بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی کا ’’کاروان بھٹو ‘‘رواں دواں

Spread the love

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی کا ’’کاروان بھٹو

‘‘رواں دواں ہے ۔کارواں آج بروز بدھ صبح دس بجے آگے بڑھے گا، دوڑ، پڈعیدن، محراب پور، بھریا

روڈ، رانی پور، خیرپور میرس، روہڑی، سکھر، گوسرجی، حبیب کوٹ، مدیجی، نوڈیرو کے شہریوں

سے خطاب کرتے ہوئے بلال بھٹو لاڑکانہ پہنچیں گے اور اختتامی خطاب کریں گے۔ بلاول بھٹو نے

کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ذوالفقاربھٹونے جان دیدی لیکن نظرئیے سے یوٹرن نہیں لیا، کچھ

لوگ آج بھی بھٹوشہیدآج کے نظریے اور فکر سے ڈرتے ہیں، قومی اسمبلی میں ذوالفقاربھٹو کا نام لیا

جاتا ہے تو وزیرجل جاتے ہیں، ان کے وزیروں کی چیخیں نکلتی ہیں۔لانڈھی ریلوے سٹیشن پر کارکنوں

سے خطاب میں کہا آپ سب کا،ملیرکے جانثاروں کابی بی کے کا رکنوں کاشکرگزارہوں، آپ سب

استقبال کر نے کیلئے یہاں آئے ہیں، اپریل کوبھٹوکاچالیسواں یوم شہادت ہے، ہم ہرسال گڑھی خدابخش

پہنچتے ہیں، ہم اس سال بھی بڑی تعدادمیں گڑھی خدابخش پہنچیں گے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا ہم

دنیاکوپیغام دیں گے کہ کل بھی بھٹوزندہ تھاآج بھی بھٹوزندہ ہے، شہیدذوالفقاربھٹو نے ا ٓمرکے سامنے

سرنہیں جھکایا، 40سال پہلے غیرجمہوری قوتوں نے بھٹوتختہ دارپرلٹکادیا، ذوالفقاربھٹونے جان دیدی

لیکن نظریے سے یوٹرن نہیں لیا۔پی پی چیئرمین نے ذوالفقاربھٹوکوخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے

نظم پیش کی ، وہ قائدعوام تھا،وطن کاافتخارتھا۔ان کا کہنا تھا جب آپکے نواسے کو بھٹوکے نا م سے

پکاراجاتاہے تووزیروں کی نیندیں اڑجاتی ہیں، یہ ان سے برداشت نہیں ہو رہاتھاکہ بھٹوکا نواسا الیکشن

میں حصہ کیوں لے رہاہے۔بلاول بھٹو نے کہا تاریخ میں بدترین دھاندلی کی گئی،میڈیاکی بدترین

سنسرشپ کی گئی، کے پی کیلئے ہمارے جہازکواڑ نے نہیں دیاگیا، پشاورمیں ہمیں گھر سے باہر جانے

نہیں دیاگیا، مالاکنڈمیں نامعلوم افرادنے دھاندلی کی ہے،فارم45آج بھی نہیں، لیاری میں آج بھی

ہمارافارم 45لاپتہ ہے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا لاڑکانہ میں بھی کوشش کی گئی لیکن ان سے نہیں

ہوسکا،کوشش ناکام ہوئی اور20سال بعدبھٹواسمبلی میں پہنچ گیا، یہ لوگ اپوزیشن کو برداشت نہیں

کرتے ان کیلئے مسئلہ ہوگیا، یہ لوگ پرویزمشرف کی پیداوارہیں، جوالیکشن اوردھاندلی سے حاصل نہ

کرسکے نیب کے ذریعے حاصل کرناچاہتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا الیکشن میں ناکام رہے وہ اس

طریقے میں بھی ناکام رہیں گے، نیب مشرف کابنایاگیاادارہ ہے، 2011 میں پولیٹیکل انجینئرنگ کی

گئی تو نیب کا اہم کردار تھا، نیب کاآج بھی وہی کردارہے، وہ سمجھتے ہیں وہ ہمیں ڈراسکتے ہیں؟ وہ

ہماری زباں بندکرسکتے ہیں؟ب وہ سمجھتے ہیں بھٹوکانواسہ بلاول ڈرجائیگا، وہ سمجھتے ہیں ہم انسانی

اور معاشی حقوق کادفاع نہیں کریں گے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply