یکم اپریل کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1826ء – سیمیول مارلی نے انٹرنل کمبسشن انجن کو پیٹنٹ کرا لیا۔

1867ء – سنگاپور برطانیہ کی کراؤن کالونی بن گیا۔

1937ء – اردن برطانیہ کی کراؤن کالونی بن گیا۔

1949ء – نیو فاؤنڈ لینڈ کینیڈا کا حصہ بن گیا۔

1979ء – ایران مین رائے شماری میں 98٪ ووٹ کے بعد شاہ کو برطرف کر دیا اور ایران اسلامی جمہوریہ بن گیا۔

1997ء – پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئین کی 13ہویں ترمیم منظور کر لی جس کے تحت 8ویں ترمیم کو ختم کر کے مکمل پارلیمانی نظام بحال کر دیا گیا۔

2008ء – پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر پر پانچ سال کے لیے پابندی لگا دی۔

1976اسٹیو جابز اور اسٹیو وزنیاک نے ایپل کمپیوٹر بنایا ۔

ولادت

1621ء گرو تیغ بہادر، کو 9ویں نانک کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ سکھ مذہب کے 10 میں سے 9ویں گرو تھے۔ ان کا انتقال 24 نومبر، 1675ء کو ہوا۔

1815ء – آٹو وان بسمارک، ڈوئچ چانسلر

1832ء مولوی ذکا اللہ دہلوی،مترجم، مورخ، معلم 1832ء کو دہلی دہلی کے محلہ کوچہ بلاتی بیگم میں پیدا ہوئے۔ بارہ برس کی عمر میں قدیم دہلی کالج میں داخل ہوئے تعلیم ختم کرنے کے بعد وہیں ریاضی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ پھر ڈپٹی کمشنر مدارس ہوئے۔ 1872ء میں میور سنٹرل کالج الہ آباد میں عربی اور فارسی کے پروفیسر ہو گئے۔ 26 برس کی ملازمت کرنے کے بعد پینش پائی اور دہلی میں فوت ہوئے۔ تعلیم نسواں کی خدمات کے صلے میں گورنمنٹ سے خلعت پایا۔ علمی اور تاریخی خدمات کی وجہ سے پندرہ سو روپے انعام اور خان بہادر شمس العلما کے خطاب ملے۔ عربی فارسی کے علاوہ ریاضی میں بھی بڑی دسترس تھی۔ تاریخ، جغرافیہ، ادب، اخلاق، طبیعیات، کیمیا اور سیاسیات میں ماہر کی حیثیت رکھتے تھے۔ تقریباً ڈیڑھ سو کتب لکھیں۔ان کتاب تاریخ ہند دس جلدوں پر مشتمل ہے۔ ان کا انتقال 7 نومبر 1910ء کی صبح دہلی میں ہوا۔

1865ء رچرڈ ایڈالف سگمونڈی (1 اپریل 1865 – 23 ستمبر 1929) ایک آسٹرین-ہنگرین کیمسٹری کا ماہر تھا۔ انھوں نے کولائڈاپر کام کیا۔ انھیں 1925 میں کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔ ان کا انتقال 23 ستمبر 1929ء کو ہوا۔

1886ء پنجاب میں مسلم لیگ کے قدیم اور مشہور رہنما، مدرس، صحافی اور وکیل جن کی وفاداری پر قائد اعظم کو یقین کامل تھا۔ ملک برکت علی نے اپنی طرز زندگی کا آغاز سابق کرسچین کالج لاہور سے بطور لیکچرار کیا، بعد ازاں وہ اسلامیہ کالج لاہور میں انگریزی کے پروفیسر ہو گئے۔ 1908ء تا 1914ء سرکاری ملازمت کرنے کے بعد انگریزی اخبار آبزرور (Observer) کے مدیر مقرر ہو کر اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا پھر خود ہی ایک ہفتہ وار انگریزی اخبار جاری کیا۔ اسی دوران انہوں نے LLB میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور 1920ء سے وکالت شروع کی۔ جلد ہی وہ ایک کامیاب وکیل کی حیثیت سے مشہور ہو گئے اور کئی سال تک وہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر رہے۔ الیکشن 1937ء میں مسلم لیگ کے کامیاب امیدوار ٹھرے۔ ملک برکت علی نے 1946ء میں وفات پائی۔

1911ء فوجا سنگھ یکم اپریل 1911ء کو جالندھر کے نزدیک واقع ایک قصبے بیاس پنڈ میں پیدا ہوا۔ 1992ء میں جب اس کا بیٹا لندن مقیم ہوا، تو فوجا سنگھ بھی بیٹے کے پاس چلا آیا۔ لندن میں صحت بخش ماحول میسر آیا، تو فوجا سنگھ میراتھن دوڑوں میں حصہ لینے لگا۔ ان میں سب سے طویل لندن میراتھن ہے جو 26 میل لمبی ہوتی ہے۔ فوجاسنگھ نے شروع میں 3 تا 10 میل لمبی دوڑوں میں حصہ لیا۔ تب اسے محسوس ہوا کہ وہ طویل میراتھن بھی دوڑ سکتا ہے۔ چنانچہ 101 سال کی عمر میں وہ لندن میراتھن میں دوڑا اور اُسے 7 گھنٹوں میں مکمل کرلیاجو عالمی ریکارڈ ہے۔ فوجا سنگھ کی عمر اس وقت 108 برس ہے اور وہ برطانیہ میں اچھی صحت کے ساتھ مقیم ہیں۔

1919ء جوزف میورےایک امریکی پلاسٹک سرجن تھے جنھوں نے 1990ء کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔ ان کی وفات 26 نومبر 2012 کو ہوئی۔

1926ء مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، پاکستان کے اسلامی دینی اور سیاسی میدان میں ایک قد آور شخصیت تھے۔ ان کا انتقال 11 دسمبر 2003ء

مولانا شاہ احمد نورانی کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے یہاں کلک کریں

1930ء نیاز ہمایونی، پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے نامور ادیب، شاعر، مترجم اور محقق تھے۔ ان کا اصل نام مشتاق احمد تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں دھرتی جا گیت، سانیھ جی ساکھ، طبی کتب میں فرہنگِ جعفری، سندھ جی طبی تاریخ، مرتبہ کتب میںدیوان مفتون، سندھی شاعری-قدیم وجدید شعرا اور سندھ کے شہر ٹھٹہ کی مشہور فارسی تاریخ تاریخِ طاہری کا سندھی زبان میں ترجمہ شامل ہیں۔ وہ 3 جنوری، 2003ء کو انتقال کر گئے۔

1933ء صتیون چھو فرانس کے ایک طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا تھا۔ یہ انعام 1997 میں انہوں نے امریکی سائنس دان ولیم ڈینیل فلپس اور صتیون چھو کے ہمراہ لیزر کی روشنی کے ذریعے ایٹم کو پھانسنے اور انہیں ٹھنڈے کرنے کے طریقے کو بہتر کرنے پر حاصل کیا تھا۔

1936ء – عبد القدیر خان، پاکستانی سائنسدان

ڈاکٹر عبدالقدیرخان کے بارے میں تفصیل کے لیے یہاں کلک کریں

1946ء اقبال مہدی، پاکستان سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور تھے۔ وہ آئل پینٹنگ اور پین اینڈ انک اسکیچ میں تخصیص رکھتے تھے۔ اقبال مہدی رئیلسٹک اندازِ مصوری کے بہت بڑے مصور تھے۔ ان کی بنائی ہوئی پینٹنگز کی نمائش نہ صرف پورے پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ہوئی تھی۔ وہ نہ صرف انسانی چہروں کو پینٹ کرنے میں مہارت رکھتے تھے بلکہ انہوں نے گھوڑوں کی جو پینٹنگز بنائی تھیں وہ بھی ان کی مصورانہ مہارت کا شاہکار تھیں۔ ان کے فن پاروں کی نمائش ٹوکیو، دہلی، لندن، ریاض، ہانگ کانگ، پیرس، واشنگٹن اور دیگر شہروں میں ہوئیں۔ ان کے فن پاروں کی نمائش ٹوکیو، دہلی، لندن، ریاض، ہانگ کانگ، پیرس، واشنگٹن اور دیگر شہروں میں ہوئیں۔ اقبال مہدی 19 مئی، 2008ء کو اسلام آباد، پاکستان میں وفات پا گئے۔ ان کی میت کو کراچی لایا گیا جہاں وہ سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

1972ء شرمین سعید خان، ایک خاتون کرکٹ کھلاڑی تھیں۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میچ میں پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔ ان کا انتقال 13 دسمبر 2018ء کو ہوا۔

وفات

676ء ام المومنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا، کا اصل نام برہ تھا۔ غزوہ مریسیع (جسے غزوہ نبی مصطلق بھی کہتے ہیں جو شعبان 6 ہجری دسمبر 627ء میں ہوا، میں قید ہوکر آئیں، ثابت ابن قیس کے حصہ میں آئیں انہیں نے آپ کو مکاتبہ کر دیا حضور انور نے آپ کا مال کتابت ادا کر دیا اور آپ سے نکاح کر لیا، آپ کی وفات ربیع الاول 56 ہجری میں ہوئی، 65 سال عمر پائی۔ آپ کی پیدائش کا سال 608 ء بیان کیا گیا ہے۔

932ء احمد بن یوسف فربری، محدث، عالم اور فقیہ تھے۔امام بخاریؒ کے خاص تلامذہ(شاگرد) میں سے ہیں۔ آپ کی پیدائش 846ء بیان کی گئی ہے۔

1922ء – شاہنشاہ کارل، آسٹریا کا بادشاہ

1930ء – زردیتو، حبشہ کی ملکہ

1947ء – جورج دوم، یونان کا بادشاہ

1968ء لیو لینڈاؤ، سویت یونین کےکے ایک طبیعیات دان تھے جنھیںکنڈینس میٹر کی تخلیق اور خاص کر مائع ہیلیم کی ایجاد پر 1962 کو انھیں نوبل انعام برائے طبیعیات دیا گیا۔ وہ 9 جنوری 1908 کو پیدا ہوئے۔

1982ء ـ حسام الدین راشدی ( پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ محقق، تاریخ دان، ماہر لسانیات اور فارسی ادبیات کے عالم) بمقام کراچی

1989ء پروفیسر سید مجتبیٰ حسین، پاکستان کے ممتاز اردو تنقید نگار، استاد۔ دانشور اور شاعر تھے۔ ان کی پیدائش یکم جولائ، 1922ء کو ہوئی۔

2019ء سردار فتح محمد بزدار، سردار فتح محمد بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے والد ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بارتھی سے حاصل کی۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگلشکیا۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز بلوچ ایجوکیشنل اسٹوڈنٹس سے کیا جو بعد ازاں بی ایس اؤ بنی۔ سردار فتح محمد بزدار 1963 میں اس کے صدر بنے۔ وہ 1985 میں مجلس شوری کے رکن منتخب ہوئے اور ضیاء الحق کے قریبی ساتھیشمار کئے جاتے تھے بعد ازاں وہ 2002ء اور 2007ء میں پی پی 241 سے ق لیگ کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے۔

تعطیلات و تہوار

دنیا بھر میں لوگوں کو بیوقوف بنانے کا دن اپریل فول ڈے منایا جاتا ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply