189

8 اپریل کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1769ء – برمیوں نے ایوتھایا سلطنت پر قبضہ کر لیا۔

1904ء -برطانیہ اور فرانس نے دوستی کا مشہور معاہدہ طے کر لیا۔

1953ء – کینیا کے برطانوی حاکموں نے جومو کینیاٹٹا کو مجرم قرار دے دیا

1985ء – بھوپال میں ہونے والے کیمیائی حادثے پر بھارت نے مقدمہ دائر کر دیا۔

2008ء – لاہور میں شیر افگن کا گھیراؤ اور تشدد، تھپڑ اور جوتے مارے گئے۔

1997ء مائیکروسافٹ کارپوریشن نے انٹرنیٹ ایکسپلورر چار اعشاریہ صفر جاری کیا

1950ء پاکستان اور بھارت نے لیاقت نہرو معاہدے پر دستخط کیے گئے

ولادت

563 ق م – گوتم بدھ۔

1320ء – پیٹر اعظم، پاتغال کے بادشاہ

1868ء – کرسچین نہم، ڈنمارک کے بادشاہ

1875ء – ایلبرٹ اول، بیلجیم کے بادشاہ

1938ء – کوفی عنان، اقوام متحدہ کے ساتویں جنرل سیکریٹری تھے۔ ان کا عرصہ جنوری 1997 تا دسمبر 2006ء ہے۔ 2011 میں انہیں اور اقوام متحدہ کو مشترکہ طور پر امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ 1965ء میں کوفی نے نائیجیریا کی تیتی الاکیجہ سے شادی کی۔ شادی کے کافی عرصہ بعد ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی اور پھر ان کے ہاں ایک بیٹا کوجو عنان پیدا ہوا۔ 1970ء کی دہائی میں اس جوڑے میں علیحدگی ہو گئی اور پھر 1983 میں طلاق ہو گئی۔1984ء میں انہوں نے سوئٹزرلینڈ کی ایک وکیل نین ماریہ سے شادی کی جس سے ان کی ایک بیٹی نینا ہے۔ کوفی عنان 18 اگست 2018 کو برن سوئٹزرلینڈ میں 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

7 اپریل کے واقعات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

وفات

1143ء – جان دوم کامنینس، قسطنطنیہ کے شاہنشاہ

1997ء ڈاکٹر عرش صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز شاعر، افسانہ نگار، نقاد اور معلم تھے۔ ان کا افسانوی مجموعہ باہر کفن سے پاؤں ادبی دنیا میں کافی شہرت رکھتا ہے جس پر انہیں پر آدم جی ادبی انعام سے نوازا گیا۔ وہ 21 جنوری،1927ء کو پیدا ہوئے۔

1973ء – ٹائم میگزین نے 1998 میں موجودہ صدی کی سو بڑی شخصیات کا انتخاب کیا تو پابلو کو پہلے نمبر پر قرار دیتے ہوئے لکھا: اس سے قبل کوئی آرٹسٹ اس قدر مشہور و معروف نہ ہو سکا جتنا پکاسو ہوا۔ پابلو پکاسو، دور جدید کا سب سے بڑا مصور۔ تجریدی مصوری کا موجد۔ شہر ملاگا ’’سپین‘‘ میں پیدا ہوا۔ جوانی بارسلونا میں بسر ہوئی۔ جہاں باپ اکیڈیمی آف آرٹس میں پروفیسر تھا۔
پابلو پکاسو 25 اکتوبر 1881ء کو مالاگا ( اسپین ) میں پیدا ہوا۔ اس کے والد آرٹ کے ٹیچر تھے۔ پکاسو نے ابتدا ہی سے روایتی تعلیم سے بغاوت کی۔ اس کے والد نے جب بیٹے کی ڈرائنگ دیکھیں تو اپنے پینٹ اور برش پکاسو کے حوالے کر دیے اور پھر کبھی خود پینٹ نہيں کیا۔ 1900ء میں اسے پہلی سولو نمائش کی اجازت ملی۔

پکاسو اس اکیڈیمی میں 1896ء میں داخل ہوا اور اپنے والد سے مصوری کے ابتدائی اصول سیکھے۔ اگلے سال میڈرڈ چلاگیا۔ 1903ء میں پیرس گیا جہاں اس کے ’’نیلے دور‘‘ کی تصویروں کا آغاز ہوا۔ اس دور کو ’’نیلا‘‘ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں اس نے مایوس، اداس اور بیمار کرداروں اور سرکس میں ناچنے والوں کی تصویریں خالص نیلے رنگوں میں بنائیں۔ اس کے بعد اس کا گلابی یا کلاسیکی دور آتا ہے۔ بعد ازاں اس نے مصوری کی تمام پرانی روایات سے قطع تعلق کر لیا۔ دو سال افریقی حبشیوں کی قدیم مصوری اور سنگ تراشی کا گہرا مطالعہ کیا۔ پھر دو سال عظیم مصور سی زانے کے شاہکاروں کا عمیق مطالعہ کیا۔ ان دو سرچشموں سے فیض یاب ہونے کے بعد 1909ء میں اس کا کیوبزم کا دور شروع ہوا۔ 1920ء میں اس کے فن میں ایک اور تبدیلی آئی اور وہ کلاسیکی اسلوب میں حقیقت نگاری کے ساتھ تصویریں بنانے لگا۔ پھر اسے تجریدی مصوری سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔ جنگ کے بعد پکاسو کو کوزہ گری سے دلچسپی ہو گئی اور اس نے ویلارس میں کوزہ گری کا بہت بڑا سٹوڈیو بنایا۔ وہ امن کا زبردست حامی تھا۔ اس کی بنائی ہوئی فاختہ عرصے تک امن پسندی کی علامت رہی۔

1899ء امریکا سے تعلق رکھنے والی مارتھا پلیس پہلی خاتون تھیں جنہیں برقی کرسی پر سزائے موت دی گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں