جنرل ٹکا خان

Spread the love

7 جولائی 1915 تا 28 مارچ 2002

ایک ایسی تاریخی حقیقت جو آج تک سامنے نہیں آسکی تھی

جنرل ٹکا خان

لاہہور ( مدثر بھٹی سے)نوے کی دہائی اپنی نصف عمر گزار چکی تھی اور میں ان دنوں لاہور کے اردو بازار میں اپنے معاش کےسلسلہ میں مصروف تھا اور ساتھ ہی چھوٹے موٹے مختلف اخبارات کے لیے لکھا کرتا تھا۔ انہی دنوں میری ملاقات فوج کے ایک سابق سپاہی طالب حسین کے ساتھ ہوئی جو عام طور پر ایک گھوڑا گاڑی پر طبع شدہ کتب کے بنڈل اڈوں تک پہچانے اور لانے کا کام کرتا تھاطالب حسین کے ساتھ روز ہی ملاقات ہوتی کیونکہ اس کی گھوڑا گاڑی الفضل مارکیٹ جہاں میرا آفس تھا کھڑی رہتی تھی ایک روز باتوں میں اس نے بتایا کہ وہ فوج میں ملازمت کر چکا ہے 1971ء میں اس نے ڈھاکہ میں مختلف مقامات پر ڈیوٹی سرانجام دی ہیں۔ میں نے سقوط ڈھاکہ کے بارے میں اس کے ساتھ متعدد سوالات کیے جن میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا ڈھاکہ میں جنرل ٹکا نے ایسا کوئی بیان دیا تھا کہ ’’بنگلہ دیش میں بلڈوزر پھیر دیا جاے مجھے یہاں صرف زمین نظر آئے‘‘؟ اس نے میرے سوال کی تائید کرتے ہوئے کہا بالکل ایسا ہی ہوا تھا مگر ہمارے ہاں لوگوں نے اس واقعہ کی حقیقت جانے بغیر ہی اس پر ایسی ایسی کہانی گھڑ لیں کہ جنرل ٹکا کا کردار قریب مسخ ہی ہو کر رہ گیا۔

میں نے طالب حسین سے کہا کہ اگر وہ حقیقت بیان کرے تو میں اس کو اپنے مضمون میں لکھوں گا اور اس کا تذکرہ بھی کروں گا۔ جس پر اس نے بتایا کہ سقوط ڈھاکہ کے قبل ایک روز جنرل ٹکا ڈھاکہ کا دورہ مکمل کر کے واپس جا رہا تھا اور میری ڈیوٹی ڈھاکہ ائیرپورٹ پر ہی تھی۔ وہ جیسے ہی لاونج کے اندر داخل ہوا ایک دبلی پتلی عورت نامعلوم کہاں سے اور کیسے بھاگتی اور چیختی ہوئی وہاں آن پہنچی جس کو ہم نے پکڑ لیا شور برپا ہوا اور ٹکا جاتے جاتے رکا اس نے مڑ کر دیکھا اور واپس آ کر اس عورت کو چھوڑنے کو کہا اور اس سے دریافت کیا کہ کیا مسئلہ ہے؟ اس عورت نے ایک بڑی چادر اوڑھ رکھی تھی اس نے وہ چادر زمین پر پھینک دی سب نے دیکھ لیا کہ اس کی چھاتیاں کٹی ہوئی تھیں جن سے خون اور پیپ بہہ رہی تھی۔ کچھ سپاہیوں نے اس کی چادر اس کو واپس کروانی چاہی تو اس نے پوری قوت سے ان کو دھکا مارا اور جنرل ٹکا سے مخاطب ہو کر کہا ’’میری اور بہت سی عورتوں کی یہ حالت مکتی باہنی نے کی ہے، قیامت کے دن میں تمہارا گریبان ضروری پکڑوں کی کیونکہ تم ہماری حفاظت کے ذمہ دار تھے‘‘۔ ایک لمحے کے لیے تو جیسے وہاں ہر چیز ساکت سی ہو گئی پھر جنرل ٹکا نے اس کی چادر اٹھا کر اس کو اوڑھا دی اور اس کے اندر لےجا کر بٹھایا اس سے کچھ بات کی اور اس کے علاج کے احکامات جاری کرنے کے بعد جنرل ٹکا نے اس عورت کے بتائے ہوئے علاقے کا نام لیا اور کہا کہ مکتی باہنی اس جگہ پر پوری طرح قابض و متحرک ہے میں مکتی باہنی کے زیر قبضہ گھروں کو دیکھنا بھی نہیں چاہتا وہاں بلڈوزر چلا دو مجھے وہاں فلیٹ زمین نظر آنی چاہیے۔

گذشتہ رات کسی وجہ سے روزنامہ پاکستان لاہور کے دفتر گیا تو میرے انتہائی محترم اور سینئر صحافی سعید چوہدری نے میرے جنرل یحییٰ خان پر لکھے ہوئے مضمون کے حوالے سے کچھ بات کی تو میں نے ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا جس پر انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کو لازم ضبط تحریر میں لانا چاہیے تو میں نے دسمبر میں یوم سقوط ڈھاکہ کے دن لکھنے کا وعدہ کیا مگر ’’آج کے واقعات‘‘ کے لیے انسائیکلوپیڈیا دیکھ رہا تھا تو معلوم ہوا کہ یک سابق مضمون کا تذکرہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ 28 مارچ جنرل ٹکا کا یوم وفات ہے تو میں نے اس موقع کو موزوں جان کر طالب حسین کی بتائی ہوئی یہ روایت نکل کر دی ہے۔ آج میں سعید چوہدری کے ساتھ تو سرخرو ہو گیا ہوں مگر سپاہی طالب حسین سے شرمندہ ہوں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کرنے میں 24 سال لگا دیے۔

پاکستان کی بری فوج کے ساتویں سربراہ اور پہلے چیف آف اسٹاف جنرل ٹکا خان 7جولائی 1915ء کو تحصیل کہوٹہ ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ اُنہوں نے 22 دسمبر 1940ء کو انڈین ملٹری اکیڈمی، ڈیرہ دون سے گریجویشن کرنے کے بعد انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔ قیام پاکستان کے بعد اُنھوں نے اپنی خدمات پاک فوج کے سپرد کر دیں۔ وہ 7 مارچ 1971ء سے 3ستمبر1971ء کے دوران مشرقی پاکستان کے گورنر رہے۔ 3مارچ 1972ء سے 29 فروری 1976ء کے دوران انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی قیادت کی۔ اس عہدے سے سبک دوشی کے بعد انھوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے اور اس پارٹی کے سکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے۔ 9دسمبر 1988ء کوپنجاب کے گورنر مقرر ہوئے اور 6۔اگست 1990ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ سابق مشرقی پاکستان کے گورنر اور سابق چیف آف آرمی سٹاف، ٹکا خاں کا تعلق ضلع راولپنڈی تحصیل کہوٹہ کے ایک گاؤں کالیاں سہالیاں سے تھا۔ برطانوی فوج میں سپاہی کے حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کرنے کے بعد ٹکا خان کی 1940ء کی دہائی کے اوائل میں کمیشنڈ افسر کی حیثیت سے ترقی ہو گئی۔ انہوں نے 1965ء کی جنگ میں رن آف کچھ میں ایک بریگیڈ کی کمان کی اور ہلال جرات حاصل کیا۔

سابق صدر ایوب خان نے اپنی یاداشت میں آپ کو “Goof” کے لقب سے پکارا ہے۔ 1972ء میں وہ چیف آف آرمی سٹاف بنے اور تین سال بعد فوج سے ریٹائر ہونے پر وہ صوبہ پنجاب کے گورنر بنے۔ 1988ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے پر وہ دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے۔ اسی سال انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر الیکشن لڑا جس میں وہ ہار گئے۔
ٹکا خاں پاکستان کی تاریخ کے ایک انتہائی نازک دور میں سابق مشرقی پاکستان میں فوج کے کمانڈر اور گورنر بھی رہے۔ اور ان کے اسی کردار نے ان کو ایک متنازع شخصیت بنا دیا۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک ان کا شمار ان افسران میں ہوتا ہے جنہوں نے مشرقی پاکستان میں انتہائی ناپسندیدہ کردار ادا کیا جبکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے سابق فوجی افسران ان کو ایک سادہ اور محنتی فوجی کی حیثیت سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پچیس مارچ، 1971ء کی رات کو ہونے والے ایک ظالمانہ آپریشن نے جس میں شیخ مجیب الرحمٰن کو گرفتار کیا گیا تھا، جنرل ٹکا خاں کو متنازع بنا دیا۔ لیکن ان افسران کے مطابق جنرل ٹکا خان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا اور ذرائع ابلاغ میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا۔

جنرل ٹکا خان کا انتقال 28مارچ 2002ء کو ہوا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply