نوا ز شریف اور زرداری چاہیں تو پلی بارگین کر سکتے ہیں، فواد چوہدری

Spread the love

اگر برطانیہ ، سوئٹزرلینڈ یا اور باقی مماملک اگر رقم واپس بھیجنا شروع کر دیں تو ان ممالک کی اپنی معیشت خطرے میں پڑ جائے گی
ایک ہزار ارب روپے اگر پاکستان میں آتے ہیں تو ہم یہ رقم صحت اور تعلیم پر خرچ کر سکیں گے،وزیر اطلاعات کاانٹرویو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نامہ نگار) وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ہم نواز شریف اور آصف زرداری کی پلی بارگین قانون کی طرف توجہ دلا رہے ہیں، یہ کوئی این آر او یا ڈیل کا ایشو نہیں، یہ ایک قانون ہے اور قانون کے اندر ایک شق ہے کہ اگر آپ چاہیں تو پلی بارگین کر سکتے ہیں، پہلی بار لاڑکانہ سے لاہور تک اور پشاور سے کراچی تک بڑے ، بڑے لوگوں پر ہاتھ پڑا ہے، یہ وہ لوگ تھے جو عمومی طور پر احتساب میں نہیں آتے لیکن اب احتساب کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ بڑی خوش کن بات ہے اور پاکستان کی ترقی ہی تب ہی ہو گی جب سب لوگوں پر یکساں قانون نافذ ہو گا، کسی بھی ملک سے پیسے لانے آسان نہیں ہوتے، اگر برطانیہ ، سوئٹزرلینڈ یا اور باقی مماملک اگر رقم واپس بھیجنا شروع کر دیں تو ان ممالک کی اپنی معیشت خطرے میں پڑ جائے گی، نواز شریف کو تو سزا ہو گئی اور باقی لوگ بھی آہستہ، آہستہ اس طرف جا رہے ہیں، معاملہ یہ ہے کہ جیل ان سے نہیں کاٹی جارہی تو جیل جس سے نہیں کاٹی جا رہی اس کے پاس آپشن ہے کہ پیسہ واپس کرے گا، ماضی کی رولنگ ایلیٹ نے ایمنسٹی سکیموں کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا لیکن ہم جو ایمنسٹی سکیم لا رہے ہیں اس سے پاکستان کو فائدہ ہے حکومت میں بیٹھے کسی آدمی کواس کا فائدہ نہیں۔

ان خیالات کا اظہار فواد چوہدری نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بادشاہت تو نہیں ، ایک نظام ہے اور اس نظام کو ہی بہتر بنانا ہے اور آگے لے کر چلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح گذ شتہ روز لاہور ہائی کورٹ سے حمزہ شہباز شریف کو ضمانت ملی عمومی طور پر شاید کسی عام آدمی کو اس طرح ضمانت ملنا بہت مشکل ہے، یہ نظام ہے اور اس نظام کے اندر رہتے ہوئے ہی ہم نے کوشش کرنی ہے اور کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تھرڈ ورلڈ سے جو پیسے فرسٹ ورلڈ کے ممالک میں جاتے ہیں تو وہ ان پیسوں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور یہ پیسے واپس نہیں کرتے، وہ اس طرح کے قوانین بناتے ہیں کہ پیسے تھرڈ ورلڈ کو واپس نہ آئیں۔ پیسے واپس لانا مشکل کام ہے تاہم ناممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دبئی کی جائیدادوں کا 1.2 ارب ڈالرز پیسہ واپس آچکا ہے اور دبئی کی جائیدادوں کا ٹیکس ادا ہو چکا ہے، ہم دوبارہ ایمنسٹی سکیم لا رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ بہت بڑا پیسہ پاکستان واپس آئے گا، ماضی میں (ن) لیگ نے چار مرتبہ اور پی پی پی حکومت نے تین مرتبہ ایمنسٹی اسکیم دی پہلے یہ پیسے باہر بھیجتے تھے اور پھر ایمنسٹی سکیم میں اسے ڈیکلیئر کروا لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم کے خدوخال ابھی بن رہے ہیں ، وزیر خزانہ، وزیر قانون، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی، وزیرمملکت برائے ریونیواور مشیر تجارت پر مشتمل پوری ٹیم اس سکیم کے خدوخال بنا رہی ہے اور یہ سکیم حتمی شکل اختیار کر جائے گی تو میں میڈیا کو اس حوالہ سے آگاہ کروں گا۔ نواز شریف، شہباز شریف یا دیگر اپوزیشن سے ہمارا ذاتی لڑائی جھگڑا تو نہیں ، یہ جو لڑائی جھگڑا ہے یہ پاکستان کے لوگوں کے پیسے ہیں، یہ لوگ پاکستان کے لوگوں کے پیسے لوٹ کر باہر لے گئے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ پاکستان کے لوگوں کے پیسے ان کو واپس کریں اور ہمارے خزانہ میں آئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہزار ارب روپے اگر پاکستان میں آتے ہیں تو ہم یہ رقم صحت پر خرچ کر سکیں گے، تعلیم پر خرچ کر سکیں گے، عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے پر خرچ کر سکیں گے، یہ ہمارا بنیادی مقصد ہے۔ ان سے جیل بھی نہیں کٹ رہی اور پیسے بھی نہیں دے رہے اور باہر آکر کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہو گیا، ہم چاہتے ہیں سیاست اور جرم میں فرق کیا جائے اور پاکستان کا پیسہ پاکستان میں واپس آئے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف اگر پیسے واپس کر دیتے ہیں تو ہم انہیں جیلوں میں کیوں رکھیں گے ہماری ان سے کوئی ذاتی لڑائی تو نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں کراچی اربن ڈویلپمنٹ کارپوریشن بنا کر کراچی کی ترقی کے لئے 108ارب روپے کا پیکیج دیا ہے کیونکہ بدقسمتی سے جو پیسہ سندھ میں جا رہا ہے یا وہ دبئی میں نکلتا ہے یا لندن میں نکلتا ہے، ہم نے اس کے متبادل انتظامات کرنے ہیں اور کوئی متبادل انتظامات ہم نے کئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں جہاں پر پیسہ بھیج رہے ہیں وہاں پر پیسہ لگے اور اس کے لئے ہم کوشش کر رہے ہیں۔

Please follow and like us:

Leave a Reply