25 مارچ کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1655ء کرسٹن ہائجنز نے سیارہ زحل کا چاند ٹائٹن دریافت کیا۔

1915ء آبدوز ڈوبنے کا پہلا حادثہ۔ ہوائی میں امریکی آبدوز ڈوبنے سے ایک سو اکیس افراد ہلاک ہوئے۔

1969ء پاکستان کے صدر ایوب خان نے قوم سے خطاب میں اقتدار سے علیحدگی کا اعلان کر کے عنان حکومت یحییٰ خان کے حوالے کر دیا۔

1971ء مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کا آغاز ہوا۔

1992ء پاکستان نے انگلینڈ کو بائیس رنز سے شکست دے کر پہلی بار عالمی کرکٹ کپ اپنے نام کیا۔

2008ء یوسف رضا گیلانی پاکستان کے 24ویں وزیراعظم منتخب۔

2008ء نیوزی لینڈ کے کرکٹر اسٹیفن فلیمنگ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر۔

2002ء افغانستان کے شہر کابل کے شمال میں زلزلے سے ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

2013 ء پاکستانی وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کی پارلیمانی میعاد پوری۔

2013 ء میر ہزار خان کھوسو نگران وزیر اعظم پاکستان مقرر۔

ولادت

764ء ابو محمد موسیٰ الہادی العباسی، خلافت عباسیہ کا چوتھا حکمران اور خلیفہ اسلام تھا۔ ابوموسیٰ الہادی نے محض ایک سال (785ء سے 786ء تک) حکمرانی کی۔ المہدی کی وصیت کے مطابق ہادی کے بعد ہارون الرشید نے تخت پر متمکن ہونا تھا۔ لیکن ہادی نے اپنے بیٹے جعفر کو اس کی جگہ ولی عہد نامزد کرنا چاہا اور اس کے لیے ہارون الرشید پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ ہارون شاید ولی عہدی سے دست بردار ہو جاتا لیکن یحییٰ برمکی کے حوصلہ دینے پر وہ میدان میں ڈٹا رہا۔15 ربیع الاول 170 ہجری، 786ء میں سوا سال کی حکمرانی کے بعد ہادی اچانک وفات پا گیا۔ مرنے سے پہلے اس نے ہارون کی ولی عہدی کی تصدیق کی اور اس طرح جھگڑے کی ہر صورت ختم ہو گئی۔

1611ء اولیاء چلبی، مشہور سیاح تھے جنہوں نے عثمانی سلطنت کے تمام حصوں اور اس کی پڑوسی ریاستوں میں 40 سال تک سیاحت کی۔ 1611ء میں استنبول میں پیدا ہونے والے اولیاء عثمانی دربار سے وابستہ ایک جوہری کے صاحبزادے تھے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں استنبول میں گھومے پھرے اور اہم عمارات، بازاروں، ملبوسات اور ثقافت کے بارے میں لکھنے کے بعد انہوں نے 1640ء میں شہر کے باہر کا پہلا سفر کیا۔ ان کے سفر کی روداد 10 جلدوں پر مشتمل ہے جو سیاحت نامہ کہلاتی ہے۔ ان کی اس تصنیف کو 17 ویں صدی کی عثمانی سلطنت کے ثقافتی پہلو اور طرزِ زندگی سمجھنے کے لیے انتہائی کارآمد سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب کی پہلی جلد استنبول جبکہ آخری جلد قاہرہ کے بارے میں ہے۔ ان کی اس تصنیف کا مکمل انگریزی ترجمہ آج تک نہيں ہوا تاہم 1834ء میں آسٹریا کے ایک مستشرق جوزف وان ہیمر نے ان کی ابتدائی دو جلدوں کا انگریزی ترجمہ کیا جو استنبول اور اناطولیہ کے بارے میں ہیں۔ یہ مکمل طور پر ناقص ترجمہ تھا اس لیے اس لیے زیادہ مقبول نہ ہو سکا تاہم چند جامعات کے کتب خانوں میں اب بھی مل سکتا ہے جس میں مصنف کا نام “اولیاء آفندی” دکھایا گیا ہے۔
اس سفر نامے کا کارآمد تعارف امریکہ کی جامعہ شکاگو کے ایک پروفیسر رابرٹ ڈینکوف نے 2003ء میں کیا جس کا نام اولیاء چلبی کی دنیا: ایک ذہین عثمانی ہے۔ اولیاء چلبی کا انتقال 1682ء میں ہوا تاہم اس بارے میں علم نہیں کہ ان کا انتقال استنبول میں ہوا یا قاہرہ میں۔

1887ء پروفیسر حامد حسن قادری (پیدائش: 25 مارچ، 1887ء – وفات: 6 جون، 1964ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے معروف مورخ، نقاد، تاریخ گو شاعر، مترجم، محقق اور معلم تھے جو اپنی تصنیف داستانِ تاریخ ِ اردو کی وجہ سے دنیائے اردو میں شہرت رکھتے ہیں۔ حامد حسن قادری بیک وقت شاعر، مورخ، نقاد، مترجم اور محقق تھے۔ ان کی تصانیف کی تصانیف کی تعداد 40 کے لگ بھگ ہے۔ تاہم ان میں سب سے زیادہ شہرت ‘داستانِ تاریخ ِ اردو’ کو ملی۔ ان دیگر تصانیف میں ‘ مثنوی نمونۂ عبرت’، ‘تاریخ و تنقید ادبیات اُردو ‘، ‘غالب کی اُردو نثر اور دوسرے مضامین’، ‘جامع التواریخ’، ‘تاریخ مرثیہ گوئی’،’ادبی مقالات’، ‘نقد و نظر’، ‘انتخاب دیوان مومن’، ‘سفینۂ تواریخ’، ‘مضامینِ کائنات’، ‘دفترِ تواریخ’ اور ‘سفینۂ نثر و نظم’سرِ فہرست ہیں۔
مولانا حامد حسن قادری سوانح حیات اور ادبی خدمات (پی ایچ ڈی مقالہ)، سید نور محمد سرور، جامعہ سندھ، 1978ء
حامد حسن قادری 6 جون، 1964ء کو کراچی، پاکستان میں انتقال کر گئے اور کراچی کے پاپوش نگر ناظم آباد کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

1896ء شمش العلماء ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتہ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرِ تعلیم، ماہرِ سندھیات، ماہرِ لسانیات اور محقق تھے جنہیں برطانوی حکومت ہند نے 1941ء میں شمس العلماء کے خطاب سے نوازا۔ وہ برصغیر کی آخری علمی شخصیت تھے جنہیں یہ خطاب عطا ہوا تھا۔ ڈاکٹر عمر بن محمد دائود پوتہ کا سب سے بڑا کارنامہ سندھ کی دو مشہور فارسی تواریخ چچ نامہ اور تاریخ معصومی کی ترتیب ہے انہوں نے عربی، فارسی اور انگریزی میں 28 کتابیں یادگار چھوڑیں۔ وہ آخر عمر تک علم و ادب کی خدمت کرتے رہے۔ ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتہ 22 نومبر، 1958ء کو کراچی، پاکستان میں انتقال کر گئے اور بھٹ شاہ میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مزار کے احاطے میں مدفون ہوئے۔

1902ء مولانا صلاح الدین احمد، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور ادیب، صحافی، نقاد، مترجم ادبی جریدے ادبی دنیا کے مدیر تھے۔ مولانا صلاح الدین احمد کا انتقال 14 جون 1964ء کو ساہیوال میں ہوا اور وہ لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں دفن ہیں۔

مولانا صلاح الدین احمد پر تفصیلی مضمون پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

1914ء نارمن بورلاگ، امریکہ کے ایک حیاتیات دان،انسانیت پسند کارکن تھے جنکی امن کی خدمات کودیکھ کر1970ء میں انھیںنوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔ ان کا انتقال 12 ستمبر 2009ء کو ہوا۔

1948ء فاروق شیخ، ایک ہندوستانی اداکار، انسان دوست شخصیت اور ٹیلی ویژن کے مہمان دار تھے۔ وہ 1977 سے 1989 اور 1988 اور 2002 کے درمیان میں ٹیلی ویژن کی اسکریں پر فنکارانہ جوہر دکھاتے رھے۔ اُردو، ہندی فلموں شناخت اور شہرت پائی۔ فاروق شیخ 2008 نے تقریباً آٹھ سال کے وقفے کے بعد فلموں میں دوبارہ اداکاری شروع کی۔ وہ اپنی موت تک یعنی 27 دسمبر 2013 تک فلموں سے منسلک رھے۔ فلموں میں ان کے اصل پہنچان متوازی سنیما یا تجرباتی سنیما (آرٹ موویز) سے تھی انہوں نے ستیہ جیت رے، مظفر علی، ہری شیک مکھرجی اور کیتن مہتا جیسے ہدایتکاروں کے ساتھ کام کیا تھا۔ شروع کے دنوں میں وہ ریڈیو کے معلومات عامہ کوئیز کے پراگراموں کی میزبانی بھی کرتے۔ ان کا ٹیلی وژن شو، “جینا اسی کا نام ہے” بہت مقبول ہوا۔ 90 کی دہائی میں ان کی دو ٹی۔ وی سیریل ” چمتکار” اور “جی منتری جی ” نے شہرت پائی۔

وفات

1866ء نواب محمد بہاول خان چہارم، ریاست بہاولپور کے نویں نواب ہیں۔ آپ کا عرصہ حکومت داؤد پوتروں کی سازشوں کو کچلنے میں گزر گیا اس لیے ریاست میں مزید وسعت نہیں ہو سکی۔ آپ نے 8 سال ریاست پر حکمرانی کی۔ ان کی پیدائش کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہو سکا۔ نواب محمد بہاول خان چہارم کے بعد نواب صادق محمد خان ریاست بہاولپور کے نواب مقرر ہوئے۔

1975ء سعودی عرب کے بادشاہ فیصل کو ان کے ذہنی معزور بھتیجے نے گولی مار کر ہلاک کر دیا،بعد میں ان کے بھتیجے کا سر قلم کر دیا گیا۔

شاہ فیصل کے بارے میں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تعطیلات و تہوار

1829ء یونان کا یوم آزادی

24 مارچ کے واقعات جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

Please follow and like us:

Leave a Reply