کشمیری قیدیوں کو بھارتی جیلوں میں منتقل کیا جاتا ہے تاکہ عدالتوں میں پیشی ناممکن بنائی جاسکے

Spread the love

کشمیری قیدیوں کو عدالتوں میں پیش نہ کر کے ان کی قید کو طول دیا جاتا ہے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن

سینٹرل جیل سرینگرمیں قیدیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو عدالت عالیہ میں لے جا ئیں گے

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ جموں کشمیرہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کشمیری قیدیوں کو منصوبے کے تحت بھارتی جیلوں میں منتقل کیا جاتا ہے تاکہ عدالتوں میں پیشی ناممکن بنائی جاسکے۔ کشمیری قیدیوں کو عدالتوں میں پیش نہ کر کے ان کی قید کو طول دیا جاتا ہے۔

بار نے سینٹرل جیل سرینگرمیں قیدیوں کے خلاف طاقت کااستعمال کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اس معاملے کو عدالت عالیہ میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

بار نے مطالبہ کیا ہے کہ سرینگر کے سینٹرل جیل میں قانون کوبغیر کسی اختیار کے اپنے ہاتھ میں لینے اور قیدیوں کو مارنے پیٹنے والوںکے خلاف مناسب کارروائی کی جائے، جہاں ریاست سے باہر اور ریاست کے اندر جیلوں میں قیدیوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے سے متعلق مفاد عامہ کی ایک عرضی زیرغور ہے۔

ایک بیان میں بار نے کہا کہ جیل قوانین کے تحت انسانی وقاراوربنیادی حقوق سلب نہ کئے جاناہر قیدی کاحق ہے ۔انہیں معقول غذا،طبی سہولیات،صاف ستھراماحول اور مناسب لباس ،بسترہ اورسامان فراہم کرناہوتے ہیں ۔انہیں اپنے گھروالوںاور وکلا سے ملاقات کی سہولیات بہم رکھنا ہوتی ہیں۔

ہر ایک جیل جہاں200قیدی بند ہوں ،میں کینٹین سہولیات بھی فراہم کرنا ہوتی ہیں اور ہنگامی حالات میں قیدیوں کی ہسپتال منتقلی بھی جیل قوانین میں درج ہیں ۔ بار نے کہا کہ کسی قانون کے تحت بھی قیدیوں کو غروب آفتاب کے بعد بارکوں سے باہر کسی اور جگہ نہیںلایا جاسکتا ہے یاان کے ساتھ نامناسب سلوک کیاجاسکتا ہے ۔اس لئے قیدیوں کوجمعرات رات9بجے کے بعد پرانی بارکوں سے نئی بارکوں میں منتقل یا ناروا سلوک کرنے کا کوئی قانونی جوازنہیں ہے۔

یہ بدقسمتی ہے کہ جیل حکام کے اپنے بیان کے مطابق انہوں نے رات 9بجے قیدیوں کو نئی بارکوں میں منتقل ہونے کوکہا جس سے کہ تو تومیں میں ہوگئی ،جسے جیل حکام کو مذہبی کتابوں کی بے حرمتی کرنے اور قیدیوں پرگولیاں اور پیلٹ چلانے کابہانہ مل گیاجس سے درجنوں زخمی ہوگئے۔ بار ایسوسی ایشن کویقین ہے کہ قیدیوں کو پرانی بارکوں سے نئی بارکوں میں منتقل کرنے کی کہانی جو جیل حکام بیان کررہے ہیں ،سچ نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔

بار بیان کے مطابق درحقیقت سینٹرل جیل سرینگر سمیت جیل حکام ہمیشہ عدالتی احکامات کے تحت سینٹرل جیل سرینگر میں بندکشمیری قیدیوںکو باہر کی جیلوں میں منتقل کرتے ہیں تاکہ عدالتوں جہاں ان کے کیس زیرسماعت ہوتے ہیں،میں ان کی پیشی کو ناممکن بنایا جائے۔ اسی لئے حال ہی میں سینکڑوں قیدیوں کو جموں، ہریانہ اوردیگر مقامات کی جیلوں میںمنتقل کیاگیا اور اس کیلئے پبلک سیفٹی ایکٹ میں ترمیم بھی کی گئی جس کو بار نے عدالت عالیہ میں چیلنج کیا ہے۔

کیونکہ منتقلی کے سارے معاملے رات کے دوران ہی عملائے جاتے ہیں ،اس لئے شاید ممکن ہے کہ جیل حکام نے کچھ قیدیوں کو وادی سے باہر منتقل کرنے کی کوشش کی ہوگی اورانہوں نے رات کے دوران بارکوں سے باہر آنے سے انکار کیا ہوگاجس کی وجہ سے ان کی پٹائی کی گئی تاکہ ان کی سینٹرل جیل سرینگرسے منتقلی کو جوازمل سکے ۔ یہ بھی الزام لگایا گیا کہ انہوں نے کچھ بارکوں کو آگ لگادی۔

ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج سرینگر عدالت عالیہ کے احکامات کے تحت ضلع سرینگرکے جیل خانوں اور انٹروگیشن مراکزکا ہر دو ماہ بعد معائنہ اورعدالت عالیہ کو رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہیں ،کوجمعہ کوسرینگر کے سینٹرل جیل کا بذات خود معائنہ کرناچاہئے تھا تاکہ سچائی کا پتہ چل جائے،جو انہوں نے ابھی تک نہیں کیا ہے ۔

Please follow and like us:

Leave a Reply