الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے

Spread the love

عزیز اعظمی اصلاحی
اسرولی سرائمیر

جمن بھیا فلم کے بڑے شوقین تھے کوئی نئی فلم سنیما حال میں آئی نہیں کہ پہلے دن کے ایوننگ شو کا ٹکٹ کہیں نہ کہیں سے نکال ہی لیتے اور پھردوسرے دن ہم بچوں کو کھلیان والے جامن کے درخت نیچے بیٹھا کر فلم کی ایسی منظر کشی کرتے اس انداز میں اسٹوری سناتے گویا ہم آوٹ ڈور سنیما حال میں بیٹھے فلم دیکھ رہے ہوں، سنیما حال میں انٹری سے لیکر باہر آنے تک کا ایسا منظر پیش کرتے کہ پھرہم کو فلم دیکھنے کی ضروت ہی نہیں ہوتی۔

لیکن ایک دن جس سنیما حال میں وہ فلم دیکھ رہے تھے اسکی دوسری کرسی پر بیٹھا انکا بیٹا بھی چوری سے وہی فلم دیکھنے آیا تھا ابا اگلی سیٹ پر بیٹھے ہونگے اس سے بے خبر فلم کے نازیبا سین پر بیٹے کی سیٹی اور اسکی بے حیائی پر جمن بھیا اس قدر نادم ہوئے کہ اس دن توبہ کی تواسکے بعد سے آج تک فلم کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا، لیکن حالیہ ریلیز فلم ” پدماوتی ” کو لیکر فساد اور بوال، اخبار اور ٹی وی پر ہندو مسلم بحث، ساری ہندو سیناوں کے بیچ ایک اور نئی کرنی سینا کا ظہور ، سرکاری املاک کو نذر آتش کرنے والے دیس بھگتوں کی بھگتی، اسکولی بچوں پر پتھراو کا شرم ناک واقعہ، ملک کی افرا تفری دیکھنے کے بعد برسو بعد جمن بھیا آج پھر فلم دیکھنے چلے گئے کہ آخر اس فلم میں ایسا کیا ہے کہ راجپوت چراغ پا ہیں، ٹی وی ، اخبار اپنے اسٹوڈیو کو سر پراٹھائے بیٹھے ہیں، شر پسند اور فسادی ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں، سنیما گھروں میں آگ لگائی جا رہی ہے ، ملک کو ماتا کہنے والےماتا کی سمپتی کو نزر آتش کر رہے ، دیس بھگت حکومتیں اپنے صوبوں میں فلم دیکھائے جانے پر پابندی لگا رہی ہیں پورا ملک دیس کی ارتھ ویوستا کو چھوڑ کر ایک فلم کے پیچھے بھاگ رہا ہے جمن بھیا فلم دیکھ کر آئے صبح نہار منھ ہی ان سے ملاقات ہوگئی وہیں انکے ساتھ بیٹھ گیا سوچا فلم دیکھ کر وقت اور پیسہ برباد کرنے سے اچھا ہے کی فلم کی کہانی اور اسکی حقیقت جمن بھیا سے ہی پوچھ لیتے ہیں جس کی وجہ سے آج کل ملک کی امن و شانتی برباد ہو رہی ہے
جمن بھیا نے فلم کی کہانی سنانے سے پہلے ایک بڑی تجربے کی بات بتائی کہ دیکھو جب عوام سڑکوں پر نکلتی ہے تو اسے احتجاج کہا جاتا ہے لیکن جب کوئی تنظیم اور خود ساختہ متحارب گروپ سڑک پر نکلتے ہیں اسے فساد اور ہنگامہ کہا جاتا ہے اور اسکے پیچھے ایک سازش اور مفاد چھپا ہوتا ہے، سازش اور فائدہ مختصراً یہ کہ قومی املاک کو جلا کر فلم نے دو سو کروڑ کمایا اور بچوں کی سکول بس پر پتھر برساکر فرقہ وارانہ ماحول بنایا گیا ایک تیر سے کئی شکار کرنے کے بعد کرنی سینا کی انا اور راجپوتوں کا وقار بحال ہو گیا ٹی وی اور میڈیا میں ڈائریکٹر بھنسالی کے بجائے سارا نزلہ مسلمانوں پر گرایا گیا ۔ دو مہینے چلنے والے اس گھماسان میں نہ تو عوام کا کوئی فائدہ ہوا اور نہ دیس کا بھلا لیکن سیاست اور تجارت کا الو سیدھا ہوگیا –

اس فلم کو دیکھنے کے بعد پتہ چلا کہ اس پوری فلم میں کہیں ایک لفظ ایسا نہیں ہے جوراجپوتوں کی انا اورانکے وقار کو مجروح کر سکے کوئی ایک مکالمہ ایسا نہیں کہ جسکی وجہ سے وہ اسقدر مشتعل ہوں کہ تشدد پر آمادہ ہو جائیں ملک کے امن و آمان کو تہس نہس کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں بلکہ ناراض تو مسلمانوں کو ہونا چاہیے تھا کہ جس طرح ڈائریکٹرنے اپنی مرضی کے مطابق تاریخ کا مذاق اڑایا ہے جس بے دری سے علاوالدین خلجی کی شکل میں مسلمانوں کو دھوکے باز، عیاش اور بدکار دیکھا یا گیا ہے انکی تاریخ کو مسخ کرکے فلم کی آڑ میں علاوالدین خلجی کے ساتھ ساتھ طوطی ہند کہے جانے والے امیر خسرو تک کو نہیں بخشا گیا جنکی نظمیں ہندو اور مسلمانوں میں ایک ہی جذبے کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں پھر تو برہمی برہمنوں میں نہیں مسلمانوں میں ہونی چاہے تھی لیکن یہاں تو ہر جگہ معاملہ ہی الٹا ہے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے مسلمان خاموشی سے ایک مثبت رویئے اور خو بصورت سوچ کے ساتھ اس ملک کے آئین و قانون کا احترام کرتے ہوئے پر امن طریقے سے اپنی زندگی گزار ررہے ہیں۔ وہیں برہمنیت اور زعفرانیت جنکو فلم ہی نہیں بلکہ سیاست سے لیکرحکومت تک ٹی وی سے لیکراخبار تک، سیریل سے لیکر فلم تک جس طرح اعلی کردار بتایا جایا رہا ہے انکی آن بان شان کو فلمایا جا رہا ہے، راجپوتانہ تہذیب اور وقار کو بلند کیا جا رہا ہے انھیں تو اس بات پر فخر کرنا چاہئے اور خدا کا احسان مان کرایک دوسرے کے ساتھ بڑے ہی پیار و محبت اور پر امن طریقے سے رہنا چاہئے کہ ہمارے ساتھ اس وقت سیاست سے حکومت تک مہربان ہے لیکن نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ کچھ لو گوں کو عزت راس نہیں آتی۔ فلموں کے کردار کو آئیڈل ماننے والی ہماری نسل فلموں کی کہانیوں کو سچ سمجھنے وا لے معاشرہ میں سنجے لیلا بھنسالی ایسی منافرت آمیز فلمیں بنا کر پیسہ تو کما سکتے ہیں ایک خاص طبقے کی حمایت تو حاصل کر سکتے ہیں لیکن ملک اور سماج کو جوڑ نہیں سکتے، انکی فلموں میں مغلوں اور مسلم حکمرانوں کے تئیں برہمنی سوچ اور انکا یہ متعصب رویہ نوجوانوں پر بہت برا اثر ڈالے گا

Please follow and like us:

Leave a Reply