210

گھر میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر وفاقی وزیر سردار علی محمد مہر زخمی

Spread the love

ڈاکوئوں کی جانب سے سردار علی محمد مہر کے سر پر بٹ مارے گئے، کلفٹن کے نجی ہسپتال منتقل

ڈاکوئوں کا گروہ فرار ہونے میں کامیاب ، آئی جی سندھ کا واقعہ کا نوٹس ، انکوائری رپورٹ طلب کر لی

سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام اور نا اہل ہوچکی، شہر میں وفاقی وزیر محفوظ نہیں ہے تو عام آدمی کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟ خرم شیر زمان

کراچی (کرائم رپورٹر) پی ٹی آئی رہنما اور وفاقی وزیر نارکوٹکس کنٹرول سردار علی محمد مہر گھر میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقہ ڈیفنس میں اپنے گھر میں ڈکیتی کی مزاحمت کے دوران وفاقی وزیر نارکوٹکس کنٹرول سردار علی محمد مہر زخمی ہو گئے۔ ڈاکوئوں کی جانب سے سردار علی محمد مہر کے سر پر بٹ مارے گئے جس کے نتیجے میں انہیں سر پر چوٹ لگی تاہم انہیں طبی امداد کیلئے نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ پولیس کی آمد سے قبل ڈاکوئوں کا گروہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

ایس ایس پی ساتھ پیر محمد شاہ کے مطابق ڈکیتوں کا گروہ اسلحہ کے زور پر سابق وزیر اعلی سندھ علی محمد مہر گھر میں داخل ہوا اور لوٹ مار کی۔ انہوں نے بتایا کہ علی محمد مہر کو گولی نہیں لگی تاہم لوٹ مار کے دوران سر پر چوٹ لگی جس کے بعد انہیں کلفٹن کے نجی ہسپتا ل منتقل کردیا۔

دوسری جانب آئی جی سندھ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے جامع انکوائری رپورٹ طلب کر لی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پی ٹی آئی رہنماخرم شیرزمان، راجہ اظہر اور دیگر ہسپتال پہنچ گئے جہاں خرم شیر زمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات علی محمد مہر کے گھر میں 8 سے 10 رکنی نامعلوم افراد گھسے جس پر سابق وزیر اعلی سندھ نے مزاحمت کی تو ان پر تشدد کیا گیا اور وہ زخمی ہوگئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام اور نا اہل ہوچکی ہے،

شہر میں وفاقی وزیر محفوظ نہیں ہے تو عام آدمی کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلی سندھ واقعہ کا نوٹس لیں اور حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔دوسری جانب ایڈووکیٹ جاوید میر نے بتایا کہ علی مہر کو ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا،ابتدائی طور پر کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا، پولیس تحقیقات کر رہی ہے جس کے بعد ہی واقعہ کا حتمی کچھ کہا جاسکے گا۔

ادھر جی ڈی اے رہنما ممبر سندھ اسمبلی شہریار مہر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ علی مہر سادہ طبیعت انسان ہیں، انہوں نے اپنے لیے کوئی سکیورٹی نہیں رکھی، میں گھر گیا تو دیکھا سب سامان پھیلا ہوا تھا، انہوں نے بتایا کہ بظاہر واقعہ ڈکیتی کا لگتا ہے، 6 سے 7 لوگ گھر میں داخل ہوئے تھے جنہوں نے نوکروں کو یرغمال بنایا۔علاوہ ازیں سردار علی محمد خان مہر کیساتھ پیش آنے والے واقعہ پر حلیم عادل شیخ نے شدید مذمت کی اور کہا کہ افسوسناک واقعہ ہے ان کی صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں،

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ سندھ وفاقی وزیر بھی محفوظ نہیں رہے، امن امان کی خراب صورتحال پر وزیر اعلیٰ کا منہ نہیں کھلتا جبکہ شہر میں بڑھتے ہوئے واقعات افسوسناک ہیں۔حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی تمام پہلوئوں سے تفتیش کی جائے تاکہ واقعہ میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں