186

2 اپریل کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1801ء – کوپنہیگن میں برطانیہ کا پرچمبرطانوی بیڑے نے ڈنمارک کا پرچمڈینمارک کے بیڑے کو برباد کر دیا

1930ء – ہیل سلیسی حبشہ کے شاہنشاہ بن گئے

1982ء – آرجنٹین نے فاکلینڈز آئلینڈز پر حملہ کر دیا

1992ء – پیئیر بیریگووی فرانس کے وزیراعظم بن گئے

1970 قطر نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی

1945 سوویت یونین اور برازیل کے درمیان سفارتی رابطے قائم ہوئے

1745 آسٹریا اور باویریا کے درمیان امن معاہدہ طے ہوا

ولادت

742ء – شاہ شارلمین، فرانسیسی بادشاہ

1902ء بڑے غلام علی خان، پٹیالا گھرانے سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی کلاسیکی گلوکار تھے۔ اپنے کمال فن کے باعث آپ کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ آپ کا انتقال – 25 اپریل 1968ء کو ہوا۔

استاد بڑے غلام علی خان کے بارے میں تفصیلات جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

1614ء شاہزادی جہاں آرا بیگم شاہ، مغل سلطان شاہ جہاں اور ممتاز محل کی دختر۔اورنگ زیب کی بڑی بہن۔

جہاں آرا بیگم کے بارے میں تفصیلات جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

1647ء سبیالامریان جرمن نژاد خاتون، اپنے دور کی عظیم نقاش و عقلیت پسند خاتون۔ جنہیں حشرات و نباتات پر ماہرانہ تحقیق کی وجہ سے دنیائے سائنس میں خاص مقام حاصل ہے۔ ان کا انتقال 13 جنوری 1717 کو ہوا۔

1868ء پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اور جسٹس چیف کورٹ، لاہور تھے۔میاں شاہ دین کا تعلق باغبانپورہ کے میاں خاندان سے تھا جو ایک آرائیں خاندان تھا۔ والد مولوی نظام الدین فاضل بزرگ تھے جبکہ دادا مولوی قادر بخش فارسی اور عربی کے جید عالم تھے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں وہ شاہی خاندان کے بچوں کی اتالیقی پر مامور تھے۔ طبیعت شعر و سخن پر مائل تھی اور تخلص نادر تھا۔میاں شاہ دین کا قد پست، بدن بھاری، چہرہ کتابی شہابی، پیشانی فراخ، آنکھیں قدرتی طور پر خمار آلود، ناک بلند، ابرو گھنے، ہونٹ پتلے پتلے، بال پیچھے کی طرف کو مڑے ہوئے، داڑھی سیاہ بھری بھری اقر مقطع شکل کی، شکل سے بزرگی کے آثار معلوم ہوتے تھے۔ غالباً یہ حلیہ 1890ء کے بعد کا ہے۔ اکتوبر 1908ء میں میاں شاہ دین کو چیف کورٹ آف لاہور کا جج مقرر کر دیا گیا، وہ اِس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے مسلمان تھے۔ ان کا انتقال 2 جولائی 1918ء کو ہوا۔ اکی تاریخ وفات کا قطعہ علامہ اقبال نے کہا

1872ء نکولس مرے بٹلر، ایک امریکی ماہر تعلیم تھا۔ 1882ء میں کولمبیا کالج سے فلسفے میں بی۔ اے کیا۔ دو سال بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ برلن اور پیرس میں مرید تعلیم حاصل کی۔ پانچ سال بعد کولمبیا یونیورسٹی میں فلسفے کا پروفیسر مقرر ہوا۔ 1902ء میں اسی یونیورسٹی کا صدر منتخب ہوا۔ 44 سالہ عہد صدارت میں کولمبیا یونیورسٹی کو دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹوں ے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی امن سے بھی گہری دلچسپی لی۔ اس صلے میں 1931ء میں امن کا نوبل پرائز حاصل حاصل کیا۔ صدر میکنلی سے لے کر صدر ٹرومین تک امریکا کے نوصدروں نے اس سے خط کتابت کی اس نے یہ تمام مکاتیب سترہ جلدوں میں مرتب کرکے کولمبیا یونیورسٹی لائبریری کو پیش کیے۔ اُسے ملکی و غیر ملکی یونیورسٹیوں کی طرف سے 37 اعزازی ڈگریاں دی گئیں۔ علمی انجمنوں کا اعزازی رکن تھا۔ 1934ء تک اس کے تین ہزار سے زیادہ خطبے، رودادیں اور تحقیقی مضامین شائع ہو چکے تھے۔ ان ا انتقال 7 دسمبر 1987ء کو ہوا۔

یکم اپریل کے واقعات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

1969ء انجینئر شوکت اللہ خان پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر رہے جنہیں اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے راجا پرویز اشرف کی ہدایت پر 11 فروری 2013ء کو تعینات کیا۔ ان کے بعد مہتاب احمد خان عباسی اقبال ظفر جھگڑا مشتاق احمد غنی اور 2019 میں پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے شاہ فرمان کو گورنر مقرر کیا گیا ہے۔

1981ء آسٹریلوی کرکٹ کپتان مائیکل کلارک نے جنوری کے پہلے ہفتے اپنے ہی ملک میں بطور کپتان پہلی ٹرپل سنچری بنا لی۔ انھوں نے آسٹریلیا کی سرزمین پر بطور کپتان سب سے زیاد 3290 رنز بھی بنائے۔ ان سے پہلے یہ ریکارڈ لیجنڈری کرکٹ کھلاڑی سرڈان بریڈمین کے پاس تھا۔

وفات

1075ء القائم بامر اللہ، خلافت عباسیہ کا چھبیسواں حکمران خلیفہ تھا جس نے 1031ء سے 1075ء تک حکومت کی۔ القائم کے بعد طویل ترین حکمرانی الناصر لدین اللہ نے کی۔ اس کا انتقال 1001ء میں ہوا۔

1928ء تھیوڈور ولیم رچرڈزامریکہ کے ایک کیمیاء دان تھے جنھیں 1914ء میں کیمیاء کا نوبیل انعام دیا گیا جس کی وجہ انکی جانب سے کئی گئی بہت سے عناصر کے اٹامک ویٹ کی صحیح پیمائش تھی۔ ان کی پیدائش 31 جنوری 1868ء میں ہوئی۔

1995ء ہینس الفوین سویڈن کے طبیعیات دان اور نوبل انعام برائے طبیعیات جیتنے والے شخص تھے۔ انھیں یہ انعام 1959 میں لیوس نیل کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا، جس کی وجہ ان کی میگنٹ ہاڈرو ڈآئی نمکس پر ان کا کام تھا۔ ان کی پیدائش 30 مئی 1908ء میں ہوئی۔

2018ء مزامو وِنیفریڈ زانیوے مادیکیزیلا منڈیلا عام طور پر وِنی منڈیلا، جنوبی افریقی اپارتھائیڈ مخالف رہنما، سماجی کارکن اور نیلسن منڈیلا کی بیوی تھی، منڈیلا کی وفات سے قبل 1996ء میں ان میں طلاق ہو گئی تھی۔ ونی نے 1958ء میں نیلسن منڈیلا سے شادی کی تھی۔ 1962ء میں نیلسن منڈیلا کی حراست کے بعد، ونی نے اپارتھائیڈ کے خلاف جنگ آزادی کو جاری پر رکھی۔ اس وجہ سے ونی منڈیلا جنوبی افریقی عوام کے درمیان میں بہت مقبول ہیں، ان کو پیار سے “اماما وے تھو” کہا جاتا ہے، جس کا مطلب مادر ملت ہے۔ انہوں نے افریقی نیشنل کانگریس میں شامل کی تھی اور اس کی خاتون شاخ کی پہلی لیڈر بنی۔ انہوں نے اپنے بچوں کو پرورش دی تھی جبکہ اپارتھائیڈ حکومت نے ان کے شوہر روبن جزیرے پر قید میں رکھے۔ 1969ء سے 1970ء تک انہوں نے اپنی زندگی اپارتھائیڈ حکومت کے پریٹوریا جیل میں گزری۔

تعطیلات و تہوار

بچوں کی کتابوں کا عالمی دن

اپنا تبصرہ بھیجیں