چوہوں کی لاشوں میں موبائل فون چھپا کر سمگل کرنیوالے پکڑے گئے

Spread the love

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) جیلوں میں موبائل فونز اور منشیات وغیرہ سمگل کرکے

قیدیوں تک پہنچانے کے واقعات دنیا بھر میں رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن برطانیہ

ایک جیل میں یہ چیزیں سمگل کرنے کا ایسا طریقہ منظرعام پر آیا ہے کہ سن کر

آدمی ششدر رہ جائے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق کے مطابق برطانوی علاقے ڈورسیٹ

کی جیل ایچ ایم پی گائز مارش میں مردہ چوہوں کے اندر منشیات اور موبائل فونز

ڈال کر جیل میں سمگل کیے جا رہے تھے۔ ملزمان تک یہ اشیاء پہنچانے کے لیے

ان کے ساتھ مردہ چوہوں میں چیزیں ڈال کر ان کا جسم سی دیتے اور پھر انہیں

باہر سے جیل کی دیوار کے اندر پھینک دیتے۔ گزشتہ روز جیل کے صفائی عملے

نے دیوار کے ساتھ 5 مردہ چوہے پڑے دیکھے۔ جب انہوں نے چوہوں کو اٹھایا تو

ان کا وزن محسوس کرکے انہیں شک ہوا جس پر انہوں نے بغور دیکھا تو چوہوں

کے جسم پر سلائی کی ہوئی تھی۔ یہ ماجرا دیکھ کر انہوں نے جیل حکام کو اطلاع

دی۔جب ان چوہوں کے اجسام کی سلائی کھولی گئی تو ان کے اندر سے 5موبائل

فونز، سگریٹ، سگریٹ پیپر، تین سم کارڈز اور منشیات برآمد ہوئیں۔جیل حکام کا

کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ چوہے منظم جرائم پیشہ گروہوں کے لوگوں کی

طرف سے جیل میں قید اپنے ساتھیوں کے لیے پھینکے گئے تھے۔ ان لوگوں کے

اپنے ساتھی قیدیوں کے ساتھ رابطہ ہوتا تھا جو چوہے پھینکنے کے بعد انہیں

اطلاع دیتے اور قیدی جا کر چوہے اٹھا کر ان سے اشیاء نکال لیتے تھے۔

Leave a Reply