حمزہ شہباز کی گرفتاری کے خوف سے بیسمنٹ میں چھپ گئے: نیب حکام

Spread the love

لاہور(صرف اردو ڈاٹ کام نیوز) نیب کی طرف سے حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے نیب حکام کے ساتھ پولیس کی بڑی تعداد96 ایچ ماڈل ٹاون پہنچ چکی ہے اور ماڈل ٹاون کا علاقہ اس وقت پولیس اور کارکنان کے درمیان کشمکش کا شکار نظر آرہا ہے واضح رہے کہ کل شام بھی حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے نیب ٹیم پہنچی تھی جس پر حمزہ شہباز کے گارڈ نے ان پر اسلحہ تان لیا اور ایک نیب اہلکار کو تھپڑ مارے اور اس کے کپڑے پھاڑ دیئے۔


مبینہ طور پر حمزہ شہباز اور اس سے والد میاں شہباز شریف 96 ایچ ماڈل ٹاون کی بیسمنت میں موجود ہیں اور گرفتار ی کے خوف سے خواتین اور بچوں کا سہارا لے کر چھپے بیٹھے ہیں۔ اس وقت ماڈل ٹاون میں پولیس کی طرف سے رینجر کو طلب کیا گیا اور کچھ دیر قبل رینجر کے دستے پہنچ گئے ہیں۔ حمزہ شہباز اور مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق ان کو استثنیٰ حاصل ہے جب کہ نیب ان کو غیر قانونی طور پرگرفتار کرنا چاہ رہی ہے ان کی گرفتار کے لیے قانونی تقاضہ پورے نہیں کیے گئے۔ 4 اپریل کے نوٹس کے حوالے سے ن لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نوٹس بھی ان کو مناسب اور قانونی طریقہ کار سے نہیں بھیجا گیا ۔ یہ نوٹس رجسٹرڈ ڈاک سے موصول ہونا چاہیے تھا جیسا کہ اس سے قبل ہوتا رہا ہے مگر 4 تاریخ کا نوٹس دستی آیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ کسی کو عدالتی نوٹس محض ڈاک سے ہی بھیجا جائے عدالت کی طرف سے روزانہ بےشمار لوگوں کو روبکار اور نوٹس دستی دیئے جاتے ہیں۔ مگر پاکستان میں ہر شخص اپنے مفاد کے لیے آئین اور قانون کی تشریح اپنی مرضی سے کرتا چلا آرہا ہے۔


سیاسی اراکین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کو گرفتاری سے خوف زدہ ہو کر چھپنا نہیں چاہیے وہ ایک لیڈر ہیں اور ان کو باہر نکل کر گرفتاری دے دینی چاہیے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کارکنوں کی کچھ تعداد پولیس رکاوٹ عبور کر کے آگے بڑھنے میں کامیاب ہو گئی ہے ۔
ٹی وی پر چلنے والی خبروں میں کہا گیا ہے کہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد پولیس اہلکار رکاوٹ کھول کر لوگوں کو اندر آنے دے رہی ہے۔ اس سلسلہ میں ماڈل ٹاون میں موجود ہمارے نمائندے نے پولیس حکام کے مطابق بتایا ہے کہ پولیس حکام نے کچھ لوگوں کو اندر آنے کی اجازت اس لیے دی ہے کہ وہ قرب و جوار کے رہائشی ہیں۔


مسلم لیگ ن نے باقی سیاسی پارٹیوں کی طرح یہ ثابت کیا ان کے اراکین اور لیڈر پاکستان کے عام شہری نہیں ہیں اور یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ان کے اور عام لوگوں کے لیے قانون کی تشریح مختلف ہے۔ وہ جب چاہیں ریاست کو چیلنج بھی کر سکتے ہیں اور قانون کی دھجیاں بھی بکھیر سکتے ہیں۔ پاکستان 70 برسوں کی تاریخ میں آئین اور قانون کے ساتھ حکومت اور اپوزیشن کا یہی چوہے بلی کا کھیل جاری ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply