4 اپریل کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1581ء سر فرانشش ڈریک نے دنیا کا ایک چکر پورا کر لیا۔

1814ء نپولین نے پہلی بار حکومت چھوڑ دی۔

1905ء کانگڑا میں شدید زلزلے میں 370000 لوگ جاں بحق ہوئے۔

1939ء فیصل دوم عراق کے بادشاہ بن گئے۔

1949ء بارہ ممالک نے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے نیٹو کی بنیاد رکھی۔

1969ء امریکی سرجن دینٹان کولے نے پہلا مصنوعی عارضی دل تبدیل کیا۔

1973ء نیوریارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرکا افتتاح ہوا اور وہاں موجود دفاتر نے باقاعدہ کام کا آغاز کیا۔

1976ء کمبوڈیا کے شاہزادہ نورودوم سیہانوک اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

1979ء ذوالفقار علی بھٹو، سابق وزیر اعظم و صدر پاکستان، کی موت کی سزا پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان کو پھانسی دے دی گئی۔ بہت سے ممالک نے احتجاجاً پاکستان سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے جو افغانستان پر سوویت فوج کشی کے بعد امریکی دباؤ کے زیر اثر بحال ہو گئے۔

2006ء فرانس میں تیس لاکھ لوگوں نے پہلے ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ قانون کے خلاف مظاہرہ کیاسات لاکھ افراد نے پیرس میں احتجاجی مظاہرہ کیااور طلبہ تنظیموں نے ہڑتال کا اعلان کیا۔

ولادت

1859ء پیر سید مہر علی شاہ، سلسلہ عالیہ چشت کے ایک عظیم روحانی بزرگ تھے۔ وہ ایک عظیم رہنما، ولی اللہ، حنفی عالم اور قادیانی مرزائی فرقے کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے کئی کتابیں خاص طور غیر راسخ العقیدہ اور مرزائی فرقے کے رد میں “سیفِ چشتیائی” لکھی۔ ان کا انتقال 11 مئی 1937 کو ہوا۔

1893ء شیخ اسماعیل پانی پتی، مترجم، مضمون نگار، مصنف، صحافی، شیخ اسماعیل کی مکتب کی تعلیم کچھ زیادہ نہ تھی لیکن وہ تو صحیح معنوں میں طالب علم تھے۔ پڑھنے لکھنے کا شوق اُنہیں بچپن سے تھا۔ یہ شوق اُنہوں نے ذاتی مطالعے سے مکمل کر لیا تھا۔ اپنی محنت اور سلیقے سے علمی و اَدبی دنیا میں مقام حاصل کیا کہ اُن کا صفِ اَول کے مصنفین میں شمار ہونے لگا۔ بہت جلد ہی علمی قابلیت کی بنا پر وہ صحافی اور مصنف بن گئے۔ کم عمری میں ہی لکھنے لگے۔ اُن کا سب سے پہلا مضمون پندرہ برس کی عمر میں شائع ہوا تھا۔ 1924ء میں اُنہوں نے اپنا ذاتی ماہنامہ جامِ جہاں نما کے نام سے پانی پت سے جاری کیا۔ بعد ازاں مولوی وحیدالدین سلیم پانی پتی کے مشورے پر اِس جریدے کا نام تبدیل کرکے کائنات رکھ دیا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ ماہِ ستمبر 1947ء میں تباہ حالی کی صورت میں لاہور پہنچے۔ یہاں اُنہوں نے بسر اوقات کے لیے اپنے قلم کو آزمایا اور ماہنامہ عالمگیر کے مدیر مقرر ہو گئے۔ دو سو روپئے مشاہرہ مقرر ہوا۔ چند ہی مہینوں کے بعد رسالے کے مالک حافظ محمد عالم سے اختلاف ہو گیا اور یہ مستعفی ہو گئے۔ اِس کے بعد کہیں کوئی ملازمت نہیں کی۔ ان کا انتقال 12 اکتوبر 1972 میں ہوا اور وہ لاہور میں مدفون ہوئے۔

1894ء مولانا دین محمد وفائی سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ممتاز سیاستدان، عالم دین، سوانح نگار، صحافی، تذکرہ نویس، ادیب اور تحریک خلافت کے سرگرم کارکن تھے۔ آپ نے صحافت کے ذریعے انگریز سامراج سے آزادی کے لیے مسلمانان ہندو پاکستان کی ذہن سازی کا کردار ادا کیا اور مسلم تشخص کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ دین محمد وفائی نے 22 کتابیں تحریر کیں جن میں تین جلدوں میں شائع ہونے والا تذکرہ مشاہر سندھ بڑی علمی شان رکھتا ہے۔ 10 اپریل، 1950ء کو پاکستان کے نامور عالم دین، صحافی اور تحریک خلافت کے کارکن مولانا دین محمد وفائی سکھر، پاکستان میں وفات پاگئے۔

1910ء ڈاکٹر محمد باقر، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو، فارسی اور پنجابی کے نامور اسکالر، محقق، افسانہ نگار، نقاد اور ماہرِ تعلیم اور جامعہ پنجاب کے شعبۂ فارسی کے صدر تھے۔ 1939ء میں انہوں نے لندن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1950ء سے 1970ء تک وہ جامعہ پنجاب کے شعبۂ فارسی کے صدر رہے اور 1965ء میں جامعہ پنجاب اورینٹل کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ ان کی تصانیف میںاُردوئے قدیم – دکن اور پنجاب میں، تہذیب عمل، شعرائے پنجاب، لندن سے خطوط، لندن سے لاہور تک، احوال و آثار اقبال، احوال و تعلیمات شیخ ابوالحسن ہجویری داتا گنج بخش اور Lahore Past and Present کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی تصانیف میں خدا کی لاٹھی، سیاہ کار اور دوسرے افسانے، شعرائے پنجاب، تہذیب عمل، شرح بانگ درا، احوال و آثار اقبال۔ ڈاکٹر محمد باقر 25 اپریل، 1993ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور کے ماڈل ٹاؤن قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

1924ء سردار محمد عبد القیوم خان تحریک آزاد کشمیر کے بانیوں میں شمارہوتا ہے، انہیں بھارتی فوج کے خلاف آزادی کی تحریک میں پہلی گولی چلانے کا اعزاز حاصل تھا۔ اسی لیے ان کو مجاہد اول کا لقب دیا گیا۔ سردار قیوم آزاد کشمیر کی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کے سپریم لیڈر، صدر اور وزیر اعظم اور سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کے والد تھے۔ 8سمبر1956 کو پہلی بار آزاد کشمیر صدر بنے اور تین بار یہ اعزاز حاصل رہا اور29جولائی 1991ء سے 31جون 1996ء تک آزاد کشمیر کے وزیر اعظم رہے ،لیکن 1957 سے ہی مسلم کانفرنس تاحیات ان ہی کے پاس رہی ۔ پاکستانی پارلیمانی کشمیر کمیٹی کا چئیرمین ،تین با ر آزاد کشمیر کا صدر ،ایک بار وزیر اعظم ،14بار آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر اور تا حیات سپریم کمانڈر ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ سردار عبد القیوم خان تنازع کشمیر اور خطہ کشمیر کی ایک ایسی زندہ تاریخ تھی جن کی مثال شائد ملے۔ سردار محمد عبد القیوم خان سابق صدر وزیر اعظم آزاد کشمیراور 10جولائی 2015ء کو 91سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

1932ء اینتھونی پرکنز، امریکی اداکار

1942ء احفاظ الرحمان، اردو شاعر، جبل پور ،بھارت میں 1942ء میں پیدا ہوئے۔ صحافی، کالم نگار، ادیب، شاعر کراچی(سندھ) پاکستان

1944ء فیصل بن مساعد بن عبد العزیز آل سعود (عربی: فيصل بن مساعد بن عبد العزيز آل سعود) مساعد بن عبدالعزیز آل سعود کا بیٹا اور اپنے تایا شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کا قاتل تھا۔ اس کو 18 جون 1975 کو پھانسی دے دی گئی۔

1949ء پروین بوبی، معروف انڈین اداکارہ جس کی موت انتہائی درد ناک کہانی ہے۔ ان کا انتقال 20 جنوری 2005 کو ہوا۔ ان کے انتقال کا علم تین دن بعد ہوا ان کی لاش بری طرح گل چکی تھی۔

پروین بوبی کی موت کی کہانی جانے کے لیے یہاں کلک کریں

1952ء شعیب منصور ایک پاکستانی فلمساز ہیں۔ ان کی رہائش لاہور میں ہے۔ انہوں نے لالی وڈ فلم خدا کے لیے بنائی جو ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ ان کے تمام ڈرامے جو انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے بنائے اپنے زمانے میں کامیاب ترین رہے ان کے پروگرام، ففٹی ففٹی (sketch comedy)، ان کہی (ٹیلی ویژن سلسلے وار ڈراما، 1982)، میوزک ’89 (پاپ میوزک شو، 1989)، سنہرے دن (ٹیلی ویژن منی سیریز، 1990)، عمران خان (ٹیلی ویژن دستاویزی فلم، 1993)، گٹار ’93 (وائٹل سائنز موسیقی کی وڈیو کا انتخاب، 1993)، الفا براوو چارلی (ٹیلی ویژن منی سیریز، 1998)، گلز اینڈ گائز (ٹیلی ویژن حقیقت پر مبنی شو، 1999)، دھندلے راستے (ٹیلی ویژن منی سیریز)، جھرنے (پایپ موسیقی کا شو)
جنوں ابھی کم نہیں ہوا۔ پاکستان ٹیلی ویژن تقسیم انعامات کی تقریب 1986۔ لکس اسٹائل اعزاز تقریب 2008۔ گیٹار93 (ویڈیوز پاپ بینڈ وائٹل سائنز کی بنیاد پر، نومبر 1993)، ان کے کام پر انہیں تمغہ حسن کارکردگی، لکس سٹائل ایوارڈ، اور دیگر متعدد ایوارڈ مل چکے ہیں۔ ان کی فلم ’’بول‘‘ لکس سٹائل، ایوارڈ سمیت 3 ایوارڈ جیتے۔

1960ء ہیوگو ویونگ، برطانوی نژاد آسٹریلوی اداکار

1963ء میر سراج خان رئیسانی، ایک پاکستانی سیاست دان جن کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے تھا۔ وہ 13 جولائی 2018ء کو پاکستانی عام انتخابات سے قبل اپنی نشست کے لیے مہم چلا رہے تھے اور مہم کے دوران خودکش دھماکا ہو گیا اور فوت ہو گئے۔

1965ء رابرٹ ڈاؤنی جونیئر، امریکی اداکار

1970ء بیری پیپر، کینیڈین اداکار

1979ء ہیتھ لیجر، آسٹریلوی اداکار

1990ء پاکستان کے شہر پسرور سے تعلق رکھنے والی مشہور سماجی اور سیاسی شخصیت محترم جناب عثمان رضا وڑائچ کا یوم پیدائش سماجی و سیاسی شخصیت

وفات

1892ء پوپ نکولس چہارم
1841ء ولیم ہیری ہیرنگٹن، سابق امریکی صدر

1968ء ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر، امریکی سیاہ فام سماجی کارکن

1979ء ذوالفقار علی بھٹو، سابق وزیر اعظم و صدر پاکستان

تعطیلات و تہوار

1960ء سینیگال کا یوم آزادی

Please follow and like us:

Leave a Reply