204

7 اپریل کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1348ء پراگ میں چارلز یونیورسٹی کی تعمیر۔

1509ء فرانس نے وینس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا

1795ء فرانس نے میٹر کو لمبائی کا پیمانہ بنا لیا۔

1795ء فرانس میں لمبائی کی پیمائش کے لیے میٹر کو بنیادی اکائی کے طور پر رائج کیا گیا

1831ء برازیل کے بادشاہ پیدرو اول تخت سے دست بردار ہو گئے اور ان کے بیٹے پیدرو دوم بادشاہ بن گئے۔

1906ء الجریکاس کانفرنس میں فرانس نے کاسپانا (اسپین) کو مراکش کا کی حاکمیت دے دی۔

1927ء دنیا کی سب سے پہلی بڑے فاصلے پہ ٹیلیوژن نشریات۔

1939ء اٹلی نے البانیہ پر حملہ کیا

1946ء فرانس نے شام کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کیا

1948ء اقوام متحدہ نے صحت کی عالمی تنظیم کے قیام کا اعلان کیا

1948ء اقوام متحدہ نے عالمی تنظیم صحت کا آغاز کیااورعالمی یومِ صحت منانے کاآغاز کیا گیا۔

1953ء ڈاگ ہیمرزکیولڈ اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل بنے۔

1978ء چھاپے خانے کے موجد گٹن برگ کی چھاپی ہوئی انجیل نیویارک میں بیس لاکھ ڈالرمیں فروخت کی گئی

1988ء روس نے افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا کا اعلان کیا

1996ء پاکستان نے سنگاپور میں سری لنکاکوشکست دے کر سنگر کپ اپنے نام کیا

2005ء ابراہیم الجعفری عراق کے وزیر اعظم بنے

2008ء سندھ اسمبلی میں ہنگامہ، ارباب رحیم کی جوتوں سے پٹائی۔

ولادت

1768ء ماہ لقا بائی چنداؔ، اردو زبان کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ تھی۔

ماہ لقا بائی کے بارے میں تفصیلات جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

1770ء ولیم ورڈذورتھ انگریزی زبان کا شاعر تھا۔ اسنے اپنے دوست کالرج کے ساتھ مل کر انگریزی ادب میں رومانوی تحریک کی بنیاد رکھی۔ فطرت ورڈذورتھ کی شاعری کی اہم خصوصیت ہے۔ ان کا انتقال 23 اپریل 1850 کو ہوا۔

1889ء گبریلا مسٹرال، ایک لاطینی امریکہ کی پہلی ادیبہ تھی جنھوں نے نوبل ادب انعام 1945 میں جیتا۔ ان کا انتقال 10 جنوری 1957 کو ہوا۔

1922ء این میری شمل، ایرانیات، اقبالیات، سندھیات اور علوم مشرق کی ماہر اسلامی تہذیب کی معروف محقق اور معروف مستشرق۔ جرمنی کے شہر ایرفورٹ (ساکسنی) میں پیدا ہوئیں۔ انیس برس کی عمر میں بون یونیورسٹی سے مملوک مصر میں خلیفہ اور قاضی کا رتبہ کے عنوان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔ اُن مستشرقین کے برعکس جو اسلام میں خامیاں اور اس کا مغربی تہذیب سے تصادم تلاش کرتے رہتے ہیں، ایسی محقق تھیں جنہوں نے اسلام کا مطالعہ اور تحقیق اُس کے تخلیقی جوہر اور دانش کو ڈھونڈنے کے لیے کیا۔ ان کا انتقال 26 جنوری 2003ء کو ہوا۔

1935ء آغا سلیم پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے مشہور و معروف افسانہ نگار، ڈراما نویس، ناول نگار، مترجم، صحافی اور براڈکاسٹر تھے۔ وہ سندھی زبان کے ناول ہمہ اوست اور شاہ جو رسالو کا اردو ترجمہ رسالہ شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا انتقال 12 اپریل 2016ء کو ہوا۔

1920ء روی شنکر مشہور بھارتی موسیقار

1939ء فرانسس فورڈ کوپولا، اطالوی نژاد امریکی فلمساز

1954ء جیکی چین، ہانگ کانگ اور ہالی ووڈ کے ایک ایکشن اور کامیڈی اداکار، کوریوگروفر، پروڈیوسر، ہدایت کار، اسکرپٹ رائٹر، موسیقار اور مارشل آرٹ اسٹنٹ آرٹسٹ ہے۔

جیکی چین کے بارے میں تفصیلی مضمون پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

1964ء رسل کرو، نیوزی لینڈر نژاد آسٹریلوی اداکار

1944ء گیر ہارڈ شروڈر، ڈوئچ لینڈ، جرمنی کے چانسلر

1947ء مخدوم شہاب الدین جنوبی پنجاب پاکستان کے شہر رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاست دان اور سابقہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نا اہلیت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک صدر و صدر پاکستان آصف علی زرداری کی طرف سے وزات عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ اس سے پہلے وہ ٹیکسٹائل کے وزیر کے عہدے پر فائز رہے۔

وفات

1879ء بیگم حضرت محل، ہندوستان کی جنگ آزادی میں پہلی سرگرم عمل خاتون رہنما کے نام سے مشہور ہے۔

بیگم حضرت محل پر تفصیلی مضمون کے لیے یہاں کلک کریں

1789ء سلطان عبد الحمید اول، سلطنت عثمانیہ کے 27 ویں سلطان تھے۔ وہ سلطان احمد ثالث کے صاحبزادے تھے اور اپنے بھائی مصطفی ثالث کے بعد 21 جنوری 1774ء کو تخت سلطنت پر بیٹھے۔ عبدالحمید نے اپنی زندگی کے ابتدائی 43 سال کا بیشتر عرصہ حرم میں گزار۔ سلطان بغاوت کے خطرے کے پیش نظر شہزادوں کو “حرم میں قید” کر دیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم والدہ رابعہ شرمی سلطان سے حاصل کی جنہوں نے عبد الحمید کو تاریخ اور خطاطی کے علوم سکھائے۔ حرم کی مقید زندگی گزارنے کے باعث عبد الحمید ریاستی معاملات پر کوئی گہری نظر نہیں رکھتے تھے اور اس طرح مشیروں کے رحم و کرم پر رہ گئے۔ البتہ حرم کی تربیت نے انہیں بہت مذہبی اور امن پسند طبیعت دی۔ ان کی حکومت کے آغاز کے اگلے ہی سال سلطنت عثمانیہ کو جنگ کولویا میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث اسے 1774ء میں ذلت آمیز معاہدہ کوچک کناری پر دستخط کرنا پڑے جو اس کے زوال کے آغاز کی واضح دلیل تھی۔ اپنی تمام تر ناکامیوں کے باوجود عبد الحمید اول کو سب سے رحم دل عثمانی سلطان تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی مذہبی طبیعت کے باعث لوگ انہیں “ولی” کہا کرتے تھے۔ وہ 20 مارچ 1725 کو پیدا ہوئے۔

1914ء غازی محمد ایوب خان یا امیر محمد ایوب خان ان کو میاوند کا وکٹر یا افغان شہزادہ(پرنس چارلی) بھی کہا جاتا ہے، غازی محمد ایوب خان کچھ عرصے افغانستان کے صوبہ ہرات کے گورنر رھے۔ وہ 31 مئی، 1879 سے 1880 اکتوبر تک افغانستان کے امیر رھے۔ دوسری اینگلو افغان جنگ میں افغانوں کی فوج کی قیادت کی۔ یکم ستمبر 1880 کو انھیں فرنگی جرں ل فیڈریک رابرٹ نے قندرھار کے معرکے میں شکست دی۔ انہیں افغانستان کے قومی ہیرو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ وہ پشاور میں پیوند خاک ہیں۔ ان کی پیدائش کا سال 1857 بیان کیا جاتا ہے۔

2018ء پیٹر گرون برک جرمنی، طبیعیات دان تھے جنھیں 2007 میں یہ انعام بہت بڑے مقناطیسی مزاحمت کو دریافت کرنے پر فرانسیسی سائنس دان البرٹ فرٹ کے ہمراہ نوبیل انعام ملا۔

تعطیلات و تہوار

صحت کا عالمی دن

اپنا تبصرہ بھیجیں