نیشنل ایکشن پلان کے سیاسی حصے پر عمل، بلوچستان میں سخت چیلنجز کا سامنا ہے ،شاہ محمود قریشی

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نیشنل

ایکشن پلان کے سیاسی حصے پر آگے بڑھنے کی سابق حکومت میں جرات نہیں

تھی اور نہ ہی اتنا دم خم تھا لیکن موجودہ حکومت میں نیشنل ایکشن پلان کو اس

کی اصل روح کے تحت نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی

قیادت کو مشاورت کے لیے دعوت دی ہے، موجودہ صورتحال میں قومی اتفاق

رائے کی ضرورت ہے جس کے لیے پارلیمانی رہنماؤں کو مشاورت کی دعوت

دی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت سے بذریعہ ٹیلی فون رابطہ کیا،

سیاسی قیادت کا رویہ منفی نہیں تھا مگر ہچکچاہٹ تھی، سمجھ سکتا ہوں ہچکچاہٹ

کیوں تھی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں

انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، نا مساعد حالات کے

باوجود کشمیری جدوجہد آزادی کو جاری رکھے ہوئے ہیں، بھارت کے جارحانہ

رویے نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پر کھڑا کر دیا ،موجودہ صورتحال

میں قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، تمام سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا مختلف

لیکن پاکستان کے مفاد پر تمام جماعتیں یکجا ہیں۔بدھ کو شاہ محمود قریشی نے

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت نے جارحیت

کا مظاہرہ کیا ،بھارت کے جارحانہ رویے نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے

پر کھڑا کر دیا ہے تمام سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا مختلف لیکن پاکستان کے مفاد پر

تمام جماعتیں یکجا ہیں، میرے رابطے پر سیاسی جماعتوں کا جواب منفی نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مشرق اور مغرب سے سخت چیلنجز ہیں،بلوچستان

میں بیرونی مداخلت ہورہی ہے، وہاں پر حکومت کی زیادہ توجہ ہے ،وزیراعظم

نے چند روز قبل آرمی چیف کے ہمراہ بلوچستان میں بہت سے منصوبوں کا سنگ

بنیاد رکھا،ہم نے پیغام دیا ہم غافل نہیں ہیں اپنی ذمہ داری سمجھ رہے ہیں۔ انہوں

نے کہا وزیراعظم نے گوادر میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کا سنگ بنیاد رکھا،ہماری

ترجیحات لوگوں کا رہن سہن اور معاشی صورتحال بہتر بنانا ہے،قبائلی علاقوں

میں مین سٹریم میں لانے کے لیے خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا، قبائلی علاقوں

میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہونے لگے ہیں،بلدیاتی انتخابات بھی قبائلی

علاقوں میں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا چاہتے ہیں قبائلی علاقوں کے عوام اپنے

فیصلے خود کرسکیں،گلگت بلتستان میں ایک تحریک کو جنم دیا گیا،ہم کسی بھی

ایسی تحریک سے غافل نہیں ہیں،جب ہمارا دھرنا چل رہا تھا اے پی ایس پشاور کا

سانحہ رونما ہو،ااس سانحے کے بعد قومی قیادت نے مل کر نیشنل ایکشن پلان

بنایا،افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،افواج پاکستان نے اپنی جانیں

دے کر پاکستانیوں کو محفوظ بنایاآپریشن ردالفساد کے بعد ملک میں امن آیا، آج

متاثرہ علاقوں میں مثبت سرگرامیاں ہورہی ہیں۔



Please follow and like us:

Leave a Reply