257

نا مرد معاشرہ

Spread the love

سیمین درانی کا شمار عصر حاضر کے معروف دانشوروں میں ہوتا ہے رفاہ عامہ میں ( پبلک ایڈمنسٹریشن) اعلی اسناد رکھتی ہیں بطور استاد اور منتظم اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں ان کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو کبھی کسی لائن میں کھڑے نہیں ہوتے عام طور پر یہ جہاں کھڑے ہوں لائن ہی وہاں سے شروع ہو جاتی ہے۔


شاعر ہیں اور ظاہری سے بات ہے کہ احساس کا فقدان ہو ہی نہیں سکتا، قلم کی کاٹ زبردست، ان کے موضوعات کا میدان ایسا ہے جس پر قلم اٹھاتے ہوئے بڑے بڑے لوگ جھجکتے رہے اور ہر کسی کو یہ سوال دامن گیر رہا لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے۔ منٹو اور عصمت چغتائی جیسے لوگوں پر ابھی تک فتوے جاری ہوتے ہیں، مجھے یہ کہنے میں کوئی مشکل نہیں ہے کہ یہ فتوے ہمیشہ نام نہاد علما نے جاری کئے یہ وہ لوگ تھے جن کا علم و ادب سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا البتہ انہوں نے اپنی روزی روٹی کے لیے علما کا بھیس بھر لیا تھا۔ سیمین درانی اپنے ارد گرد ماحول اور اس میں پیش آنے والے واقعات پر گہری نگاہ رکھتی ہیں لفظوں کی بساط بچھانے کا خوب سلیقہ ہے البتہ عوامی مسائل کے حوالے سے انہوں نے بہت سادہ زبان استعمال کی ہے۔ جنسی موضوعات پر لکھنے میں ید طولیٰ رکھتی ہیں۔


ادارہ ان کے مضامین گاہے بگاہے شایع کرتے رہے گا۔ البتہ یہ بات مدنظر رہے کہ ادارے کا مراسلہ نگار اور مضمون نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔

پچھلے دنوں میری بچپن کی ہیلپر آئی اسکے ساتھ ہی ایک تیرہ سالہ بچی بھی تھی۔ جس نے طویل دور یتیمی کاٹا تھا اور اب اسکی ماں نے ایک ادھیڑ عمر سے نکاح کرنے کے بعد گھر بسایا تو بچی ذہنی طور پہ اسکو قبول کرنے پہ تیار نہ تھی۔

خالہ اسکو ساتھ رکھتی کہ پارلر کا کام سیکھ لے۔ دو ہفتے بعد جمیلہ پھر میرے گھر آئی تو میں نے حسب معمول سب کا حال احوال پوچھا کہ ہمارا تعلق بچپن سے ہے اور ہماری ماں نے اکٹھے ہی ہمیں پالا پوسا اورہم ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ بہنوں کی طرح رہتے آئے ہیں۔

جمیلہ نے بہت خوشی اور فخر سے بتایا کہ اسکی تو شادی ہوگئی ایک چینی باشندے سے۔

ساتھ ہی مجھے تصاویر بھی دکھائیں۔ کم عمر لڑکا جو بمشکل 18 سال کا ہوگا سوٹ پہنے دلہن کے ساتھ بیٹھا تھا تھا۔ اور تمام افراد (پاکستانی ) ایک غیر ملکی کے ساتھ فخریہ بیٹھے تھے۔ میں نے حیرت سے ششدر سوال کیا۔ رشتہ کہاں سے آیا؟

کیا فیسبک سے دوستی ہوئی؟

تو بولی نہیں باجی: آجکل چائینیز آئے ہوئے ہیں۔اور پاکستانی لڑکیوں سے نکاح کر رہے ہیں۔ میرے شوہر کی خالہ سے کسی نے بات کی تھی۔ وہ ان چینیوں کے رشتے کرواتی ہے۔ اس نے میرے استفسار پہ اسنے میرےعلم میں اضافہ کرتے ہوئے ۔

1۔ نکاح کے وقت کلمہ پڑھ کے مسلمان ہوجاتے ہیں۔

2۔ جہیز نہیں لیتے۔

3۔ لڑکی کو حق مہر دو لاکھ نقد ادا کرتے ہیں جو کہ ماں باپ رکھ لیتے ہیں۔

4۔ دو تولے سونے کا سیٹ ڈالتے ہیں۔

5۔ نان نفقہ پچاس ہزار ماہانہ۔

لڑکی کو الگ فلیٹ میں اسلام آباد رکھا گیا ہے۔ آجکل ہنی موں پہ ہیں۔ اور مجھے تصاویر بھی دکھائیں جن میں چند اور نو عمر پاکستانی لڑکیاں بھی مغربی لباس پہنےبہت خوش بچگانہ پوز بنائے اپنے امپورٹڈ شوہروں کے ساتھ کھڑی تھیں۔

میں ششدر رہ گئی اور پوچھا۔ کیا تم نے دیکھا کہاں رہتی ہے؟۔ بولی۔ باجی اسکی شادی کے بعد اسکی ماں کو جو دو لاکھ ملے خاندان میں اسکی تقسیم کا جھگڑا چل رہا ہے۔ مگر لڑکا انجینئر ہے اور اپنا فلیٹ ہے۔

میں نے مزید کریدا۔

کیا اردو بولتا ہے یا لڑکی کو چینی زبان آتی ہے۔؟

جمیلہ ہنس کے بولی۔ باجی۔ Touch Mobile لیکر دیا ہے۔ دونوں اسپر اپنی زبان میں بات کرتے ہیں اور ترجمہ سن لیتے ہیں۔ اس طرح گفتگو ہوجاتی ہے۔

میں ہاتھ ملتی رہ گئی اور کہا’’ تمہاری بھانجی تو اب محفوظ نہیں۔ اسکو انسانی منڈی میں بیچ دیا جائے گا۔ تمہیں کیا معلوم اسکی وڈیو بھی بناتے ہوں۔

جمیلہ کو پریشانی تو لاحق ہوئی مگر بولی اللہ مالک ہے۔ اسکی بیوہ ماں کو بھی دوسرے شوہر نے گھر سے نکال دیا ہے اور وہ میرے پاس رہ رہی ہے۔

توجہ فرمائیں۔ 1مکمل شرعی طور پہ لڑکی کو اپنایا گیا جو ہمارے مسلمان معاشرے میں ناممکن ہے۔2۔ اسکو وہ تمام حقوق ادا کیے گئے جو کہ ایک مسلمان عورت کا حق ہیں مگر جن کو ہم نے شرعی اور روایتی لقب دیکر رگید ڈالا ہے۔ 3۔ غربت کو ڈھانپا گیا۔ دلہا کی جانب سے کوئی تقاضا نہ تھا۔ آج سرعام کا ٹائٹل دیکھا تو اقرار الحسن نے ان بچیوں کی زندگی بچائی۔ انکو منڈی کا مال بننے نہ دیا بلکہ تحفظ فراہم کیا۔ وہی اقرار الحسن جس کا پچھلے دنوں ہمارے معاشرے کے مرد تمسخر بناتے تھے۔ ہمارا معاشرہ، پدر سری نظام کے ساتھ ساتھ مزہبی، معاشرتی اور اخلاقی زوال کا شکار ہے۔ ادھر مرد نہیں جنے جاتے جو نکاح کریں۔ یہ بکتے ہیں۔ جہیز اور رسومات کو عوض۔ اقرار الحسن کی پوٹ پہ کسی آدمی کا کمنٹ تھا۔ “ہم مر گئے تھے کیا” نہیں تم مرے نہیں۔ بلکہ ایک نامرد معاشرے کی پیداوار ہو۔ کیونکہ اب چونکہ وہ لڑکیاں کنواری نہیں رہیں سو تمہاری مردانگی کے پیمانے اور معاشرتی اقدار کے قابل نہیں۔ اب انکا اللہ ہی وارث ہے۔ تم وارث ہوتے تو آج تمہاری گھر کی عزت کے ساتھ مزہب اور غربت کو توقیر دیکر کھلواڑ نہ کی جاتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں