23 مارچ کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1940ء – آل انڈیا مسلم لیگ نے قرارداد پاکستان پیش کی۔ مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل علیحدہ ریاست کے قیام کے لیے یہ قرارداد پاکستان کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اسی قرار داد کے نتیجے میں صرف سات سال کی قلیل مدت میں مسلمانوں کا الگ اسلامی ملک قائم ہوا۔

1956ء – نو سال کی بحث و تمحیص کے بعد پاکستان میں پہلا آئین نافذ کر دیا گیا جس کے نتیجہ میں ملک دنیا کا پہلا اسلامی جمہوریہ بنا۔

1979ء – جنرل ضیاء الحق نے پاکستان میں 17 نومبر 1979ء کو انتخابات منعقد کروانے کا اعلان کیا۔ اس اعلان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اور ضیا الحق 11 برس تک غاصبانہ اقتدار پر قابض رہے۔

2003ء – آسٹریلیا نے بھارت کو فائنل میں شکست دے کا مسلسل دوسری مرتبہ کرکٹ عالمی کپ جیتا۔

2005ء بزنس ریکارڈر ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے تحت پاکستان کے مشہور چینل آج ٹی وی کی نشریات کا آغازہوا۔

22 مارچ کے واقعات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ولادت

1142ء المستضی بامر اللہ، خلافت عباسیہ کا تینتیسواں خلیفہ تھا۔اس کا پیدائشی نام الحسن بن یوسف تھا۔ کنیت ابو محمد اور لقب شاہی المستضی بامر اللہ تھا۔ مستضی کی والدہ ارمنیہ تھی جسے عصمت بھی کہا جاتا تھا۔ جس نے 1170ء سے 1180ء تک حکمرانی کی۔ مستضی کے دور میں صلاح الدین ایوبی نے دنیائے اسلام میں شہرت پائی۔ اس کا انتقال 30 مارچ 1180ء کو ہوا۔

1749ء – پئیر سیموں لاپلاس، فرانسیسی ریاضی دان اور ماہر فلکیات ان کا انتقال 1827ء میں ہوا۔

1858ء – لڈوگ کویڈ، جرمنی کے امن کے حامی کارکن تھے جو جرمن بادشاہ وہللم دوم پر انکی تنقید کی وجہ سے مشہور ہوئے وہ ایک سیاست دان بھی تھے۔1927 میں انھیںامن کا نوبل انعامدیا گیا۔ ان کا انتقال 4 مارچ 1941ء کو ہوا۔

1875ء آیت اللہ سید حسین بروجردی یا سید حسین بن علی طباطبائی بروجردی، شیعہ مجتہد ،آیت اللہ اور مرجع تقلید ہیں، 1292 ہجری بمطابق 1875ء میں ایران کے شہر بروجرد میں پیدا ہوئے۔ سید حسین طباطبائی کا شجرہ نسب حسن مثنی، امام حسن بن علی بن ابی طالب سے ملتاہے۔ سید حسین طباطبائی 15 سال کی عمر میں دنیا کے تمام شیعوں کے اکیلے مرجع تقلید اور مجتہد تھے اور 17 سال کی عمر میں قم کے حوزہ علمیہ کے سربراہ بنے۔ ان کا انتقال 30 مارچ 1961 کو ہوا۔

1876ء – ضیاء گوک الپ، ترک ماہر سماجیات، شاعر اور فعالیت پسند یک ترک ماہر عمرانیات، مصنف، شاعر اور سیاسی شخصیت تھے۔ 1908ء میں انقلاب نوجوانان ترک کے بعد آپ نے گوک الپ (قہرمانِ آسمانی یا آسمانی ہیرو) کا قلمی نام اختیار کیا جو تاحیات برقرار رکھا۔

1865ء میں شاہی استبداد سے بیزار افسر شاہی کے جن اراکین نے جمہوریت کے لیے کوششیں کیں اور نوجوانان عثمان کے نام سے ایک تنظیم قائم کی، آپ ان کے نمایاں رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ 1876ء میں پہلے عثمانی دستور قانون اساسی کی تشکیل میں آپ کا اہم کردار تھا۔ ترک قوم پرستی اور ترکی میں لا دینیت پر آپ کے اثرات انتہائی گہرے ہیں۔ خصوصاً کمال اتاترک کی اصلاحات پر آپ کی تعلیمات انتہائی اثر انداز دکھائی دیتی ہیں؛ اور آپ کی فکر نے کمالیت (Kemalism) کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا جو جدید جمہوریہ ترکی کے قیام کا باعث بنا۔ان کا انتقال 25 اکتوبر 1924ء کو ہوا۔

1881ء – روگر ماٹن ڈو گاڈ، فرانسیسی ناول نگار و ناٹک نگار، نوبل انعام یافتہ ان کا انتقال 22 اگست 1958ء کو ہوا۔

1881ء – ہرمن سٹاوڈنگر، ایک جرمن کیمیاء دان تھا جو پولیمر کیمیاء کے حوالے سے جانے جاتے تھے انھیں 1953 میں کیمیاء کا نوبل انعام دیا گیا۔ان کا انتقال8 ستمبر 1965ء کو ہوا۔

1907ء ڈینئیل بوٹ، ایک سوئس پیدائشی اطالوئی ماہر ادویات تھے جنھوں نے 1957 کا نوبل انعام وصول کیا تھا۔ انھوں نے ایسی ادویہ تیار کی تھی جو خاص قسم کی عصبیاتی پیغام کو روکنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ ان کا انتقال 8 اپریل 1992ء کو ہوا

1914ء سید رئیس احمد جعفری ندوی (پیدائش: 23 مارچ، 1914ء – وفات: ) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور صحافی، مورخ، ماہرِ اقبالیات، ناول نگار، مترجم اور سوانح نگار تھے۔ ان کا انتقال 27 اکتوبر، 1968ء کو ہوا۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر 80 سے زائد کتابیں لکھیں۔

1923ء شیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز (پیدئش: 23 مارچ، 1923ء – وفات: 28 دسمبر، 1997ء) سندھی زبان کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد سندھ کا عظیم شاعر مانا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ آپ مزاحمتی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی پیدائش 23 مارچ، 1923ء میں شکارپور میں ہوئی۔ آپ نے درجنوں کتابیں لکھیں اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ آپ نے “شاہ جو رسالو” کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا جو اُردو ادب میں سندھی ادب کا نیا قدم سمجھا جاتا ہے۔ 23 مارچ، 1994ء کو آپ کو ملک سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہلال امتیاز 16 اکتوبر، 1994ء کو فیض احمد فیض ایوارڈ ملا۔ شیخ ایاز کا انتقال حرکت قلب بند ہونے سے 28 دسمبر، 1997ء کو کراچی میں ہوا۔

1924ء خواجہ معین الدین (پیدائش: 23 مارچ 1924ء – وفات: 9 نومبر 1971ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز ڈراما نویس تھے جو اپنے ڈرامے مرزا غالب بندر روڈ پر کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا انتقال 9 نومبر 1971 کو ہوا۔

1927ء پروفیسر محمد منور مرزا پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے پروفیسر، ماہرِ اقبالیات، محقق، مورخ اور شاعر تھے۔ محمد منور مرزا 23 مارچ، 1927ء کو بھیرہ، سرگودھا، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اُردو، عربی اور فلسفے میں ماسٹرز کیا۔ 1980ء میں گورنمنٹ کالج لاہور کے صدر شعبۂ اُردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ 1985ء تک وہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ اقبالیات کے صدر رہے۔ بعد ازاں انہوں نے اقبال اکیڈمی پاکستان کے ڈائریکٹر کے فرائض بھی انجام دئیے۔ محمد منور مرزا نے اقبالیات کے موضوع پر متعدد کتابین یادگار چھوڑیں جن میں میزان اقبال، ایقان اقبال، برہان اقبال، علامہ اقبال کی فارسی غزل، قرطاس اقبال،Dimensions of Iqbal، Iqbal and Quranic Wisdom، Iqbal-Poet Philosopher of Islam، Iqbal’s Contribution to Literature and Politics، کے نام سرِ فہرست ہیں۔ ان کی دیگر تصانیف میں اولاد آدم، دیوار برہمن، تحریک پاکستان: تاریخ خدوخال، مشاہدہ حق کی گفتگو، پاکستان حصار اسلام اور شاعری کے دو مجموعے غبار تمنا اور نقطہ اشک کے نام سرفہرست ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے صلے میں ستارہ امتیاز کا اعزاز عطا کیا۔ ان کا انتقال 7 فروری، 2000ء کو لاہور میں ہوا وہ لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں دفن ہیں۔

1929ء نصرت بھٹو کی شہرت ذوالفقار علی بھٹو کی دوسری بیوی کےطور پر ہے۔ اس کی اولاد بینظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاہنواز بھٹو اور صنم بھٹو ہیں۔ نصرت بھٹو نسلاً ایرانی صوبہ کردستان سے تعلق رکھتی ہے۔ بھٹو کو پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کی سربراہ بھی رہی۔ 1996ء میں بینظیر کے حکومتی دور میں مرتضٰی بھٹو کے قتل کے بعد ذہنی توازن کھو بیٹھی اور اس کے بعد مرنے تک بے نظیر کے خاندان کے ساتھ دبئی میں مقید رہی۔ 23 اکتوبر 2011 ء اتوار کو دبئی میں انتقال کر گئی۔ ان کے ذہنی توازن کھو جانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس سے قبل انہوں نے شوہر کا عدالتی قتل اور جواں سال بیٹے میر شاہنواز بھٹو کا قتل بھی دیکھا تھا، واضح رہے کہ شاہنواز بھٹو اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے اور ان کے قتل کا معمہ حل نہیں ہو سکا تھا۔ ان کا تمام خاندان ان کے سامنے ہی قتل ہو گیا۔ ان کی صرف ایک بیٹی صنم بھٹو زندہ ہیں جو فرانس میں مقیم ہیں اور کسی قسم کی سیاست میں حصہ نہیں لیتی، شاید ان کے بچ رہنے کی وجہ یہی ہے۔

1945ء احسان مانی، پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین انہوں نے 2018 میں عمران خان کے انتخاب سے یہ عہدہ سنبھالا۔

1948ء – وسیم باری، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی

1964ء – ہوپ ڈیوس، امریکی اداکارہ

1973ء میر واعظ عمر فاروق، کشمیر کے ایک معروف حریت رہنما ہیں جو عوامی ایکشن کمیٹی کے سربراہ، جامع مسجد کے خطیب اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے اہم رہنما بھی ہیں۔

1986ء – کنگنا راناوت، کنگنا راناوت، ایک بھارتی فلمی اداکارہ ہے۔ کنگنا راناوٹ بالی ووڈ کی خوبصورت ترین اور مالدار ترین اداکارہ شمار کی جاتی ہے۔ فی فلم پر کنگنا رناوٹ تقریباً دس کروڑ تک کا معاوضہ لیتی ہیں۔ سچائی کی وجہ سے کنگنا راناوٹ بالی ووڈ میں اونچا مقام رکھتی ہے۔ کنگنا نے کئی ایک ایوارڈ حاصل کیے ہیں جن میں نیشنل فلم ایواراڈ اور فلم فیئر جیسے ایوارڈ بھی شامل ہیں۔

وفات

1887ء نواب کلب علی خان ریاست رام پور کے دسویں نواب تھے جنہوں نے 1865 سے 1887ء تک بحیثیتِ نواب رام پور حکومت کی۔ ان کی پیدائش کا سال 1832 بیان کیا جاتا ہے۔

1931ء – بھگت سنگھ، برصغیر کی جنگ آزادی کی ایک مشہور شخصیت (پ۔ 1907ء)

1960ء – بدیع الزماں، ترک ماہر الہیات و محقق ان کی پیدائش کا سال۔ 1878ء ہے۔

1992ء – فریڈریک ہایک، آسٹریائی جرمن ماہر معاشیات اور فلسفی، نوبل انعام یافتہ ان کی پیدائش کا سال 1899ء ہے۔

2011ء – الزبتھ ٹیلر، امریکی-برطانوی اداکارہ، انسان دوست ان کی پیدائش کا سال 1932ء ہے۔

2015ء – لی کوان یئو، سنگا پوری وکیل اور سیاست دان، پہلے وزیر اعظم سنگا پور ان کی پیدائش کا سال 1923ء ہے۔

تعطیلات و تہوار

یوم پاکستان – پاکستان

1956ء سوڈان کو آزادی حاصل ہوئی

Please follow and like us:

Leave a Reply