غیر قانونی طور پر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والی کمپنیوں کیخلاف پورے ملک میں کریک ڈائون شروع

Spread the love

ملوث 31 دوا ساز کمپنیوں کے خلاف ایکشن ،زائد قیمت وصول کرنے والی ادویہ ساز کمپنیوں کی  143 ادویات قبضے میں لے لیں

جو ادویہ ساز کمپنیاں غیر قانونی اضافے میں ملوث ہیں ان کے خلاف سخت قانون کاروائی کی اور بھاری جرمانے کئے ، ترجمان ڈرگ ریگو لیٹری اتھارٹی

قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کیساتھآہنی ھاتھوں سے نمٹا جائیگا، قانون شکنوں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کریک ڈائون کیا جائے، وفاقی وزیر

اسلام آباد (وائس آف ایشیا)وفاقی وزیر صحت عامر کیانی کی ہدایت غیر قانونی طور پر ادویات کی قیمتوں میں

اضافہ کرنے والی کمپنیوں کیخلاف پورے ملک میں کریک ڈائون شروع کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی

وزیر صحت عامر محمود کیانی کی ہدایت پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے غیر قانونی طور پر ادویات کی

قیمتوں میں اضافہ کرنے والی کمپنیوں کیخلاف پورے ملک میں کریک ڈائون شروع کر دیا ۔ ترجمان ڈرگ

ریگو لیٹری اتھارٹی کے مطابق غیر قانونی طور پر اضافے میں ملوث 31 دوا ساز کمپنیوں کے خلاف ایکشن

لیا اور زائد قیمت وصول کرنے والی ادویہ ساز کمپنیوں کی  143 ادویات قبضے میں لے لیں ۔ ترجمان ڈرگ

ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق جو ادویہ ساز کمپنیاں غیر قانونی اضافے میی ملوث ہیں ان کے خلاف سخت

قانون کاروائی کی اور بھاری جرمانے کیے ۔ ترجمان کے مطابق وہ دوا ساز کمپنیاں جو عوام سے زائد قیمتیں 

وصول کررہی تھی ان ادویات کی پروڈکشن بند کر دی گئی ہے۔ڈریپ کے ایس آر او 913 کے تحت زائد قیمت

وصول کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے وصول کرنے کے علاوہ ان سے ریکوری بھی کی جائیگی۔

ڈریپ کے مطابق قانون شکنوں کے خلاف ڈرگ ایکٹ کے تحت مقدمات کیے جا رہے ہیں ۔وفاقی وزیر صحت

عامر محمود کیانی نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایت مارکیٹ کا سروے کیا جائے تاکہ زائد قیمتوں کے

حوالے سے معلومات اکٹھی کی جائیں ۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کیساتھآہنی

ھاتھوں سے نمٹا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے صوبائی دفاتر کو مراسلہ ارسال کر دیا۔

مراسلہ میں کہاگیا کہ قانون شکنوں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کریک ڈائون کیا جائے۔عامر محمود کیانی نے

کہاکہ عوام کو مناسب قیمت پر اور معیاری ادویات کی فراہمی کے لیے حکومت اپنی ذمہ داری پوری کریگی۔

Please follow and like us:

Leave a Reply