26 مارچ کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1812ء وینز ویلا کے دار الحکومت کیراکاس میں شدید زلزلے سے بیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

1969ء یحییٰ خان نے پاکستان میں ملک کا دوسرا مارشل لا نافذ کر دیا۔

1979ء اسرائیل اور مصر امن معاہدے پر متفق ہوئے۔

1996ء عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف)نے روس کے لیے دس اعشاریہ دو بلین ڈالر کے قرضے کی منظوری دی۔

2006ء اسکاٹ لینڈ میں ریسٹورانٹس میں سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کردی گئی۔

ولادت

1868ء شاہ فواد اول ،مصر اور سوڈان, فرمانروا نوبیا، كردفان اور دارفور کے سلطان اور بعد میں بادشاہ تھا۔ شاہ فواد آل محمد علی کا نواں حکمران تھا۔ وہ 1917 میں مصر اور سوڈان کا سلطان بنا۔ 1922ء میں برطانیہ سے مصری آزادی کے بعد اس نے لقب سلطان کو شاہ سے تبدیل کر دیا۔

1911ء برنارڈ کٹزجرمنی میں پیدا ہونے والے ایک برطانوئی ماہر طبیعیاتی حیاتیات تھے جنھوں نے 1970 کا نوبل انعام وصول کیا تھا۔ ان کا انتقال 20 اپریل 2003 کو ہوا۔

1916ء کرسچن بی اینفنسن، ایک امریکی کیمیاء دان تھے جنھوں نے ایک انزائم رائبونیوکلاس پرکام کیا اور اس کے صلے میں انھیں نوبل انعام برائے کیمیاء 1972ء میں دیا گیا۔ انھیں یہ انعام سٹینفورڈ موری اور ولیم ہورڈ سٹین کے ساتھ مشترکہ طور دیا گیا۔ ان کا انتقال 14 مئی 1995ء کو ہوا۔

1938ء انتھونی جیمز لگٹ، ‘برطانیہ کے ایک طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا تھا۔ یہ انعام 2003 میں انہوں نے روسی سائنس دان الیکزی الیکزیوچ ابریکوسو اور وائٹلی گنزبرگ کے ہمراہ سوپر کنڈکٹیویٹی اور سوپر فلوئڈ کے مفروضے پر کرنے پر حاصل کیا تھا۔

1952ء ڈاکٹر شیر شاہ سید مشہور افسانہ نگار اور گائنی ڈاکٹر ہیں۔ پاکستان میں گائنی کے شعبے کے لیے انکی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ کوہی گوٹھ ہاسپٹل کا منصوبہ اور تکمیل ڈاکٹر شیر شاہ سید کی طبی خدمات میں نمایا ں ترین کارنامہ ہے۔ نیز ملیر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا قیام بھی ڈاکٹر شیر شاہ سید اور ان کے خاندان کی مخلصانہ کوششوں سے ہی ممکن ہوا ہے۔

1976ء خرم ذکی، سید خرم ذکی ، ایک پاکستانی صحافی اور انسانی حقوق کارکن تھے۔ انہوں نے کراچی میں تعلیم حاصل کی۔ جہاں انہوں نے 1998ء سے 2001ء تک نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز میں شرکت کی۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والا پاکستان کا یہ نامور اور بہادر صحافی صرف 40 برس کا تھا۔ اس کا قصور یہ تھا کہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ پرستی کو چیلنج کرنے کے لیے اس نے بے خوفی سے آواز بلند کی تھی۔خرم ذکی کو 7 مئی 2016ء رات نارتھ ناظم آباد کراچی میں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ وہ اپنے ایک ساتھی راؤ خالد کے ساتھ ایک ریستوران میں رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائر کھول دیا۔ دونوں شدید زخمی ہوئے۔ ساتھ میں ایک راہگیر بھی گولیوں کا نشانہ بنا۔ تاہم خرم ذکی اسپتال پہنچنے تک دم توڑ گئے اور ملک میں تشدد، انتہا پسندی اور مذہبی منافقت کے خلاف ایک دلیر آواز خاموش ہو گئی۔

1973ء لیری پیجم امریکی کمپیوٹرسائنسدان ہے اور سرگرے برِن کے ساتھ گوگل تلاش محرکیہ (گوگل سرچ انجن) کی بنیاد ڈالی جو کے انٹرنیٹ (سرچ) تلاش محرکیات میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ لیری کی ذاتی دولت کا تخمینہ تقریباً 19.8 بلین ڈالر ہے۔ لیری کی ماں یہودی ہے۔

وفات

922ء منصور حلاج (پیدائش 858ء، وفات 26 مارچ 922ء) ایک فارسی صوفی اور مصنف۔ پورا نام ابو المغیث الحسین ابن منصور الحلاج تھا۔ والد منصور پیشے کے لحاظ سے دھنیے تھے اس لیے نسبت حلاج کہلائی۔ 264ھ میں بغداد آ گئے اور جنید بغدادی کے حلقۂ تلمذ میں شریک ہو گئے۔ عمر کا بڑا حصہ سیر و سیاحت میں بسر کیا بہت سے ممالک کے سفر کیے جن میں مکہ، خراسان شامل ہیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ منصور حلاج نے نبوت اور خدائی کا دعویٰ کیا اس کے علاوہ قرآن کی مثل کلام لانے کا بھی دعویٰ کیا اس نے نماز، روزہ، زکواۃ حج وغیرہ کی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ جس پر اس کے قتل کا فتویٰ جاری کیا اور ابن کثیر، امام ابن تیمیہ نے اس کے قتل کرنے کو درست اقدام قرار دیا۔ بعض نے کہا کہ وہ مرتد ہونے پر قتل کیا گیا۔ واللہ اعلم

1993ء ماسٹر عنایت حسین، پاکستان سے تعلق رکھنے والے برصغیر پاک و ہند کے نامور فلمی موسیقار تھے۔

ماسٹر عنایت حسین کے بارے میں تفصیلات جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

2006ء فلمی اداکار۔ پاکستانی فلموں کے مشہور ولن۔ اصل نام مظفر ادیب تھا لیکن فلم دنیا میں صرف ادیب کے نام سے جانے گئے۔ ریاست جموں کشمیر کے ایک پٹھان خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ قیام پاکستان سے قبل ان کے والدین سلسلہ معاش میں کشمیر سے ممبئی منتقل ہو گئے۔ ادیب نے ممبئی میں ہی تعلیم مکمل کی اور اردو ادب میں ایم اے کیا۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز سکرپٹ رائٹنگ سے کیا۔ انیس سو چھپن میں پہلی مرتبہ ہدایت کار ایس ایم یوسف کی فلم ’پاک دامن‘ میں ولن کا کردار ادا کیا۔ ممبئی میں ایس ایم یوسف کے ساتھ چند فلمیں اور آنجہانی پرتھوی راج کے ساتھ ایک فلم ’انسان‘ کرنے کے بعد وہ پاکستان آ گئے۔ یہ غالباً انیس سو باسٹھ کی بات ہے۔ یہاں ان کی پہلی فلم ’دال میں کالا‘ تھی۔ اور آخری فلم مجاجن۔ انہوں نے چار سو سے زائد فلموں میں کام کیا۔ ان کی دیگر مشہور فلموں میں مولا جٹ، ہیرا پتھر، شیر خان، ظلم دا بدلا، یہ امن، زرقا، فرنگی، شہید اور آنسو بن گئے موتی شامل ہیں۔ ادیب نے تھیٹر پر بھی کام کیا اورایک اندازے کے مطابق ان کے سٹیج ڈراموں کی تعداد پچاس ہے۔ انہوں نے چند ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا۔ ایک ٹی وی ڈرامے میں سرسید احمد خان کا کردار انہوں نے بڑی خوبصورتی سے نبھایا۔ تین شادیاں کیں اور ایک اولاد ہوئی جو ذہنی طور پر معذور رہی۔ دل کا دورہ پڑنے سے لاہور میں انتقال کیا۔

تعطیلات و تہوار

1971ء بنگلہ دیش ایک آزاد ریاست بنا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply