکر کے لیے پندرہ منٹ دیے جاتے ہیں۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔ ’’اسے لانڈری میں لے جاؤ۔ پندرہ منٹ بعد واپس لے آنا۔ اس کے بعد بھی اگر یہ انکار کرے تو اسے یہیں گولی سے اڑا دیا جائے گا۔‘‘

انہیں پتہ تھا۔ وہ کیا کر رہے ہیں۔ میں نے ساری رات انتظار میں گزاری تھی۔ آدھے گھنٹے سے کیا فرق پڑنے والا تھا۔

انہوں نے مجھے ایک گھنٹہ تہہ خانے میں رکھا تھا۔ اس دوران ٹام اور زوان کو گولیوں سے اڑا دیا گیا تھا اوراب وہ مجھے لانڈری میں لے جارہے تھے۔ میں نے سوچا انہوں نے پچھلی رات ہی سب طے کرلیا ہوگا۔ شاید انہیں اعتماد تھا کہ اس طرح آدمی ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طریقے سے وہ مجھے بھی توڑنے کی کوشش میں تھے لیکن وہ غلط تھے۔ لانڈری میں پہنچ کر میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا۔ میں کافی کمزوری محسوس کررہا تھا۔ مجھے پتہ تھا، گریس شہر سے چارکلومیٹر کے فاصلے پر اپنے چچا زاد بھائیوں کے پاس روپوش ہے۔ میں جانتا تھا کہ ایذا پہنچائے جانے کے بعد میں اس کا پتہ بتا دوں گا مگر لگتا تھا وہ مجھے ایذا دینا نہیں چاہتے تھے۔ ان کے سارے کام منصوبہ بند طریقے سے انجام پاتے تھے۔ جس میں میری کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اچانک میرے دل میں ایک خیال ابھرا۔ کیا میں گریس کا پتہ بتانے کی بجائے مرنا پسند کروں؟ لیکن کس لیے؟طلوعِ آفتاب سے پہلے ہی میرے دل میں سے اس کے لیے دوستی ختم ہوچکی تھی۔ اس کے ساتھ ہی کونچا کے لیے پیار بھی۔ صرف اتنا ہی نہیں۔ خود کو زندہ رکھنے کی چاہت بھی ختم ہوگئی تھی۔ ویسے تو گریس کے لیے میرے دل میں احترام کا جذبہ تھا۔ وہ ایک مضبوط ارادے والا شخص تھا لیکن اب اس کی زندگی میرے لیے اپنی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں تھی۔ ان لوگوں کو کسی ایک آدمی کی ضرورت تھی جسے وہ دیوار سے لگا کرا س کی آخری سانس تک گولیاں چلاتے رہیں یا تووہ گریس ہوسکتا ہے یا پھر میں! اس سے ان کے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ مجھے احساس تھا کہ اسپین کو میرے مقابلے گریس کی زیادہ ضرورت ہے مگر میں اپنے خیالوں میں اسپین کی بغاوت کو بھی بھاڑ میں جھونکنے کو تیارتھا۔ اس وقت میرے لیے دنیا کی ہر چیز واہیات ہوگئی تھی۔ پھر بھی یہ بات عجیب تھی کہ میں گریس کا پتہ نہ دے کر اپنی جان گنوانے جارہا تھا۔ یہ بات مجھے دلچسپ لگی۔ میں نے سوچا اس وقت مجھے سخت ہونے کی ضرورت ہے۔

پندرہ منٹ بیت جانے کے بعد وہ پھر آئے اور مجھے دونوں افسروں کے سامنے لے گئے۔ میرے پاؤں کے قریب سے ایک چوہا بھاگ نکلا۔ یہ دیکھ کر مجھے اچھا لگا۔ میں نے مذاق سے ایک سپاہی سے پوچھا، ’’کیا تم نے اس چوہے کو دیکھا۔‘‘ اس نے جواب نہیں دیا۔ اسی طرح سنجیدہ چہرہ بنائے رہا۔ میں نے زور سے ہنسنا چاہا مگر اپنے آپ کو روک لیا۔ میں جانتا تھا کہ ایک بار ہنسنا شروع کردوں گا تو روکنا مشکل ہوجائے گا۔ میں نے سپاہی کی مونچھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’تمہیں اپنی مونچھیں منڈوا لینی چاہیے۔‘‘ مجھے یہ سوچ کر مزہ آرہا تھا کہ بنا مونچھ کے اس کا چہرہ کتنا عجیب لگے گا۔

’’اچھا، تم نے اچھی طرح سوچ لیا؟‘‘ موٹے افسر نے پوچھا۔

’’وہ قبرستان میں چھپا ہے۔ کسی قبر میں یا قبر کھودنے والے کی جھونپڑی میں۔‘‘ میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ جیسے وہ کیڑے مکوڑے ہوں۔

لیکن یہ میرا وہم تھا۔ میں انہیں فوراً کھڑا ہوتے، بیلٹ کستے اور حکم دیتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا، یہی ہوا۔ وہ اچھل کر کھڑے ہوگئے۔ ’’ہمیں چلنا چاہیے۔ مولس تم پندرہ سپاہی لے کر جاؤ۔‘‘ یہ کہنے کے بعد افسر مجھ سے مخاطب ہوا۔ ’’اگر تمہاری بات سچ ہے تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا لیکن اگر تم ہمیں بے وقوف بنا رہے ہو تو اس کی بھرپور قیمت تمہیں چکانی پڑے گی۔‘‘ وہ بڑبڑاتا ہوا نکل گیا۔ میں سپاہیوں کی نگرانی میں اطمینان سے انتظار کرنے لگا۔ ان کی حالت کا تصور کرکے مجھے ہنسی آ رہی تھی۔

تصور میں میں نے انہیں قبروں کے پتھر اٹھاتے اور ایک جھونپڑی کی تلاشی لیتے ہوئے دیکھا پھر میں نے دیکھا کہ بڑی مونچھوں اور وردی والے سپاہی مجھے پکڑنے کے لیے میرے پیچھے حکم دینے کے لیے آیا ہے۔ آدھے گھنٹے بعد موٹا افسر واپس آیا۔ مجھے لگا مجھے گولی مارنے کا حکم دینے آیا ہے۔ وہ بے حد چست دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے میری طرف دھیان سے دیکھا اور بولا، ’’اسے دوسرے قیدیوں کے ساتھ یارڈ میں لے جاؤ۔ فوجی کارروائی کے بعد عدالت فیصلہ کرے گی کہ اس کا کیا کیا جائے؟‘‘

’’تو مجھے گولی سے نہیں اڑایا جائے گا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

افسر نے کندھے اچکائے، سپاہی مجھے باہر لے آئے۔ یارڈ میں تقریباً چار سو قیدی تھے۔ ان میں عورتیں بچے، بوڑھے سبھی تھے۔

دوپہر کو انہوں نے ہمیں میس کے ہال میں کھانا کھلایا۔ دو تین لوگوں نے مجھ سے کچھ سوالات کیے۔ جن کا میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ شام کے دھندلکے میں وہ مزید دس قیدیوں کو اندر دھکیل گئے۔ میں نے بسکٹ فروخت کرنے والی گارسیا کو پہچان لیا۔ ’’تمہاری قسمت اچھی ہے۔ مجھے امید نہیں تھی کہ تمہیں زندہ دیکھوں گی۔‘‘ اس نے کہا۔

’’مجھے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ بعد میں انہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیوں؟‘‘

’’انہوں نے مجھے دو بجے گرفتار کیا؟‘‘ گارسیا نے کہا۔

’’کس جرم میں؟‘‘

’’پتہ نہیں، وہ ہر اس آدمی کو گرفتار کرلیتے ہیں جو ان کی طرح نہیں سوچتا۔ انہوں نے رامن گریس کو بھی گرفتار کرلیا۔‘‘

’’کب؟‘‘ میں کانپنے لگا۔

’’آج صبح لیکن ساری غلطی گریس کی تھی۔ منگل کو اس نے چچا زاد بھائیوں کا گھرچھوڑ دیا۔ ان سے کسی بات پر بحث ہوگئی تھی۔ بہت سے لوگ ا س کی مدد کو تیار تھے لیکن اس نے کسی کا احسان لینا قبول نہیں کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں ابیتیا کے گھر چھپ سکتا تھا لیکن اسے پکڑ لیا گیا۔ اس لیے اب میں قبرستان میں جاکر چھپ جاؤں گا۔‘‘

’’قبرستان میں؟‘‘

’’انہوں نے اسے قبرکھودنے والے کی جھونپڑی سے گرفتار کرلیا۔ گریس نے ان پر گولیاں چلائیں مگر وہ پکڑلیا گیا۔‘‘

مجھے اپنے آس پاس کی ہر چیز گھومتی ہوئی لگ رہی تھی۔ میں زمین پر بیٹھ گیا۔ پھر خود بہ خود قہقہہ لگانے لگا۔

توبہ شکن
بانو قدسیہ

بی بی رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی۔ آنسو بے روک ٹوک گالوں پر نکل کھڑے ہوئے تھے۔

“مجھے کوئی خوشی راس نہیں آتی۔ میرا نصیب ہی ایسا ہے۔ جو خوشی ملتی ہے، ایسی ملتی ہے کہ گویا کوکا کولا کی بوتل میں ریت ملا دی ہو کسی نے۔”

بی بی کی آنکھیں سرخ ساٹن کی طرح چمک رہی تھیں اور سانسوں میں دمے کے اکھڑے پن کی سی کیفیت تھی۔ پاس ہی پپو بیٹھا کھانس رہا تھا۔ کالی کھانسی نا مراد کا حملہ جب بھی ہوتا بیچارے کا منہ کھانس کھانس کر بینگن سا ہو جاتا۔ منہ سے رال بہنے لگتا اور ہاتھ پاؤں اینٹھ سے جاتے۔ امی سامنے چپ چاپ کھڑکی میں بیٹھی ان دنوں کو یاد کر رہی تھیں جب وہ ایک ڈی سی کی بیوی تھیں اور ضلع کے تمام افسروں کی بیویاں ان کی خوشامد کرتی تھیں۔ وہ بڑی بڑی تقریبوں میں مہمان خصوصی ہوا کرتیں اور لوگ ان سے درخت لگواتے، ربن کٹواتے،انعامات تقسیم کرواتے۔

پروفیسر صاحب ہر تیسرے منٹ مدھم سی آواز میں پوچھتے “لیکن آخر بات کیا ہے بی بی ہوا کیا ہے وہ پروفیسر صاحب کو کیا بتاتی کہ دوسروں کے اصول اپنانے سے اپنے اصول بدل نہیں جاتے، صرف ان پرغلاف بدل جاتا ہے۔ ستار کا غلاف، مشین کا غلاف، تکیے کا غلاف۔ درخت کو ہمیشہ جڑوں کی ضرورت ہوتی ہے! اگر اسے کرسمس ٹری کی طرح یونہی داب داب کر مٹی میں کھڑا کر دیں گے تو کتنے دن کھڑا رہے گا۔ بالآخر تو گرے گا ہی۔

وہ اپنے پروفیسر میاں کو کیا بتاتی کہ اس گھر سے رسہ تڑوا کر جب وہ بانو بازار پہنچی تھی اور جس وقت وہ ربڑ کی ہوائی چپلوں کا بھاؤ چار آنے کم کروا رہی تھی، تو کیا ہوا تھا؟

اس کے بوائی پھٹے پاؤں ٹوٹی چپلوں میں تھے۔ ہاتھوں کے ناخنوں میں برتن مانجھ مانجھ کر کیچ جمی ہوئی تھی۔ سانس میں پیاز کے باسی لچھوں کی بو تھی۔ قمیض کے بٹن ٹوٹے ہوئے اور دوپٹے کی لیس ادھڑی ہوئی تھی۔ اس ماندے حال میں جب وہ بانو بازار کے ناکے پر کھڑ ی تھی تو کیا ہوا تھا؟ یوں تو دن چڑھتے ہی روز کچھ نہ کچھ ہوتا ہی رہتا تھا پر آج کا دن بھی خوب رہا۔ ادھر پچھلی بات بھولتی تھی ادھرنیا تھپڑ لگتا تھا۔ ادھر تھپڑ کی ٹیس کم ہوتی تھی ادھر کوئی چٹکی کاٹ لیتا تھا۔ جو کچھ بانو بازار میں ہوا وہ تو فقط فل سٹاپ کے طور پر تھا۔

صبح سویرے ہی سنتو جمعدارنی نے برآمدے میں گھستے ہی کام کرنے سے انکار کر دیا۔ رانڈ سے اتنا ہی تو کہا تھا کہ نالیاں صاف نہیں ہوتیں۔ ذرا دھیان سے کام کیا کر۔ بس جھاڑ و وہیں پٹخ کر بولی۔

“میرا حساب کر دیں جی”

کتنی خدمتیں کی تھیں بد بخت کی۔ صبح سویرے تام چینی کے مگ میں ایک رس کے ساتھ چائے۔ رات کے جھوٹے چاول اور باسی سالن روز کا بندھا ہوا تھا۔ چھ مہینے کی نوکری میں تین نائلون جالی کے دوپٹے۔ امی کے پرانے سلیپر اور پروفیسر صاحب کی قمیض لے گئی تھی۔ کسی کو جرات نہ تھی کہ اسے جمعدارنی کہہ کر بلا لیتا۔ سب کا سنتو سنتو کہتے منہ سوکھتا تھا۔ پر وہ تو طوطے کی سگی پھوپھی تھی۔ ایسی سفید چشم واقع ہوئی کہ فوراً حساب کر۔ جھاڑو بغل میں داب، سر پر سلفچی دھریہ جا وہ جا۔

بی بی کا خیال تھا کہ تھوڑی دیر میں آ کر پاؤں پکڑے گی۔ معافی مانگے گی اور ساری عمر کی غلامی کا عہد کرے گی۔ بھلا ایسا گھر اسے کہاں ملے گا۔ پر وہ تو ایسی دفان ہوئی کہ دوپہر کا کھانا پک کر تیار ہو گیا پر سنتو مہارانی نہ لوٹی۔

سارے گھر کی صفائیوں کے علاوہ غسلخانے بھی دھونے پڑے اور کمروں میں ٹاکی بھی پھیرنی پڑی۔ ابھی کمر سیدھی کرنے کو لیٹی ہی تھی کہ ایک مہمان بی بی آ گئیں۔ منے کی آنکھ مشکل سے لگی تھی۔ مہمان بی بی حسن اتفاق سے ذرا اونچا بولتی تھیں۔ منا اٹھ بیٹھا اور اٹھتے ہی کھانسنے لگا۔ کالی کھانسی کا بھی ہر علاج کر دیکھا تھا پر نہ تو ہومیوپیتھی سے آرام آیا نہ ڈاکٹری علاج سے۔ حکیموں کے کشتے اور معجون بھی رائیگاں گئے۔ بس ایک علاج رہ گیا تھا اور یہ علاج سنتو جمعدارنی بتایا کرتی تھی۔ بی بی! کسی کالے گھوڑے والے سے پوچھو کہ منے کو کیا کھلائیں۔ جو کہے سو کھلا۔ دنوں میں آرام آجائے گا۔

لیکن بات تو مہمان بی بی کی ہو رہی تھی۔ ان کے آنے سے سارے گھر والے اپنے اپنے کمروں سے نکل آئے اور گرمیوں کی دوپہر میں خورشید کو ایک بوتل لینے کے لئے بھگا دیا۔ ساتھ ہی اتنا سارا سودا اور بھی یاد آگیا کہ پورے پانچ روپے دینے پڑے۔

خورشید پورے تین سال سے اس گھر میں ملازم تھی۔ جب آئی تھی تو بغیر دوپٹے کے کھوکھے تک چلی جاتی تھی اور اب وہ بالوں میں پلاسٹک کے کلپ لگانے لگی تھی۔ چوری چوری پیروں کو کیوٹیکس اور منے کو پاؤڈر لگانے کے بعد اپنے چہرے پر بے بی پاؤڈر استعمال کرنے لگی تھی۔ جب خورشید موٹی ململ کا دوپٹہ اوڑھ کر ہاتھ میں خالی سکوائش کی بوتل لے کر سراج کے کھوکھے پر پہنچی تو سڑکیں بے آباد سی ہو رہی تھیں، نقدی والے ٹین کی ٹرے میں دھرتی ہوئی خورشید بولی۔

“ایک بوتل مٹی کا تیل لا دودو سات سو سات کے صابنتین پان سادہچار میٹھےایک نلکی سفید دھاگے کیدو لولی پاپ اور ایک بوتل ٹھنڈی ٹھار سیون اپ کی

روڑی کوٹنے والا انجن بھی جا چکا تھا اور کولتار کے دو تین خالی ڈرم تازہ کوٹی ہوئی سڑک پر اوندھے پڑے تھے۔ سڑک پر سے حدت کی وجہ سے بھاپ سی اٹھتی نظر آتی تھی۔

دائی کی لڑکی خورشید کو دیکھ کر سراج کو اپنا گاؤں یاد آگیا۔ دھلے میں اسی وضع قطع، اسی چال کی سیندوری سے رنگ کی نو بالغ لڑکی حکیم صاحب کی ہوا کرتی تھی۔ ٹانسے کا برقعہ پہنتی تھی۔ انگریزی صابن سے منہ دھوتی تھی اور شاید خمیرۂ گاؤ زبان اور کشتۂ مروارید بمعہ شربت صندل کے اتنی مقدار میں پی چکی تھی کہ جہاں سے گزر جاتی سیب کے مربے کی خوشبو آنے لگتی۔ گاؤں میں کسی کے گھر کوئی بیمار پڑ جاتا تو سراج اس خیال سے اس کی بیمار پرسی کرنے ضرور جاتا کہ شاید وہ اسے حکیم صاحب کے پاس دوا لینے کے لئے بھیج دے۔ جب کبھی ماں کے پیٹ میں درد اٹھتا تو سراج کو بہت خوشی ہوتی۔ حکیم صاحب ہمیشہ اس نفخ کی مریضہ کے لئے دو پڑیاں دیا کرتے تھے۔ ایک خالی پڑیا گلاب کے عرق کے ساتھ پینا ہوتی تھی اور دوسری سفید پڑیا سونف کے عرق کے ساتھ۔ حکیم صاحب کی بیٹی عموماً اسے اپنے خط پوسٹ کرنے کو دیا کرتی۔ وہ ان خطوں کو لال ڈبے میں ڈالنے سے پہلے کتنی دیر سونگھتا رہتا تھا۔ ان لفافوں سے بھی سیب کے مربے کی خوشبو آیا کرتی تھی۔

اس وقت دائی کرمو کی بیٹی گرم دوپہر میں اس کے سامنے کھڑی تھی اوسارے میں سیب کا مربہ پھیلا ہوا تھا۔

پانچ روپے کا نوٹ نقدی والے ٹرے میں سے اٹھا کر سراج نے چپچی نظروں سے خورشید کی طرف دیکھا اور کھنکھار کر بولا”ایک ہی سانس میں اتنا کچھ کہہ گئی۔ آہستہ آہستہ کہو نا۔ کیا کیا خریدنا ہے؟” ایک بوتل مٹی کا تیلدو سات سو سات صابنتین پان سادہ، چار میٹھے۔ ایک نلکی بٹر فلائی والی سفید رنگ کی۔ایک بوتل سیون اپ کیجلدی کر، گھر میں مہمان آئے ہوئے ہیں۔

سب سے پہلے تو سراج نے کھٹاک سے سبز بوتل کا ڈھکنا کھولا اور بوتل کو خورشید کی جانب بڑھا کر بولا۔

“یہ تو ہو گئی بول اور”

“بوتل کیوں کھولی تو نےاب بی بی جی ناراض ہو ں گی۔”

“میں سمجھا کہ کھول کر دینی ہے”

“میں نے کوئی کہا تھا تجھے کھولنے کے لئے”

“اچھا اچھا بابا۔ میری غلطی تھی۔ یہ بوتل تو پی لے۔ میں ڈھکنے والی اور دے دیتا ہوں تجھے”

جس وقت خورشید بوتل پی رہی تھی، اس وقت بی بی کا چھوٹا بھائی اظہر ادھر سے گزرا۔ اسے سٹرا سے بوتل پیتے دیکھ کر وہ مین بازار جانے کی بجائے الٹا چودھری کالونی کی طرف لوٹ گیا اور این ٹائپ کے کوارٹر میں پہنچ کر برآمدے ہی سے بولا۔

“بی بی! آپ یہاں بوتل کا انتظار کر رہی ہیں اور وہ لاڈلی وہاں کھوکھے پر خود بوتل پی رہی ہے سٹرا لگا کر۔”

بھائی تو اخبار والے کے فرائض سر انجام دے کر سائیکل پر چلا گیا لیکن جب دو روپے تیرہ آنے کی ریزگاری مٹھی میں دبائے، دوسرے ہاتھ میں مٹی کے تیل کی بوتل اور بکل میں سات سو سات صابن کے ساتھ سیون اپ کی بوتل لئے خورشید آئی تو سنتو جمعدارنی کے حصے کا غصہ بھی خورشید پر ہی اترا۔

“اتنی دیر لگ جاتی ہے تجھے کھوکھے پر۔”

“بڑی بھیڑ تھی جی”

“سراج کے کھوکھے پراس وقت؟”

“بہت لوگوں کے مہمان آئے ہوئے ہیں جی سمن آباد میں ویسے ہی مہمان بہت آتے ہیںسب نوکر بوتلیں لے جا رہے تھے۔”

“جھوٹ نہ بول کمبخت! میں سب جانتی ہوں۔”

خورشید کا رنگ فق ہو گیا۔

“کیا جانتی ہیں جی آپ”

“ابھی کھوکھے پر کھڑی توبوتل نہیں پی رہی تھی۔”

خورشید کی جان میں جان آئی۔ پھر وہ بپھر کر بولی۔

“وہ میرے پیسوں کی تھی جیآپ حساب کر دیں جی میرامجھ سے ایسی نوکری نہیں ہوتی”

بی بی تو حیران رہ گئی۔سنتو کا جانا گویا خورشید کے جانے کی تمہید تھی۔ لمحوں میں بات یوں بڑھی کہ مہمان بی بی سمیت سب برآمدے میں جمع ہو گئے اور کترن بھر لڑکی نے وہ زبان دراز کی کہ جن مہمان بی بی پر بوتل پلا کر رعب گانٹھنا تھا وہ الٹا اس گھر کو دیکھ کر قائل ہو گئیں کہ بد نظمی، بے ترتیبی اور بد تمیزی میں یہ گھر حرف آخر ہے۔

آناً فاناً مکان نوکرانی کے بغیر سونا سونا ہو گیا۔ادھر جمعدارنی اور خورشید کا رنج تو تھا ہی، اوپر سے پپو کی کھانسی دم نہ لینے دیتی تھی۔۔

جب تک خورشید کا دم تھا کم از کم اسے اٹھانے پچکارنے والا تو کوئی موجود تھا۔ اب کفگیر تو چھوڑ چھاڑ کے بچے کو اٹھانا پڑتا۔ اسے بھی کالی کھانسی کا دورہ پڑتا تو رنگت بینگن کی سی ہو جاتی۔ آنکھیں سرخا سرخ نکل آتیں اور سانس یوں چلتا جیسے کٹی ہوئی پانی کی ٹیوب سے پانی رس رس کے نکلتا ہے۔

سارا دن وہ یہی سوچتی رہی کہ آخر اس نے کونسا گناہ کیا ہے جس کی پاداش میں اس کی زندگی اتنی کٹھن ہے۔ اس کے ساتھ کالج میں پڑھنے والیاں تو ایسی تھیں گویا ریشم پر چلنے سے پاؤں میں چھالے پڑ جائیں اور یہاں وہ کپڑے دھونے والے تھاپے کی طرح کرخت ہو چکی تھی۔ رات کو پلنگ پر لیٹتی تو جسم سے انگارے جھڑنے لگتے۔ بدبخت خورشید کے دل میں ترس آ جاتا تو دوچار منٹ دکھتی کمر میں مکیاں مار دیتی ورنہ اوئی آئی کرتے نیند آ جاتی اور صبح پھر وہی سفید پوش غریبوں کی سی زندگی اور تندور میں لگی ہوئی روٹیوں کی سی سینک!

اس روز دن میں کئی مرتبہ بی بی نے دل میں کہا۔

“ہم سے اچھا گھرانہ نہیں ملے گا تو دیکھیں گے۔ ابھی کل برآمدے میں آئی بیٹھی ہوں گی۔ دونوں کالے منہ والیاں” پر اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اس سے اچھا گھر ملے نہ ملے وہ دونوں اب ٹوک کر نہ رہیں گی۔سارے گھرمیں نظر دوڑاتی تو چھت کے جالوں سے لے کر رکی ہوئی نالی تک اور ٹوٹی ہوئی سیڑھیوں سے لے کر اندر ٹپ ٹپ برسنے والے نلکے تک عجیب کسمپرسی کا عالم تھا، ہر جگہ ایک آنچ کی کسر تھی۔ تین کمروں کا مکان جس کے دروازوں کے آگے ڈھیلی ڈوروں میں دھاری دار پردے پڑے تھے، عجیب سی زندگی کا سراغ دیتا تھا۔ نہ تو یہ دولت تھی اور نہ ہی یہ غریبی تھی۔ ردی کے اخبار کی طرح اس کا تشخص ختم ہو چکا تھا۔ جب تک ابا جی زندہ تھے اور بات تھی۔ کبھی کبھار مائیکہ جا کر کھلی ہوا کا احساس پیدا ہو جاتا۔ اب تو ابا جی کی وفات کے بعد امی، اظہر اور منی بھی اس کے پاس آ گئے تھے۔ امی زیادہ وقت پچھلی پوزیشن یاد کر کے رونے میں بسر کرتیں۔ جب رونے سے فراغت ہوتی تو وہ اڑوس پڑوس میں یہ بتانے کے لئے نکل جاتیں کہ وہ ایک ڈپٹی کمشنر کی بیگم تھیں اور حالات نے انہیں یہاں سمن آباد میں رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔منی کو مٹی کھانے کا عارضہ تھا۔ دیواریں کھرچ کھرچ کر کھوکھلی کر دی تھیں۔ نا مراد سیمنٹ کا پکا فرش اپنی نر م نرم انگلیوں سے کرید کر دھر دیتی۔ بہت مرچیں کھلائیں۔ کونین ملی مٹی سے ضیافت کی۔ ہونٹوں پر دہکتا ہوا کوئلہ رکھنے کی دھمکی دی پر وہ شیر کی بچی مٹی کو دیکھ کر بری طرح ریشہ خطمی ہوتی۔

اظہر جس کالج میں داخلہ لینا چاہتا تھا، جب اس کالج کے پرنسپل نے تھرڈ ڈویژن کے باعث انکار کر دیا تو دن رات ماں بیٹا مرحوم ڈی سی صاحب کو یاد کر کے روتے رہے۔ ان کے ایک فون سے وہ بات بن جاتی جو پروفیسر فخر کے کئی پھیروں سے نہ بنی۔ امی تو دبی زبان میں کئی بار یہاں تک کہہ چکی تھیں کہ ایسا داماد کس کام کا جس کی سفارش ہی شہر میں نہ چلے۔ نتیجے کے طور پر اظہر نے پڑھائی کا سلسلہ منقطع کر لیا۔ پروفیسر صاحب نے بہت سمجھایا پر اس کے پاس تو باپ کی نشانی ایک موٹر سائیکل تھا۔ چند ایک دوست تھے جو سول لائنز میں رہتے تھے وہ بھلا کیا کالج والج جاتا۔ اس سارے ماحول میں پروفیسر فخر کیچڑ کا کنول تھے۔لمبے قد کے دبلے پتلے پروفیسر سیاہ آنکھیں جن میں تجسس اور شفقت کا ملا جلا رنگ تھا۔ انہیں دیکھ کر خدا جانے کیوں ریگستان کے گلہ بان یاد آ جاتے۔ وہ ان لوگوں کی طرح تھے جن کے آدرش وقت کے ساتھ دھندلے نہیں پڑ جاتےجو اس لئے محکمہ تعلیم میں نہیں جاتے کہ ان سے سی ایس پی کا امتحان پاس نہیں ہو سکتا۔ وہ دولت کمانے کے کوئی بہتر گر نہیں جانتے۔ انہوں نے تو تعلیم و تدریس کا پیشہ اس لئے چنا تھا کہ انہیں نوجوانوں کی پر تجسس آنکھیں پسند تھیں۔ انہیں فسٹ ائیر کے وہ لڑکے بہت اچھے لگتے تھے جو گاؤں سے آتے تھے اور آہستہ آہستہ شہر کے رنگ میں رنگے جاتے تھے۔ ان کے چہروں سے جو ذہانت ٹپکتی تھی، دھرتی کے قریب رہنے کی وجہ سے ان میں جو دو اور دو چار قسم کی عقل تھی۔پروفیسر فخر انہیں صیقل کرنے میں بڑا لطف حاصل کرتے تھے۔وہ تعلیم کا میلاد النبیﷺ کا فنکشن سمجھتے۔ جب گھر گھر دیے جلتے ہیں اور روشنی سے خوشی کی خوشبو آنے لگتی ہے۔ ان کے ساتھی پروفیسر جب سٹاف روم میں بیٹھ کر خالص Have-Notsکے انداز میں نو دولتی سوسائٹی پر تبصرہ کرتے تو وہ خاموش رہتے کیونکہ ان کا مسلک لوئی پاسچر کا مسلک تھا۔ کولمبس کا مسلک تھا۔ ان کے دوست جب فسٹ کلاس، سیکنڈ کلاس اور سلیکشن گریڈ کی باتیں کرتے تو پروفیسر فخر منہ بند کئے اپنے ہاتھوں پر نگاہیں جما لیتے۔ وہ تو اس زمانے کی نشانیوں میں سے رہ گئے تھے جب شاگرد اپنے استاد کے برابر بیٹھ نہ سکتا تھا۔ جب استاد کے آشیر باد کے بغیر شانتی کا تصور بھی گناہ تھا۔ جب استاد خود کبھی حصول دولت کے لئے نہیں نکلتا تھا لیکن تاجدار اس کے سامنے دو زانو آ کر بیٹھا کرتے تھے۔ جب وہ شاہ جہانگیر کے دربار میں میاں میر صاحب کی طرح کہتا کہ: “اے شاہ! آج تو بلا لیا ہے پر اب شرط عنایت یہی ہے کہ پھر کبھی نہ بلانا۔”

جب استاد کہتا۔”اے حاکم وقت! سورج کی روشنی چھوڑ کر کھڑا ہو جا۔”

جب بی بی نے پہلی بار پروفیسر فخر کو دیکھا تھا تو فخر کی نظروں کا مجذوبانہ حسن شہد کی مکھیوں جیسا جذبۂ خدمت اور صوفیائے کرام جیسا اندازِ گفتگو اسے لے ڈوبا۔ بی بی ان لڑکیوں میں سے تھی جو درخت سے مشابہ ہوتی ہیں۔ درخت چاہے کیسا ہی آسمان چھونے لگے، بالآخر مٹی کے خزانوں کو نچوڑتا ہی رہتا ہے۔ وہ چاہے کتنے ہی چھتنار کیوں نہ ہو، بالآخر اس کی جڑوں میں نیچے اترتے رہنے کی ہوس باقی رہتی ہےاور پھر پروفیسر کا آدرش کوئی مانگے کا کپڑا تو تھا نہیں کہ مستعار لیا جاتا لیکن بی بی تو ہوا میں جھولنے والی ڈالیوں کی طرح یہی سوچتی رہی کہ اس کا دھرتی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ وہ ہوا میں زندہ رہ سکتی ہے۔ محبت ان کے لئے کافی ہے۔

تب ابا جی زندہ تھے اور ان کے پاس شیشوں والی کار تھی جس روز وہ بی اے کی ڈگری لے کر یونیورسٹی سے نکلی تو اس کے ابا جی ساتھ تھے۔ ان کی کار رش کی وجہ سے عجائب گھر کی طرف کھڑی تھی۔ مال کو کراس کر کے جب وہ دوسری جانب پہنچے تو فٹ پاتھ پر اس نے پروفیسر کو دیکھا۔ وہ جھکے ہوئے اپنی سائیکل کا پیڈل ٹھیک کر رہے تھے۔

“سر سلام علیکم!”

فخر نے سر اٹھایا اور ذہین آنکھوں میں مسکراہٹ آ گئی۔

“وعلیکم السلام۔ مبارک ہو آپ کو”

سیاہ گاؤن میں وہ اپنے آپ کو بہت معزز محسوس کر رہی تھی۔

“سر میں لے چلوں آپ کو”

بڑی سادگی سے فخر نے سوال کیا”آپ سائیکل چلانا جانتی ہیں؟”

“سائیکل پر نہیں جیمیرا مطلب ہے کار کھڑی ہے۔ جی میری۔”

فخر سیدھا کھڑا ہو گیا اور بی بی اس کے کندھے کے برابر نظر آنے لگی۔

دیکھیے مس استادوں کے لئے کاروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے شاگرد کاروں میں بیٹھ کر دنیا کا نظام چلاتے ہیں۔ استادوں کو دیکھ کر کار روکتے ہیں لیکن استاد شاگردوں کی کار میں کبھی نہیں بیٹھتا کیونکہ شاگرد سے اس کا رشتہ دنیاوی نہیں ہوتا۔ استاد کا آسائش سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ مرگ چھالا پر سوتا ہے۔ بڑ کے درخت تلے بیٹھتا اور جو کی روٹی کھاتا ہے۔

بی بی کو تو جیسے ہونٹوں پر بھڑ ڈس گئی۔ابھی چند ثانیے پہلے وہ ہاتھوں میں ڈگری لے کر فل سائز فوٹو کھنچوانے کا پروگرام بنا رہی تھی اور اب یہ گاؤن، یہ اونچا جوڑا، یہ ڈگری، سب کچھ نفرت انگیز بن گیا۔ جب مال روڈ پر ایک فوٹو گرافر کی دکان کے آگے کار روک کر اباجی نے کہا۔

“ایک تو فائز سائز تصویر کھنچوا لو اور ایک پورٹریٹ”

“ابھی نہیں ابا جی! میں پرسوں اپنی دوستوں کے ساتھ مل کر تصویر کھنچواؤں گی۔”

“صبح کی بات پر ناراض ہو ابھی تک؟” اباجی نے سوال کیا۔

“نہیں جی وہ بات نہیں ہے۔”

صبح جب وہ یونیورسٹی جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی تو ابا جی نے دبی زبان میں کہا تھا کہ وہ کنووکیشن کے بعد اسے فوٹو گرافر کے پاس نہ لے جا سکیں گے کیونکہ انہیں کمشنر سے ملنا تھا۔ اس بات پر بی بی نے منہ تھ تھا لیا تھااور جب تک ابا جی نے وعدہ نہیں کر لیا تب تک وہ کار میں سوار نہ ہوئی تھی۔

اب کار فوٹو گرافر کی دکان کے آگے کھڑی تھی۔ ابا جی اس کی طرف کا دروازہ کھولے کھڑے تھے لیکن تصویر کھنچوانے کی تمنا آپی آپ مر گئی۔

بی اے کرنے کے بعد کالج کا ماحول دور رہ گیا۔ یہ ملاقات بھی گرد آلود ہو گئی اور غالباً طاقِ نسیاں پر بھی دھری رہ جاتی اگر اچانک کتابوں کی دکان پر ایک دن اسے پروفیسر فخر نظر نہ آ جاتے۔ وہ حسب معمول سفید قمیض خاکی پتلون میں ملبوس تھے۔ رومن نوز پر عینک ٹکی ہوئی تھی اور وہ کسی کتاب کا غور سے مطالعہ کر رہے تھے۔ بی بی اپنی دو تین سہیلیوں کے ساتھ دکان میں داخل ہوئی اسے ویمن اینڈ ہوم قسم کے رسالے درکار تھے۔ عید کارڈ اور سٹچ کرافٹ کے پمفلٹ خریدنے تھے۔ لو کیلری ڈائٹ قسم کی ایسی کتابوں کی تلاش تھی جو سالوں میں بڑھایا ہوا وزن ہفتوں میں گھٹا دینے کے مشورے جانتی ہیں لیکن اندر گھستے ہی گویا آئینے کا لشکارا پڑا۔

“سلام علیکم سر”

“وعلیکم السلام” مٹھ کے بھکشو نے جواب دیا۔

“آپ نے مجھے شاید پہچانا نہیں سرمیں آپ کی سٹوڈنٹ ہوں جی۔ ” قمر زبیری

اس نے دوستوں کی طرف خفت سے دیکھ کر کہا۔

“میں نے تمہیں پہچان لیا ہے قمر بی بیکیا کر رہی ہیں آپ ان دنوں؟”

“میں جیکچھ نہیں جی سر!”

ایک سہیلی نے آگے چلنے کا اشارہ کیا۔ دوسری نے کمر میں چٹکی کاٹی لیکن وہ تو اس طرح کھڑی تھی گویا کسی فلم سٹار کے آگے آٹو گراف لینے کھڑی ہو۔

“آپ ایم اے نہیں کر رہی ہیں پولیٹیکل سائنس میں؟”

“اس کی تو شادی ہو رہی ہے سر۔”

کھی کھی کر کے ساری کبوتر زادیاں ہنس دیں۔

بی بی نے قاتلانہ نظروں سے سب کو دیکھا اور بولی۔ “جھوٹ بولتی ہیں جیمیں تو جی ایم اے کروں گی۔

اب پروفیسر مکمل پروفیسر بن گیا جو ان چہرے پر متانت آ گئی۔

“دیکھئے۔ پڑھی لکھی لڑکیوں کا وہ رول نہیں ہے جو آج کل کی لڑکیاں ادا کر رہی ہیں۔ آپ کو شادی کے بعد یاد رکھنا چاہئے کہ تعلیم سونے کا زیور نہیں ہے جسے بنک کے لاکرز میں بند کر دیا جاتا ہے بلکہ یہ تو جادو کی وہ انگوٹھی ہے جسے جس قدر رگڑتے چلے جاؤ اسی قدر خوشیوں کے دروازے کھلتے جاتے ہیں۔ آپ کو اس تعلیم کی زکوٰۃ دینا ہو گی۔ اسے دوسروں کے ساتھ Shareکرنا ہو گا۔”

بات بہت معمولی اور سادہ تھی۔ اس نوعیت کی باتیں عموماً عورتوں کے رسالوں میں چھپتی رہتی ہیںلیکن فخر کی آنکھوں میں، اس کی باتوں میں وہ حسن تھا جو ہمیشہ سچائی سے پیدا ہوتا ہے جب وہ پمفلٹ اور وزن گھٹانے کی تین کتابیں خرید کر کار میں آ بیٹھی تو اس کی نظروں میں وہی چہرہ تھا، وہ بھیگی بھیگی آواز تھی۔

پروفیسر فخر کو دیکھنے کی کوئی صورت باقی نہ تھی لیکن اس کی آواز کی لہریں اسے ہر لحظہ زیر آب کئے دیتی تھیں۔ اٹھتے بیٹھتے، جاگتے سوتے، وہی شکاری کتے جیسا ستا ہوا چہرہ، اندر کو دھنسی ہوئی چمکدار آنکھیں اور خشک ہونٹ نظروں کے آگے گھومنے لگے۔ پھر یہ چہرہ بھلائے نہ بھولتا اور وہ اندر ہی اندر بل کھائی رسی کی طرح مروڑی جاتی۔

ان ہی دنوں اس نے فیصلہ کیا کہ وہ پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کرے گی۔ حالانکہ اس کے گھر والے ایک اچھے بر کی تلاش میں تھے۔ ہاتھی مرا ہوا بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ریٹائر ہو کر بھی اونچی نشست والی کرسی سے مشابہ ہوتا ہے۔ اباجی کے مال و متاع کو گو اندر سے گھن لگ چکا تھا لیکن حیثیتِ عرفی بہت تھی۔ نوکر چا کر کم ہو گئے تھے۔ سوشل لائف بھی پہلے سی نہ رہی تھی۔ فنکشنوں کے کارڈ بھی کم ہی آتے لیکن رشتے ڈی سی صاحب کی بیٹی کے چلے آ رہے تھے اور اعلیٰ سے اعلیٰ آ رہے تھے۔ اس کی امی گو پڑھی لکھی عورت نہ تھی لیکن با اثر با رسوخ خواتین کی صحبت نے اسے خوب صیقل کر دیا تھا۔ اس میں ایک ایسی خوش اعتمادی اور پرکاری پیدا ہو گئی تھی کہ کالجوں کی پروفیسریں اس کے ہوتے ہوئے اپنے آپ کو کمتر سمجھا کرتیں۔

جس وقت بی بی نے پولیٹیکل سائنس کرنے پر ضد کی تو امی نے زبردست مخالفت کی۔ ابا جی نے قدم قدم پر اڑچن پیدا کی کہ جو لڑکی ہمیشہ پولیٹیکل سائنس میں کمزور رہی ہے وہ اس مضمون میں ایم اے کیونکر کرے گی۔ کئی گھنٹوں کی بحث کے بعد ابا جی اس بات پر رضامند ہو گئے کہ وہ پروفیسر سے ٹیوشن لے سکتی ہے۔

جس روز ریٹائرڈ ڈی سی صاحب کی کار سمن آباد گئی تو پروفیسر فخر گھر پر موجود نہ تھے۔ دوسری مرتبہ جب بی بی کی امی گئیں تو پروفیسر صاحب کسی سیمینار میں تشریف لے جا چکے تھے۔ ملاقات پھر نہ ہوئی۔ تیسری بار جب بی بی اور ابا جی ٹیوشن کا طے کرنے گئے تو پروفیسر صاحب مونڈھے پر بیٹھے ہوئے مطالعہ میں مصروف تھے۔ باہر کے نلکے کے ساتھ نیلے رنگ کی پلاسٹک کی ٹیوب لگی ہوئی تھی۔ ٹیوب ویل کا پانی سامنے کے تنگ احاطے میں اکٹھا ہو رہا تھا لیکن پروفیسر صاحب اس سے غافل مٹتی شفق میں حروف ٹٹول ٹٹول کر پڑھ رہے تھے۔

پہلے ابا جی نے ہارن بجایا۔ پھر خانساماں خانساماں کہہ کر آوازیں دیں۔ نہ تو اندر سے کوئی باورچی قسم کا آدمی نکلا اور نہ ہی پروفیسر صاحب نے سر اٹھا کر دیکھا۔ بالآخر ابا جی نے خفت کے باوجود دروازہ کھولا اور بی بی کو ساتھ لے کر برآمدے کے طرف چلے۔ ٹیوب غالباً دیر سے لگی ہوئی تھی اور مٹی کیچڑ میں بدل چکی تھی۔ بڑی احتیاط سے قدم دھرتے ہوئے سیڑھیوں تک پہنچے اور پھر کھنکار کر پروفیسر صاحب کو متوجہ کیا۔

پون گھنٹہ بیٹھنے رہنے کے باوجود نہ تو اندر سے کوکا کولا آیا نہ چائے کے برتنوں کا شور سنا ئی دیا۔ اس بے اعتنائی کے باوجود دونوں باپ بیٹی سہمے سے بیٹھے تھے۔ شام گہری ہو چلی تھی اور سمن آباد یے گھروں کے آگے چھڑکاؤ کرنے میں مشغول تھے۔ قطار صورت گھروں سے ہر سائز اور ہر عمر کا بچہ نکل کر اس چھڑکاؤ کو بطور ہولی استعمال کر رہا تھا۔ عورتیں نائیلون جالی کے دوپٹے اوڑھے آ جا رہی تھیں۔ ایک ایسے طبقے کی زندگی جاری تھی۔ جو نہ امیر تھا اور نہ ہی غریبدونوں کے درمیان کہیں مرغ بسمل کی طرح لٹک رہا تھا۔ جب بات پڑھانے تک جا پہنچی تو پروفیسر فخر بولے۔

“جی ہاں۔ میں انہیں پڑھا دوں گا۔ بخوشی”

اب پہلو بدل کر ریٹائرڈ ڈی سی صاحب نے کہامعاف کیجئے پروفیسر صاحب! لیکن بات پہلے ہی واضح ہو جانی چاہئےیعنی آپمیرا مطلب ہے آپ کی Remuneration کیا ہو گی؟”

ٹیوشن کی فیس کو خوبصورت سے انگریزی لفظ میں ڈھال کر گویا ڈی سی صاحب نے اس میں سے ذلت کی پھانس نکال دی۔

لیکن پروفیسر صاحب کا رنگ متغیر ہو گیا اور وہ مونڈھے کی پشت کو دیوار سے لگا کر بولے۔

“میںمجھےدراصل مجھے گورنمنٹ پڑھانے کا عوضانہ دیتی ہے سر۔ اس کے علاوہمیں ٹیوشن نہیں کرتاتعلیم دیتا ہوں۔ جو چاہے جب چاہے مجھ سے پڑھ سکتا ہے۔۔” “دیکھیے جنابمیں اس لئے پڑھاتا ہوں کہ مجھے پڑھانے کا شوق ہے۔ اگر میں تحصیلدار ہوتا تو بھی پڑھاتا۔ اگر ضلع کا ڈی سی ہوتا تو بھی پڑھاتا۔ کچھ لوگ پیدائشی میری طرح ہوتے ہیں۔ ان کے ماتھے پر مہر ہوتی ہے پڑھانے کیان کے ہاتھوں پر لکیر ہوتی ہے پڑھانے کی۔”

بی بی کے حلق میں نمکین آنسو آ گئے۔ دو غیرتوں کا مقابلہ تھا۔ ایک طرف ڈی سی صاحب کی وہ غیر ت تھی جسے ہر ضلع کے افسرو ں نے کلف لگائی تھی۔ دوسری جانب ایک Idealistic آدمی کی غیرت تھی جو گھونگے کی طرح اپنا سارا گھر اپنے ہی جسم پر لاد کر چلا کرتا ہے اور ذرا سی آہٹ پا کر اس گھونگے میں گوشہ نشین ہو جاتا ہے۔

پروفیسر صاحب بڑی بھلی سی باتیں کئے جا رہے تھے اور اس کے ابا جی مونڈھے میں یو ں بیٹھے تھے جیسے بھاگ جانے کی تدبیریں سوچ رہے ہوں۔

“فائن آرٹس کا دولت کی ذخیرہ اندوزی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں میرا پروفیشن فائن آرٹس کا ایک شعبہ ہے۔ انسان میں کلچر کا شعور پیدا کرنے کی سعیانسان میں تحصیل علم کی خواہش بیدار کرناعام سطح سے اٹھ کر سوچنا اور سوچتے رہناایک صحیح استاد ان نعمتوں کو بیدار کرتا ہے۔ ایک تصویر، ایک گیت، ایک خوبصورت بت بھی یہی کچھ کر پاتے ہیں۔ ساز بجانے والے کو اگر آپ لاکھ روپیہ دیں اور اس پر پابندی لگائیں کہ وہ ساز کو ہاتھ نہ لگائے تو وہ غالباً وہاگر وہ Genuine ہے تو آپ کی پیشکش ٹھکرا دے گامیں ٹیچر ہوں۔ Genuine ٹیچرمیں Fake نہیں ہوں زبیری صاحب!”

ڈی سی صاحب اپنی بیٹی کے سامنے ہار ماننے والے نہیں تھے۔

“اور جو پیٹ میں کچھ نہ ہو تو غالباً سازندہ مان جائے گا۔”

“پھر وہ سازندہ Fake ہو گا۔ Passion کا اس کی زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو گا بلکہ غالباً وہ اپنے آرٹ کو ایک تمغہ، ایک پاسپورٹ، ایک اشتہار کی طرح استعمال کرتا ہو گا۔”

“اچھا جی آپ پیسے نہ لیں لیکن بی بی کو پڑھا تو دیا کریں۔”

“جی ہاں۔ میں بخوشی پڑھا دوں گا۔”

“تو کب آیا کریں گے آپ؟میں کار بھجوا دیا کروں گا۔”

پروفیسر فخر کی آنکھیں تنگ ہو گئیں اور وہ ہچکچا کر بولے”میں تو کہیں نہیں جاتا شام کے وقت” “تو میرا تو میرا مطلب ہے کہ آپ اسے پڑھائیں گے کیسے؟”

“یہ چار پانچ کے درمیان کسی وقت آ جایا کریں۔ میں پڑھا دیا کروں گا۔”

بی بی کے پیروں تلے سے یوں زمین نکلی کہ اس وقت تک واپس نہ لوٹی جب تک وہ اپنے پلنگ پر لیٹ کر کئی گھنٹے تک آنسوؤں سے اشنان نہ کرتی رہی۔

عورت کے لئے عموماً مرد کی کشش کے تین پہلو ہوتے ہیں۔ بے نیازی، ذہانت اور فصاحت۔ یہ تینوں اوصاف پروفیسروں میں بقدر ضرورت ملتے ہیں۔ اسی لئے ایسے کالجوں میں جہاں مخلوط تعلیم ہو لڑکیاں عموماً اپنے پروفیسروں کی محبت میں مبتلا ہو جاتی ہیںاس محبت کا چاہے کچھ نتیجہ نہ نکلے لیکن ہیروشپ کی طرح اس کا اثر ان کے ذہنوں میں ابدی ہوتا ہے جس طرح ملکیت ظاہر کرنے کے لئے پرانے زمانے میں گھوڑوں کو داغ دیا جاتا تھا اسی طرح اس رات بی بی کے دل پر مہرِ فخر لگ گئی۔

ابا جی ہر آنے جانے والے سے پروفیسر فخر کے احمق پن کی داستان یوں سنانے بیٹھ جاتے جیسے یہ بھی کوئی ویت نام کا مسئلہ ہو۔ ان کے ملنے والے پروفیسر فخر کی باتوں پر خوب ہنستے۔ بی بی کو شبہ ہو چلا تھا کہ انہوں نے بیٹی کو ٹیوشن کی اجازت نہ دی تھی پھر بھی اندر ہی اندر اباجی فخر کی شخصیت سے مرعوب ہو چکے تھے۔

ایک دن جب بی بی اپنی سہیلی سے ملنے سمن آباد گئی اور سامنے والی لائن میں اسے پروفیسر فخر کا مکان دکھائی دیا تو اچانک اس کے دل میں ایک زبردست خواہش اٹھی۔ وہ خوب جانتی تھی کہ اس وقت پروفیسر صاحب کالج جا چکے ہوں گے۔ پھر بھی وہ گھر کے اندر چلی گئی۔ سارے کمرے کھلے پڑے تھے۔ لمبے کمرے میں ایک چارپائی بچھی تھی جس کا ایک پایہ غائب تھا اور اس کی جگہ اینٹوں کی تھٹی لگی ہوئی تھی۔ تینوں کمروں میں کتابیں ہی کتابیں تھیں۔ ہر سائز، ہر پیپر اور ہر طرح کی پرنٹنگ والی کتابیں۔ ان کتابوں کو درستگی کے ساتھ آراستہ کرنے کی خواہش بڑی شدت کے ساتھ بی بی کے دل میں اٹھی۔ جستی ٹرنک پر پڑے ہوئے کپڑے، زرد رو چھپکلیاں جو بڑی آزادی سے چھت سے جھانک رہی تھیں اور کونوں میں لگے ہوئے جالے۔ ان چیزوں کا بی بی پر بہت گہرا اثر ہوا۔ باورچی خانے سے کچھ جلنے کی خوشبو آ رہی تھی لیکن پکانے والا دیگچی سٹوو پر رکھ کر کہیں گیا ہوا تھا۔ بی بی نے تھوڑا سا پانی دیگچی میں ڈالا اور سہیلی سے ملے بغیر آ گئی۔

جس روز بی بی نے پروفیسر فخر سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا اسی روز جمالی ملک کا رشتہ بھی آگیا۔

جمالی ملک لاہور کے ایک نامی گرامی ہوٹل میں مینجر تھے۔ بڑی پریس کی ہوئی شخصیت تھی۔ اپنی پتلون کی کریز کی طرح۔ اپنے چمکدار بوٹوں کی طرح جگمگاتی ہوئی شخصیتوہ کسی ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار نظر آتے تھے۔ صاف ستھرے دانتوں کی چمک ہمیشہ چہرے پر رہتی۔ جمالی ملک اپنے ہوٹل کی تنظیم، صفائی اور سروس کا سمبل تھے۔ ائیر کنڈیشنڈ لابی میں پھرتے ہوئے، مدھم بتیوں والی بار میں سرپرائز وزٹ کرتے ہوئے لف کے بٹن دباتے ہوئے۔ ڈائننگ ہال میں وی آئی پیز کے ساتھ پر تکلف گفتگو کرتے ہوئے، ان کا وجود کٹ گلاس کے فانوس کی طرح خوبصورت اور چمکدار تھا۔

جس روز اس بڑے ہوٹل کے بڑے مینجر نے بی بی کے خاندان کو کھانے کی دعوت دی اسی روز ڈرائی کلینر سے واپسی پر بی بی کی مڈبھیڑ پروفیسر فخر کے ساتھ ہو گئی۔ وہ فٹ پاتھ پر پرانی کتابوں والی دکانوں کے سامنے کھڑے تھے اور ایک پرانا سا مسودہ دیکھ رہے تھے۔ ان سے پانچ قدم چھ قدم دور “ہر مال ملے آٹھ آنے” والا چیخ چیخ کر سب کو بلا رہا تھا۔ ذرا سا ہٹ کر وہ دکان تھی جس میں سرخ چونچوں والے ہریل طوطے، افریقہ کی سرخ چڑیاں اور خوبصورت لقے کبوتر غٹر غوں غٹر غوں کر رہے تھے۔ پروفیسر صاحب پر سارے بازار کا کوئی اثر نہ ہو رہا تھا اور وہ بڑے۔ انہماک سے پڑھنے میں مشغول تھے۔

کار پار ک کرنے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ بالآخر محکمہ تعلیم کے دفتر میں جا کر پارک کروائی اور پیدل چلتی ہوئی پروفیسر فخر تک جا پہنچی۔ پرانی کتابیں بیچنے والے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ کرم خوردہ کتابوں کے ڈھیر تھے۔ ایسی کتابیں اور رسالے بھی تھے جنہیں امریکن وطن لوٹنے سے پہلے سیروں کے حساب سے بیچ گئے تھے اور جن کے صفحے بھی ابھی نہ کھلے تھے۔

“سلام علیکم سر!”

چونک کر سر نے پیچھے دیکھا تو بی بی شرمندہ ہو گئیاللہ! اس پروفیسر کی آنکھ میں کبھی تو پہچان کی کرن جاگے گی؟ ہر بار نئے سرے سے اپنا تعارف تو نہ کروانا پڑے گا۔

“آپ اتنی دھوپ میں کھڑے ہیں سر”

پروفیسر نے جیب سے ایک بوسیدہ اور گندہ رومال نکال کر ماتھا صاف کیا اور آہستہ سے بولے “ان کتابوں کے پاس آ کر گرمی کا احساس باقی نہیں رہتا۔”

بی بی کو عجیب شرمندگی سی محسوس ہوئی کیونکہ جب کبھی وہ پڑھنے بیٹھتی تو ہمیشہ گردن پر پیسنے کی نمی سی آ جاتی اور اسے پڑھنے سے الجھن ہونے لگتی۔

“آپ کو کہیں جانا ہو تو جی میں چھوڑ آؤں آپ کو۔”

“نہیں میرا سائیکل ہے ساتھشکریہ!”

بات کچھ بھی نہ تھی۔ فٹ پاتھ پر پرانی کتابوں کی دکان کے سامنے ایک بے نیاز چھوڑے پروفیسر کے ساتھ جس کے کالر پر میل کا نشان تھا، ایک سرسری ملاقات تھی چند ثانیے بھر کی۔ لیکن اس ملاقات کا بی بی پر تو عجیب اثر ہوا۔ سارا وجود تحلیل ہو کر ہوا میں مل گیا۔ کندھوں پر سر نہ رہا اور پاؤں میں ہلنے کی سکت نہ رہی تھی۔ حالانکہ پروفیسر فخر نے اس سے ایک بات بھی ایسی نہ کی جو بظاہر توجہ طلب ہوتی۔ پر بی بی کے تو ماتھے پر جیسے انہوں نے اپنے ہاتھ سے چندن کا ٹیکہ لگا دیا۔ کھوئی کھوئی سی گھر آئی اور غائب سی بڑے ہوٹل پہنچ گئی۔ جب وہ شمعوز کی ساڑھی پہنے آئینہ خانے سے لابی میں پہنچی تو دراصل وہ آکسیجن کی طرح ایک ایسی چیز بن چکی تھی جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ جمالی ملک صاحب شارک سکن کے سوٹ میں ملبوس، کالر میں کارنیشن کا پھول لگائے گھٹنوں پر کلف شدہ سرویٹ سرکھے اتنے ٹھوس نظر آ رہے تھے کہ سامنے میز پر کہنیاں ٹکائے جھینگے کا پلاؤ اور چوپ سوٹی کھانے والی لڑکی پر انہیں شبہ تک نہ ہو سکا اور وہ جان ہی نہ سکے کہ مسلسل باتیں کرنے والی لڑکی دراصل ہوٹل میں موجود ہی نہیں ہے۔ اگر بی بی کی شادی جمالی ملک سے ہو جاتی تو کہانی آئسنگ لگے کیک کی طرح دلآویز ہوتی۔ لفٹ کی طرح اوپر کی منزلوں کو چڑھنے والی۔ سوئمنگ پول کے اس تختے کی طرح جس پر چڑ ھ کر ہر تیرنے والا سمرسولٹ کرنے سے پہلے کئی فٹ اوپر چلا جایا کرتا ہے۔ لیکن شادی تو بی بی کی پروفیسر فخر سے ہو گئی۔

ڈی سی صاحب کی بیٹی کا بیاہ اس کی پسند کا ہوا اور اس شادی کی دعوت ہوٹل میں دی گئی جس کے مینجر جمالی صاحب تھے۔ دلہن کے گھر والوں نے چار ڈی لکس قسم کے کمرے دو دن پہلے سے بک کر رکھے تھے اور بڑے ہال میں جہاں رات کا آکسٹرا بجا کرتا ہے، وہیں دولہا دلہن کے اعزاز میں بہت بڑی دعوت رہی۔ نکاح بھی ہوٹل میں ہی ہوا اور رخصتی بھی ہوٹل ہی سے ہوئی۔ ساری شادی کا ہنگامہ مفقود تھا۔ ایک ٹھنڈ کا، ایک خاموشی کا احساس مہمانوں پر طاری تھا۔ ٹھنڈے ٹھنڈے ہال میں یخ بستہ کولڈ ڈرنکز پیتے ہوئے سرد مہر سے مہمانوں سے مل کر بی بی اپنے میاں کے ساتھ سمن آباد چلی گئی۔

لیکن اس رخصتی سے پہلے ایک اور بھی چھوٹا سا واقعہ ہوا۔ نکاح سے پہلے جب دلہن تیار کی جا رہی تھی اور اسے زیور پہنایا جا رہا تھا، اس وقت بجلی اچانک فیوز ہو گئی۔ پہلے بتیاں گئیں پھر ائیر کنڈیشنر کی آواز بند ہو گئی۔ چند ثانئے تو کانوں کو سکون سا محسوس ہوا لیکن پھر لڑکیوں کا گروہ کچھ تو گرمی کے مارے اور کچھ موم بتیوں کی تلاش میں باہر چلا گیا۔ اندھیرے کمرے میں ایک آراستہ دلہن رہ گئی۔ ارد گرد خوشبو کا احساس باقی رہا اور باقی سب کچھ غائب ہو گیا۔

بتیاں پورے آدھے گھنٹے بعد آئیں۔اب خدا جانے یہ جمالی ملک کی سکیم تھی یا واپڈا والوں کی سازش تھی۔ بجلی چلے جانے کے کوئی دس منٹ بعد بی بی کے دروازے پر دستک ہوئی۔ ڈری ہوئی آواز میں بی بی نے جواب دیا۔

“کم ان”

ہاتھ میں شمعدان لئے جمالی ملک داخل ہوا۔اس نے آدھی رات جیسا گہرا نیلا سوٹ پہن رکھا تھا۔ کالر میں کارنیشن کا پھول تھا اور اس کے آتے ہی تمباکو ملی کوئی تیز سی خوشبو کمرے میں پھیل گئی۔ بی بی کا دل زور زور سے بجنے لگا۔

“میں یہ بتانے آیا تھا کہ ہمارا جنریٹر خراب ہو گیا ہے۔ تھوڑی دیر میں بجلی آجائے گیکسی چیز کی ضرورت تو نہیں آپ کو؟”\ وہ خاموش رہی۔

“میں یہ کینڈل سٹینڈ آپ کے پاس رکھ دوں؟”

اثبات میں بی بی نے سر ہلا دیا۔

جمالی ملک نے شمعدان ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا۔ جب پانچ موم بتیوں کا عکس بی بی کے چہرے پر پڑا اور کنکھیوں سے اس نے آئینے کی طرح دیکھا تو لمحہ بھر کو تو اپنی صورت دیکھ کر وہ خود حیران سی رہ گئی۔

“آپ کی سہیلیاں کدھر گئیں؟”۔

“وہ نیچے چلی گئی ہیں شاید”

“اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو تو تو میں یہاں بیٹھ جاؤں چند منٹ۔”

بی بی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

وہ اپالو کی طرح وجیہہ تھا۔ جب اس نے ایک گھٹنے پر دوسرا گھٹنا رکھ کر سر کو صوفے کی پشت سے لگایا تو بی بی کو عجیب قسم کی کشش محسوس ہوئی۔ جمالی ملک کے ہاتھ میں سارے ہوٹل کی ماسٹر چابیاں تھیں اور اس کی بڑی سی انگوٹھی نیم روشنی میں چمک رہی تھی۔ اس خاموش خوبصورت آدمی کو بی بی نے اپنے نکاح سے آدھ گھنٹہ پہلے پہلی بار دیکھا اور اس کی ایک نظر نے اسے اپنے اندر اس طرح جذب کر لیا جسے سیاہی چوس سیاہی کو جذب کرتا ہے۔

“میں آپ کو مبارکباد پیش کر سکتا ہوں؟” اس نے مضطرب نظروں سے بی بی کو دیکھ کر پوچھا۔

وہ بالکل چپ رہی۔

“لڑکیاںخاص کر آپ جیسی لڑکیوں کو ایک بڑا زعم ہوتا ہے اور اسی ایک زعم کے ہاتھوں وہ ایک بہت بڑی غلطی کر بیٹھتی ہیں۔”

نقلی پلکوں والے بوجھل پپوٹے اٹھا کر بی بی نے پوچھا”کیسی غلطی؟”

“کچھ لڑکیاں محض رشی سادھوؤں کی تپسیا توڑنے کو خوشی کی معراج سمجھتی ہیں” وہ سمجھتی ہیں کہ کسی کی بے نیازی کی ڈھال میں سوراخ کر کے وہ سکون معراج کو پالیں گی۔ کسی کے تقویٰ کو برباد کرنا خوشی کے مترادف نہیں ہے۔ کسی کے زہد کو عجز و انکساری میں بدل دینا کچھ اپنی راحت کا باعث نہیںہاں دوسروں کے لئے احساسِ شکست کا باعث ہو سکتی ہے یہ بات

چابیاں ہاتھ میں گھوم پھر رہی تھیں۔ ذہانت اور فصاحت کا دریا رواں تھا۔

“یہ زعمعورتوں میں، لڑکیوں میں کب ختم ہو گا؟میرا خیال تھا آپ ذہین ہیں لیکن آپ بھی وہی غلطی کر بیٹھی ہیں جو عام لڑکی کرتی ہے۔ آپ بھی توبہ شکن بننا چاہتی ہیں۔”

“مجھےمجھے پروفیسر فخر سے محبت ہے۔”

“محبت؟ آپ پروفیسر فخر کو یہ بتانا چاہتی ہیں کہ اندر سے وہ بھی گوشت پوست کے بنے ہوئے ہیں۔ اپنے تمام آئیڈیلز کے باوجود وہ بھی کھانا کھاتے ہیں۔ سوتے ہیںاور محبت کرتے ہیںان کا کوٹ آف آرمر اتنا سخت نہیں جس قدر وہ سمجھتے ہیں۔”

وہ چاہتی تھی کہ جمالی ملک سے کہے کہ تم کون ہوتے ہو مجھے پروفیسر فخر کے متعلق کچھ کہنے والے! تمہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ یہاں لیدر کے صوفے سے پشت لگا کر سارے ہوٹل کے ماسٹر چابیاں ہاتھ میں لے کر اتنے بڑے آدمی پر تبصرہ کرولیکن وہ بے بس سنے جا رہی تھی اور کچھ کہہ نہیں سکتی تھی۔

“میں پروفیسر صاحب سے واقف نہیں ہوں لیکن جو کچھ سنا ہے اس سے یہی اندازہ لگایا ہے کہ وہ اگر مجرد رہتے تو بہتر ہوتاعورت تو خواہ مخواہ توقعات سے وابستہ کر لینے والی شے ہےوہ بھلا اس صنف کو کیا سمجھ پائیں گے؟”

“جمالی صاحب!اس نے التجا کی۔

“آپ سی لڑکیاں اپنے رفیق حیات کو اس طرح چنتی ہیں جس طرح مینو میں سے کوئی اجنبی نام کی ڈش آرڈر کر دی جائے محض تجربے کی خاطرمحض تجسس کے لئے۔ وہ پھر بھی چپ رہی۔ “اتنے سارے حسن کا پروفیسر صاحب کو کیا فائدہ ہو گا بھلامنی پلاٹ پانی کے بغیر سوکھ جاتا ہے۔ عورت کا حسن پرستش اور ستائش کے بغیر مرجھا جا تا ہے کسی ذہین مرد کو بھلا کسی خوبصورت عورت کی کب ضرورت ہوتی ہے؟ اس کے لئے تو کتابوں کا حسن بہت کافی ہے۔”

شمعدان اپنی پانچ موم بتیوں سمیت دم سادھے جل رہا تھا اور وہ کیوٹیکس لگے ہاتھوں کو بغور دیکھ رہی تھی۔

“مجھ سے بہتر قصیدہ گو آپ کو کبھی نہیں مل سکتا قمرمجھ سا گھر آپ کو نہیں مل سکتا کیونکہ میرا گھر اس ہوٹل میں ہے اور ہوٹل سروس سے بہتر کوئی سروس نہیں ہوتی اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ میری باتوں پر آپ کو اس وقت یقین آئے گا جب آپ کے چہرے پر چھائیاں پڑ جائیں گی۔ ہاتھ کیکر کی چھال جیسے ہو جائیں گے اور پیٹ چھاگل میں بدل جائے گامیں تو چاہتا تھامیری تو تمنا تھی کہ جب ہم اس ہوٹل کی لابی میں اکٹھے پہنچتےجب اس کی بار میں ہم دونوں کا گزر ہوتا۔ جب اس کی گیلریوں میں ہم چلتے نظر آتے تو امریکن ٹورسٹ سے لے کر پاکستانی پیٹی بورژوا تک سب، ہماری خوش نصیبی پر رشک کرتے لیکن آپ آئیڈیلسٹ بننے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ حسن کے لئے گڑھا ہے بربادی کا۔”

ساون کی رات جیسا گہر ا نیلا سوٹ، کارنیشن کا سرخ پھول اور آفٹر شیولوشن سے بسا ہوا چہرہ بالآخر دروازے کی طرف بڑھا اور بڑھے ہوئے بولا۔

“کسی سے آئیڈیلز مستعار لے کر زندگی بسر نہیں ہو سکتی محترمہآدرش جب تک اپنے ذاتی نہ ہوں ہمیشہ منتشر ہو جاتے ہیں۔ پہاڑوں کا پودا ریگستان میں نہیں لگا کرتا۔”

اس میں تو اتنا حوصلہ بھی نہ رہا تھا کہ آخری نظر جمالی ملک پر ہی ڈال لیتی۔ دروازے کے مدور ہینڈل پر ہاتھ ڈال کر جمالی ملک نے تھوڑا سا پٹ کھول دیا۔ گیلری سے لڑکیوں کے ہنسنے کی آوازیں آنے لگیں۔

“میں بھی کس قدر احمق ہوں۔ اس سے اپنا کیس pleadکر رہا ہوں جو کبھی کا فیصلہ کر چکی ہےاچھا جی مبارک ہو آپ کو”

دروازہ کھلا اور پھر بند ہو گیا۔جاتے ہوئے وجیہہ مینجر کو ایک نظر بی بی نے دیکھا اور اپنے آپ پر لعنت بھیجتی ہوئی اس نے نظریں جھکا لیں۔چند لمحوں بعد دروازہ پھر کھلا اور ادھ کھلے پٹ سے جمالی ملک نے چہرہ اندر کر کے دیکھا۔ اس کی ہلکی براؤن آنکھوں میں نمی اور شراب کی ملی جلی چمک تھی جیسے گلابی شیشے پر آہوں کی بھاپ اکٹھی ہو گئی ہو۔

“مجھ سے بہتر آدمی تو آپ کو مل رہا ہےلیکن مجھ سے بہتر گھر نہ ملے گا آپ کو مغربی پاکستان میں۔”

اسی طرح سنتو جمعدارنی کے جانے پر بی بی نے سوچا تھا۔ ہم سے بہتر گھر کہاں ملے گا کلموہی کو۔ اسی طرح خورشید کے چلے جانے پر وہ دل کو سمجھاتی تھی کہ اس بد بخت کو اس سے اچھا گھر کہاں ملے گا اور ساتھ ساتھ بی بی یہ بھی جانتی تھی کہ اس سے بہتر گھر چاہے نہ ملے وہ لوٹ کر آنے والیوں میں سے نہیں تھیں۔ اتنے برس گزرنے کے بعد ایک پل تعمیر ہو گیا۔ آپی آپ ماضی سے جوڑنے والا۔ وہ دل برداشتہ انار کلی چلی گئیاس کا خیال تھا کہ وہ چار گھٹنے کی غیر موجودگی میں سب کچھ ٹھیک کر دے گی۔ سنتو جمعدارنی اور خورشید تک کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔ لیکن ہوا یوں کہ جب وہ اپنے اکلوتے دس روپے کے نوٹ کو ہاتھ میں لئے بانو بازار میں کھڑ ی تھی اور سامنے ربڑ کی چپلوں والے سے بھاؤ کر رہی تھی اور نہ چپلوں والے پونے تین سے نیچے اترتا تھا اور نہ وہ ڈھائی روپے سے اوپر چڑھتی تھی، عین اس وقت ایک سیاہ کار اس کے پاس آ کر رکی۔ اپنے بوائی پھٹے پیروں کو نئی چپل میں پھنساتے ہوئے اس نے ایک نظر کار والے پر ڈالی۔

وہ اپالو کے بت کی طرح وجیہہ تھا۔

کنپٹیوں کے قریب پہلے چند سفید بالوں نے اس کی وجاہت پر رعبِ حسن کی مہر بھی لگا دی تھی۔ وقت نے اس سینٹ کا کچھ نہ بگاڑا تھا۔ وہ اسی طرح محفوظ تھا جیسے ابھی کولڈ سٹوریج سے نکلا ہو۔

بی بی نے اپنے کیکر کے چھال جیسے ہاتھ دیکھےپیٹ پر نظر ڈالی جو چھاگل میں بدل چکا تھا اور ان نظروں کو جھکا لیا جن میں اب کتیرہ گوند کی بجھی بجھی سی چمک تھی۔

جمالی ملک اس کے پاس سے گزرا لیکن اس کی نظروں میں پہچان کی گرمی نہ سلگی۔ واپسی پر وہ پروفیسر صاحب سے آنکھیں چرا کر بستر پر لیٹ گئی اور آنسوؤں کا رکا ہوا سیلاب اس کی آنکھوں سے بہہ نکلا۔

پروفیسر صاحب نے بہت پوچھا لیکن وہ انہیں کیا بتاتی کہ درخت چاہے کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو جائے اس کی جڑیں ہمیشہ زمین کو ہوس سے کریدتی رہتی ہیں۔ وہ انہیں کیا سمجھاتی کہ آئیڈیلز کچھ مانگے کا کپڑا نہیں جو پہن لیا جائے۔ وہ انہیں کیا کہتی کہ عورت کیسے توقعات وابستہ کرتی ہے

اور

یہ توقعات کا محل کیونکہ ٹوٹتا ہے؟

وہ غریب پروفیسر صاحب کو کیا سمجھاتی!

ایسی باتیں تو غالباً جمالی ملک بھی بھول چکا تھا۔

آخری آدمی
انتظار حسین

آخری آدمی

انتظار حسین

الیاس اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔
اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر غائب ہو گئے تھے۔ لوگ پہلے حیران ہوئے اور پھر خوشی منائی کہ بندر جو فصلیں برباد اور باغ خراب کرتے تھے نابود ہو گئے۔ پر اس شخص نے جو انہیں سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا کرتا تھا یہ کہا کہ بندر تو تمہارے درمیان موجود ہیں مگر یہ کہ تم دیکھتے نہیں۔ لوگوں نے اس کا برا مانا اور کہا کہ کیا تو ہم سے ٹھٹھا کرتا ہے اور اس نے کہا کہ بے شک ٹھٹھا تم نے خدا سے کیا کہ اس نے سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا اور تم نے سبت کے دن مچھلیوں کا شکار کیا اور جان لو کہ وہ تم سے بڑا ٹھٹھا کرنے والا ہے۔
اس کے تیسرے دن یوں ہوا کہ الیعذر کی لونڈی گجر وم الیعذر کی خواب گاہ میں داخل ہوئی اور سہمی ہوئی الیعذر کی جورو کے پاس الٹے پاؤں آئی۔ پھر الیعذر کی جورو خواب گاہ تک گئی اور حیران و پریشان واپس آئی۔ پھر یہ خبر دور دور تک پھیل گئی اور دور دور سے لوگ الیعذر کے گھر آئے اور اس کی خواب گاہ تک جا کر ٹھٹھک ٹھٹھک گئے کہ الیعذر کی خواب گاہ میں الیعذر کی بجائے ایک بڑا بندر آرام کرتا تھا اور الیعذر نے پچھلے سبت کے دن سب سے زیادہ مچھلیاں پکڑی تھیں۔
پھر یوں ہوا کہ ایک نے دوسرے کو خبر دی کہ اے عزیز الیعذر بندر بن گیا ہے۔ اس پر دوسرا زور سے ہنسا۔ “تو نے مجھ سے ٹھٹھا کیا۔” اور وہ ہنستا چلا گیا، حتٰی کہ منہ اس کا سرخ پڑ گیا اور دانت نکل آئے اور چہرے کے خد و خال کھینچتے چلے گئے اور وہ بندر بن گیا۔ تب پہلا کمال حیران ہوا۔ منہ اس کا کھلا کا کھلا رہ گیا اور آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں اور پھر وہ بھی بندر بن گیا۔
اور الیاب ابن زبلون کو دیکھ کر ڈرا اور یوں بولا کہ اے زبلون کے بیٹے تجھے کیا ہوا ہے کہ تیرا چہرا بگڑ گیا ہے۔ ابن زبلون نے اس بات کا برا مانا اور غصے سے دانت کچکچانے لگا۔ تب الیاب مزید ڈرا اور چلا کر بولا کہ اے زبلون کے بیٹے! تیری ماں تیرے سوگ میں بیٹھے، ضرور تجھے کچھ ہو گیا ہے۔ اس پر ابن زبلون کا منہ غصے سے لال ہو گیا اور دانت کھینچ کر الیاب پر جھپٹا۔ تب الیاب پر خوف سے لرزہ طاری ہوا اور ابن زبلون کا چہرہ غصے سے اور الیاب کا چہرہ خوف سے بگڑتا چلا گیا۔ ابن زبلون غصے سے آپے سے باہر ہوا اور الیاب خوف سے اپنے آپ میں سکڑتا چلا گیا اور وہ دونوں کہ ایک مجسم غصہ اور ایک خوف کی پوت تھے آپس میں گتھ گئے۔ ان کے چہرے بگڑتے چلے گئے۔ پھر ان کے اعضا بگڑے۔ پھر ان کی آوازیں بگڑیں کہ الفاظ آپس میں مدغم ہوتے چلے گئے اور غیر ملفوظ آوازیں بن گئے۔ پھر وہ غیر ملفوظ آوازیں وحشیانہ چیخ بن گئیں اور پھر وہ بندر بن گئے۔
الیاسف نے کہ ان سب میں عقل مند تھا اور سب سے آخر تک آدمی بنا رہا۔ تشویش سے کہا کہ اے لوگو! ضرور ہمیں کچھ ہو گیا ہے۔ آؤ ہم اس شخص سے رجوع کریں جو ہمیں سبت کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کرتا ہے۔ پھر الیاس لوگوں کو ہمراہ لے کر اس شخص کے گھر گیا۔ اور حلقہ زن ہو کے دیر تک پکارا کیا۔ تب وہ وہاں سے مایوس پھرا اور بڑی آواز سے بولا کہ اے لوگو! وہ شخص جو ہمیں سبت کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا کرتا تھا آج ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ اور اگر سوچو تو اس میں ہمارے لئے خرابی ہے۔ لوگوں نے یہ سنا اور دہل گئے۔ ایک بڑے خوف نے انہیں آ لیا۔
دہشت سے صورتیں ان کی چپٹی ہونے لگیں۔ اور خد و خال مسخ ہو تے چلے گئے۔ اور الیاسف نے گھوم کر دیکھا اور بندروں کے سوا کسی کونہ پایا۔ جاننا چاہئے کہ وہ بستی ایک بستی تھی۔ سمندر کے کنارے۔اونچے برجوں اور بڑے دروازوں والی حویلیوں کی بستی، بازاروں میں کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ کٹورا بجتا تھا۔ پر دم کے دم میں بازار ویران اور اونچی ڈیوڑھیاں سونی ہو گئیں۔ اور اونچے برجوں میں عالی شان چھتوں پر بندر ہی بندر نظر آنے لگے اور الیاسف نے ہر اس سے چاروں سمت نظر دوڑائی اور سوچا کہ میں اکیلا آدمی ہوں اور اس خیال سے وہ ایسا ڈرا کہ اس کا خون جمنے لگا۔ مگر اسے الیاب یاد آیا کہ خوف سے کس طرح اس کی صورت بگڑتی چلی گئی اور وہ بندر بن گیا۔ تب الیاسف نے اپنے خوف پر غلبہ پا یا اور عزم باندھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور آدمی ہی کی جون میں مروں گا اور اس نے ایک احساسِ برتری کے ساتھ اپنے مسخ صورت ہم جنسوں کو دیکھا اور کہا۔ تحقیق میں ان میں سے نہیں ہوں کہ وہ بندر ہیں اور میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا۔ اور الیاسف نے اپنے ہم جنسوں سے نفرت کی۔ اس نے ان کی لال بھبوکا صورتوں اور بالوں سے ڈھکے ہوئے جسموں کو دیکھا اور نفرت سے چہرہ اس کا بگڑنے لگا مگر اسے اچانک زبان کا خیال آیا کہ نفرت کی شدت سے صورت اس کی مسخ ہو گئی تھی۔ اس نے کہا کہ الیاسف نفرت مت کر کہ نفرت سے آدمی کی کایا بدل جاتی ہے اور الیاسف نے نفرت سے کنارہ کیا۔
الیاسف نے نفرت سے کنارہ کیا اور کہا کہ بے شک میں انہی میں سے تھا اور اس نے وہ دن یاد کئے جب وہ ان میں سے تھا اور دل اس کا محبت کے جوش سے منڈنے لگا۔ اسے بنت الاخضر کی یاد آئی کہ فرعون کے رتھ کی دودھیا گھوڑیوں میں سے ایک گھوڑی کی مانند تھی۔ اور اس کے بڑے گھر کے در سرو کے اور کڑیاں صنوبر کی تھیں۔ اس یاد کے ساتھ الیاسف کو بیتے دن یاد آ گئے کہ وہ سرو کے دروں اور صنوبر کی کڑیوں والے مکان میں عقب سے گیا تھا اور چھپر کھٹ کے لئے اسے ٹٹولا جس کے لئے اس کا جی چاہتا تھا اور اس نے دیکھا لمبے بال اس کی رات کی بوندوں سے بھیگے ہوئے ہیں اور چھاتیاں ہرن کے بچوں کے موافق تڑپتی ہیں۔ اور پیٹ اس کا گندم کی ڈیوڑھی کی مانند ہے اور پاس اس کے صندل کا گول پیالہ ہے اور الیاسف نے بنت الاخضر کو یاد کیا اور ہرن کے بچوں اور گندم کی ڈھیر اور صندل کے گول پیالے کے تصور میں سرو کے دروں اور صنوبر کی کڑیوں والے گھر تک گیا۔ ساس نے خالی مکان کو دیکھا اور چھپر کھٹ پر اسے ٹٹولا۔ جس کے لئے اس کا جی چاہتا تھا اور پکارا کہ اے بنت الاخضر! تو کہاں ہے اور اے وہ کہ جس کے لئے میرا جی چاہتا ہے۔ دیکھ موسم کا بھاری مہینہ گزر گیا اور پھولوں کی کیاریاں ہری بھری ہو گئیں اور قمریاں اونچی شاخوں پر پھڑپھڑاتی ہیں۔ تو کہاں ہے؟ اے اخضر کی بیٹی! اے اونچی چھت پر بچھے ہوئے چھپر کھٹ پر آرام کرنے والی تجھے دشت میں دوڑتی ہوئی ہرنیوں اور چٹانوں کی دراڑوں میں چھپے ہوئے کبوتروں کی قسم تو نیچے اتر آ۔ اور مجھ سے آن مل کہ تیرے لئے میرا جی چاہتا ہے۔ الیاسف بار بار پکارتا کہ اس کا جی بھر آیا اور بنت الاخضر کو یاد کر کے رویا۔
الیاسف بنت الاخضر کو یاد کر کے رویا مگر اچانک الیعذر کی جورو یاد آئی جو الیعذر کو بندر کی جون میں دیکھ کر روئی تھی۔ حالانکہ اس کی ہڑکی بند ھ گئی اور بہتے آنسوؤں میں اس کے جمیل نقوش بگڑتے چلے گئے۔ اور ہڑکی کی آواز وحشی ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ اس کی جون بدل گئی۔ تب الیاسف نے خیال کیا۔ بنت الاخضر جن میں سے تھی ان میں مل گئی۔ اور بے شک جو جن میں سے ہے وہ ان کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور الیاسف نے اپنے تئیں کہا کہ اے الیاسف ان سے محبت مت کر مبادا تو ان میں سے ہو جائے اور الیاسف نے محبت سے کنارہ کیا اور ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے بے تعلق ہو گیا اور الیاسف نے ہرن کے بچوں اور گندم کی ڈھیری اور صندل کے گول پیالے کو فراموش کر دیا۔
الیاسف نے محبت سے کنارہ کیا اور اپنے ہم جنسوں کی لال بھبوکا صورتوں اور کھڑ ی دم دیکھ کر ہنسا اور الیاسف کو الیعذر کی جورو یاد آئی کہ وہ اس قریے کی حسین عورتوں میں سے تھی۔ وہ تاڑ کے درخت کی مثال تھی اور چھاتیاں اس کی انگور کے خوشوں کی مانند تھیں۔ اور الیعذر نے اس سے کہا تھا کہ جان لے کہ میں انگور کے خوشے توڑوں گا اور انگور کے خوشوں والی تڑپ کر ساحل کی طرف نکل گئی۔
الیعذر اس کے پیچھے پیچھے گیا اور پھل توڑا اور تاڑ کے درخت کو اپنے گھر لے آیا اور اب وہ ایک اونچے کنگرے پر الیعذر کی جوئیں بن بن کر کھاتی تھی۔ الیعذر جھری جھری لے کر کھڑا ہو جاتا اور وہ دم کھڑی کر کے اپنے لجلجے پنجوں پر اٹھ بیٹھی۔ اس کے ہنسنے کی آواز اتنی اونچی ہوتی کہ اسے ساری بستی گونجتی معلوم ہوئی اور وہ اپنے اتنی زور سے ہنسنے پر حیران ہوا مگر اچانک اسے اس شخص کا خیال آیا جو ہنستے ہنستے بندر بن گیا تھا اور الیاسف نے اپنے تئیں کہا۔ اے الیاسف تو ان پر مت ہنس مبادا تو ہنسی کی ایسا بن جائے اور الیاسف نے ہنسی سے کنارہ کیا۔
الیاسف نے ہنسی سے کنارہ کیا۔ الیاسف محبت اور نفرت سے غصہ اور ہمدردی سے رونے اور ہنسنے سے ہر کیفیت سے گزر گیا اور ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے بے تعلق ہو گیا۔ ان کا درختوں پر اچکنا، دانت پیس پیس کر کلکاریاں کرنا، کچے کچے پھلوں پر لڑنا اور ایک دوسرے کو لہو لہان کر دینا۔ یہ سب کچھ اسے آگے کبھی ہم جنسوں پر رلاتا تھا، کبھی ہنساتا تھا۔ کبھی غصہ دلاتا کہ وہ ان پر دانت پیسنے لگا اور انہیں حقارت سے دیکھتا اور یوں ہوا کہ انہیں لڑتے دیکھ کر اس نے غصہ کیا اور بڑی آواز سے جھڑکا۔ پھر خود اپنی آواز پر حیران ہوا۔ اور کسی کسی بندر نے اسے بے تعلقی سے دیکھا اور پھر لڑائی میں جٹ گیا۔ اور الیاسف کے تئیں لفظوں کی قدر کی جاتی رہی۔ کہ وہ اس کے اور اس کے ہم جنسوں کے درمیان رشتہ نہیں رہے تھے اور اس کا اس نے افسوس کیا۔ الیاسف نے افسوس کیا اپنے ہم جنسوں پر، اپنے آپ پر اور لفظ پر۔ افسوس ہے ان پر بوجہ اس کے وہ اس لفظ سے محروم ہو گئے۔ افسوس ہے مجھ پر بوجہ اس کے لفظ میرے ہاتھوں میں خالی برتن کی مثال بن کر رہ گیا۔ اور سوچو تو آج بڑے افسوس کا دن ہے۔ آج لفظ مر گیا۔ اور الیاسف نے لفظ کی موت کا نوحہ کیا اور خاموش ہو گیا۔
الیاسف خاموش ہو گیا اور محبت اور نفرت سے، غصے اور ہمدردی سے، ہنسنے اور رونے سے در گزرا۔ اور الیاسف نے اپنے ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے کنارہ کیا اور اپنی ذات کے اندر پناہ لی۔ الیاسف اپنی ذات کے اندر پناہ گیر جزیرے کے مانند بن گیا۔ سب سے بے تعلق، گہرے پانیوں کے درمیان خشکی کا ننھا سا نشان اور جزیرے نے کہا میں گہرے پانیوں کے درمیان زمین کا نشان بلند رکھو ں گا۔
الیاسف اپنے تئیں آدمیت کا جزیرہ جانتا تھا۔ گہرے پانیوں کے خلاف مدافعت کرنے لگا۔ اس نے اپنے گرد پشتہ بنا لیا کہ محبت اور نفرت، غصہ اور ہمدردی، غم اور خوشی اس پر یلغار نہ کریں کہ جذبے کی کوئی رو اسے بہا کر نہ لے جائے اور الیاسف اپنے جذبات سے خوف کرنے لگا۔ پھر جب وہ پشتہ تیار کر چکا تو اسے یوں لگا کہ اس کے سینے کے اندر پتھری پڑ گئی ہے۔ اس نے فکر مند ہو کر کہا کہ اے معبود میں اندر سے بدل رہا ہوں تب اس نے اپنے باہر پر نظر کی اور اسے گمان ہونے لگا کہ وہ پتھری پھیل کر باہر آ رہی ہے کہ اس کے اعضاء خشک، اس کی جلد بد رنگ اور اس کا لہو بے رس ہوتا جا رہا ہے۔ پھر اس نے مزید اپنے آپ پر غور کیا اور اسے مزید وسوسوں نے گھیرا۔ اسے لگا کہ اس کا بدن بالوں سے ڈھکتا جا رہا ہے۔ اور بال بد رنگ اور سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ تب اسے اپنے بدن سے خوف آیا اور اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ خوف سے وہ اپنے اندر سمٹنے لگا۔ اسے یوں معلوم ہوا کہ اس کی ٹانگیں اور بازو مختصر اور سر چھوٹا ہوتا جا رہا ہے تب اسے مزید خوف ہوا اور اعضاء اس کے خوف سے مزید سکڑنے لگے اور اس نے سوچا کہ کیا میں بالکل معدوم ہو جاؤں گا۔
اور الیاسف نے الیاب کو یاد کیا کہ خوف سے اپنے اندر سمٹ کر وہ بندر بن گیا تھا۔ تب اس نے کہا کہ میں اندر کے خوف پر اسی طور غلبہ پاؤں گا جس طور میں نے باہر کے خوف پر غلبہ پایا تھا اور الیاسف نے اندر کے خوف پر غلبہ پا لیا۔ اور اس کے سمٹتے ہوئے اعضاء دوبارہ کھلنے اور پھیلنے لگے۔ اس کے اعضاء ڈھیلے پڑ گئے۔ اور اس کی انگلیاں لمبی اور بال بڑے اور کھڑے ہونے لگے۔ اور اس کی ہتھیلیاں اور تلوے چپٹے اور لجلجے ہو گئے اور اس کے جوڑ کھلنے لگے اور الیاسف کو گمان ہوا کہ اس کے سارے اعضاء بکھر جائیں گے تب اس نے عزم کر کے اپنے دانتوں کو بھینچا اور مٹھیاں کس کر باندھا اور اپنے آپ کو اکٹھا کرنے لگا۔
الیاسف نے اپنے بد ہیئت اعضاء کی تاب نہ لا کر آنکھیں بند کر لیں اور جب الیاسف نے آنکھیں بند کیں تو اسے لگا کہ اس کے اعضاء کی صورت بدلتی جا رہی ہے۔
اس نے ڈرتے ڈرتے اپنے آپ سے پوچھا کہ میں میں نہیں رہا۔ اس خیال سے دل اس کا ڈھہنے لگا۔ اس نے بہت ڈرتے ڈرتے ایک آنکھ کھولی اور چپکے سے اپنے اعضاء پر نظر کی۔ اسے ڈھارس ہوئی کہ اس کے اعضاء تو جیسے تھے ویسے ہی ہیں۔ اس نے دلیری سے آنکھیں کھولیں اور اطمینان سے اپنے بدن کو دیکھا اور کہا کہ بے شک میں اپنی جون میں ہوں مگر اس کے بعد آپ ہی آپ اسے پھر وسوسہ ہوا کہ جیسے اس کے اعضاء بگڑتے جا رہے ہیں اور اس نے پھر آنکھیں بند کر لیں۔
الیاسف نے آنکھیں بند کر لیں اور جب الیاسف نے آنکھیں بند کیں تو اس کا دھیان اندر کی طرف گیا اور اس نے جانا کہ وہ کسی اندھیرے کنویں میں دھنستا جا رہا ہے اور الیاسف کنویں میں دھنستے ہوئے ہم جنسوں کی پرانی صورتوں نے اس کا تعاقب کیا۔ اور گزری راتیں محاصرہ کرنے لگیں۔ الیاسف کو سبت کے دن ہم جنسوں کا مچھلیوں کا شکار کرنا یاد آیا کہ ان کے ہاتھوں مچھلیوں سے بھر ا سمندر مچھلیوں سے خالی ہونے لگا۔ اور اس کی ہوس بڑھتی گئی اور انہوں نے سبت کے دن بھی مچھلیوں کا شکار شروع کر دیا۔ تب اس شخص نے جو انہیں سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کرتا تھا کہا کہ رب کی سو گند جس نے سمندر کو گہرے پانیوں والا بنایا اور گہرے پانیوں کی مچھلیوں کا مامن ٹھہرایا سمندر تمہارے دستِ ہوس سے پناہ مانگتا ہے اور سبت کے دن مچھلیوں پر ظلم کرنے سے باز رہو کہ مباد ا تم اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے قرار پاؤ۔ الیاسف نے کہا کہ معبود کی سوگند میں سبت کے دن مچھلیوں کا شکار نہیں کرو ں گا اور الیاسف عقل کا پتلا تھا۔ سمندر سے فاصلے پر ایک گڑھا کھودا اور نالی کھود کر اسے سمندر سے ملا دیا اور سبت کے دن مچھلیاں سطحِ آب پر آئیں تو تیرتی ہوئی نالی کی راہ گڑھے پر نکل گئیں۔ اور سبت کے دوسرے دن الیاسف نے اس گڑھے سے بہت سی مچھلیاں پکڑیں۔ وہ شخص جو سبت کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کرتا تھا۔ یہ دیکھ کر بولا کہ تحقیق جس نے اللہ سے مکر کیا اللہ اس سے مکر کرے گا۔ اور بے شک اللہ زیادہ بڑا مکر کرنے والا ہے اور الیاسف یہ یاد کر کے پچھتایا اور وسوسہ کیا کہ کیا وہ مکر میں گھر گیا ہے۔ اس گھڑی اسے اپنی پوری ہستی ایک مکر نظر آئی۔ تب وہ اللہ کی بارگاہ میں گڑگڑایا کہ پیدا کرنے والے نے تو مجھے ایسا پیدا کیا جیسے پیدا کرنے کا حق ہے۔ تو نے مجھے بہترین کینڈے پر خلق کیا۔ اور اپنی مثال پر بنایا۔ پس اے پیدا کرنے والے تو اب مجھ سے مکر کرے گا اور مجھے ذلیل بندر کے اسلوب پر ڈھالے گا اور الیاسف اپنے حال پر رویا۔ اس کے بنائے پشت میں دراڑ پڑ گئی تھی اور سمندر کا پانی جزیرے میں آ رہا تھا۔
الیاسف اپنے حال پر رویا اور بندروں سے بھری بستی سے منہ موڑ کر جنگل کی سمت نکل گیا کہ اب اس بستی اسے جنگل سے زیادہ وحشت بھری نظر آتی تھی۔ اور دیواروں اور چھتوں والا گھر اس کے لئے لفظ کی طرح معنی کھو بیٹھا تھا۔ رات اس نے درخت کی ٹہنیوں پر چھپ کر بسر کی۔
جب صبح کو وہ جاگا تو اس کا سارا بدن دکھتا تھا اور ریڑھ کی ہڈی درد کرتی تھی۔ اس نے اپنے بگڑے اعضاء پر نظر کی کہ اس وقت کچھ زیادہ بگڑے بگڑے نظر آ رہے تھے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے سوچا کیا میں میں ہی ہوں اور اس آن اسے خیال آیا کہ کاش بستی میں کوئی ایک انسان ہوتا کہ اسے بتا سکتا کہ وہ کس جون میں ہے اور یہ خیال آنے پر اس نے اپنے تئیں سوال کیا کہ کیا آدمی بنے رہنے کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ آدمیوں کے درمیان ہو۔ پھر اس نے خود ہی جواب دیا کہ بیشک آدم اپنے تئیں ادھورا ہے کہ آدمی آدمی کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ اور جو جن میں سے ہے ان کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اور جب اس نے یہ سوچا تو روح اس کی اندوہ سے بھر گئی اور وہ پکارا کہ اسے بنت الاخضر تو کہا ں ہے کہ تجھ بن میں ادھورا ہوں۔ اس آن الیاسف کو ہرن کے تڑپتے ہوئے بچوں اور گندم کی ڈھیری اور صندل کے گول پیالے کی یاد بے طرح آئی۔
جزیرے میں سمندر کا پانی امنڈا چلا آ رہا تھا اور الیاسف نے درد سے صدا کی۔ کہ اے بنت الاخضر اے وہ جس کے لئے میرا جی چاہتا ہے۔ تجھے میں اونچی چھت پر بچھے ہوئے چھپر کھٹ پر اور بڑے درختوں کی گھنی شاخوں میں اور بلند برجیوں میں ڈھونڈوں گا۔ تجھے سرپٹ دوڑ تی دودھیا گھوڑیوں کی قسم ہے۔ قسم ہے کبوتروں کی جب وہ بلندیوں پر پرواز کرے۔ قسم ہے تجھے رات کی جب وہ بھیگ جائے۔ قسم ہے تجھے رات کے اندھیرے کی جب وہ بدن میں اترنے لگے۔ قسم ہے تجھے اندھیرے اور نیند کی۔ اور پلکوں کی جب وہ نیند سے بوجھل ہو جائیں۔ تو مجھے آن مل کہ تیرے لئے میراجی چاہتا ہے اور جب اس نے یہ صدا کی تو بہت سے لفظ آپس میں گڈ مڈ ہو گئے جیسے زنجیر الجھ گئی ہو۔ جیسے لفظ مٹ رہے ہوں۔ جیسے اس کی آواز بدلتی جا رہی ہو اور الیاسف نے اپنی بدلتی ہوئی آواز پر غور کیا اور زبلون اور الیاب کو یاد کیا کہ کیوں کر ان کی آوازیں بگڑتی چلی گئی تھیں۔ الیاسف اپنی بدلتی ہوئی آواز کا تصور کر کے ڈرا اور سوچا کہ اے معبود کیا میں بدل گیا ہوں اور اس وقت اسے یہ نرالا خیال سوجھا کہ اے کاش کوئی ایسی چیز ہوتی کہ اس کے ذریعے وہ اپنا چہرہ دیکھ سکتا۔ مگر یہ خیال اسے بہت انہونا نظر آیا۔ اور اس نے درد سے کہا کہ اے معبود میں کیسے جانوں کہ میں نہیں بد لاہوں۔

گڈریا

اشفاق احمد

گڈریا
اشفاق احمد

یہ سردیوں کی ایک یخ بستہ اور طویل رات کی بات ہے۔ میں اپنے گرم گرم بستر میں سر ڈھانپے گہری نیند سو رہا تھا کہ کسی نے زور سے جھنجھوڑ کر مجھے جگا دیا۔

“کون ہے۔”میں نے چیخ کر پوچھا اور اس کے جواب میں ایک بڑا سا ہاتھ میرے سر سے ٹکرایا اور گھپ اندھیرے سے آواز آئی “تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کر لیا۔”

“کیا؟” میں لرزتے ہوئے ہاتھ کو پرے دھکیلنا چاہا۔ “کیا ہے؟”

اور تاریکی کا بھوت بولا “تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کر لیااس کا فارسی میں ترجمہ کرو۔”

“داؤ جی کے بچے” میں نے اونگھتے ہوئے کہا “آدھی آدھی رات کو تنگ کرتے ہودفع ہو جاؤ میں نہیں میں نہیں آپ کے گھر رہتا۔ میں نہیں پڑھتا داؤ جی کے بچےکتے!” اور میں رونے لگا۔

داؤ جی نے چمکار کر کہا “اگر پڑھے گا نہیں تو پاس کیسے ہو گا! پاس نہیں ہو گا تو بڑا آدمی نہ بن سکے گا، پھر لوگ تیرے داؤ کو کیسے جانیں گے؟”

“اللہ کرے سب مر جائیں۔ آپ بھی آپ کو جاننے والے بھیاور میں بھی میں بھی”

اپنی جواں مرگی پر ایسا رویا کہ دو ہی لمحوں میں گھگھی بندھ گئی۔

داؤ جی بڑے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے جاتے تھے اور کہہ رہے تھے “بس اب چپ کر شاباشمیرا اچھا بیٹا۔ اس وقت یہ ترجمہ کر دے، پھر نہیں جگاؤں گا۔”

آنسوؤں کا تار ٹوٹتا جا رہا تھا۔ میں نے جل کر کہا “آج حرامزادے رانو کو پکڑ کر لے گئے کل کسی اور کو پکڑ لیں گے۔ آپ کا ترجمہ تو”

“نہیں نہیں” انہوں نے بات کاٹ کر کہا “میرا تیرا وعدہ رہا آج کے بعد رات کو جگا کر کچھ نہ پوچھوں گاشاباش اب بتا “تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کر لیا۔” میں نے روٹھ کر کہا “مجھے نہیں آتا۔”

“فوراً نہیں کہہ دیتا ہے” انہوں نے سر سے ہاتھ اٹھا کر کہا “کوشش تو کرو۔” “نہیں کرتا!” میں نے جل کر جواب دیا۔

اس پر وہ ذرا ہنسے اور بولے “کارکنانِ گزمہ خانہ رانو را توقیف کردندکارکنانِ گزمہ خانہ، تھانے والے۔ بھولنا نہیں نیا لفظ ہے۔ نئی ترکیب ہے، دس مرتبہ کہو۔”

مجھے پتہ تھا کہ یہ بلا ٹلنے والی نہیں، نا چار گزمہ خانہ والوں کا پہاڑہ شروع کر دیا، جب دس مرتبہ کہہ چکا تو داؤ جی نے بڑی لجاجت سے کہا اب سارا فقرہ پانچ بار کہو۔ جب پنجگانہ مصیبت بھی ختم ہوئی تو انہوں نے مجھے آرام سے بسترمیں لٹاتے ہوئے اور رضائی اوڑھاتے ہوئے کہا۔ “بھولنا نہیں! صبح اٹھتے ہی پوچھوں گا۔” پھر وہ جدھر سے آئے تھے ادھر لوٹ گئے۔

شام کو جب میں ملا جی سے سیپارے کا سبق لے کر لوٹتا تو خراسیوں والی گلی سے ہو کر اپنے گھر جایا کرتا۔ اس گلی میں طرح طرح کے لوگ بستے تھے۔ مگر میں صرف موٹے ماشکی سے واقف تھا جس کو ہم سب “کدو کریلا ڈھائی آنے” کہتے تھے۔

ماشکی کے گھر کے ساتھ بکریوں کا ایک باڑہ تھا جس کے تین طرف کچے پکے مکانوں کی دیواریں اور سامنے آڑی ترچھی لکڑیوں اور خار دار جھاڑیوں کا اونچا اونچا جنگلا تھا۔ اس کے بعد ایک چوکور میدان آتا تھا، پھر لنگڑے کمہار کی کوٹھڑی اور اس کے ساتھ گیرو رنگی کھڑکیوں اور پیتل کی کیلوں والے دروازوں کا ایک چھوٹا سا پکا مکان۔ اس کے بعد گلی میں ذرا سا خم پیدا ہوتا اور قدرے تنگ ہو جاتی پھر جوں جوں اس کی لمبائی بڑھتی توں توں اس کے دونوں بازو بھی ایک دوسرے کے قریب آتے جاتے۔ شاید وہ ہمارے قصبے کی سب سے لمبی گلی تھی اور حد سے زیادہ سنسان! اس میں اکیلے چلتے ہوئے مجھے ہمیشہ یوں لگتا تھا جیسے میں بندوق کی نالی میں چلا جا رہا ہوں اور جونہی میں اس کے دہانے سے باہر نکلوں گا زور سے “ٹھائیں” ہو گا اور میں مر جاؤں گا۔ مگر شام کے وقت کوئی نہ کوئی راہگیر اس گلی میں ضرور مل جاتا اور میری جان بچ جاتی۔ ان آنے جانے والوں میں کبھی کبھار ایک سفید سی مونچھوں والا لمبا سا آدمی ہوتا جس کی شکل بارہ ماہ والے ملکھی سے بہت ملتی تھی۔ سر پر ململ کی بڑی سی پگڑی۔ ذرا سی خمیدہ کمر پر خاکی رنگ کا ڈھیلا اور لمبا کوٹ۔ کھدر کا تنگ پائجامہ اور پاؤں میں فلیٹ بوٹ۔ اکثر اس کے ساتھ میری ہی عمر کا ایک لڑکا بھی ہوتا جس نے عین اسی طرح کے کپڑے پہنے ہوتے اور وہ آدمی سر جھکائے اور اپنے کوٹ کی جیبوں کی ہاتھ ڈالے آہستہ آہستہ اس سے باتیں کیا کرتا۔ جب وہ میرے برابر آتے تو لڑکا میری طرف دیکھتا تھا اور میں اس کی طرف اور پھر ایک ثانیہ ٹھٹھکے بغیر گردنوں کو ذرا ذرا موڑتے ہم اپنی اپنی راہ پر چلتے جاتے۔

ایک دن میں اور میرا بھائی ٹھٹھیاں کے جوہڑ سے مچھلیاں پکڑنے کی ناکام کوشش کے بعد قصبہ کو واپس آ رہے تھے تو نہر کے پل پر یہی آدمی اپنی پگڑی گود میں ڈالے بیٹھا تھا اور اس کی سفید چٹیا میری مرغی کے پر کی طرح اس کے سر سے چپکی ہوئی تھی۔ اس کے قریب سے گزرتے ہوئے میرے بھائی نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر زور سے سلام کیا۔”داؤ جی سلام” اور داؤ جی نے سر ہلا کر جواب دیا۔ “جیتے رہو۔”

یہ جان کر کہ میرا بھائی اس سے واقف ہے میں بے حد خوش ہوا اور تھوڑی دیر بعد اپنی منمنی آواز میں چلایا۔ “داؤ جی سلام۔”

“جیتے رہو۔ جیتے رہو!!” انہوں نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا اور میرے بھائی نے پٹاخ سے میرے زناٹے کا ایک تھپڑ دیا۔

“شیخی خورے، کتے” وہ چیخا۔ جب میں نے سلام کر دیا تو تیری کیا ضرورت رہ گئی تھی؟ ہر بات میں اپنی ٹانگ پھنساتا ہے کمینہ”بھلا کون ہے وہ؟”

“داؤ جی” میں نے بسور کر کہا۔

“کون داؤ جی” میرے بھائی نے تنک کر پوچھا۔

“وہ جو بیٹھے ہیں” میں نے آنسو پی کر کہا۔

“بکواس نہ کر” میرا بھائی چڑ گیا اور آنکھیں نکال کر بولا۔ ہر بات میں میری نقل کرتا ہے کتاشیخی خورا۔”

میں نہیں بولا اور اپنی خاموشی کے ساتھ راہ چلتا رہا۔ دراصل مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ داؤ جی سے تعارف ہو گیا۔ اس کا رنج نہ تھا کہ بھائی نے میرے تھپڑ کیوں مارا۔ وہ تو اس کی عادت تھی۔ بڑا تھا نا اس لئے ہر بات میں اپنی شیخی بگھارتا تھا۔

داؤ جی سے علیک سلیک تو ہو ہی گئی تھی اس لئے میں کوشش کر کے گلی میں سے اس وقت گزرنے لگا جب وہ آ جا رہے ہوں۔ انہیں سلام کر کے بڑا مزا آتا تھا اور جواب پا کر اس سے بھی زیادہ اس سے بھی زیادہ۔ جیتے رہو کچھ ایسی محبت سے کہتے کہ زندگی دو چند ہو سی جاتی اور آدمی زمین سے ذرا اوپر اٹھ کر ہوا میں چلنے لگتاسلام کا یہ سلسلہ کوئی سال بھر یونہی چلتا رہا اور اس اثناء میں مجھے اس قدر معلوم ہو سکا کہ داؤ جی گیرو رنگی کھڑکیوں والے مکان میں رہتے ہیں اور چھوٹا سا لڑکا ان کا بیٹا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے ان کے متعلق کچھ اور بھی پوچھنا چاہا مگر وہ بڑا سخت آدمی تھا اورمیری چھوٹی بات پر چڑ جاتا تھا۔ میرے ہر سوال کے جواب میں ا س کے پاس گھڑے گھڑائے دو فقرے ہوتے تھے۔ “تجھے کیا” اور “بکواس نہ کر” مگر خدا کا شکر ہے میرے تجسس کا یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہ چلا۔ اسلامیہ پرا ئمری سکول سے چوتھی پاس کر کے میں ایم۔ بی ہائی سکول کی پانچویں جماعت میں داخل ہوا تو وہی داؤ جی کا لڑکا میرا ہم جماعت نکلا۔ اس کی مدد سے اور اپنے بھائی کا احسان اٹھائے بغیر میں یہ جان گیا کہ داؤ جی کھتری تھے اور قصبہ کی منصفی میں عرضی نویسی کا کام کرتے تھے۔ لڑکے کا نام امی چند تھا اور وہ جماعت میں سب سے زیادہ ہشیار تھا۔ اس کی پگڑی کلاس بھر میں سب سے بڑی تھی اور چہرہ بلی کی طرح چھوٹا۔ چند لڑکے اسے میاؤں کہتے تھے اور باقی نیولا کہہ کر پکارتے تھے مگر میں داؤ جی کی وجہ سے اس کے اصلی نام ہی سے پکارتا تھا۔ اس لئے وہ میرا دوست بن گیا اور ہم نے ایک دوسرے کو نشانیاں دے کر پکے یار بننے کا وعدہ کر لیا تھا۔

گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہونے میں کوئی ایک ہفتہ ہو گا جب میں امی چند کے ساتھ پہلی مرتبہ اس کے گھر گیا۔ وہ گرمیوں کی ایک جھلسا دینے والی دوپہر تھی لیکن شیخ چلی کی کہانیاں حاصل کرنے کا شوق مجھ پر بھوت بن کر سوار تھا اور میں بھوک اور دھوپ دونوں سے بے پرواہ ہو کر سکول سے سیدھا اس کے ساتھ چل دیا۔

امی چند کا گھر چھوٹا سا تھا لیکن بہت ہی صاف ستھرا اور روشن۔ پیتل کی کیلوں والے دروازے کے بعد ذرا سی ڈیوڑھی تھی۔ آگے مستطیل صحن، سامنے سرخ رنگ کا برآمدہ اور اس کے پیچھے اتنا ہی بڑا کمرہ۔ صحن میں ایک طرف انار کا پیڑ۔ عقیق کے چند پودے اور دھنیا کی ایک چھوٹی سی کیار ی تھی۔ دوسری طرف چوڑی سیڑھیوں کا ایک زینہ جس کی محراب تلے مختصر سی رسوئی تھی۔ گیرو رنگی کھڑکیاں ڈیوڑھی سے ملحقہ بیٹھک میں کھلتی تھیں اور بیٹھک کا دروازہ نیلے رنگ کا تھا۔ جب ہم ڈیوڑھی میں داخل ہوئے تو امی چند نے چلا کر “بے بے نمستے!” کہا اور مجھے صحن کے بیچوں بیچ چھوڑ کر بیٹھک میں گھس گیا۔ برآمدے میں بوریا بچھائے بے بے مشین چلا رہی تھی اور اس کے پاس ہی ایک لڑکی بڑی سی قینچی سے کپڑے قطع کر رہی تھی۔ بے بے نے منہ ہی منہ میں کچھ جواب دیا اور ویسے ہی مشین چلا تی رہی۔ لڑکی نے نگاہیں اٹھا کر میری طرف دیکھا اور گردن موڑ کر کہا۔ “بے بے شاید ڈاکٹر صاحب کا لڑکا ہے۔”

مشین رک گئی۔

“ہاں ہاں” بے بے نے مسکرا کر کہا اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنی طرف بلایا۔ میں اپنے جز دان کی رسی مروڑتا اور ٹیڑھے ٹیڑھے پاؤں دھرتا برآمدے کے ستون کے ساتھ آ لگا۔

“کیا نام ہے تمہارا” بے بے نے چمکار کر پوچھا اور میں نے نگاہیں جھکا کر آہستہ سے اپنا نام بتا دیا۔ “آفتاب سے بہت شکل ملتی ہے۔” اس لڑکی نے قینچی زمین پر رکھ کر کہا۔ “ہے نا بے بے ؟”

“کیوں نہیں بھائی جو ہوا۔”

“آفتاب کیا؟” اندر سے آواز آئی، آفتاب کیا بیٹا؟”

“آفتاب کا بھائی ہے داؤ جی” لڑکی نے رکتے ہوئے کہا۔ “امی چند کے ساتھ آیا ہے۔”

اندر سے داؤ جی برآمد ہوئے۔ انہوں نے گھٹنوں تک اپنا پائجامہ چڑھا رکھا اور کرتہ اتارا ہوا تھا۔ مگر سر پر پگڑی بدستور تھی۔ پانی کی ہلکی سی بالٹی اٹھا وہ برآمدے میں آ گئے اور میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے بولے۔ “ہاں بہت شکل ملتی ہے مگر میرا آفتاب بہت دبلا ہے اور یہ گولو مولو سا ہے۔” پھر بالٹی فرش پر رکھ کے انہوں نے میرے سر ہاتھ پھیرا اور پاس کا ٹھ کا ایک اسٹول کھینچ کر اس پر بیٹھ گئے۔ زمین سے پاؤں اٹھا کر انہوں نے آہستہ سے انہیں جھاڑا اور پھر بالٹی میں ڈال دئے۔ “آفتاب کا خط آتا ہے؟” انہوں نے بالٹی سے پانی کے چلو بھر بھر کر ٹانگوں پر ڈالتے ہوئے پوچھا۔ “آتا ہے جی” میں نے ہولے سے کہا۔ “پرسوں آیا تھا۔”

“کیا لکھتا ہے؟”۔

“پتا نہیں جی، ابا جی کو پتہ ہے۔”

“اچھا” انہوں نے سر ہلا کر کہا۔ “تو ابا جی سے پوچھا کرنا! جو پوچھتا نہیں اسے کسی بھی بات کا علم نہیں ہوتا۔”

میں چپ رہا۔

تھوڑی دیر انہوں نے ویسے ہی چلو ڈالتے ہوئے پوچھا۔ “کونسا سیپارہ پڑھ رہے ہو؟”

“چوتھا” میں نے وثوق سے جواب دیا۔

“کیا نام ہے تیسرے سیپارے کا؟” انہوں نے پوچھا۔

“جی نہیں پتہ۔ “میری آواز پھر ڈوب گئی۔

“تلک الرسل” انہوں نے پانی سے ہاتھ باہر نکال کر کہا۔ پھر تھوڑی دیر بعد وہ ہاتھ جھٹکتے اور ہوا میں لہراتے رہے۔ بے بے مشین چلاتی رہی۔ وہ لڑکی نعمت خانے سے روٹی نکال کر برآمدے کی چوکی پر لگانے لگی اور میں جزدان کی ڈوری کو کھولتا لپیٹتا رہا۔ امی چند ابھی تک بیٹھک کے اندر ہی تھا اور میں ستون کے ساتھ ساتھ جھینپ کی عمیق گہرائیوں میں اترتا جا رہا تھا، معاً داؤ جی نے نگاہیں میری طرف پھیر کر کہا

“سورة فاتحہ سناؤ۔”

“مجھے نہیں آتی جی” میں نے شرمندہ ہو کر کہا۔

انہوں نے حیرانی سے میری طرف دیکھا اور پوچھا “الحمدللہ بھی نہیں جانتے؟”

“الحمدللہ تو میں جانتا ہوں جی” میں نے جلدی سے کہا۔

وہ ذرا مسکرائے اور گویا اپنے آپ سے کہنے لگے۔ “ایک ہی بات ہے! ایک ہی بات ہے!!” پھر انہوں نے سر کے اشارے سے کہا سناؤ۔ جب میں سنانے لگا تو انہوں نے اپنا پائجامہ گھٹنوں سے نیچے کر لیا اور پگڑی کا شملہ چوڑا کر کے کندھوں پر ڈال دیا اور جب میں نے وَلَا الضَّالِّیْنَ کہا تو میر ے ساتھ ہی انہوں نے بھی آمین کہا۔ مجھے خیال ہوا کہ وہ ابھی اٹھ کر مجھے کچھ انعام دیں گے کیونکہ پہلی مرتبہ جب میں نے اپنے تایا جی کو الحمدللہ سنائی تھی تو انہوں نے بھی ایسے ہی آمین کہا تھا اور ساتھ ہی ایک روپیہ مجھے انعام بھی دیا تھا۔ مگر داؤ جی اسی طرح بیٹھے رہے بلکہ اور بھی پتھر ہو گئے۔ اتنے میں امی چند کتاب تلاش کر کے لے آیا اور جب میں چلنے لگا تو میں نے عادت کے خلاف آہستہ سے کہا “داؤ جی سلام” اور انہوں نے ویسے ہی ڈوبے ڈوبے ہولے سے جواب دیا۔ “جیتے رہو۔”

بے بے نے مشین روک کر کہا “کبھی کبھی امی چند کے ساتھ کھیلنے آ جایا کرو۔”

“ہاں ہاں آ جایا کر” داؤ جی چونک کر بولے۔ “آفتاب بھی آیا کرتا تھا” پھر انہوں نے بالٹی پر جھکتے ہوئے کہا “ہمارا آفتاب تو ہم سے بہت دور ہو گیا اور فارسی کا شعر سا پڑھنے لگے۔

یہ داؤ جی سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات تھی اور اس ملاقات سے میں یہ نتائج اخذ کر کے چلا کہ داؤ جی بڑے کنجوس ہیں۔ حد سے زیادہ چپ ہیں اور کچھ بہرے سے ہیں۔ اسی دن شام کو میں نے اپنی اماں کو بتایا کہ میں داؤ جی کے گھر گیا تھا اور وہ آفتاب بھائی کو یاد کر رہے تھے۔

اماں نے قدرے تلخی سے کہا “تو مجھ سے پوچھ تو لیتا۔ بے شک آفتاب ان سے پڑھتا رہا ہے اور ان کی بہت عزت کرتا ہے مگر تیرے اباجی ان سے بولتے نہیں ہیں۔ کسی بات پر جھگڑا ہو گیا تھا سو اب تک ناراضگی چلی آتی ہے۔ اگر انہیں پتہ چل گیا کہ تو ان کے ہاں گیا تھا تو وہ خفا ہوں گے، پھر اماں نے ہمدرد بن کر کہا “اپنے ابا سے اس کا ذکر نہ کرنا۔”

میں ابا جی سے بھلا اس کا ذکر کیوں کرتا، مگر سچی بات تو یہ ہے کہ میں داؤ جی کے ہاں جاتا رہا اور خوب خوب ان سے معتبری کی باتیں کرتا رہا۔

وہ چٹائی بچھائے کوئی کتا ب پڑھ رہے ہوتے۔ میں آہستہ سے ان کے پیچھے جا کر کھڑا ہو جاتا اور وہ کتاب بند کر کے کہتے “گول آ گیا” پھر میری طرف مڑتے اور ہنس کر کہتے “کوئی گپ سنا” اور میں اپنی بساط کے اور سمجھ کے مطابق ڈھونڈ ڈھانڈ کے کوئی بات سناتا تو وہ خوب ہنستے۔ بس یونہی میرے لئے ہنستے حالانکہ مجھے اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایسی دلچسپ باتیں بھی نہ ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے رجسٹر سے کوئی کاغذ نکال کر کہتے لے ایک سوال نکال۔ اس سے میری جان جاتی تھی لیکن ان کا وعدہ بڑا رسیلا ہوتا تھا کہ ایک سوال اور پندرہ منٹ باتیں۔ اس کے بعد ایک اور سوال اور پھر پندرہ منٹ گپیں۔ چنانچہ میں مان جاتا اور کاغذ لے کر بیٹھ جاتا لیکن ان کے خود ساختہ سوال کچھ ایسے الجھے ہوتے کہ اگلی باتوں اور اگلے سوالوں کا وقت بھی نکل جاتا۔ اگر خوش قسمی سے سوال جلد حل ہو جاتا تو وہ چٹائی کو ہاتھ لگا کر پوچھتے یہ کیا ہے؟ “چٹائی” میں منہ پھاڑ کر جواب دیتا “اوں ہوں” وہ سر ہلا کر کہتے “فارسی میں بتاؤ” تو میں تنک کر جواب دیتا “لو جی ہمیں کوئی فارسی پڑھائی جاتی ہے” اس پر وہ چمکار کر کہتے “میں جو پڑھاتا ہوں گولومیں جو سکھاتا ہوںسنو! فارسی میں بوریا، عربی میں حصیر” میں شرارت سے ہاتھ جوڑ کر کہتا “بخشو جی بخشو، فارسی بھی اور عربی بھی میں نہیں پڑھتا مجھے معاف کرو” مگر وہ سنی ان سنی ایک کر کے کہے جاتے فارسی بوریا، عربی حصیر۔ اور پھر کوئی چاہے اپنے کانوں میں سیسہ بھر لیتا۔ داؤ جی کے الفاظ گھستے چلے جاتے تھےامی چند کتابوں کا کیڑا تھا۔ سارا دن بیٹھک میں بیٹھا لکھتا پڑھتا رہتا۔ داؤ جی اس کے اوقات میں مخل نہ ہوتے تھے، لیکن ان کے داؤ امی چند پر بھی برابر ہوتے تھے، وہ اپنی نشست سے اٹھ کر گھڑے سے پانی پینے آیا، داؤ جی نے کتاب سے نگاہیں اٹھا کر پوچھا۔ “بیٹا؟؟؟؟ کیا ہے۔ اس نے گلاس کے ساتھ منہ لگائے لگائے “ڈیڈ” کہا اور پھر گلاس گھڑونچی تلے پھینک کر اپنے کمرے میں آگیا۔ داؤ جی پھر پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔ گھر میں ان کو اپنی بیٹی سے بڑا پیار تھا۔ ہم سب اسے بی بی کہہ کر پکارتے تھے۔ اکیلے داؤ جی نے اس کا نام قرة رکھا ہوا تھا۔ اکثر بیٹھے بیٹھے ہانک لگا کر کہتے “قرة بیٹی یہ قینچی تجھ سے کب چھوٹے گی؟” اور وہ اس کے جواب میں مسکرا کر خاموش ہو جاتی۔ بے بے کو اس نام سے بڑی چڑ تھی۔ وہ چیخ کر جواب دیتی۔ “تم نے اس کا نام قرۃ رکھ کر اس کے بھاگ میں کرتے سینے لکھوا دئے ہیں۔ منہ اچھا نہ ہو تو شبد تو اچھے نکالنے چاہئیں” اور داؤ جی ایک لمبی سانس لے کر کہتے “جاہل اس کا مطلب کیا جانیں” اس پر بے بے کا غصہ چمک اٹھتا اور اس کے منہ میں جو کچھ آتا کہتی چلی جاتی۔ پہلے کوسنے، پھر بد دعائیں اور آخر میں گالیوں پر اتر آتی۔ بی بی رکتی تو داؤ جی کہتے “ہوائیں چلنے کو ہوتی ہیں بیٹا اور گالیاں برسنے کو، تم انہیں روکو مت، انہیں ٹوکو مت۔ پھر وہ اپنی کتابیں سمیٹتے اور اپنا محبوب حصیر اٹھا کر چپکے سے سیڑھیوں پر چڑھ جاتے۔

نویں جماعت کے شروع میں مجھے ایک بری عادت پڑ گئی اور اس بری عادت نے عجیب گل کھلائے۔ حکیم علی احمد مرحوم ہمارے قصبے کے ایک ہی حکیم تھے۔ علاج معالجہ سے ان کو کچھ ایسی دلچسپی نہ تھی لیکن باتیں بڑی مزیدار سناتے تھے۔ اولیاؤں کے تذکرے، جنوں بھوتوں کی کہانیاں اور حضرت سلیمانؑ اور ملکہ سبا کی گھریلو زندگی کی داستانیں ان کے تیر بہدف ٹوٹکے تھے۔ ان کے تنگ و تاریک مطب میں معجون کے چند ڈبوں، شربت کی دس پندرہ بوتلوں اور دو آتشی شیشیوں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ دواؤں کے علاوہ وہ اپنی طلسماتی تقریر اور حضرت سلیمانؑ کے خاص صدری تعویذوں سے مریض کا علاج کیا کرتے تھے۔ انہی باتوں کے لئے دور دراز گاؤں کے مریض ان کے پاس کھنچے چلے آتے اور فیض یاب ہو کر جاتے۔ ہفتہ دو ہفتہ کی صحبت میں میرا ان کے ساتھ ایک معاہدہ ہو گیا، میں اپنے ہسپتال سے ان کے لئے خالی بوتلیں اور شیشیاں چرا کے لاتا اور اس کے بدلے وہ مجھے داستانِ امیر حمزہ کی جلدیں پڑھنے کے لئے دیا کرتے۔

یہ کتابیں کچھ ایسی دلچسپ تھیں کہ میں رات رات بھر اپنے بستر میں دبک کر انہیں پڑھا کرتا اور صبح دیر تک سویا رہتا، اماں میرے اس رویے سے سخت نالاں تھیں، ابا جی کو میری صحت برباد ہونے کا خطرہ لاحق تھا لیکن میں نے ان کو بتا دیا تھا کہ چاہے جان چلی جائے اب کے دسویں میں وظیفہ ضرور حاصل کروں گا۔ رات طلسم ہوشربا کے ایوانوں میں بسر ہوتی اور دن بینچ پر کھڑے ہو کر، سہ ماہی امتحان میں فیل ہوتے ہوتے بچا۔ ششماہی میں بیمار پڑ گیا اور سالانہ امتحان کے موقع پر حکیم جی کی مدد سے ماسٹروں سے مل ملا کر پاس ہو گیا۔

دسویں میں صندلی نامہ، فسانۂ آزاد اور الف لیلیٰ ساتھ ساتھ چلتے تھے، فسانۂ آزاد اور صندلی نامہ گھر پر رکھے تھے، لیکن الف لیلیٰ سکول کے ڈیسک میں بند رہتی۔ آخری بینچ پر جغرافیہ کی کتاب تلے سند باد جہازی کے ساتھ ساتھ چلتا اور اس طرح دنیا کی سیر کرتابائیس مئی کا واقعہ ہے کہ صبح دس بجے یونیورسٹی سے نتیجہ کی کتاب ایم۔ بی ہائی سکول پہنچی۔ امی چند نہ صرف سکول میں بلکہ ضلع بھر میں اول آیا تھا۔ چھ لڑکے فیل تھے اور بائیس پاس۔ حکیم جی کا جادو یونیورسٹی پر نہ چل سکا اور پنجاب کی جابر دانش گاہ نے میرا نام بھی ان چھ لڑکوں میں شامل کر دیا۔ اسی شام قبلہ گاہی نے بید سے میری پٹائی کی اور گھر سے باہر نکال دیا۔ میں ہسپتال کے رہٹ کی گدی پر آ بیٹھا اور رات گئے تک سوچتا رہا کہ اب کیا کرنا چاہئے اور اب کدھر جانا چاہئے۔ خدا کا ملک تنگ نہیں تھا اور میں عمرو عیار کے ہتھکنڈوں اور سند باد جہازی کے تمام طریقوں سے واقف تھا مگر پھر بھی کوئی راہ سجھائی نہ دیتی تھی۔ کوئی دو تین گھنٹے اسی طرح ساکت و جامد اس گدی پر بیٹھا زیست کرنے کی راہیں سوچتا رہا۔ اتنے میں اماں سفید چادر اوڑھے مجھے ڈھونڈتی ڈھونڈتی ادھر آ گئیں اور اباجی سے معافی لے دینے کا وعدہ کر کے مجھے پھر گھر لے گئیں۔ مجھے معافی وافی سے کوئی دلچسپی نہ تھی، مجھے تو بس ایک رات ا ور ان کے یہاں گزارنی تھی اور صبح سویرے اپنے سفر پر روانہ ہونا تھا، چنانچہ میں آرام سے ان کے ساتھ جا کر حسب معمول اپنے بستر پر دراز ہو گیا۔

اگلے دن میرے فیل ہونے والے ساتھیوں میں سے خوشیا کوڈو اور دیسو یب یب مسجد کے پچھواڑے ٹال کے پاس بیٹھے مل گئے۔ وہ لاہور جا کر بزنس کرنے کا پرو گرام بنا رہے تھے۔ دیسو یب یب نے مجھے بتایا کہ لاہور میں بڑا بزنس ہے کیونکہ اس کے بھایا جی اکثر اپنے دوست فتح چند کے ٹھیکوں کا ذکر کیا کرتے تھے جس نے سال کے اندر اندر دو کاریں خرید لی تھیں۔ میں نے ان سے بزنس کی نوعیت کے بارے میں پوچھا تو یب یب نے کہا لاہور میں ہر طرح کا بزنس مل جاتا ہے۔ بس ایک دفتر ہونا چاہئے اور اس کے سامنے بڑا سا سائن بورڈ۔ سائن بورڈ دیکھ کر لوگ خود ہی بزنس دے جاتے ہیں۔ اس وقت بزنس سے مراد وہ کرنسی نوٹ لے رہا تھا۔

میں نے ایک مرتبہ پھر وضاحت چاہی تو کوڈو چمک کر بولا “یار دیسو سب جانتا ہے۔ یہ بتا، تو تیار ہے یا نہیں؟”

پھر اس نے پلٹ کر دیسو سے پوچھا “انار کلی میں دفتر بنائیں گے نا؟”

دیسو نے ذرا سوچ کر کہا “انار کلی میں یا شاہ عالمی کے باہر دونوں ہی جگہیں ایک سی ہیں۔”

میں نے کہا انار کلی زیادہ مناسب ہے کیونکہ وہی زیادہ مشہور جگہ ہے اور اخباروں میں جتنے بھی اشتہار نکلتے ہیں ان میں انار کلی لاہور لکھا ہوتا ہے۔”

چنانچہ یہ طے پایا کہ اگلے دن دو بجے کی گاڑی سے ہم لاہور روانہ ہو جائیں!

گھر پہنچ کر میں سفر کی تیاری کرنے لگا۔ بوٹ پالش کر رہا تھا کہ نوکر نے آ کر شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا “چلو جی ڈاکٹر صاحب بلاتے ہیں۔”

“کہاں ہیں؟” میں نے برش زمین پر رکھ دیا اور کھڑا ہو گیا۔

“ہسپتال میں ” وہ بدستور مسکرا رہا تھا کیونکہ میری پٹائی کے روز حاضرین میں وہ بھی شامل تھا۔ میں ڈرتے ڈرتے برآمدے کی سیڑھیاں چڑھا۔ پھر آہستہ سے جالی والا دروازہ کھول کر اباجی کے کمرے میں داخل ہوا تو وہا ں ان کے علاوہ داؤ جی بھی بیٹھے تھے۔ میں نے سہمے سہمے داؤ جی کو سلام کیا اور اس کے جواب میں بڑی دیر کے بعد جیتے رہو کی مانوس دعا سنی۔

“ان کو پہچانتے ہو؟” اباجی نے سختی سے پوچھا۔

“بے شک” میں نے ایک مہذب سیلزمین کی طرح کہا۔

“بے شک کے بچے، حرامزادے، میں تیری یہ سب۔”

“نہ نہ ڈاکٹر صاحب” داؤ جی نے ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا “یہ تو بہت ہی اچھا بچہ ہے اس کو تو”

اور ڈاکٹر صاحب نے بات کاٹ کر تلخی سے کہا “آپ نہیں جانتے منشی جی اس کمینے نے میری عزت خاک میں ملا دی۔”

“اب فکر نہ کریں ” داؤ جی نے سر جھکائے کہا۔ “یہ ہمارے آفتاب سے بھی ذہین ہے اور ایک دن”

اب کے ڈاکٹر صاحب کو غصہ آگیا اور انہوں نے میز پر ہاتھ مار کر کہا “کیسی بات کرتے ہو منشی جی! یہ آفتاب کے جوتے کی برابری نہیں کر سکتا۔”

“کرے گا، کرے گاڈاکٹر صاحب” داؤ جی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا “آپ خاطر جمع رکھیں۔”

پھر وہ اپنی کرسی سے اٹھے اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے “میں سیر کو چلتا ہوں، تم بھی میرے ساتھ آؤ، راستے میں باتیں کریں گے۔”

اباجی اسی طرح کرسی پر بیٹھے غصے کے عالم میں اپنا رجسٹر الٹ پلٹ کرتے اور بڑبڑاتے رہے۔ میں نے آہستہ آہستہ چل کر جالی والا دروازہ کھولا تو داؤ جی نے پیچھے مڑ کر کہا۔

“ڈاکٹر صاحب بھول نہ جائیے ابھی بھجوا دیجئے گا۔”

داؤ جی نے مجھے ادھر ادھر گھماتے اور مختلف درختوں کے نام فارسی میں بتاتے نہر کے اسی پل پر لے گئے جہاں پہلے پہل میرا ان سے تعارف ہوا تھا۔ اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ کر انہوں نے پگڑی اتار کر گود میں ڈال لی سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ پھر انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور کہا “آج سے میں تمہیں پڑھاؤں گا اور اگر جماعت میں اول نہ لا سکا تو فرسٹ ڈویژن ضرور دلوا دوں گا۔ میرے ہر ارادے میں خداوند تعالیٰ کی مدد شامل ہوتی ہے اور اس ہستی نے مجھے اپنی رحمت سے کبھی مایوس نہیں کیا”

“مجھ سے پڑھائی نہ ہو گی” میں نے گستاخی سے بات کاٹی۔

“تو اور کیا ہو گا گولو؟” انہوں نے مسکرا کر پوچھا۔

میں نے کہا “میں بزنس کروں گا، روپیہ کماؤں گا اور اپنی کار لے کر یہاں ضرور آؤں گا، پھر دیکھنا” اب کے داؤ جی نے میری بات کاٹی اور بڑی محبت سے کہا “خدا ایک چھوڑ تجھے دس کاریں دے لیکن ایک ان پڑھ کی کار میں نہ میں بیٹھوں گا نہ ڈاکٹر صاحب۔”

میں نے جل کر کہا “مجھے کسی کی پرواہ نہیں ڈاکٹر صاحب اپنے گھر راضی، میں اپنے یہاں خوش۔”

انہوں نے حیران ہو کر پوچھا “میری بھی پرواہ نہیں؟” میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ دکھی سے ہو گئے اور بار بار پوچھنے لگے۔

“میری بھی پرواہ نہیں؟”

“او گولو میری بھی پرواہ نہیں؟”

مجھے ان کے لہجے پر ترس آنے لگا اور میں نے آہستہ سے کہا۔ آپ کی تو ہے مگر” مگر انہوں نے میری بات نہ سنی اور کہنے لگے اگر اپنے حضرت کے سامنے میرے منہ سے ایسی بات نکل جاتی؟ اگر میں یہ کفر کا کلمہ کہہ جاتا تو تو ” انہوں نے فورا پگڑی اٹھا کر سر پر رکھ لی اور ہاتھ جوڑ کہنے لگے۔ “میں حضور کے دربار کا ایک ادنیٰ کتا۔ میں حضرت مولانا کی خاک پا سے بد تر بندہ ہو کر آقا سے یہ کہتا۔ لعنت کا طوق نہ پہنتا؟ خاندانِ ابو جہل کا خانوادہ اور آقا کی ایک نظر کرم۔ حضرت کا ایک اشارہ۔ حضور نے چنتو کو منشی رام بنا دیا۔ لوگ کہتے ہیں منشی جی، میں کہتا ہوں رحمۃ اللہ علیہ کا کفش بردارلوگ سمجھتے ہیں” داؤ جی کبھی ہاتھ جوڑتے، کبھی سر جھکاتے کبھی انگلیاں چوم کر آنکھوں کو لگاتے اور بیچ بیچ میں فارسی کے اشعار پڑھتے جاتے۔ میں کچھ پریشان سا پشیمان سا، ان کا زانو چھو کر آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا “داؤ جی! داؤ جی” اور داؤ جی “میرے آقا، میرے مولانا، میرے مرشد” کا وظیفہ کئے جاتے۔

جب جذب کا یہ عالم دور ہوا تو نگاہیں اوپر اٹھا کر بولے “کیا اچھا موسم ہے دن بھر دھوپ پڑتی ہے تو خوشگوار شاموں کا نزول ہوتا ہے ” پھر وہ پل کی دیوار سے اٹھے اور بولے “چلو اب چلیں بازار سے تھوڑا سودا خریدنا ہے۔” میں جیسا سرکش و بد مزاج بن کر ان کے ساتھ آیا تھا، اس سے کہیں زیادہ منفعل اور خجل ان کے ساتھ لوٹا۔ گھمسے پنساری یعنی دیسو یب یب کے باپ کی دکان سے انہوں نے گھریلو ضرورت کی چند چیزیں خریدیں اور لفافے گود میں اٹھا کر چل دئے، میں بار بار ان سے لفافے لینے کی کوشش کرتا مگر ہمت نہ پڑتی۔ ایک عجیب سی شرم ایک انوکھی سی ہچکچاہٹ مانع تھی اور اسی تامل اور جھجک میں ڈوبتا ابھرتا میں ان کے گھر پہنچ گیا۔

وہاں پہنچ کر یہ بھید کھلا کہ اب میں انہی کے ہاں سویا کرو ں گا اور وہیں پڑھا کروں گا۔ کیونکہ میرا بستر مجھ سے بھی پہلے وہاں پہنچا ہوا تھا اور اس کے پاس ہی ہمارے یہاں سے بھیجی ہوئی ایک ہری کین لالٹین بھی رکھی تھی۔ بزنس مین بننا اور پاں پاں کرتی پیکارڈ اڑائے پھرنا میرے مقدر میں نہ تھا۔ گو میرے ساتھیوں کی روانگی کے تیسرے ہی روز بعد ان کے والدین بھی انہیں لاہور سے پکڑ لائے لیکن اگر میں ان کے ساتھ ہوتا تو شاید اس وقت انار کلی میں ہمارا دفتر، پتہ نہیں ترقی کے کون سے شاندار سال میں داخل ہو چکا ہوتا۔

داؤ جی نے میری زندگی اجیرن کر دی، مجھے تباہ کر دیا، مجھ پر جینا حرام کر دیا، سارا دن سکول کی بکواس میں گزرتا اور رات، گرمیوں کی مختصر رات، ان کے سوالات کا جواب دینے، کوٹھے پر ان کی کھاٹ میرے بستر کے ساتھ لگی ہے اور وہ مونگ، رسول اور مرالہ کی نہروں کے بابت پوچھ رہے ہیں، میں نے بالکل ٹھیک بتا دیا ہے، وہ پھر اسی سوال کو دہرا رہے ہیں، میں نے پھر ٹھیک بتا دیا ہے اور انہوں نے پھر انہی نہروں کو آگے لا کھڑا کیا ہے، میں جل جاتا اور جھڑک کر کہتا “مجھے نہیں پتہ میں نہیں بتاتا” تو وہ خاموش ہو جاتے اور دم سادھ لیتے، میں آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرتا تو وہ شرمندگی کنکر بن کر پتلیوں میں اتر جاتی۔

میں آہستہ سے کہتا “داؤ جی۔”

“ہوں” ایک گھمبیر سی آواز آتی۔

’دداؤ جی کچھ اور پوچھو۔”

داؤ جی نے کہا “بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے۔ اس کی ترکیب نحوی کرو۔”

میں نے سعادت مندی کے ساتھ کہا “جی یہ تو بہت لمبا فقرہ ہے صبح لکھ کر بتا دوں گا کوئی اور پوچھئے۔”

انہوں نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائے کہا “میرا گولو بہت اچھا ہے۔”

میں نے ذرا سوچ کر کہنا شروع کیا بہت اچھا صفت ہے، حرف ربط مل کر بنا مسند اور داؤ جی اٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گئے۔ ہاتھ اٹھا کر بولے جانِ پدر، تجھے پہلے بھی کہا ہے مسند الیہ پہلے بنایا ہے۔

میں نے ترکیبِ نحوی سے جان چھڑانے کے لئے پوچھا “آپ مجھے جانِ پدر کیوں کہتے ہیں جانِ داؤ کیوں نہیں کہتے؟”

“شاباش” وہ خوش ہو کر کہتے “ایسی باتیں پوچھنے کی ہوتی ہیں۔ جان لفظ فارسی کا ہے اور داؤ بھاشا کا۔ ان کے درمیان فارسی اضافت نہیں لگ سکتی۔ جو لوگ دن بدن لکھتے یا بولتے ہیں سخت غلطی کرتے ہیں، روز بروز کہو یا دن پر دن اسی طرح سے”

اور جب میں سوچتا کہ یہ تو ترکیبِ نحوی سے بھی زیادہ خطرناک معاملے میں الجھ گیا ہوں تو جمائی لے کر پیار سے کہا “داؤ جی اب تو نیند آ رہی ہے!”

“اور وہ ترکیب نحوی؟” وہ جھٹ سے پوچھتے۔۔

اس کے بعد چاہے میں لاکھ بہانے کرتا ادھر ادھر کی ہزار باتیں کرتا، مگر وہ اپنی کھاٹ پر ایسے بیٹھے رہتے، بلکہ اگر ذرا سی دیر ہو جاتی تو کرسی پر رکھی ہوئی پگڑی اٹھا کر سر پر دھر لیتے۔ چنانچہ کچھ بھی ہوتا۔ ان کے ہر سوال کا خاطر خواہ جواب دینا پڑتا۔

امی چند کالج چلا گیا تو اس کی بیٹھک مجھے مل گئی اور داؤ جی کے دل میں اس کی محبت پر بھی میں نے قبضہ کر لیا۔ اب مجھے داؤ جی بہت اچھے لگنے لگے تھے لیکن ان کی باتیں جو اس وقت مجھے بری لگتی تھیں۔ وہ اب بھی بری لگتی ہیں بلکہ اب پہلے سے بھی کسی قدر زیادہ، شاید اس لئے کہ میں نفسیات کا ایک ہونہار طالب علم ہوں اور داؤ جی پرانے مُلّائی مکتب کے پروردہ تھے۔ سب سے بری عادت ان کی اٹھتے بیٹھتے سوال پوچھتے رہنے کی تھی اور دوسری کھیل کود سے منع کرنے کی۔ وہ تو بس یہ چاہتے تھے کہ آدمی پڑھتا رہے پڑھتا رہے اور جب اس مدقوق کی موت کا دن قریب آئے تو کتابوں کے ڈھیر پر جان دے دے۔ صحتِ جسمانی قائم رکھنے کے لئے ان کے پاس بس ایک ہی نسخہ تھا، لمبی سیر اور وہ بھی صبح کی۔ تقریباً سورج نکلنے سے دو گھنٹے پیشتر وہ مجھے بیٹھک میں جگانے آتے اور کندھا ہلا کر کہتے “اٹھو گولو موٹا ہو گیا بیٹا” دنیا جہاں کے والدین صبح جگانے کے لئے کہا کرتے ہیں کہ اٹھو بیٹا صبح ہو گئی یا سورج نکل آیا مگر وہ “موٹا ہو گیا” کہہ کر میری تذلیل کیا کرتے، میں منمناتا تو چمکار کر کہتے “بھدا ہو جائے گا بیٹا تو، گھوڑے پر ضلع کا دورہ کیسا کرے گا!” اور میں گرم گرم بستر سے ہاتھ جوڑ کر کہتا

“داؤ جی خدا کے لئے مجھے صبح نہ جگاؤ، چاہے مجھے قتل کر دو، جان سے مار ڈالو۔”

یہ فقرہ ان کی سب سے بڑی کمزوری تھی وہ فوراً میرے سر پر لحاف ڈال دیتے اور باہر نکل جاتے۔ بے بے کو ان داؤ جی سے اللہ واسطے کا بیر تھا اور داؤ جی ان سے بہت ڈرتے تھے، وہ سارا دن محلے والیوں کے کپڑے سیا کرتیں اور داؤ جی کو کوسنے دئے جاتیں۔ ان کی اس زبان درازی پر مجھے بڑا غصہ آتا تھا مگر دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر نہ ہو سکتا تھا۔ کبھی کبھار جب وہ ناگفتنی گالیوں پر اتر آتیں تو داؤ جی میری بیٹھک میں آ جاتے اور کانوں پر ہاتھ رکھ کر کرسی پر بیٹھ جاتے۔ تھوڑی دیر بعد کہتے “غیبت کرنا بڑا گناہ ہے لیکن میرا خدا مجھے معاف کرے تیری بے بے بھٹیارن ہے اور اس کی سرائے میں، میں، میری قرة العین اور تھوڑا تھوڑا، تو بھی، ہم تینوں بڑے عاجز مسافر ہیں۔ ” اور واقعی بے بے بھٹیارن سی تھی۔ ان کا رنگ سخت کالا تھا اور دانت بے حد سفید، ماتھا محراب دار اور آنکھیں چنیاں سی۔ چلتی تو ایسی گربہ پائی کے ساتھ جیسے (خدا مجھے معاف کرے) کٹنی کنسوئیاں لیتی پھرتی ہے۔ بچاری بی بی کو ایسی ایسی بری باتیں کہتی کہ وہ دو دو دن رو رو کر ہلکان ہوا کرتی۔ ایک امی چند کے ساتھ اس کی بنتی تھی شاید اس وجہ سے کہ ہم دونوں ہم شکل تھے یا شاید اس وجہ سے کہ اس کو بی بی کی طرح اپنے داؤ جی سے پیار نہ تھا۔ یوں تو بی بی بے چاری بہت اچھی لگتی تھی مگر اس سے میری بھی نہ بنتی۔ میں کوٹھے پر بیٹھا سوال نکال رہا ہوں، داؤ جی نیچے بیٹھے ہیں اور بی بی اوپر برساتی سے ایندھن لینے آئی تو ذرا رک کر مجھے دیکھا پھر منڈیر سے جھانک کر بولی، داؤ جی! پڑھ تو نہیں رہا، تنکوں کی طرح چارپائیاں بنا رہا ہے۔”

میں غصیل بچے کی طرح منہ چڑا کر کہتا “تجھے کیا، نہیں پڑھتا، تو کیوں بڑ بڑ کرتی ہےآئی بڑی تھانیدارنی۔”

اور داؤ جی نیچے سے ہانک لگا کر کہتے “نہ گولو مولو بہنوں سے جھگڑا نہیں کرتے۔”

اور میں زور سے چلاتا “پڑھ رہا ہوں جی، جھوٹ بولتی ہے۔”

داؤ جی آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آ جاتے اور کاپیوں کے نیچے نیم پوشیدہ چارپائیاں دیکھ کر کہتے “قرة بیٹا تو اس کو چڑایا نہ کر۔ یہ جن بڑی مشکل سے قابو کیا ہے۔ اگر ایک بار بگڑ گیا تو مشکل سے سنبھلے گا۔”

بی بی کہتی “کاپی اٹھا کر دیکھ لو داؤ جی اس کے نیچے ہے وہ چارپائی جس سے کھیل رہا تھا۔”

میں قہر آلود نگاہوں سے بی بی کو دیکھتا اور وہ لکڑیاں اٹھا کر نیچے اتر جاتی۔ پھر داؤ جی سمجھاتے کہ بی بی یہ کچھ تیرے فائدے کے لئے کہتی ہے ورنہ اسے کیا پڑی ہے کہ مجھے بتاتی پھرے۔ فیل ہویا پاس اس کی بلا سے! مگر وہ تیری بھلائی چاہتی ہے، تیری بہتری چاہتی ہے اور داؤ جی کی یہ بات ہر گز سمجھ میں نہ آتی تھی۔ میری شکایتیں کرنے والی میری بھلائی کیونکر چاہ سکتی تھی!۔

ان دنوں معمول یہ تھا کہ صبح دس بجے سے پہلے داؤ جی کے ہاں سے چل دیتا۔ گھر جا کر ناشتہ کرتا اور پھر سکول پہنچ جاتا۔ آدھی چھٹی پر میرا کھانا سکول بھیج دیا جاتا اور شام کو سکول بند ہونے پر گھر آ کے لالٹین تیل سے بھرتا اور داؤ جی کے یہاں آ جاتا۔ پھر رات کا کھانا بھی مجھے داؤ جی کے گھر ہی بھجوا دیا جاتا۔ جن ایام میں منصفی بند ہوتی، داؤ جی سکول کی گراؤنڈ میں آ کر بیٹھ جاتے اور میرا انتظار کرنے لگتے۔ وہاں سے گھر تک سوالات کی بوچھاڑ رہتی۔ سکول میں جو کچھ پڑھایا گیا ہوتا اس کی تفصیل پوچھتے، پھر مجھے گھر تک چھوڑ کر خود سیر کو چلے جاتے۔ ہمارے قصبہ میں منصفی کا کام مہینے میں دس دن ہوتا تھا اور بیس دن منصف صاحب بہادر کی کچہری ضلع میں رہتی تھی۔ یہ دس دن داؤ جی باقاعدہ کچہری میں گزارتے تھے۔ ایک آدھ عرضی آ جاتی تو دو چار روپے کما لیتے ورنہ فارغ اوقات میں وہاں بھی مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھتے۔ بے بے کا کام اچھا تھا۔ اس کی کتر بیونت اور محلے والوں سے جوڑ توڑ اچھے مالی نتائج پیدا کرتی تھی۔ چونکہ پچھلے چند سالوں سے گھر کا بیشتر خرچ اس کی سلائی سے چلتا تھا، اس لئے وہ داؤ جی پر اور بھی حاوی ہو گئی تھی۔ ایک دن خلاف معمول داؤ جی کو لینے میں منصفی چلا گیا۔ اس وقت کچہری بند ہو گئی تھی اور داؤ جی نانبائی کے چھپر تلے ایک بینچ پر بیٹھے گڑ کی چائے پی رہے تھے۔ میں نے ہولے سے جا کر ان کا بستہ اٹھا لیا اور ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا “چلئے، آج میں آپ کو لینے آیا ہوں” انہوں نے میری طرف دیکھے بغیر چائے کے بڑے بڑے گھونٹ بھرے، ایک آنہ جیب سے نکال کر نانبائی کے حوالے کیا اور چپ چاپ میرے ساتھ چل دئے۔

میں نے شرارت سے ناچ کر کہا “گھر چلئے، بے بے کو بتاؤں گا کہ آپ چوری چوری یہاں چائے پیتے ہیں۔”

داؤ جی جیسے شرمندگی ٹالنے کو مسکرائے اور بولے “اس کی چائے بہت اچھی ہوتی ہے اور گڑ کی چائے سے تھکن بھی دور ہو جاتی ہے پھر یہ ایک آنہ میں گلاس بھر کے دیتا ہے۔ تم اپنی بے بے سے نہ کہنا، خواہ مخواہ ہنگامہ کھڑا کر دے گی۔ پھر انہوں نے خوفزدہ ہو کر کچھ مایوس ہو کر کہا “اس کی تو فطرت ہی ایسی ہے۔” اس دن مجھے داؤ جی پر رحم آیا۔ میرا جی ان کے لئے بہت کچھ کرنے کو چاہنے لگا مگر اس میں میں نے بے بے سے نہ کہنے کا ہی وعدہ کر کے ان کے کے لئے بہت کچھ کیا۔ جب اس واقعہ کا ذکر میں نے اماں سے کیا تو وہ بھی کبھی میرے ہاتھ اور کبھی نوکر کی معرفت داؤ جی کے ہاں دودھ، پھل اور چینی وغیرہ بھیجنے لگیں مگر اس رسد سے داؤ جی کو کبھی بھی کچھ نصیب نہ ہوا۔ ہاں بے بے کی نگاہوں میں میری قدر بڑھ گئی اور اس نے کسی حد تک مجھ سے رعایتی برتاؤ شروع کر دیا۔”

مجھے یاد ہے، ایک صبح میں دودھ سے بھرا تاملوٹ ان کے یہاں لے کر آیا تھا اور بے بے گھر نہ تھی۔ وہ اپنی سکھیوں کے ساتھ بابا ساون کے جوہڑ میں اشنان کرنے گئی تھی اور گھر میں صرف داؤ جی اور بی بی تھے۔ دودھ دیکھ کر داؤ جی نے کہا “چلو آج تینو ں چائے پئیں گے۔ میں دکان سے گڑ لے کر آتا ہوں، تم پانی چولہے پر رکھو۔” بی بی نے جلدی سے چولہا سلگایا۔ میں پتیلی میں پانی ڈال کر لایا اور پھر ہم دونوں وہیں چوکے پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ داؤ جی گڑ لے کر آ گئے تو انہوں نے کہا “تم دونوں اپنے اپنے کام پر بیٹھو چائے میں بناتا ہوں۔”چنانچہ بی بی مشین چلانے لگی اور میں ڈائریکٹ اِن ڈائریکٹ کی مشقیں لکھنے لگا۔ داؤ جی چولہا بھی جھونکتے جاتے تھے اور عادت کے مطابق مجھے بھی اونچے اونچے بتاتے جاتے تھے۔

گلیلیو نے کہا “زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔” گلیلیو نے دریافت کیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ یہ نہ لکھ دینا کہ سورج کے گرد گھومتی ہے۔ پانی ابل رہا تھا داؤ جی خوش ہو رہے تھے۔ اسی خوشی میں جھوم جھوم کر وہ اپنا تازہ بنایا ہوا گیت گا رہے تھے۔ او گولو! او گولو! گلیلیو کی بات مت بھولنا، گلیلیو کی بات مت بھولنا۔ انہوں نے چائے کی پتی کھولتے ہوئے پانی میں ڈال دی۔ برتن ابھی تک چولہے پر ہی تھا اور داؤ جی ایک چھوٹے سے بچے کی طرح پانی کی گلب گل بل کے ساتھ گولو گلیلیو! گولو گلیلیو کئے جا رہے تھے، میں ہنس رہا تھا اور اپنا کام کئے جا رہا تھا، بی بی مسکرا رہی تھی اور مشین چلائے جاتی تھی اور ہم تینوں اپنے چھوٹے سے گھر میں بڑے ہی خوش تھے گویا سارے محلے بلکہ سارے قصبہ کی خوشیاں بڑے بڑے رنگین پروں والی پریوں کی طرح ہمارے گھر میں اتر آئی ہوں۔۔

اتنے میں دروازہ کھلا اور بے بے اندر داخل ہوئی۔ داؤ جی نے دروازہ کھلنے کی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا اور ان کا رنگ فق ہو گیا۔ چمکتی ہوئی پتیلی سے گرم گرم بھاپ اٹھ رہی تھی۔ اس کے اندر چائے کے چھوٹے چھوٹے چھلاوے ایک دوسرے کے پیچھے شور مچاتے پھرتے تھے اور ممنوعہ کھیل رچانے والا بڈھا موقع پر پگڑا گیا۔ بے بے نے آگے بڑھ کر چولہے کی طرف دیکھا اور داؤ جی نے چوکے سے اٹھتے ہوئے معذرت بھرے لہجے میں کہا “چائے ہے!”

بے بے نے ایک دو ہتڑ داؤ جی کی کمر پر مارا اور کہا “بڈھے بروہا تجھے لاج نہیں آتی۔ تجھ پر بہار پھرے، تجھے یم سمیٹے، یہ تیرے چائے پینے کے دن ہیں۔ میں بیوہ گھر میں نہ تھی تو تجھے کسی کا ڈر نہ رہا۔ تیرے بھانویں میں کل کی مرتی آج مروں تیرا من راضی ہو۔ تیری آسیں پوری ہوں۔ کس مرن جوگی نے جنا اور کس لیکھ کی ریکھا نے میرے پلے باندھ دیاتجھے موت نہیں آتیاوں ہوں تجھے کیوں آئے گی” اس فقرے کی گردان کرتے ہوئے بے بے بھیڑنی کی طرح چوکے پر چڑھی کپڑے سے پتیلی پکڑ کر چولہے سے اٹھائی اور زمین پر دے ماری۔ گرم گرم چائے کے چھپاکے داؤ جی کی پنڈلیوں اور پاؤں پر گرے اور وہ “اوہ تیرا بھلا ہو جائے! او تیرا بھلا ہو جائے” کہتے وہاں سے ایک بچے کی طرح بھاگے اور بیٹھک میں گھس گئے۔ ان کے اس فرار بلکہ اندازِ فرار کو دیکھ کر میں اور بی بی ہنسے بنا نہ رہ سکے اور ہماری ہنسی کی آواز ایک ثانیہ کے لئے چاروں دیواروں سے ٹکرائی۔ میں تو خیر بچ گیا لیکن بے بے نے سیدھے جا کر بی بی کو بالوں سے پکڑ لیا اور چیخ کر بولی “میری سوت بڈھے سے تیرا کیا ناطہ ہے، بتا نہیں تو اپنی پران لیتی ہوں۔ تو نے اس کو چائے کی کنجی کیوں دی؟” بی بی بیچاری پھس پھس رونے لگی تو میں بھی اندر بیٹھک میں کھسک آیا۔ داؤ جی اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھے تھے اور اپنے پاؤں سہلا رہے تھے۔ پتہ نہیں انہیں اس حالت میں دیکھ کر مجھے پھر کیوں گدگدی ہوئی کہ میں الماری کے اندر منہ کر کے ہنسنے لگا، انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے پاس بلایا اور بولے “شکرِ کردگار کنم کہ گرفتارم بہ مصیبتے نہ کہ معصیتے۔

تھوڑی دیر رک کر پھر کہا “میں اس کے کتوں کا بھی کتا ہوں جس کے سرِ مُطہّر پر مکے کی ایک کم نصیب بڑھیا غلاظت پھینکا کرتی تھی۔”

میں نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا تو وہ بولے “آقائے نامدار کا ایک ادنیٰ حلقہ بگوش، گرم پانی کے چند چھینٹے پڑنے پر نالہ شیون کرے تو لعنت ہے اس کی زندگی پر۔ وہ اپنے محبوب کے طفیل نارِ جہنم سے بچائے۔ خدائے ابراہیمؑ مجھے جرأت عطا کرے، مولائے ایوبؑ مجھے صبر کی نعمت دے۔”

میں نے کہا “داؤ جی آقائے نامدار کون؟”

تو داؤ جی کو یہ سن کر ذرا تکلیف ہوئی۔ انہوں نے شفقت سے کہا “جان پدر یوں نہ پوچھا کر۔ میرے استاد، میرے حضرت کی روح کو مجھ سے بیزار نہ کر، وہ میرے آقا بھی تھے، میرے باپ بھی اور میرے استاد بھی، وہ تیرے دادا استاد ہیںدادا استاد” اور انہوں نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ لئے۔ آقائے نامدار کا لفظ اور کوتاہ و قسمتِ مجوزہ کی ترکیب میں نے پہلی بار داؤ جی سے سنی۔ یہ واقعہ سنانے میں انہوں نے کنتی ہی دیر لگا دی کیونکہ ایک ایک فقرے کے بعد فارسی کے بیشمار نعتیہ اشعار پڑھتے تھے اور بار بار اپنے استاد کی روح کو ثواب پہنچاتے تھے۔”

جب وہ یہ واقعہ بیان کر چکے تو میں نے بڑے ادب سے پوچھا “داؤ جی آپ کو اپنے استاد صاحب اس قدر اچھے کیوں لگتے تھے اور آپ ان کا نام لے کر ہاتھ کیوں جوڑتے ہیں اپنے آپ کو ان کا نوکر کیوں کہتے ہیں؟”

داؤ جی نے مسکرا کر کہا “جو طویلے کے ایک خر کو ایسا بنا دے کہ لوگ کہیں یہ منشی چنت رام جی ہیں۔ وہ مسیحا نہ ہو، آقا نہ ہو تو پھر کیا ہو؟”

میں چارپائی کے کونے سے آہستہ آہستہ پھسل کر بستر میں پہنچ گیا اور چاروں طرف رضائی لپیٹ کر داؤ جی کی طرف دیکھنے لگا جو سر جھکا کر کبھی اپنے پاؤں کی طرف دیکھتے تھے اور کبھی پنڈلیاں سہلاتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے وقفوں کے بعد ذرا سا ہنستے اور پھر خاموش ہو جاتے۔

کہنے لگے “میں تمہارا کیا تھا اور کیا ہو گیاحضرت مولانا کی پہلی آواز کیا تھی! میری طرف سر مبارک اٹھا کر فرمایا، چوپال زادے ہمارے پاس آؤ، میں لاٹھی ٹیکتا ان کے پاس جا کھڑا ہوا۔ چھتہ پٹھار اور دیگر دیہات کے لڑکے نیم دائرہ بنائے ان کے سامنے بیٹھے سبق یاد کر رہے تھے۔ ایک دربار لگا تھا اور کسی کو آنکھ اوپر اٹھانے کی ہمت نہ تھیمیں حضور کے قریب گیا تو فرمایا، بھئی ہم تم کو روز یہاں بکریاں چراتے دیکھتے ہیں۔ انہیں چرنے چگنے کے لئے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جایا کرو اور کچھ پڑھ لیا کروپھر حضور نے میری عرض سنے بغیر پوچھا کہ کیا نام ہے تمہارا؟” میں نے گنواروں کی طرح کہا چنتومسکرائےتھوڑا سا ہنسے بھی فرمانے لگے پورا نام کیا ہے؟ پھر خود ہی بولے چنتو رام ہو گامیں نے سر ہلا دیاحضور کے شاگرد کتاب سے نظریں چرا کر میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میرے گلے میں کھدر کا لمبا سا کرتہ تھا۔ پائجامہ کی بجائے صرف لنگوٹ بندھا تھا۔ پاؤں میں ادھوڑی کے موٹے جوتے اور سر پر سرخ رنگ کا جانگیہ لپیٹا ہوا تھا۔ بکریاں میری”

میں نے بات کاٹ کر پوچھا “آپ بکریاں چراتے تھے داؤ جی؟”

“ہاں ہاں ” وہ فخر سے بولے “میں گڈریا تھا اور میرے باپ کی بارہ بکریاں تھیں۔”

حیرانی سے میرا منہ کھلا رہ گیا اور میں نے معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے جلدی سے پوچھا۔ “اور آپ سکول کے پاس بکریاں چرایا کرتے تھے۔”داؤ جی نے کرسی چارپائی کے قریب کھینچ لی اور اپنے پاؤں پائے پر رکھ کر بولے “جان پدر اس زمانے میں تو شہروں میں بھی سکول نہیں ہوتے تھے، میں گاؤں کی بات کر رہا ہوں۔ آج سے چوہتر برس پہلے کوئی تمہارے ایم بی ہائی سکول کا نام بھی جانتا تھا؟ وہ تو میرے آقا کو پڑھانے کا شوق تھا۔ ارد گرد کے لوگ اپنے لڑکے چار حرف پڑھنے کو ان کے پاس بھیج دیتےان کا سارا خاندان زیورِ تعلیم سے آراستہ اور دینی اور دنیوی نعمتوں سے مالا مال تھا۔ والد ان کے ضلع بھر کے ایک ہی حکیم اور چوٹی کے مبلغ تھے۔ جدِ امجد مہاراجہ کشمیر کے میر منشی۔ گھر میں علم کے دریا بہتے تھے، فارسی، عربی، جبر و مقابلہ، اقلیدس، حکمت اور علم ہیئت ان کے گھر کی لونڈیاں تھیں۔ حضور کے والد کو دیکھنا مجھے نصیب نہیں ہوا لیکن آپ کی زبانی ان کے تبحرِ علمی کی سب داستانیں سنیں، شیفتہ اور حکیم مومن خاں مومن سے ان کے بڑے مراسم تھے اور خود مولانا کی تعلیم دلی میں مفتی آزردہ مرحوم کی نگرانی میں ہوئی تھی”

مجھے داؤجی کے موضوع سے بھٹک جانے کا ڈر تھا اس لئے میں نے جلدی سے پوچھا۔ “پھر آپ نے حضرت مولانا کے پاس پڑھنا شروع کر دیا۔” “ہاں” داؤ جی اپنے آپ سے باتیں کرنے لگے، “ان کی باتیں ہی ایسی تھیں۔ ان کی نگاہیں ہی ایسی تھیں جس کی طرف توجہ فرماتے تھے، بندے سے مولا کر دیتے تھے۔ مٹی کے ذرے کو اکسیر کی خاصیت دے دیتے تھےمیں تو ا پنی لاٹھی زمین پر ڈال کر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ فرمایا، اپنے بھائیوں کے بوریے پر بیٹھو۔ میں نے کہا جی اٹھارہ برس دھرتی پر بیٹھے گزر گئے اب کیا فرق پڑتا ہے۔ پھر مسکرا دئے اپنے چوبی صندوقچے سے حروف ابجد کا ایک مقوا نکالا اور بولے الف۔ بے۔ بے۔ تےسبحان اللہ کیا آواز تھی۔ کس شفقت سے بو لے تھے، کس لہجہ میں فرما رہے تھے الف، بے، پے، ت ” اور جی داؤ جی ان حرفوں کا ورد کرتے ہوئے اپنے ماضی میں کھو گئے۔

تھوڑی دیر بعد انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھا کر کہا۔ “ادھر رہٹ تھا اور اس کے ساتھ مچھلیوں کا حوض۔” پھر انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ ہوا میں لہرا کر کہا “اور اس طرف مزارعین کے کوٹھے، دونوں کے درمیان حضور کا باغیچہ تھا اور سامنے ان کی عظیم الشان حویلی۔ اسی باغیچے میں ان کا مکتب تھا۔ درِ فیض کھلا تھا جس کا جی چاہے آئے، نہ مذہب کی قید نہ ملک کی پابندی”

میں نے کافی دیر سوچنے کے بعد با ادب با ملاحظہ قسم کا فقرہ تیار کر کے پوچھا “حضرت مولانا کا اسم گرامی شریف کیا تھا؟” تو پہلے انہوں نے میرا فقرہ ٹھیک کیا اور پھر بولے۔ “حضرت اسماعیل چشتی فرماتے تھے کہ ان کے والد ہمیشہ انہیں جانِ جاناں کہہ کر پکارتے تھے۔ کبھی جانِ جاناں کی رعایت سے مظہر جانِ جاناں بھی کہہ دیتے تھے۔

میں ایسی دلچسپ کہانی سننے کا ابھی اور خواہش مند تھا کہ داؤ جی اچانک رک گئے اور بولے۔ سب سڈی ایری سسٹم کیا تھا؟ ان انگریزوں کا برا ہو یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں آئے یا ملکہ وکٹوریہ کا فرمان لے، سارے معاملے میں کھنڈت ڈال دیتے ہیں۔ سوا کے پہاڑے کی طرح میں نے سب سڈی ایری سسٹم کا ڈھانچہ ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ پھر انہوں نے میز سے گرائمر کی کتاب اٹھائی اور بولے “باہر جا کر دیکھ کے آ کہ تیری بے بے کا غصہ کم ہوا یا نہیں۔” میں دوات میں پانی ڈالنے کے بہانے باہر گیا تو بے بے کو مشین چلاتے اور بی بی کو چکوا صاف کرتے پایا۔”

داؤ جی کی زندگی میں بے بے والا پہلو بڑا ہی کمزور تھا۔ جب وہ دیکھتے کہ گھر میں مطلع صاف ہے اور بے بے کے چہرے پر کوئی شکن نہیں ہے، تو وہ پکار کر کہتے “سب ایک ایک شعر سناؤ” پہلے مجھی سے تقاضا ہوتا اور میں چھوٹتے ہی کہتا:

لازم تھا کہ دیکھو میرا رستہ کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور

اس پر وہ تالی بجاتے اور کہتے “اولین شعر نہ سنوں گا، اردو کا کم سنوں گا اور مسلسل نظم کا ہر گز نہ سنوں گا۔”

بی بی بھی میر ی طرح اکثر اس شعر سے شروع کرتی۔

شنیدم کہ شاپور دم در کشید
چو خسرو بر آتش قلم در کشید

اس پر داؤ جی ایک مرتبہ پھر آرڈر آرڈر پکارتے

بی بی قینچی رکھ کر کہتی:

شورے شد و از خوابِ عدم چشم کشوریم
دیدیم کہ باقی ست شبِ فتنہ غنودیم

داؤ جی شاباش تو ضرور کہہ دیتے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے “بیٹا یہ شعر تُو کئی مرتبہ سنا چکی ہے۔”

پھر وہ بے بے کی طرف دیکھ کر کہتے۔ “بھئی آج تمہاری بے بے بھی ایک سنائے گی” مگر بے بے روکھا سا جواب دیتی “مجھے نہیں آتے شیر، کبت۔”

اس پر داؤ جی کہتے۔ “گھوڑیاں ہی سنا دے۔ اپنے بیٹوں کے بیاہ کی گھوڑیاں ہی گا دے۔

اس پر بے بے کے ہونٹ مسکرانے کو کرتے لیکن وہ مسکرا نہ سکتی اور داؤ جی عین عورتوں کی طرح گھوڑیاں گانے لگتے۔ ان کے درمیان کبھی امی چند اور کبھی میرا نام ٹانک دیتے۔ پھر کہتے “میں اپنے اس گولو مولو کی شادی پر سرخ پگڑی باندھوں گا۔ برات میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ساتھ چلوں گا اور نکاح نامے میں شہادت کے دستخط کروں گا۔ میں دستور کے مطابق شرما کر نگاہیں نیچی کر لیتا تو وہ کہتے۔ “پتہ نہیں اس ملک کے کسی شہر میں میری چھوٹی بہو پانچویں یا چھٹی جماعت میں پڑھ رہی ہو گی، ہفتہ میں ایک دن لڑکیوں کی خانہ داری ہوتی ہے۔ اس نے تو بہت سی چیزیں پکانی سیکھ لی ہو گی۔ پڑھنے میں بھی ہوشیار ہو گی۔ اس بدھو کو تو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ مادیاں گھوڑیاں ہوتی ہے یا مرغی۔ وہ تو فر فر سب کچھ سناتی ہو گی۔ میں تو اس کو فارسی پڑھاؤں گا پہلے اس کو خطاطی کی تعلیم دوں گا پھر خطِ شکستہ سکھاؤں گا۔ مستورات کو خطِ شکستہ نہیں آتا۔ میں اپنی بہو کو سکھا دوں گاسن گولو! پھر میں تیرے پاس ہی رہو گا۔ میں اور میری بہو فارسی میں باتیں کریں گے۔ وہ بات بات پر بفرمائید بفرمائید کہے گی اور تو احمقوں کی طرح منہ دیکھا کرے گا۔ پھر وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکتے “خیلے خوب خیلے خوب” کہتے۔ جانِ پدر چرا ایں قدر زحمت می کشیخوبیاد دارماور پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہتے۔ بچارے داؤ جی! چٹائی پر اپنی چھوٹی سی دنیا بسا کر اس میں فارسی کے فرمان جاری کئے جاتے

ایک دن جب چھت پر دھوپ پر بیٹھے ہوئے وہ ایسی ہی دنیا بسا چکے تھے تو ہولے سے مجھے کہنے لگے۔ “جس طرح خدا نے تجھے ایک نیک سیرت بیوی اور مجھے سعادت مند بہو عطا کی ہے ویسے ہی وہ اپنے فضل سے میرے امی چند کو بھی دے۔”

اس کے خیالات مجھے کچھ اچھے نہیں لگتے، یہ سوانگ یہ مسلم لیگ یہ بیلچہ پارٹیاں مجھے پسند نہیں اور امی چند لاٹھی چلانا گٹکا کھیلنا سیکھ رہا ہے میری تو وہ کب مانے گا، ہاں خدائے بزرگ و برتر اس کو ایک نیک مومن سی بیوی دلا دے تو وہ اسے راہِ راست پر لے آئے گی۔

اس مومن کے لفظ پر مجھے بہت تکلیف ہوئی اور میں چپ سا ہو گیا۔ چپ محض اس لئے ہوا تھا کہ اگر میں نے منہ کھولا تو یقیناً ایسی بات نکلے گی جس سے داؤ جی کو بڑا دکھ ہو گامیری اور امی چند کی تو خیر باتیں ہی تھیں، لیکن بارہ جنوری کو بی بی کی برات سچ مچ آ گئی۔ جیجا جی رام پرتاب کے بارے میں داؤ جی مجھے بہت کچھ بتا چکے تھے کہ وہ بہت اچھا لڑکا ہے اور اس شادی کے بارے میں انہوں نے جو استخارہ کیا تھا اس پر وہ پورا اترتا ہے۔ سب سے زیادہ خوشی داؤ جی کو اس بات کی تھی کہ ان کے سمدھی فارسی کے استاد تھے اور کبیر پنتھی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ بارہ تاریخ کی شام کو بی بی وداع ہونے لگی تو گھر بھرمیں کہرام مچ گیا، بے بے زار و قطار رو رہی ہے امی چند آنسو بہا رہا ہے اور محلے کی عورتیں پھس پھس کر رہی ہیں۔ میں دیوار کے ساتھ لگا کھڑا ہوں اور داؤ جی میرے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑے ہیں اور بار بار کہہ رہے ہیں آج زمین کچھ میرے پاؤ ں نہیں پکڑتی۔ میں توازن قائم نہیں رکھ سکتا۔ جیجا جی کے باپ بولے۔ “منشی جی اب ہمیں اجازت دیجئے” تو بی بی پچھاڑ کر گر پڑی۔ اسے چارپائی پر ڈالا، عورتیں ہوا کرنے لگیں اور داؤ جی میرا سہارا لے کر اس کی چارپائی کی طرف چلے۔ انہوں نے بی بی کو کندھے سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا “یہ کیا ہوا بیٹا۔ اٹھو! یہ تو تمہاری نئی اور خود مختار زندگی کی پہلی گھڑی ہے۔ اسے یوں منحوس نہ بناؤ۔ بی بی اس طرح دھاڑیں مارتے ہوئے داؤ جی سے لپٹ گئی، انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا “قرة العین میں تیرا گنہگار ہوں کہ تجھے پڑھا نہ سکا۔ تیرے سامنے شرمندہ ہوں کہ تجھے علم کا جہیز نہ دے سکا۔ تو مجھے معاف کر دے گی اور شاید برخوردار رام پرتاب بھی لیکن میں اپنے کو معاف نہ کر سکوں گا۔ میں خطا کار ہوں اور میرا خجل سر تیرے سامنے خم ہے۔” یہ سن کر بی بی اور بھی زور زور سے رونے لگی اور داؤ جی کی آنکھوں سے کتنے سارے موٹے موٹے آنسوؤں کے قطرے ٹوٹ کر زمین پر گرے۔ ان کے سمدھی نے آگے بڑھ کر کہا۔ “منشی جی آپ فکر نہ کریں میں بیٹی کو کریما پڑھا دوں گا” داؤ جی ادھر پلٹے اور ہاتھ جوڑ کر کہا۔ “کریما تو یہ پڑھ چکی ہے، گلستان بوستان بھی ختم کر چکا ہوں، لیکن میری حسرت پوری نہیں ہوئی۔” اس پر وہ ہنس کر بولے۔ “ساری گلستان تو میں نے بھی نہیں پڑھی، جہاں عربی آتی تھی، آگے گزر جاتا تھا’داؤ جی اسی طرح ہاتھ جوڑے کتنی دیر خاموش کھڑے رہے، بی بی نے گوٹہ لگی سرخ رنگ کی ریشمی چادر سے ہاتھ نکال کر پہلے امی چند اور پھر میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور سکھیوں کے بازوؤں میں ڈیوڑھی کی طرف چل دی۔ داؤ جی میرا سہارا لے کر چلے تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ زور سے بھینچ کر کہا۔ “یہ لو یہ بھی رو رہا ہے۔ دیکھو ہمارا سہارا بنا پھرتا ہے۔ او گولواو مردم دیدہتجھے کیا ہو گیاجانِ پدر تو کیوں”

اس پر ان کا گلا رندھ گیا اور میرے آنسو بھی تیز ہو گئے۔ برات والے تانگوں اور اکوں پر سوار تھے۔ بی بی رتھ میں جا رہی تھی اور اس کے پیچھے امی چند اور میں اور ہمارے درمیان میں دا ؤ جی پیدل چل رہے تھے۔ اگر بی بی کی چیخ ذرا زور سے نکل جاتی تو داؤ جی آگے بڑھ کر رتھ کا پردہ اٹھا تے او ر کہتے۔ “لا حول پڑھو بیٹا، لاحول پڑھو۔”اور خود آنکھوں پر رکھے رکھے ان کی پگڑی کا شملہ بھیگ گیا تھا۔

رانو ہمارے محلے کا کثیف سا انسان تھا، بدی اور کینہ پروری اس کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھر ی تھی۔ وہ باڑہ جس کا میں نے ذکر کیا ہے، اسی کا تھا۔ اس میں بیس تیس بکریاں اور گائیں تھیں جن کا دودھ صبح و شام رانو گلی کے بغلی میدان میں بیٹھ کر بیچا کرتا تھا۔ تقریباً سارے محلے والے اسی سے دودھ لیتے تھے اور اس کی شرارتوں کی وجہ سے دبتے بھی تھے۔ ہمارے گھر کے آگے سے گزرتے ہوئے وہ یونہی شوقیہ لاٹھی زمین پر بجا کر داؤ جی کو “پنڈتا جے رام جی کی “کہہ کر سلام کیا کرتا۔

داؤ جی نے اسے کئی مرتبہ سمجھایا بھی کہ وہ پنڈت نہیں ہیں معمولی آدمی ہیں کیونکہ پنڈت ان کے نزدیک بڑے پڑھے لکھے اور فاضل آدمی کو کہا جا سکتا تھا لیکن رانو نہیں مانتا تھا وہ اپنی مونچھ کو چبا کر کہتا۔ “ارے بھئی جس کے سر پر بودی (چٹیا) ہو وہی پنڈت ہوتا ہے” چوروں یاروں سے اس کی آشنائی تھی شام کو اس کے باڑے میں جوا بھی ہوتا اور گندی اور فحش بولیوں کا مشاعرہ۔ بی بی کے جانے کے ایک دن بعد جب میں اس سے دودھ لینے گیا تو اس نے شرارت سے آنکھ میچ کر کہا۔ “مورنی تو چلی گئی بابو اب تو اس گھر میں رہ کر کیا لے گا۔” میں چپ رہا تو اس نے جھاگ والے دودھ میں ڈبہ پھیرتے ہوئے کہا۔ “گھر میں گنگا بہتی تھی سچ بتا کہ غوطہ لگایا کہ نہیں۔” مجھے اس بات پر غصہ آگیا اور میں نے تاملوٹ گھما کر اس کے سر پر دے مارا۔ اس ضربِ شدید سے خون وغیرہ تو برآمد نہ ہوا لیکن وہ چکرا کر تخت پر گرپڑا اور میں بھاگ گیا۔ داؤ جی کو سارا واقعہ سنا کر میں دوڑا دوڑا اپنے گھر گیا اور ابا جی سے ساری حکایت بیان کی۔ ان کی بدولت رانو کی تھانہ میں طلبی ہوئی اور حوالدار صاحب نے ہلکی سی گو شمالی کے بعد اسے سخت تنبیہ کر کے چھوڑ دیا۔ اس دن کے بعد رانو دا ؤ جی پر آتے جاتے طرح طرح کے فقرے کسنے لگا۔ وہ سب سے زیادہ مذاق ان کی بودی کا اڑایا کرتا تھا اور واقعی داؤ جی کے فاضل سر پر وہ چپٹی سی بودی ذرا اچھی نہ لگتی تھی۔ مگر وہ کہتے تھے۔ “یہ میری مرحوم ماں کی نشانی ہے اور مجھے اپنی زندگی کی طرح عزیز ہے۔ وہ اپنی آغوش میں میرا سر رکھ کر اسے دہی سے دھوتی تھی اور کڑوا تیل لگا کر چمکاتی تھی۔ گو میں نے حضرت مولانا کے سامنے کبھی بھی پگڑی اتارنے کی جسارت نہیں کی، لیکن وہ جانتے تھے اور جب میں دیال سنگھ میموریل ہائی سکول سے ایک سال کی ملازمت کے بعد چھٹیوں میں گاؤں آیا تو حضور نے پوچھا “شہر جا کر چوٹی تو نہیں کٹوا دی؟” تو میں نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا تم سا سعادت مند بیٹا کم ماؤں کو نصیب ہوتا ہے اور ہم سا خوش قسمت استاد بھی خال خال ہو گا جسے تم ایسے شاگردوں کو پڑھانے کا فخر حاصل ہوا ہو، میں نے ان کے پاؤں چھو کر کہا حضور آپ مجھے شرمندہ کرتے ہیں۔ یہ سب آپ کے قدموں کی برکت ہے، ہنس کر فرمانے لگے چنت رام ہمارے پاؤں نہ چھوا کرو بھلا ایسے لمس کا کیا فائدہ جس کا ہمیں احساس نہ ہو۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے کہا اگر کوئی مجھے بتا دے تو سمندر پھاڑ کر بھی آپ کے لئے دوائی نکال لاؤں۔ میں اپنی زندگی کی حرارت حضور کی ٹانگوں کے لئے نذر کر دوں لیکن میرا بس نہیں چلتاخاموش ہو گئے اور نگاہیں اوپر اٹھا کر بولے خدا کو یہی منظور ہے تو ایسے ہی سہی۔ تم سلامت رہو کہ تمہارے کندھوں پر میں نے کوئی دس سال بعد سارا گاؤں دیکھ لیا ہے” داؤ جی گزرے ایام کی تہہ میں اترتے ہوئے کہہ رہے تھے۔

“میں صبح سویرے حویلی کی ڈیوڑھی میں جا کر آواز دیتا “خادم آ گیا” مستورات ایک طرف ہو جاتیں تو حضور صحن سے آواز دے کر مجھے بلاتے اور میں اپنی قسمت کو سراہتا ہاتھ جوڑے جوڑے ان کی طرف بڑھتا۔ پاؤں چھوتا اور پھر حکم کا انتظار کرنے لگتا، وہ دعا دیتے میرے والدین کی خیریت پوچھتے، گاؤں کا حال دریافت فرماتے اور پھر کہتے “لو بھئی چنت رام ان گناہوں کی گٹھڑی کو اٹھا لو” میں سبدِ گل کی طرح انہیں اٹھاتا اور کمر پر لاد کر حویلی سے باہر آ جاتا۔ کبھی فرماتے، ہمیں باغ کا چکر دو کبھی حکم ہوتا سیدھے رہٹ کے پاس لے چلو اور کبھی کبھار بڑی نرمی سے کہتے چنت رام تھک نہ جاؤ تو ہمیں مسجد تک لے چلو۔ میں نے کئی بار عرض کیا کہ حضور ہر روز مسجد لے جایا کروں گا مگر نہیں مانے یہی فرماتے رہے کہ کبھی جی چاہتا ہے تو تم سے کہہ دیتا ہوں۔ میں وضو کرنے والے چبوترے پر بٹھا کر ان کے ہلکے ہلکے جوتے اتارتا اور انہیں جھولی میں رکھ کر دیوار سے لگ کر بیٹھ جاتا۔ چبوترے سے حضور خود گھسٹ کر صف کی جانب جاتے تھے۔ میں نے صرف ایک مرتبہ انہیں اس طرح جاتے دیکھا تھا اس کے بعد جرأت نہ ہوئی۔ ان کے جوتے اتارنے کے بعد دامن میں منہ چھپا لیتا اور پھر اسی وقت سر اٹھاتا جب وہ میرا نام لے کر یاد فرماتے۔ واپسی پر میں قصبے کی لمبی لمبی گلیوں کا چکر کاٹ کر حویلی کو لوٹتا۔ تو فرماتے ہم جانتے ہیں چنت رام تم ہماری خوشنودی کے لئے قصبہ کی سیر کراتے ہو لیکن ہمیں بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ ایک تو تم پر لدا لدا پھرتا ہوں اور مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک ہما ہے دوسرے تمہارا وقت ضائع کرتا ہوں۔ اور حضور سے کون کہہ سکتا کہ آقا یہ وقت ہی میری زندگی کا نقطۂ عروج ہے اور یہ تکلیف ہی میری حیات کا مرکز ہے۔

اور حضور سے کون کہہ سکتا کہ آقا یہ وقت ہی ایک ہما ہے جس نے اپنا سایہ محض میرے لئے وقف کر دیا ہےجس دن میں نے سکندر نامہ زبانی یاد کر کے انہیں سنایا۔ اس قدر خوش ہوئے گویا ہفت اقلیم کی بادشاہی نصیب ہو گئی۔ دین و دنیا کی ہر دعا سے مجھے مالا مال کیا۔ دستِ شفقت میرے سر پر پھیرا اور جیب سے ایک روپیہ نکال کر انعام دیا۔ میں نے اسے حجرِ اسود جان کر بوسہ دیا۔ آنکھوں سے لگایا اور سکندر کا افسر سمجھ کر پگڑی میں رکھ لیا۔ دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر دعائیں دے رہے تھے اور فرما رہے تھے جو کام ہم سے نہ ہو سکا وہ تو نے کر دکھایا۔ تو نیک ہے خدا نے تجھے یہ سعادت نصیب کی۔ چنت رام تیرا مویشی چرانا پیشہ ہے تُو شاہ بطحا کا پیرو ہے اس لئے خدائے عز و جل تجھے برکت دیتا ہے وہ تجھے اور بھی برکت دے گا۔ تجھے اور کشائش میسر آئے گی”

داؤ جی یہ باتیں کرتے کرتے گھٹنوں پر سر رکھ کر خاموش ہو گئے۔

میرا امتحان قریب آ رہا تھا اور داؤ جی سخت ہوتے جا رہے تھے۔ انہوں نے میرے ہر فارغ وقت پر کوئی نہ کوئی کام پھیلا دیا تھا۔ ایک مضمون سے عہدہ برا ہوتا تو دوسرے کی کتابیں نکال کر سر پر سوار ہو جاتے تھے۔ پانی پینے اٹھتا تو سایہ کی طرح ساتھ ساتھ چلے آتے اور نہیں تو تاریخ کے سن ہی پوچھتے جاتے۔ شام کے وقت سکول پہنچنے کا انہوں نے وطیرہ بنا لیا تھا۔ ایک دن میں سکول کے بڑے دروازے سے نکلنے کی بجائے بورڈنگ کی راہ پر کھسک لیا تو انہوں نے جماعت کے کمرے کے سامنے آ کر بیٹھنا شروع کر دیا۔ میں چڑچڑا اور ضدی ہونے کے علاوہ بد زبان بھی ہو گیا تھا۔ داؤ جی کے بچے، گویا میرا تکیہ کلام بن گیا تھا اور کبھی کبھی جب ان کی یا ان کے سوالات کی سختی بڑھ جاتی تو میں انہیں کتے کہنے سے بھی نہ چوکتا۔ ناراض ہو جاتے تو بس اس قدر کہتے “دیکھ لے ڈومنی تو کیسی باتیں کر رہا ہے۔ تیری بیوی بیاہ کر لاؤں گا تو پہلے اسے یہی بتاؤں گا کہ جانِ پدر یہ تیرے باپ کو کتا کہتا تھا۔ ” میری گالیوں کے بدلے وہ مجھے ڈومنی کہا کرتے تھے۔ اگر انہیں زیادہ دکھ ہوتا تو منہ چڑی ڈومنی کہتے۔ اس سے زیادہ نہ انہیں غصہ آتا تھا نہ دکھ ہوتا تھا۔ میرے اصلی نام سے انہوں نے کبھی نہیں پکارا میرے بڑے بھائی کا ذکر آتا تو بیٹا آفتاب، برخوردار آفتاب کہہ کر انہیں یاد کرتے تھے لیکن میرے ہر روز نئے نئے نام رکھتے تھے۔ جن میں گولو انہیں بہت مرغوب تھا۔ طنبورا دوسرے درجہ پر مسٹر ہونق اور اخفش اسکوائر ان سب کے بعد آتے تھے اور ڈومنی صرف غصہ کی حالت میں۔ کبھی کبھی میں ان کو بہت دق کرتا۔ وہ اپنی چٹائی پر بیٹھے کچھ پڑھ رہے ہیں، مجھے الجبرے کا ایک سوال دے رکھا ہے اور میں سارے جہان کی ابجد کو ضرب دے دے کر تنگ آ چکا ہوں تو میں کاپیوں اور کتابوں کے ڈھیر کو پاؤں سے پرے دھکیل کر اونچے اونچے گانے لگتا۔

تیرے سامنے بیٹھ کے رونا تے دکھ تینوں نیو دسنا

دا ؤ جی حیرانی سے میری طرف دیکھتے تو میں تالیاں بجانے لگتا اور قوالی شروع کر دیتا۔ نیوں نیوں نیوں دسنا۔ تے دکھ تینوں نیوں دسنادسنا دسنا دسناتینوں تینوں تینوں۔ سارے گاما رونا رونا سارے گاما رونا روناتے دیکھ تینوں نیوں دسنا۔ وہ عینک کے اوپر سے مسکراتے۔ میرے پاس آ کر کاپی اٹھاتے، صفحہ نکالتے اور تالیوں کے درمیان اپنا بڑا سا ہاتھ کھڑا کر دیتے۔

“سن بیٹا” وہ بڑی محبت سے کہتے “یہ کوئی مشکل سوال ہے! ” جونہی وہ سوال سمجھانے کے لئے ہاتھ نیچے کرتے میں پھر تالیاں بجانے لگتا۔ “دیکھ پھر، میں تیرا داؤ نہیں ہو؟” وہ بڑے مان سے پوچھتے۔

“نہیں” میں منہ پھاڑ کر کہتا۔

“تو اور کون ہے ؟” وہ مایوس سے ہو جاتے۔

“وہ سچی سرکار” میں انگلی آسمان کی طرف کر کے شرارت سے کہتا۔ وہ سچی سرکار، وہ سب کا پالنے والابول بکرے سب کا والی کون؟”

وہ میرے پاس سے اٹھ کر جانے لگتے تو میں ان کی کمر میں ہاتھ ڈال دیتا “داؤ جی خفا ہو گئے کیا۔” وہ مسکرانے لگتے۔ “چھوڑ طنبورے! چھوڑ بیٹا! میں تو پانی پینے جا رہا تھامجھے پانی تو پی آنے دے۔

میں جھوٹ موٹ برامان کر کہتا۔ “لوجی جب مجھے سوال سمجھنا ہوا داؤ جی کو پانی یاد آگیا۔”

وہ آرام سے بیٹھ جاتے اور کاپی کھول کر کہتے۔ “اخفش اسکوائر جب تجھے چار ایکس کا مربع نظر آ رہا تھا تو تو نے تیسرا فارمولا کیوں نہ لگایا اور اگر ایسا نہ بھی کرتا تو”اور اس کے بعد پتہ نہیں داؤ جی کتنے دن پانی نہ پیتے۔

فروری کے دوسرے ہفتہ کی بات ہے۔ امتحان میں کل ڈیڑھ مہینہ رہ گیا تھا اور مجھ پر آنے والے خطرناک وقت کا خوف بھوت بن کر سوار ہو گیا تھا۔ میں نے خود اپنی پڑھائی پہلے سے تیز کر دی تھی اور کافی سنجیدہ ہو گیا تھا لیکن جیومیٹری کے مسائل میری سمجھ میں نہ آتے تھے۔ داؤ جی نے بہت کوشش کی لیکن بات نہ بنی۔ آخر ایک دن انہوں نے کہا کُل باون پراپوزیشنیں ہیں زبانی یاد کر لے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ چنانچہ میں انہیں رٹنے میں مصروف ہو گیا لیکن جو پراپوزیشن رات کو یاد کرتا صبح کو بھول جاتا۔ میں دل برداشتہ ہو کر ہمت چھوڑ سی بیٹھا۔ ایک رات داؤ جی مجھ سے جیومیٹری کی شکلیں بنوا کر اور مشقیں سن کر اٹھے تو وہ بھی کچھ پریشان سے ہو گئے تھے۔ میں بار بار اٹکا تھا اور انہیں بہت کوفت ہوئی تھی۔ مجھے سونے کی تاکید کر کے وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تو میں کاپی پینسل لے کر پھر بیٹھ گیا اور رات کے ڈیڑھ بجے تک لکھ لکھ کر رٹا لگاتا رہا مگر جب کتاب بند کر کے لکھنے لگتا تو چند فقروں کے بعد اٹک جاتا۔ مجھے داؤ جی کا مایوس چہرہ یاد کر کے اور اپنی حالت کا اندازہ کر کے رونا آگیا اور میں باہر صحن میں آ کر سیڑھیوں پر بیٹھ کے سچ مچ رونے لگا، گھٹنوں پر سر رکھے رو رہا تھا اور سردی کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ اسی طرح بیٹھے بیٹھے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا تو میں نے داؤ جی کی عزت بچانے کے لئے یہی ترکیب سوچی کہ ڈیوڑھی کا دروازہ کھول کر چپکے سے نکال جاؤں اور پھر واپس نہ آؤں۔ جب یہ فیصلہ کر چکا اور عملی قدم آگے بڑھانے کے لئے سر اوپر اٹھایا تو داؤ جی کمبل اوڑھے میرے پاس کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے بڑے پیار سے اپنے ساتھ لگایا تو سسکیوں کا لامتناہی سلسلہ صحن میں پھیل گیا۔ داؤ جی نے میرا سر چوم کر کہا۔ “لے بھئی طنبورے میں تو یوں نہ سمجھتا تھا تو تو بہت ہی کم ہمت نکلا۔” پھر انہوں نے مجھے اپنے ساتھ کمبل میں لپیٹ لیا اور بیٹھک میں لے آئے۔ بستر میں بٹھا کر انہوں نے میرے چاروں طرف رضائی لپیٹی اور خود پاؤں اوپر کر کے کرسی پر بیٹھ گئے۔

انہوں نے کہا “اقلیدس چیز ہی ایسی ہے۔ تو اس کے ہاتھوں یوں نالا ں ہے، میں اس سے اور طرح تنگ ہوا تھا۔ حضرت مولانا کے پاس جبر و مقابلہ اور اقلیدس کی جس قدر کتابیں تھیں انہیں میں اچھی طرح پڑھ کر اپنی کاپیوں پر اتار چکا تھا۔ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس سے الجھن ہوتی۔ میں نے یہ جانا کہ ریاضی کا ماہر ہو گیا ہوں لیکن ایک رات میں اپنی کھاٹ پر پڑا متساوی الساقلین کے ایک مسئلہ پر غور کر رہا تھا کہ بات الجھ گئی۔ میں نے دیا جلا کر شکل بنائی اور اس پر غور کرنے لگا۔ جبر و مقابلہ کی رو سے اس کا جواب ٹھیک آتا تھا لیکن علمِ ہندسہ سے پایۂ ثبوت کو نہ پہنچتا تھا۔ میں ساری رات کاغذ سیاہ کرتا رہا لیکن تیری طرح سے رویا نہیں۔ علی الصبح میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے اپنے دستِ مبارک سے کاغذ پر شکل کھینچ کر سمجھانا شروع کیا لیکن جہاں مجھے الجھن ہوئی تھی وہیں حضرت مولانا کی طبعِ رسا کو بھی کوفت ہوئی۔ فرمانے لگے۔ “چنت رام اب ہم تم کو نہیں پڑھا سکتے۔ جب استاد اور شاگرد کا علم ایک سا ہو جائے تو شاگرد کو کسی اور معلم کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ ” میں نے جرأت کر کے کہہ دیا کہ حضور اگر کوئی اور یہ جملہ کہتا تو میں اسے کفر کے مترادف سمجھتا لیکن آپ کا ہر حرف اور ہر شوشہ میرے لئے حکمِ ربانی سے کم نہیں۔ اس لئے خاموش ہو ں۔ بھلا آقائے غزنوی کے سامنے ایاز کی مجال! لیکن حضور مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ فرمانے لگے “تم بے حد جذباتی آدمی ہو۔ بات تو سن لی ہوتی، میں نے سر جھکا کر کہا ارشاد! فرمایا “دلی میں حکیم ناصر علی سیستانی علمِ ہندسہ کے بڑے ماہر ہیں اگر تم کو اس کا ایسا ہی شوق ہے تو ان کے پاس چلے جاؤ اور اکتسابِ علم کرو۔ ہم ان کے نام رقعہ لکھ دیں گے۔ میں نے رضا مندی ظاہر کی تو فرمایا اپنی والدہ سے پوچھ لینا اگر وہ رضامند ہوں تو ہمارے پاس آناوالدہ مرحومہ سے پوچھا اور ان سے اپنی مرضی کے مطابق جواب پانا انہونی بات تھی۔ چنانچہ میں نے ان سے نہیں پوچھا۔

حضور پوچھتے تو میں دروغ بیانی سے کام لیتا کہ گھر کی لپائی تپائی کر رہا ہوں جب فارغ ہوں گا تو والدہ سے عرض کروں گا۔”

چند ایام بڑے اضطرار کی حالت میں گزرے۔ میں دن رات اس شکل کو حل کرنے کی کوشش کرتا مگر صحیح جواب برآمد نہ ہوتا۔ اس لا ینحل مسئلہ سے طبیعت میں اور انتشار پیدا ہوا۔ میں دلی جانا چاہتا تھا لیکن حضور سے اجازت مل سکتی تھی نہ رقعہ، وہ والدہ کی رضامندی کے بغیر اجازت دینے والے نہ تھے اور والدہ اس بڑھاپا میں کیسے آمادہ ہو سکتی تھیںایک رات جب سارا گاؤں سو رہا تھا اور میں تیری طرح پریشان تھا تو میں نے اپنی والدہ کی پٹاری سے اس کی کل پونجی دو روپے چرائے اور نصف اس کے لئے چھوڑ کر گاؤں سے نکل گیا۔ خدا مجھے معاف کرے اور میرے دونوں بزرگوں کی روحوں کو مجھ پر مہربان رکھے! واقعی میں نے بڑا گناہ کیا اور ابد تک میرا سر ان دونوں کرم فرماؤں کے سامنے ندامت سے جھکا رہے گاگاؤں سے نکل کر میں حضور کی حویلی کے پیچھے ان کی مسند کے پاس پہنچا جہاں بیٹھ کر آپ پڑھاتے تھے۔ گھٹنوں کے بل ہو کر میں نے زمین کو بوسہ دیا اور دل میں کہا۔ “بد قسمت ہوں، بے اجازت جا رہا ہوں لیکن آپ کی دعاؤں کا عمر بھر محتاج رہوں گا۔ میرا قصور معاف نہ کیا تو آ کے قدموں میں جان دے دوں گا۔ اتنا کہہ کر اٹھا اور لاٹھی کندھے پر رکھ کر میں وہاں سے چل دیاسن رہا ہے؟” داؤ جی نے میری طرف غور سے دیکھ کر پوچھا۔

رضائی کے بیچ خارپشت بنے، میں نے آنکھیں جھپکائیں اور ہولے سے کہا۔ “جی؟”

داؤ جی نے پھر کہنا شروع کیا “قدرت نے میری کمال مدد کی۔ ان دنوں جاکھل جنید سرسہ حصار والی پٹڑی بن رہی تھی۔ یہی راستہ سیدھا دلی کو جاتا تھا اور یہیں مزدوری ملتی تھی۔ ایک دن میں مزدوری کرتا اور ایک دن چلتا، اس طرح تائیدِ غیبی کے سہارے سولہ دن میں دلی پہنچ گیا۔ منزل مقصود تو ہاتھ آ گئی تھی لیکن گوہرِ مقصود کا سراغ نہ ملتا تھا۔ جس کسی سے پوچھتا حکیم ناصر علی سیستانی کا دولت خانہ کہاں ہے، نفی میں جواب ملتا۔ دو دن ان کی تلاش جاری رہی لیکن پتہ نہ پا سکا۔ قسمت یاور تھی صحت اچھی تھی۔ انگریزوں کے لئے نئی کوٹھیاں بن رہی تھیں۔ وہاں کام پر جانے لگا۔ شام کو فارغ ہو کر حکیم صاحب کا پتہ معلوم کرتا اور رات کے وقت ایک دھرم شالہ میں کھیس پھینک کر گہری نیند سو جاتا۔ مثل مشہور ہے جوئندہ یابندہ! آخر ایک دن مجھے حکیم صاحب کی جائے رہائش معلوم ہو گئی، وہ پتھر پھوڑوں کے محلہ کی ایک تیرہ و تاریک گلی میں رہتے تھے شام کے وقت میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں فروکش تھے اور چند دوستوں سے اونچے اونچے گفتگو ہو رہی تھی۔ میں جوتے اتار کر دہلیز کے اندر کھڑا ہو گیا۔ ایک صاحب نے پوچھا۔”کون ہے؟” میں نے سلام کر کے کہا۔ “حکیم صاحب سے ملنا ہے۔” حکیم صاحب دوستوں کے حلقہ میں سر جھکائے بیٹھے تھے اور ان کی پشت میری طرف تھی۔ اسی طرح بیٹھے بولے “اسم گرامی” میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ “پنجاب سے آیا ہوں اور ” میں بات پوری بھی نہ کرپا یا تھا کہ زور سے بولے “اوہو! چنت رام ہو؟” میں کچھ جواب نہ دے سکا۔ فرمانے لگے۔ “مجھے اسماعیل کا خط ملا ہے لکھتا ہے شاید چنت رام تمہارے پاس آئے۔ ہمیں بتائے بغیر گھر سے فرار ہو گیا ہے اس کی مدد کرنا۔ ” میں اسی طرح خاموش کھڑا رہا تو پاٹ دار آواز میں بولے “میاں اندر آ جاؤ کیا چپ کا روزہ رکھا ہے؟” میں ذرا آگے بڑھا تو بھی میری طرف نہ دیکھا اور ویسے ہی عروسِ نو کی طرح بیٹھے رہے۔ پھر قدرے تحکمانہ انداز میں کہا۔ “برخوردار بیٹھ جاؤ۔ میں وہیں بیٹھ گیا تو اپنے دوستوں سے فرمایا، بھئی ذرا ٹھہرو مجھے اس سے دو دو ہاتھ کر لینے دو۔ پھر حکم ہوا بتاؤ ہندسہ کا کونسا مسئلہ تمہاری سمجھ میں نہیں آتا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا تو انہوں نے اسی طرح کندھوں کی طرف اپنے ہاتھ بڑھائے اور آہستہ آہستہ کُرتا یوں اوپر کھینچ لیا کہ ان کی کمر برہنہ ہو گئی۔ پھر فرمایا۔ “بناؤ اپنی انگلی سے میری کمر پر ایک متساوی الساقین۔” مجھ پر سکتہ کا عالم طاری تھا۔ نہ آگے بڑھنے کی ہمت تھی نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت۔ ایک لمحہ کے بعد بولے، میاں جلدی کرو۔ نابینا ہوں۔ کاغذ قلم کچھ نہیں سمجھتا۔ میں ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا اور ان کی چوڑی چکلی کمر پر ہانپتی ہوئی انگلیوں سے متساوی الساقین بنانے لگا۔ جب وہ غیر مرئی شکل بن چکی تو بولے اب اس نقطہ”س” سے خط “ب ج” پر عمود گراؤ۔ ایک تو میں گھبرایا ہوا تھا دوسرے وہاں کچھ نہ آتا تھا۔ یونہی اٹکل سے میں نے ایک مقام پر انگلی رکھ کر عمود گرانا چاہا تو تیزی سے بولے ہے ہے کیا کرتے ہو یہ نقطہ ہے کیا؟

پھر خود ہی بولے آہستہ آہستہ عادی ہو جاؤ گے۔ وہ بول رہے تھے اور میں مبہوت بیٹھا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ ابھی ان کے آخری جملے کے ساتھ نور کی لکیر متساوی الساقین بن کر ان کی کمر پر ابھر آئیں گی۔” پھر داؤ جی دلی کے دنوں میں ڈوب گئے۔ ان کی آنکھیں کھلی تھیں وہ میری طرف دیکھ رہے تھے لیکن مجھے نہیں دیکھ رہے تھے۔ میں نے بے چین ہو کر پوچھا۔ “پھر کیا ہوا داؤ جی؟”انہوں نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا “رات بہت گزر چکی ہے اب تو سو جا پھر بتاؤں گا۔” میں ضدی بچے کی طرح ان کے پیچھے پڑ گیا تو انہوں نے کہا۔ “پہلے وعدہ کر کہ آئندہ مایوس نہیں ہو گا اور ان چھوٹی چھوٹی پراپوزیشنوں کو پتاشے سمجھے گا” میں نے جواب دیا۔ “حلوہ سمجھوں گا آپ فکر نہ کریں” انہوں نے کھڑے کھڑے کمبل لپیٹتے ہوئے کہا۔ “بس مختصر یہ کہ میں ایک سال حکیم صاحب کی حضوری میں رہا اور اس بحرِ علم سے چند قطرے حاصل کر کے اپنی کور آنکھوں کو دھویا۔ واپسی پر میں سیدھا اپنے آقا کی خدمت میں پہنچا اور ان کے قدموں پر سر رکھ دیا۔ فرمانے لگے چنت رام اگر ہم میں قوت ہو تو ان پاؤں کو کھینچ لیں۔ اس پر میں رو دیا تو دستِ مبارک محبت سے میرے سر پر پھیر کر کہنے لگے، ہم تم سے ناراض نہیں ہیں لیکن ایک سال کی فرقت بہت طویل ہے۔ آئندہ کہیں جانا ہو تو ہمیں بھی ساتھ لے جانا، یہ کہتے ہوئے داؤ جی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ مجھے اسی طرح گم سم چھوڑ کر بیٹھک میں چلے گئے۔”

امتحان کی قربت سے میرا خون خشک ہو رہا تھا لیکن جسم پھول رہا تھا۔ داؤ جی کو میرے موٹاپے کی فکر رہنے لگی۔ اکثر میرے تھن متھنے ہاتھ پکڑ کر کہتے۔ “اسپِ تازی بن طویلہ خر نہ بن۔” مجھے ان کا یہ فقرہ بہت ناگوار گزرتا اور میں احتجاجاً ان سے کلام بند کر دیتا۔ میرے مسلسل مرن برت نے بھی ان پر کوئی اثر نہ کیا اور ان کی فکر، اندیشہ کی حد تک بڑھ گئی۔ ایک صبح سیر کو جانے سے پہلے انہوں نے مجھے آ جگایا اور میری منتوں، خوشامدوں، گالیوں اور جھڑکیوں کے باوجود بستر سے اٹھا کوٹ پہنا کر کھڑا کر دیا۔ پھر وہ مجھے بازو سے پکڑ کر گویا گھسیٹتے ہوئے باہر گئے۔ سردیوں کی صبح کوئی چار بجے کا عمل۔ گلی میں آدم نہ آدم زاد، تاریکی سے کچھ بھی دکھائی نہ دیتا تھا اور داؤ جی مجھے اسی طرح سیر کو لے جا رہے تھے۔ میں کچھ بک رہا تھا اور وہ کہہ رہے تھے ابھی گراں خوابی دور نہیں ہوئی ابھی طنبورا بڑبڑا رہا ہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد کہتے کوئی سر نکال طنبورے کی آہنگ پر بجا یہ کیا کر رہا ہے! جب ہم بستی سے دور نکل گئے اور صبح کی یخ ہوا نے میری آنکھوں کو زبردستی کھول دیا تو داؤ جی نے میرا بازو چھوڑ دیا۔ سرداروں کا رہٹ آیا اور نکل گیا۔ ندی آئی اور پیچھے رہ گئی۔ قبرستان گزر گیا مگر داؤ جی تھے کہ کچھ آیتیں ہی پڑھتے چلے جا رہے تھے۔ جب تھبہ پر پہنچے تو میری روح فنا ہو گئی۔ یہاں سے لوگ دوپہر کے وقت بھی نہ گزرتے تھے کیونکہ پرانے زمانے میں یہاں ایک شہر غرق ہو ا تھا۔ مرنے والوں کی روحیں اسی ٹیلے پر رہتی تھیں اور آنے جانے والوں کا کلیجہ چبا جاتی تھیں۔ میں خوف سے کانپنے لگا تو داؤ جی نے میرے گلے کے گرد مفلر اچھی طرح لپیٹ کر کہا۔

سامنے ان دو کیکروں کے درمیان اپنی پوری رفتار سے دس چکر لگاؤ، پھر سو لمبی سانسیں کھینچو اور چھوڑ دو، تب میرے پاس آؤ، میں یہاں بیٹھتا ہوں، میں تھبہ سے جان بچانے کے لئے سیدھا ان کیکروں کی طرف روانہ ہو گیا۔ پہلے ایک بڑے سے ڈھیلے پر بیٹھ کر آرام کیا اور ساتھ ہی حساب لگایا کہ چھ چکروں گا وقت گزر چکا ہو گا، اس کے بعد آہستہ آہستہ اونٹ کی طرح کیکروں کے درمیان دوڑنے لگا اور جب دس یعنی چار چکر پورے ہو گئے تو پھر اسی ڈھیلے پر بیٹھ کر لمبی لمبی سانسیں کھینچنے لگا۔ ایک تو درخت پر عجیب و غریب قسم کے جانور بولنے لگے تھے دوسرے میری پسلی میں بلا کا درد شروع ہو گیا تھا۔ یہی مناسب سمجھا کہ تھبہ پر جا کر داؤ جی کو سوئے ہوئے اٹھاؤں اور گھر لے جا کر خوب خاطر کروں؟ غصہ سے بھرا اور دہشت سے لرزتا میں ٹیلے کے پاس پہنچا۔ داؤ جی تھبہ کی ٹھیکریوں پر گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیوانوں کی طرح سر مار رہے تھے اور اونچے اونچے اپنا محبوب شعر گار ہے تھے۔

جفا کم کن کہ فردا روزِ محشر
بہ پیشِ عاشقاں شرمندہ باشی!

کبھی دونوں ہتھیلیاں زور سے زمین پر مارتے اور سر اوپر اٹھا کر انگشتِ شہادت فضا میں یوں ہلاتے۔ جیسے کوئی ان کے سامنے کھڑا ہو اور اس سے کہہ رہے ہو دیکھ لو، سوچ لو میں تمہیںمیں تمہیں بتا رہا ہوں سنا رہا ہوںایک دھمکی دئے جاتے تھے۔ پھر تڑپ کر ٹھیکریوں پر گرتے اور جفا کم کن جفا کم کن کہتے ہوئے رونے لگتے۔ تھوڑی دیر میں ساکت و جامد کھڑا رہا اور پھر زور سے چیخ مار کر بجائے قصبہ کی طرف بھاگنے کے پھر کیکروں کی طرف دوڑ گیا۔ داؤ جی ضرور اسمِ اعظم جانتے تھے اور وہ جن قابو کر رہے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک جن ان کے سامنے کھڑا دیکھا تھا۔ بالکل الف لیلیٰ با تصویر والا جن تھا۔ جب داؤ جی کا طلسم اس پر نہ چل سکا تو اس نے انہیں نیچے گرا لیا تھا۔ وہ چیخ رہے تھے جفا کم کن جفا کم کن مگر وہ چھوڑتا نہیں تھا۔ میں اسی ڈھیلے پر بیٹھ کر رونے لگاتھوڑی دیر بعد داؤ جی آئے انہوں نے پہلے جیسا چہرہ بنا کر کہا۔ “چل طنبورے” اور میں ڈرتا ڈرتا ان کے پیچھے ہو لیا۔ راستہ میں انہوں نے گلے میں لٹکتی ہوئی کھلی پگڑی کے دونوں کونے ہاتھ میں پکڑ لئے اور جھوم جھوم کر گانے لگے۔

تیرے لمے لمے وال فریدا ٹریا جا!

اس جادو گر کے پیچھے چلتے ہوئے میں نے ان آنکھوں سے واقعی ان آنکھوں سے دیکھا کہ ان کا سر تبدیل ہو گیا۔ ان کی لمبی لمبی زلفیں کندھوں پر جھولنے لگیں اور ان کا سارا وجود جٹا دھاری ہو گیااس کے بعد چاہے کوئی میری بوٹی بوٹی اڑا دیتا، میں ان کے ساتھ سیر کو ہر گز نہ جاتا!

اس واقعہ کے چند ہی دن بعد کا قصہ ہے کہ ہمارے گھر میں مٹی کے بڑے بڑے ڈھیلے اور اینٹوں کے ٹکڑے آ کر گرنے لگے۔ بے بے نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ کتیا کی بچوں کی طرح داؤ جی سے چمٹ گئی۔ سچ مچ ان سے لپٹ کر گئی اور انہیں دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔ وہ چلا رہی تھی۔ “بڈھے ٹوٹکی یہ سب تیرے منتر ہیں۔ یہ سب تیری خارسی ہے۔ تیرا کالا علم ہے جو الٹا ہمارے سر پر آگیا ہے۔ تیرے پریت میرے گھر میں اینٹیں پھینکتے ہیں۔ اجاڑ مانگتے ہیں۔ موت چاہتے ہیں۔” پھر وہ زور زور سے چیخنے لگی “میں مر گئی، میں جل گئی، لوگوں اس بڈھے نے میرے امی چند کی جان لینے کا سمبندھ کیا ہے۔ مجھ پر جادو کیا ہے اور میرا انگ انگ توڑ دیا ہے۔” امی چند تو داؤ جی کو اپنی زندگی کی طرح عزیز تھا اور اس کی جان کے دشمن بھلا وہ کیونکر ہو سکتے تھے لیکن جنوں کی خشت باری انہیں کی وجہ سے عمل میں آئی تھی۔ جب میں نے بھی بے بے کی تائید کی تو داؤ جی نے زندگی میں پہلی بار مجھے جھڑک کر کہا “تو احمق ہے اور تیری بے بے ام الجاہلینمیری ایک سال کی تعلیم کا یہ اثر ہوا کہ تو جنوں بھوتوں میں اعتقاد کرنے لگا۔ افسوس تو نے مجھے مایوس کر دیا، اے وائے کہ تو شعور کی بجائے عورتوں کے اعتقاد کا غلام نکلا۔ افسوس صد افسوس” بے بے کو اسی طرح چلاتے اور داؤ جی کو یوں کراہتے چھوڑ کر میں اوپر کوٹھے پر دھوپ میں جا بیٹھا اسی دن شام کو جب میں اپنے گھر جا رہا تھا تو راستے میں رانو نے اپنے مخصوص انداز میں آنکھ کانی کر کے پوچھا “بابو تیرے کوئی اینٹ ڈھیلا تو نہیں لگا؟ سنا ہے تمہارے پنڈت کے گھر میں روڑے گرتے ہیں۔”

میں نے اس کمینہ کے منہ لگنا پسند نہ کیا اور چپ چاپ ڈیوڑھی میں داخل ہو گیا۔ رات کے وقت داؤ جی مجھ سے جیومیٹری کی پراپوزیشن سنتے ہوئے پوچھنے لگے “بیٹا کیا تم سچ مچ جن، بھوت یا پری چڑیل کو کوئی مخلوق سمجھتے ہو؟” میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ ہنس پڑے اور بولے واقعی تو بہت بھولا ہے اور میں نے خواہ مخواہ جھڑ ک دیا۔ بھلا تو نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا کہ جن ہوتے ہیں اور اس طرح سے اینٹیں پھینک سکتے ہیں۔ ہم نے جو دلی اور پھتے مزدور کو بلا کر برساتی بنوائی ہے، وہ تیرے کسی جن کو کہہ کر بنوا لیتے لیکن یہ تو بتا کہ جن صرف اینٹیں پھینکنے کا کام ہی کرتے ہیں کہ چنائی بھی کر لیتے ہیں۔” میں نے جل کر کہا “جتنے مذاق چاہو کر لو مگر جس دن سر پھٹے گا اس دن پتہ چلے گا داؤ۔” داؤ جی نے کہا “تیرے جن کی پھینکی ہوئی اینٹ سے تو تا قیامت سر نہیں پھٹ سکتا اس لئے کہ وہ نہ ہے نہ اس سے اینٹ اٹھائی جا سکے گی اور نہ میرے تیرے یا تیری بے بے کے سر میں لگے گی۔”

پھر بولے۔ “سن! علمِ طبعی کا موٹا اصول ہے کہ کوئی مادی شے کسی غیر مادی وجود سے حرکت میں نہیں لائی جا سکتی سمجھ گیا۔”

“سمجھ گیا” میں نے چڑ کر کہا۔

ہمارے قصبہ میں ہائی سکول ضرور تھا لیکن میٹرک کا امتحان کا سنٹر نہ تھا۔ امتحان دینے کے لئے ہمیں ضلع جانا ہوتا تھا۔ چنانچہ وہ صبح آ گئی جس دن ہماری جماعت امتحان دینے کے لئے ضلع جا رہی تھی اور لاری کے ارد گرد والدین قسم کے لوگوں کا ہجوم تھا اور اس ہجوم میں داؤ جی کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ اور سب لڑکوں کے گھر والے انہیں خیر و برکت کی دعاؤ ں سے نواز رہے تھے اور داؤ جی سارے سال کی پڑھائی کا خلاصہ تیار کر کے جلدی جلدی سوال پوچھ رہے تھے اور میرے ساتھ ساتھ خود ہی جواب دیتے جاتے تھے۔ اکبر کی اصطلاحات سے اچھل کر موسم کے تغیر و تبدل پر پہنچ جاتے وہاں سے پلٹتے تو “اس کے بعد ایک اور بادشاہ آیا کہ اپنی وضع سے ہندو معلوم ہوتا تھا۔ وہ نشہ میں چور تھا ایک صاحبِ جمال اس کا ہاتھ پکڑ کر لے آئی تھی اور جدھر چاہتی تھی پھراتی تھی ” کہہ کر پوچھتے تھے یہ کون تھا؟

“جہانگیر ” میں نے جواب دیا۔ اور وہ عورت۔ “نور جہان” ہم دونوں ایک ساتھ بولے”صفتِ مشبہ اور اسم فاعل میں فرق؟” میں نے دونوں کی تعریفیں بیان کیں۔ بولے مثالیں؟ میں نے مثالیں دیں۔ سب لڑکے لاری میں بیٹھ گئے اور میں ان سے جان چھڑا کر جلدی سے داخل ہوا تو گھوم کر کھڑکی کے پاس آ گئے اور پوچھنے لگے بریک ان اور بیک ان ٹو کو فقروں میں استعمال کرو۔ ان کا استعمال بھی ہو گیا اور موٹر سٹارٹ ہو چلی تو اس کے ساتھ قدم اٹھا کر بولے طنبورے مادیاں گھوڑیاں ماکیاں مرغیمادیاں گھوڑیاںماکیاںایک سال بعد خدا خدا کر کے یہ آواز دور ہوئی اور میں نے آزادی کا سانس لیا!

پہلے دن تاریخ کا پرچہ بہت اچھا ہوا۔ دوسرے دن جغرافیہ کا اس بھی بڑھ کر، تیسرے دن اتوار تھا اور اس کے بعد حساب کی باری تھی۔ اتوار کی صبح کو داؤ جی کا کوئی بیس صفحہ لمبا خط ملا جس میں الجبرے کے فارمولوں اور حساب کے قاعدوں کے علاوہ اور اور کوئی بات نہ تھی۔

حساب کا پرچہ کرنے کے بعد برآمدے میں میں نے لڑکوں سے جوابات ملائے تو سو میں سے اسی نمبر کا پرچہ ٹھیک تھا۔ میں خوشی سے پاگل ہو گیا۔ زمین پر پاؤں نہ پڑتا تھا اور میرے منہ سے مسرت کے نعرے نکل رہے تھے۔ جونہی میں نے برآمدے سے پاؤں باہر رکھا۔ داؤ جی کھیس کندھے پر ڈالے ایک لڑکے کا پرچہ دیکھ رہے تھے۔ میں چیخ مار کر ان سے لپٹ گیا۔ اور اسی نمبر!! اسی نمبر” کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ انہوں نے پرچہ میرے ہاتھ سے چھین کر تلخی سے پوچھا “کون سا سوال غلط ہو گیا؟” میں نے جھوم کر کہا “چار دیواری والا ” جھلا کر بولے “تو نے کھڑکیاں اور دروازے منفی نہ کئے ہوں گے” میں نے ان کی کمر میں ہاتھ ڈال کر پیڑ کی طرح جھلاتے ہوئے کہا “ہاں ہاں جی گولی مارو کھڑکیوں کو ” داؤ جی ڈوبی ہوئی آواز میں بولے “تو نے مجھے برباد کر دیا طنبورے سال کے تین سو پینسٹھ دن میں پکار پکار کر کہتا رہا سطحات کا سوال آنکھیں کھول کر حل کرنا مگر تو نے میری بات نہ مانی۔ بیس نمبر ضائع کئےپورے بیس نمبر۔”

اور داؤ جی کا چہرہ دیکھ کر میری اسی فیصد کامیابی بیس فیصد ناکامی کے نیچے یوں دب گئی گویا اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ راستہ بھر وہ اپنے آپ سے کہتے رہے۔ “اگر ممتحن اچھے دل کا ہوا تو دو ایک نمبر تو ضرور دے گا، تیرا باقی حل تو ٹھیک ہے۔” اس پرچے کے بعد داؤ جی امتحان کے آخری دن تک میرے ساتھ رہے۔ وہ رات کے بارہ بجے تک مجھے اس سرائے میں بیٹھ کر پڑھاتے جہاں کلاس مقیم تھی اور اس کے بعد بقول ان کے اپنے ایک دوست کے ہاں چلے جاتے۔ صبح آٹھ بجے پھر آ جاتے اور کمرہ امتحان تک میرے ساتھ چلتے۔

امتحان ختم ہوتے ہی میں نے داؤ جی کو یوں چھوڑ دیا گویا میری ان سے جان پہچان نہ تھی۔ سارا دن دوستوں یاروں کے ساتھ گھومتا اور شام کو ناولیں پڑھا کرتا۔ اس دوران میں اگر کبھی فرصت ملتی تو داؤ جی کو سلام کرنے بھی چلا جاتا۔ وہ اس بات پر مصر تھے کہ میں ہر روز کم از کم ایک گھنٹہ ان کے ساتھ گزاروں تاکہ وہ مجھے کالج کی پڑھائی کے لئے بھی تیار کریں لیکن میں ان کے پھندے میں آنے والا نہ تھا۔ مجھے کالج میں سو بار فیل ہونا گوارا تھا اور ہے لیکن داؤ جی سے پڑھنا منظور نہیں۔ پڑھنے کو چھوڑیئے ان سے باتیں کر نا بھی مشکل تھا۔ میں نے کچھ پوچھا۔ انہوں نے کہا اس کا فارسی میں ترجمہ کرو، میں نے کچھ جواب دیا فرمایا اس کی ترکیب نحوی کرو۔ حوالداروں کی گائے اندر گھس آئی میں اسے لکڑی سے باہر نکال رہا ہوں اور داؤ جی پوچھ رہے ہیں cow ناؤن ہے یا ورب۔ اب ہر عقل کا اندھا پانچویں جماعت پڑھا جانتا ہے کہ گائے اسم ہے مگر داؤ جی فرما رہے ہیں کہ اسم بھی ہے اور فعل بھی۔۔

cow to کا مطلب ہے ڈرانا، دھمکی دینا۔ اور یہ ان دنوں کی باتیں ہیں جب میں امتحان سے فارغ ہو کر نتیجہ کا انتظار کر رہا تھاپھر ایک دن وہ بھی آیا جب ہم چند دوست شکار کھیلنے کے لئے نکلے تو میں نے ان سے درخواست کی کہ منصفی کے آگے سے نہ جائیں کیونکہ وہاں داؤ جی ہوں گے اور مجھے روک کر شکار، بندوق اور کارتوسوں کے محاورے پوچھنے لگیں گے۔ بازار میں دکھائی دیتے تو میں کسی بغلی گلی میں گھس جاتا۔ گھر پر رسماً ملنے جاتا تو بے بے سے زیادہ اور داؤ جی سے کم باتیں کرتا۔ اکثر کہا کرتے۔ افسوس آفتاب کی طرح تو بھی ہمیں فراموش کر رہا ہے۔ میں شرارتاً خیلے خوب خیلے خوب کہہ کر ہنسنے لگتا۔

جس دن نتیجہ نکلا اور ابا جی لڈوؤں کی چھوٹی سی ٹوکری لے کر ان کے گھر گئے۔ داؤ جی سر جھکائے اپنے حصیر میں بیٹھے تھے۔ ابا جی کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اندر سے کرسی اٹھا لائے اور اپنے بوریے کے پاس ڈال کر بولے “ڈاکٹر صاحب آپ کے سامنے شرمندہ ہوں، لیکن اسے بھی مقسوم کی خوبی سمجھئے، میرا خیال تھا کہ اس کی فرسٹ ڈویژن آ جائے گی لیکن اس کی بنیاد کمزور تھی”

“ایک ہی تو نمبر کم ہے۔” میں نے چمک کر بات کاٹی۔ اور وہ میری طرف دیکھ کر بولے “تو نہیں جانتا اس ایک نمبر سے میرا دل دو نیم ہو گیا ہے۔ خیر میں اسے منجانب اللہ خیال کرتا ہوں۔ پھر اباجی اور وہ باتیں کرنے لگے اور میں بے بے کے ساتھ گپیں لڑانے میں مشغول ہو گیا۔

اول اول کالج سے میں داؤ جی کے خطوں کا باقاعدہ جواب دیتا رہا۔ اس کے بعد بے قاعدگی سے لکھنے لگا اور آہستہ آہستہ یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ چھٹیوں میں جب گھر آتا تو جیسے سکول کے دیگر ماسٹروں سے ملتا ویسے ہی داؤ جی کو بھی سلام کر آتا۔ اب وہ مجھ سے سوال وغیرہ نہ پوچھتے تھے۔ کوٹ، پتلون اور ٹائی دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔ چارپائی پر بیٹھنے نہ دیتے۔ “اگر مجھے اٹھنے نہیں دیتا تو خود کرسی لے لے” اور میں کرسی کھینچ کر ان کے پاس ڈٹ جاتا۔ کالج لائبریری سے میں جو کتابیں ساتھ لایا کرتا انہیں دیکھنے کی تمنا ضرور کرتے اور میرے وعدے کے باوجود اگلے دن خود ہمارے گھر آ کر کتابیں دیکھ جاتے۔ امی چند بوجوہ کالج چھوڑ کر بنک میں ملازم ہو گیا تھا اور دلی چلا گیا تھا۔ بے بے کی سلائی کا کام بدستور تھا۔ داؤ جی منصفی جاتے تھے لیکن کچھ نہ لاتے تھے۔ بی بی کے خط آتے تھے وہ اپنے گھر میں خوش تھی کالج کی ایک سال کی زندگی نے مجھے داؤ جی سے بہت دور کھینچ لیا۔ وہ لڑکیاں جو دو سال پہلے ہمارے ساتھ آپو ٹاپو کھیلا کرتی تھیں بنت عم بنت بن گئی تھیں۔ سیکنڈ ائیر کے زمانے کی ہر چھٹی میں آپو ٹاپو میں گزارنے کی کوشش کرتا اور کسی حد تک کامیاب بھی ہوتا۔ گھر کی مختصر مسافت کے سامنے ایبٹ آباد کا طویل سفر زیادہ تسکین دہ اور سہانا بن گیا۔

انہی ایام میں میں نے پہلی مرتبہ ایک خوبصورت گلابی پیڈ اور ایسے ہی لفافوں کا ایک پیکٹ خریدا تھا اور ان پر نہ ابا جی کو خط لکھے جا سکتے تھے اور نہ ہی داؤ جی کو۔ نہ دسہرے کی چھٹیوں میں داؤ جی سے ملاقات ہو سکی تھی نہ کرسمس کی تعطیلات میں۔ ایسے ہی ایسٹر گزر گیا اور یوں ہی ایام گزرتے رہےملک کو آزادی ملنے لگی تو کچھ بلوے ہوئے پھر لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ ہر طرف سے فسادات کی خبریں آنے لگیں اور اماں نے ہم سب کو گھر بلوا لیا۔ ہمارے لئے یہ بہت محفوظ جگہ تھی۔ بنئے ساہو کار گھر بار چھوڑ کر بھاگ رہے تھے لیکن دوسرے لوگ خاموش تھے۔ تھوڑے ہی دنوں بعد مہاجرین کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا اور وہی لوگ یہ خبر لائے کہ آزادی مل گئی! ایک دن ہمارے قصبے میں بھی چند گھروں کو آگ لگی اور دو ناکوں پر سخت لڑائی ہوئی۔ تھانے والے اور ملٹری کے سپاہیوں نے کرفیو لگا دیا اور جب کرفیو ختم ہوا تو سب ہندو سکھ قصبہ چھوڑ کر چل دئے، دوپہر کو اماں جی نے مجھے دا ؤ جی کی خبر لینے بھیجا تو اس جانی پہنچانی گلی میں عجیب و غریب صورتیں نظر آئیں۔ ہمارے گھر یعنی داؤ جی کے گھر کی ڈیوڑھی میں ایک بیل بندھا تھا اور اس کے پیچھے بوری کا پردہ لٹک رہا تھا۔ میں نے گھر آ کر بتایا کہ داؤ جی اور بے بے اپنا گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور یہ کہتے ہوئے میرا گلا رندھ گیا۔ اس دن مجھے یوں لگا جیسے داؤ جی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلے گئے ہیں اور لوٹ کر نہ آئیں گے۔ داؤ جی ایسے بے وفا تھے!

کوئی تیسرے روز غروب آفتاب کے بعد جب میں مسجد میں نئے پنا ہ گزینوں کے نام نوٹ کر کے اور کمبل بھجوانے کا وعدہ کر کے اس گلی سے گزرا تو کھلے میدان میں سو دو سو آدمیوں کی بھیڑ جمع دیکھی، مہاجر لڑکے لاٹھیاں پکڑے نعرے لگا رہے تھے اور گالیاں دے رہے تھے۔ میں نے تماشائیوں کو پھاڑ کر مرکز میں گھسنے کی کوشش کی مگر مہاجرین کی خونخوار آنکھیں دیکھ کر سہم گیا۔ ایک لڑکا کسی بزرگ سے کہہ رہا تھا۔

“ساتھ والے گاؤں گیا ہوا تھا جب لوٹا تو اپنے گھر میں گھستا چلا گیا۔”

“کون سے گھر میں؟” بزرگ نے پوچھا۔

“رہتکی مہاجروں کے گھر میں” لڑکے نے کہا۔

“پھر کیا انہوں نے پکڑ لیا۔ دیکھا تو ہندو نکلا۔”

اتنے میں بھیڑ میں سے کسی نے چلا کر کہا۔ “اوئے رانو جلد آ اوئے جلدی آتیری سامیپنڈتتیری سامی۔” رانو بکریوں کا ریوڑ باڑے کی طرف لے جا رہا تھا۔ انہیں روک کر اور ایک لاٹھی والے لڑکے کو ان کے آگے کھڑا کر کے وہ بھیڑ میں گھس گیا۔ میرے دل کو ایک دھکا سا لگا جیسے انہوں نے داؤ جی کو پکڑ لیا ہو۔ میں نے ملزم کو دیکھے بغیر اپنے قریبی لوگوں سے کہا۔

“یہ بڑا اچھا آدمی ہے بڑا نیک آدمی ہےاسے کچھ مت کہویہ تویہ تو” خون میں نہائی ہوئی چند آنکھوں نے میری طرف دیکھا اور ایک نوجوان گنڈاسی تول کر بولا۔

“بتاؤں تجھے بھی آگیا بڑا حمایتی بن کرتیرے ساتھ کچھ ہوا نہیں نا” اور لوگوں نے گالیاں بک کر کہا۔ “انصار ہو گا شاید۔”

میں ڈر کر دوسری جانب بھیڑ میں گھس گیا۔ رانو کی قیادت میں اس کے دوست داؤ جی کو گھیرے کھڑے تھے اور رانو داؤ جی کی ٹھوڑی پکڑ کر ہلا رہا تھا اور پوچھ رہا تھا۔ اب بول بیٹا، اب بول” اور داؤ جی خاموش کھڑے تھے، ایک لڑکے نے پگڑی اتار کر کہا۔ “پہلے بودی کاٹو بودی” اور رانو نے مسواکیں کاٹنے والی درانتی سے داؤ جی کی بودی کاٹ دی۔ وہی لڑکا پھر بولا “بلا دیں جے؟” اور رانو ں نے کہا۔”جانے دو بڈھا ہے، میرے ساتھ بکریاں چرایا کرے گا۔” پھر اس نے داؤ جی کی ٹھوڑی اوپر اٹھاتے ہوئے کہا “کلمہ پڑھ پنڈتا” اور داؤ جی آہستہ سے بولے:

“کون سا؟”

رانو نے ان کے ننگے سر پر ایسا تھپڑ مارا کہ وہ گرتے گرتے بچے اور بولا “سالے کلمے بھی کوئی پانچ سات ہیں!”

جب وہ کلمہ پڑھ چکے تو رانو نے اپنی لاٹھی ان کے ہاتھ میں تھما کر کہا۔”چل بکریاں تیرا انتظار کرتی ہیں۔”

اور ننگے سر داؤ جی بکریوں کے پیچھے پیچھے یوں چلے جیسے لمبے لمبے بالوں والا فریدا چل رہا ہو!۔

Leave a Reply