پانی کا عالمی دن ، پاکستان کی 85فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم

Spread the love

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ ) پاکستان سمیت دنیا بھر میں پانی کا عالمی دن منایا گیا ،ماہرین کے

مطابق 2025ء تک پاکستان خشک سالی کا شکار ہو سکتا ہے، اس وقت ملک کی 85فیصد آبادی پینے

کے صاف پانی سے محروم ہے جبکہ پاکستان دنیا کے ان 17ممالک میں شامل ہے جو پانی کی قلت کا

شکار ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جب پاکستان وجود میں آیا تو اس وقت ہر شہری کیلئے

5ہزار 6 سو کیوبک میٹر پانی تھا جو اب کم ہو کر 1ہزار کیوبک میٹر رہ گیا ہے اور 2025ء تک

800کیوبک میٹر رہ جائے گا۔پاکستان میں زراعت اور پینے کیلئے زیر زمین پانی استعمال کیا جاتا ہے

جس کی سطح تیزی سے کم ہورہی ہے۔ پاکستان زیر زمین پانی استعمال کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا

ملک ہے۔ملک میں استعمال ہونے والا 80فیصد پینے کا پانی یہی زیر زمین پانی ہے جو زمین سے پمپ

کیا جاتا ہے، اسی طرح زراعت کیلئے بھی ملک بھر میں 12لاکھ ٹیوب ویل زمین سے پانی نکال رہے

ہیں۔ اس بے تحاشہ استعمال کی وجہ سے ہر سال زیر زمین پانی کی سطح ایک میٹر نیچے چلی جاتی

ہے۔دوسری جانب ملک کی 85فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہے، ملک کا 92

فیصد سیوریج کا پانی براہ راست دریائوں اور نہروں میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس آمیزش کی وجہ سے

5کروڑ افراد سنکھیا کے زہریلے اثرات کی زد میں ہیں۔اس گندے پانی کی وجہ سے ہر سال 52ہزار

بچے ہیضہ، اسہال اور دیگر بیماریوں سے جاں بحق ہوتے ہیں۔ اس وقت معیشت کا ڈیڑھ فیصد حصہ

ہسپتالوں میں پانی سے متعلقہ بیماریوں کے علاج پر خرچ ہو رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں

قلت آب کا مسئلہ شدید تر ہو رہا ہے اور 2025ء تک ملک خشک سالی کا شکار ہو سکتا ہے۔ ماہرین

کے مطابق زیر زمین پانی کے استعمال کی پالیسی شروع کی جانی چاہئے۔ماہرین کے مطابق میدانی

اور صحرائی علاقوں میں زیر زمین پانی کے ذخائر محفوظ بنانے، ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے

ضیاع کو روکے جانے کی سخت ضرورت ہے۔



Leave a Reply