گوجرانوالہ،سکول کی دیوارمنہدم،ملبہ تلے دب کر 5بچے اور ایک ٹیچرجاں بحق،14زخمی

Spread the love

گوجرانوالہ(نمائندہ خصوصی)گوجرانوالہ میں سکول کی حفاظتی دیوار گرنے سے

ملبہ تلے دب کر 5 بچے اور ایک ٹیچرجاں بحق،14 طلبہ زخمی ہو گئے ،جنہیں

ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق کشمیر روڈ پر واقع کے ٹی

ماڈل سکول میں یوم پاکستان کے حوالے سے جاری پروگرام کے دوران اچانک

سکول کی حفاظتی دیوار منہدم ہوگئی،جس کے ملبے تلے دب کر 5بچے اور ایک

ٹیچر جاں بحق ہوگئے جبکہ 14بچے شدید زخمی ہوئے۔حادثے کے فوری بعد اہل

محلہ نے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کا کام شروع کر دیا تاہم کچھ ہی دیر میں

ریسکیو ادارے بھی موقع پر پہنچ گئے اور ملبے تلے دبے زخمیوں کو نکالا اور

ہسپتال منتقل کیا،ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے بچوں میں سے بعض

کی حالت تشویشناک ہے۔صوبائی وزیر تعلیم سکول حادثہ کی اطلاع ملتے ہی

فوری طور پر گوجرانوالہ پہنچے، ڈی ایچ کیو ہسپتال گوجرانوالہ میں زخمی

بچوں کی عیادت کی جبکہ شہید بچوں کے لواحقین کے ساتھ گہرے دکھ کا اظہار

کیا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر اور ایم ایس ہسپتال کو ہدایت کی کہ جب تک بچے

بہترین حالت میں صحت مندنہیں ہوجاتے ان کا علاج جاری رکھا جائے اور انہیں

ڈسچارج کرنے میں جلد بازی نہ کی جائے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر سے کہا کہ وہ

بچوں کو معیاری علاج فراہم کرنے کے عمل کی خودنگرانی کریں اور ہر ممکن

طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔اس موقع پر ایم ایس ہسپتال ڈاکٹر ارشاد اللہ‘ ڈی ایم

ایس ڈاکٹر گلزار‘ سی او ایجوکیشن محمد فاروق بھی موجود تھے۔بعدازاں میڈیا

سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے نجی سکول میں رونما

ہونے والے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس شہید بچوں

کے والدین سے کہنے کیلئے کچھ نہیں، والدین نے خوشی خوشی بچوں کو سکول

بھیجا مگرواپسی پر ننھے پھولوں کی نعشیں وصول کیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ

حکومت پنجاب بہت جلد اسمبلی میں قانون سازی کرے گی جس کے تحت سکولوں

کی عمارتوں کے معیار مقرر کئے جائیں گے اس حوالے سے پنجاب کے سرکاری

اور پرائیویٹ سکولوں کی عمارتوں کا سروے شروع کروا دیاگیا،بوسیدہ اور

مخدوش عمارتوں میں قائم سکولوں میں تعلیمی سلسلہ بند کردیا جائیگاکیونکہ بچوں

کی تعلیم سے زیادہ ان کی زندگی کاتحفظ ضروری ہے اور حصول تعلیم کیلئے

آنے والے بچوں کو بوسیدہ اور مخدوش عمارتوں میں قائم سکولوں کے رحم وکرم

پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ کمشنر وقاص علی محمود‘ ڈپٹی کمشنر نائلہ باقر‘ اے سی

سٹی طارق بھٹی‘ صدر حنا ارشد‘ سی ای اوایجوکییشن محمد فاروق‘ پی ٹی آئی کی

رہنما زبیدہ احسان اور متعلقہ اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔انہوں نے یقین

دلایا کہ ڈپٹی کمشنر نائلہ باقر کی طرف سے قائم کی جانے والی 6 رکنی کمیٹی

معاملات کاتفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔متاثرہ سکول کی عمارت کوسربمہر

کردیاگیا،رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔



Leave a Reply