153

ڈی جی فوڈ اتھارٹی کی ہدایت پر ڈیری سیفٹی ٹیموں کی شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی

Spread the love

پنجاب بھر میں 2055 گاڑیوں میں موجود 2 لاکھ 89 ہزار 819 لیٹر دودھ کے موقع پر ٹیسٹ، 6 ہزار 361 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف 

لاہور زون میں 1025، راولپنڈی 591، ملتان 357 اور مظفر گڑھ زون میں 82 گاڑیوں کی چیکنگ 

دودھ میں مقدار اور گاڑھا پن بڑھانے والے مضر صحت کیمیکل، پاؤڈر، یوریا اور پانی کی ملاوٹ پائی گئی

حکومت پاکستان اور وزیرِ اعظم کا ویژن ملاوٹ سے پاک دودھ کی فراہمی یقینی بنانا

لاہور (صباح نیوز)ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر) محمد عثمان کی ہدایت پر ڈیری سیفٹی ٹیموں

نے شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کرتے ہوئے صوبہ بھر میں 2055 گاڑیوں میں موجود

2 لاکھ 89 ہزار 819 لیٹر دودھ کے موقع پر ٹیسٹ کیے۔ پنجاب بھر میں چیکنگ کے دوران دودھ میں مقدار

اور گاڑھا پن بڑھانے والے مضر صحت کیمیکل، پاؤڈر، یوریا اور پانی کی ملاوٹ پر6 ہزار 3 سو 61 لیٹر

ملاوٹی دودھ موقع پر تلف کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق دودھ میں ملاوٹ، صحت مند پنجاب کے حصول میں

رکاوٹ کے پیشِ نظر ڈی جی فوڈ اتھارٹی کی ہدایت پر ڈیری سیفٹی ٹیموں کی شہروں کے داخلی و خارجی

راستوں پر ناکہ بندی کرتے ہوئے پنجاب بھر میں 6 ہزار 3 سو 61 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف کر دیا ۔لاہور زون

میں 1025، راولپنڈی 591، ملتان 357 اور مظفر گڑھ زون میں 82 گاڑیوں کو چیک کیا گیا۔صوبہ بھر میں

2055 گاڑیوں میں موجود 2 لاکھ 89 ہزار 819 لیٹر دودھ کے موقع پر ٹیسٹ کیے گئے۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی

کا کہنا تھا کہ ضائع کیے گئے دودھ میں مقدار اور گاڑھا پن بڑھانے والے مضر صحت کیمیکل، پاؤڈر، یوریا

اور پانی کی ملاوٹ پائی گئی۔حکومت پاکستان اور وزیرِ اعظم کا ویژن ملاوٹ سے پاک دودھ کی فراہمی یقینی

بنانا ہے۔پنجاب فوڈ اتھارٹی دودھ میں ملاوٹ کے خاتمے کو ایک مشن کے طور پر لے کر چل رہی ہے۔ملاوٹی

دودھ کا استعمال بچوں اوربڑوں میں متعدد بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔دودھ میں ملاوٹ کے خاتمے کا موثر حل

جدید ممالک کی طرح پاسچرائزیشن قانون کو لاگو کرنے جا رہے ہیں۔کیپٹن (ر) محمد عثمان کا مزید کہنا تھا کہ

لاہور کو دودھ میں ملاوٹ سے ماڈل سٹی بنانے کے منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے بعد ازاں پنجاب بھر

میں منصوبے کو پھیلایا جائے گا۔ 2022 تک کھلا دودھ مکمل بنداورصرف پاسچرائزڈ دودھ ہی دستیاب ہو گا۔

عوام کو معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی ٹیمیں دن رات کاروائیاں جاری رکھے ہوئے

ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں