217

30 مارچ کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1842 میں پہلی بار مریضوں کو آپریشن کے لیے بے ہوش کرنے کے لیے ایتھر کو استعمال کیا گیا

1867ء امریکا نے روس سے الاسکا 72 لاکھ ڈالر میں خریدا۔

1849 کو ہندوستان پر قابض برطانوی حکومت نے تمام سکھ علاقوں کو اپنے علاقہ میں شامل کر لیا اور پورا پنجاب پر برطانیہ کا قبضہ ہوا۔

1870ء ٹیکساس دوبارہ امریکا کا حصہ بنا۔

1945 دوسری جنگ عظیم کے دوران سوویت یونین نے آسٹریا پر حملہ کیا۔

1923 امریکی بحری جہاز لیکونیا نے 123 دن کے سفر کے بعد زمین کے گرد اپنا چکر مکمل کیا ۔

ولادت

1135ء موسیٰ بن میمون، بارہویں صدی کے مشہور یہودی حاخام، فلسفی، طبیب اور تورات کے عالم تھےـ ان کو رامبام بھی کہا جاتا ہے، جو ان کے عبرانی نام کی مختصر شکل ہےـموسیٰ بن میمون ہی وہ بیکالین یہودی فلسفی جس نے لکھا تھا “الجھن کا راہ نما۔ ان کی پیدائش کے بارے میں ایک روایت 1138ء کی بھی ملتی ہے۔ ان کا انتقال 1204ء میں ہوا۔

1432ء سلطان محمد ثانی، سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان تھے جو 1444ء سے 1446ء اور 1451ء سے 1481ء تک سلطنت عثمانیہ کے سلطان رہے۔ انہوں نے محض 21 سال کی عمر میں قسطنطنیہ فتح کرکے بازنطینی سلطنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔ اس عظیم الشان فتح کے بعد انہوں نے اپنے خطابات میں قیصر کا اضافہ کیا۔اُنہیں محمد الفاتح یا سلطان الفاتح کے القابات سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

1785ء ہنری ہارڈنج ایک برطانوی فوجی افسر اور سیاست دان تھا۔ وہ پہلی انگریز سکھ جنگ کے دوران گورنر جنرل ہند بنا،۔ جنگ کریمیا میں وہ افواج کا کمانڈر ان چیف تھا۔

1853 وان گاگ مشہور مصور

1926ء اپیٹر مارشل امریکی گیم شو کا میزبان۔

1930ء ٹوم شارپ برطانوی مصنف

1941ء وسیم سجاد، وسیم سجاد 1993 اور 1997 کی دہائی میں سیاست میں آئے اور پہلے سینیٹ کے رکن اور پھر انیس سو اٹھاسی میں چئیرمین بنے اور انیس سو ترانوے میں غلام اسحاق خان کے استعفے کے بعد عبوری طور پر صدر بنے۔ انہوں نے صدر کے باقاعدہ الیکشن میں بھی حصہ لیا لیکن فاروق لغاری نے انہیں شکست دے دی۔ وہ انیس سو ستانوے میں محمد رفیق تارڑ کے انتخاب سے پہلے ایک بار پھر عبوری صدر بنے۔

وفات

625ء حضرت حمزہ ؓبن عبد المطلب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا اور رضاعی بھائی ہیں دونوں نے ثویبہ جو ابو لہب کی لونڈی تھی کا دودھ پیا تھا۔ بعثت کے دو برس بعد جب ابوجہل حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت میں حد سے تجاوز کر گیا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حمایت کے جوش میں اسلام قبول کر لیا۔ بے حد جری اور دلیر تھے۔ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ کو ہجرت کی۔ جنگ بدر میں حصہ لیا اور خوب داد شجاعت دی۔

29 مارچ کے واقعات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

1180ء المستضی بامر اللہ، خلافت عباسیہ کا تینتیسواں خلیفہ تھا جس نے 1170ء سے 1180ء تک حکمرانی کی۔ وہ 23 مارچ 1142ء کو پیدا ہوا۔

1949ء فریڈرخ برجیاس، اک جرمن کیمسٹ تھا جنھیں کوئلے سے توں ایندھن بنانے کا طریقہ ایجاد کیا۔ انھیں 1931 میں کارل بوش کے ساتھ کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔ ان کی پیدائش 11 اکتوبر 1884ء کو ہوئی۔

1950ء لیون بلوم فرانسیسی سوشلسٹ پارٹی کا لیڈر اور فرانس کا پہلا سوشلسٹ وزیر اعظم۔ پیرس کے ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوا۔ 1919ء میں ایوان نمائندگان کا رکن منتخب ہوا۔ 1936ء میں شکست ہو گئی۔ لیکن اس مختصر عرصے میں لیون نے چند انقلابی اصلاحات کیں۔ مزدوروں کے کام کے اوقات کم کیے۔ امداد باہمی کے قوانین نافذ کیے۔ بینک آف فرانس کو ازسرنو منظم کیا اور تمام بڑی بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لے لیا۔ 1940ء میں جرمنوں کی پٹھو وستی حکومت نے اسے گرفتار کر لیا 1942ء میں مقدمہ چلا، لیکن حکومت نے عوامی رد عمل کے خوف سے اسے جرمنوں کے حوالے کر دیا۔ جنھوں نے اسے بیگار کیمپ میں بھیج دیا۔ جہاں سے 1945ء میں اتحادی فوجوں نے اسے رہائی دلائی۔ 1946ء میں چند ہفتے وزیر اعظم رہا۔ پھر اقوام متحدہ میں فرانسیسی مندوب مقرر کیا گیا۔ وہ 9 اپریل 1872 کو پیدا ہوئے۔

1961ء آیت اللہ سید حسین بروجردی یا سید حسین بن علی طباطبائی بروجردی، شیعہ مجتہد ،آیت اللہ اور مرجع تقلید ہیں، 1292 ہجری (1875)میں ایران کے شہر بروجرد میں پیدا ہوئے۔ سید حسین طباطبائی کا شجرہ نسب حسن مثنی، امام حسن بن علی بن ابی طالب سے ملتاہے۔ سید حسین طباطبائی 15 سال کی عمر میں دنیا کے تمام شیعوں کے اکیلے مرجع تقلید اور مجتہد تھے اور 17 سال کی عمر میں قم کے حوزہ علمیہ کے سربراہ بنے۔ ان کی وفات شوال 1380قمری ( 1960) میں قم میں ہوئی۔

1965ء فلپ شوالٹر ہنچ، ایک امریکی کیمیاء دان تھے جنھوں نے 1950 کا نوبل انعام وصول کیا تھا۔ وہ 28 فروری 1896ء کو پیدا ہوئے۔

1987ء علامہ احسان الٰہی ظہیر، ایک بہت اعلیٰ درجے کے خطیب تھے جنہوں نے مسلم دنیا میں اپنے فن خطابت سے آغا شورش کاشمیری اور امیر شریعت حضرت عطااللہ شاہ بخاری ؒ کی یاد تازہ کی، اردو، عربی، فارسی، انگریزی اور پنجابی زبانوں پر غیر معمولی عبور حاصل تھا، سیاست پر گہری نظر رکھتے تھےان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے زمانہ میں سعودی عرب کے روپے پر فرقہ واریت کو خوب ہوا دی اور شیعہ سنی بریلوی فسادات خوب اجاگر ہوئے۔ سعودی عرب ان گذشتہ برسوں میں اس بات کو تسلیم بھی کیا کہ ہم نے امریکی ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے جہادی تنظیموں کو روپیہ فراہم کیا۔ اگر احسان الٰہی ظہیر سعودی چکر میں نہ پھنستے تو اس وقت ان سے بہتر اور اعلی پائے کا عالم اس زمین پر ملنا مشکل ہوتا۔ مگر افسوس کہ ہم نے ایسے قیمتی جوہر و گوہر دوسروں کے ایجنڈوں پر خرچ کر دیئے۔ 23 مارچ 1987ء کو علامہ مرحوم و مغفور لاہور کے علاقہ قلعہ لکشمن سنگھ میں ایک مذہبی جلسے سے خطاب کر رہے تھے کہ بم دھماکہ ہوا اس میں معروف عالم دین حبیب الرحمن یزدانی اور اسلامی کتب کے معروف تاجر عبدالخالق قدوسی جام شہادت نوش فرما گئے۔ علامہ مرحوم 7 یوم تک حیات و موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد اس دارِ فانی کو خیر باد کہہ کر عالم ربانی میں جا پیش ہوئے۔ یاد رہے کہ علامہ کے زخمی ہونے کی خبر سن کر خادم الحرمین شریفین نے علاج کی غرض سے خصوصی طیارے کے ذریعے سعودی عرب منتقل کیا گیا۔ حضرت علامہ کی تدفین جنت البقیع میں امام مالک کے پہلو میں کی گئی۔ ایک باب علم بند ہوا۔

2002ء صہبا لکھنوی 25 دسمبر، 1919ء کوریاست بھوپال، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید شرافت علی تھا۔ ان کا آبائی وطن لکھنؤ تھا اسی وجہ سے لکھنوی کہلائے۔ انہوں نے بھوپال، لکھنؤ اور بمبئی سے تعلیمی مدارج طے کیے اور 1945ء میں بھوپال سے ماہنامہ افکار کا اجرا کیا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ کراچی میں سکونت پزیر ہوئے اور یہاں 1951ء میں افکار کا دوبارہ اجرا کیا۔ جریدے افکار کے ساتھ ان کی یہ وابستگی ان کی وفات تک جاری رہی اور یہ رسالہ مسلسل 57 برس تک بغیر کسی تعطل کے شائع ہوتا رہا۔ صہبا لکھنوی کے شعری مجموعے ماہ پارے اور زیر آسماں کے نام اشاعت پزیر ہوئے جبکہ ان کی نثری کتب میں میرے خوابوں کی سرزمین (سفرنامہ مشرقی پاکستان)، اقبال اور بھوپال، مجاز ایک آہنگ، ارمغان مجنوں، رئیس امروہوی فن و شخصیت اور منٹو ایک کتاب شامل ہیں۔

تعطیلات و تہوار

زمین کا عالمی دن

اپنا تبصرہ بھیجیں