166

سارے کھیل بدل چکے ہیں

Spread the love

پھر بہار آئی وہی دشت نور دی ہوگی پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے (مومن)

میری دوست! میں اس وقت اپنے گھر کے صحن میں بیٹھی ہوں ۔ دریک کے پھولوں کی خوشبو سارے گھر کو معطر کر رہی ہے ۔
مجھے پنجاب یونی ور سٹی میں ہمارا پہلا موسم بہار یاد آ رہا ہے ۔جب میں عجیب بے چینی اور بے کلی محسوس کر رہی تھی ۔یونی ور سٹی کی کھلی فضا اور آزادی جو مجھ جیسی ایک عام سے قصبے سے آئی لڑکی کے لئے یو ٹو پیا تھی۔

میں جو ہمیشہ سے لڑکوں کی طرح جینا چاہتی تھی ۔ لڑکوں کے ساتھ بچپن میں گلی ڈنڈا ۔سگریٹ کی ڈبیوں کا کھیل ۔ بنٹے /کنچے ، ڈنڈے سے خالی ٹائروں کو دوڑانے میں لڑکوں سے مقابلہ کرتی تھی ،لیکن شام سمے گھر میں قید کر دی جاتی ۔تب میں سوچتی یہ جو بھائی ہے رات کو دیر تک باہر رہتا ہے ،رات کے سناٹے سے لطف اٹھاتا ہے، میں اس لطف سے کیوں محروم ہوں ؟؟

میری سکول کی سہیلیاں میری ان لا یعنی باتوں پر میرا مذاق اڑائیں، مجھے سمجھائیں کہ رات کے تاریک سناٹے میں کوئی لطف نہیں ہوتا بلکہ بلائیں ہوتی ہیں جو بہت ڈراؤنی ہوتی ہیں۔ اور پھر ہمارا پورا دوستوں کا گروپ ڈائنوں، چڑیلوں، بھوتوں کے قصے سنانا شروع ہو جاتا۔ ہر کوئی پورے وثوق سے سچا قصہ سناتا جو اسے اس کی کسی قابل اعتماد ہستی نے سنایا ہوتا۔

ایسے میں یونیورسٹی میں جا کر پڑھنا اور وہاں اپنی من پسند آزادی سے لطف اندوز ہونے کا خواب دل و دماغ کے پوشیدہ گوشوں میں پلتا رہا۔

سکول کی آخری آلو داعی پارٹی میں لڑکیوں کا رونا دھونا میری سمجھ سے باہر تھا۔ میں تو خوش تھی کہ کالج جاؤں گی اور پھر اپنی آئیڈیل زندگی، یونیورسٹی، بس ایک قدم کی دوری پر رہ جائے گی۔

کالج کے چار سال اور پھر ایک اور الو داعی پارٹی جس میں بچھڑنے والوں کا رونا دھونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک میں اس سارے غمگین ماحول سے بہت دور اپنی منزل کے انتہائی قریب خوشی سے سرشار تھی۔

یونیورسٹی میں پاکستان، آزاد کشمیر، اور بالخصوص پنجاب کے مختلف علاقوں سے آئےہوؤں سے نئی دوستیاں قائم ہوئیں، اور یہ پہلا موسم بہار تھا۔ میں بے چین اور بے کل تھی۔ میرا آئیڈیل ماحول پھر یہ بے چینی کیسی؟؟؟

جب اپنے قصبے میں تھی تو اس موسم میں میرا پسندیدہ مشغلہ بابا ولی قندھاری کی پہاڑی پر چڑھنا ہوتا تھا اور وہ میں ہمیشہ سیدھا راستہ چھوڑ کر جو سال ہا سال کے استعمال سے بہت آسان ہو چکا تھا ٹیڑھا اور چٹانی راستہ اپناتی جو میرے اندر کی بے چینیوں کے لئے باعث تسکین ہوتا ۔

دوسرا مشغلہ واہ گارڈن کے باغات جو اس وقت تک اپنا قدرتی حسن قائم رکھے ہوے تھے وہاں جانا اور وہاں کے چشموں جن کا ایک حصہ بالخصوص خواتین کے لئے وقف تھا میں گھس جانا تھا۔

اپنے قصبے کے شفاف چمکتے پانی کے چشمے میری بے چین روح کو سیراب کرتے تھے۔
سب سے بڑھ کر دھریک کے پھولوں کی مہک سارے قصبے کی فضا میں رچ بس جاتی، میں اس مہک کی دیوانی تھی۔

تب ہر گھر میں چھوٹے سے چھوٹے گھر کے صحن میں دو درخت ایک دھریک اور ایک بیری ضرور ہوتے تھے۔ دھریک کے پھولوں کا گلدستہ بنا کر اس میں ایک یا دو گلاب کے پھول لگا کر گھروں میں سجاوٹ کی جاتی۔ گلاب کے پھول کم یاب تھے تاھم ڈھونڈ دھانڈ کے بیساکھی پر ہم بچے سکھ خواتین کو تحفۃً پیش کرتے۔

دھریک کے پھول جب اس کے پھل یا بیج جو بھی کہہ لیں میں تبدیل ہوتے جنھیں لوکل زبان میں ہم در کانوکہتے تھے، بچوں کے کھیل کا سامان مہیا کرتے ۔

در کانووں اور کانے جن سے قلم بنتے تھے سے بچے فرنیچر کی قسم کے کھلونے بناتے درکانو میں کانے کا چھلکا چبھو کر میز کرسی چارپائی وغیرہ بنائی جاتی موٹے سوتی دھاگے سے چارپائی کرسی کی بنائی کرتے۔

دوست! میں بھی نا کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ میں تو تمھیں یونیور سٹی کے پہلے موسم بہار میں اپنی بے چینی یاد دلا رہی تھی۔
جب مجھے اپنے چمکتے دمکتے پانی کی جگہ نیو کیمپس کے بیچوں بیچ گدلے پانی کی نہر پر اکتفا کرنا پڑا۔ ایسے میں ہر نوع کے خوشبودار پھول میرے دھریک کے پھولوں کی مہک کا نعم البدل نہ بن سکے تو میں نے تمہیں بے تحاشا تنگ کیا تھا۔

تمہیں لے کر پورا کیمپس پیدل گھومی تھی اور آخر کار دھریک ڈھونڈ نکالی تھی۔

کیا بے فکری کے دن تھے۔ کیا معصوم خواہشیں تھیں، کیا لاابالی پن تھا

اور اب ہمارے بچوں کا سارا ماحول ساری دلچسپیاں سارے کھیل بدل چکے ہیں
میری دوست! یہ دھریک اور بہار کی یہ شام تمہارے نام

اپنا تبصرہ بھیجیں