غزل (ڈاکٹر فیاض احمد علیگ)

Spread the love

چند ایک غزلیں ہیں اور کچھ مقالے ہیں
میری میز پر بکھرے اردو کے رسالے ہیں ۔


ہم بھی خوب واقف ہیں یار ڈسنے والے ہیں 
پھر بھی آستینوں میں ہم نے سانپ پالے ہیں


بے تکے سے خوابوں نے نیند چھین رکھی تھی
نیند کے عوض ہم نے خواب بیچ ڈالے ہیں ۔


دشمنوں کے خیمے میں یار سارے بیٹھے ہیں
اور سنگ بھی مجھ پر یار ہی اچھالے ہیں ۔

جس نے تشنگی سب کی عمر بھر بجھائی ہے
آج اس کے ہاتھوں میں زہر کے پیالے ہیں ۔


ہم کو گردش دوراں یار کیا ڈرائے گی ۔
ہم تو روز اول سے گردشوں کے پالے ہیں ۔ 


بار غم اٹھانا فیاض ہو گیا آساں
ہم نے اپنے دامن میں اتنے غم جو پالے ہیں۔

ڈاکٹر فیاض علیگ کا مزید کلام پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Please follow and like us:

Leave a Reply