جون ایلیا

Spread the love

یہ مضمون کچھ طلبا کی ضرورت کے تحت گوگل پلس پر انور چوہدری صاحب نے تحریر کیا ہے

ادارہ ان کی اس کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہے

معروف شاعر، ادیب، فلسفی اور عجوبۂ روزگار شخصیت، جون ایلیا کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی حادثاتی طور پر انتقال کرگئے۔ لوگ جون سے تعزیت کررہے تھے، انھیں دلاسے دے رہے، ہمّت بندھا رہے تھے۔ خاصی دیر تک وہ لوگوں کا پرُسہ سنتے رہے، پھر لمبی آہ بھر کر بولے’’ہاں جناب،ہمیں اپنے بھائی کے قتل کا کوئی تجربہ تونہیں تھا۔‘‘ اُن کے ابتدائی دنوں کے دوست اور غم گسار، شکیل عادل زادہ رقم طراز ہیں’’کسی دن گھریلو معاملوں کا قصّہ چل رہا تھا۔

کہنے لگے ’’یارشکیل!سنتے ہیں، پچھلے زمانوں میں بیویاں مربھی جایا کرتی تھیں۔‘‘ منفرد شاعر،عبیداللہ علیم اور جون صاحب میں اچھی دوستی تھی ۔علیم کی اچانک وفات جون کے لیے صدمے کا سبب تھی۔ جنازہ اٹھا، تو ایک ہم عصر شاعر پچھاڑیں کھانے اورگریہ کرنے لگے۔ وہ ہرکسی سے لپٹ جاتے ۔

جون بھی غم واندوہ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ تدفین کے لیے جب میّت کو بس میں رکھاجارہا تھا تو کسی دوست نے اُس ہم عصر شاعر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جون کے کان میں کہا ’’اس کی تو حالت دیکھی نہیں جاتی۔‘‘یہ سن کر جون صاحب اِدھر دیکھتے ہوئے ہونٹ سکوڑ کر بولے ’’ہاں جانی! وہ ہم سے بازی لے گیا۔‘‘یار ِ خاص تو صاحب ِطرز ادیب، اسد محمد خان بھی تھے۔

دونوں میں خوب بنتی تھی ۔ ایسی بے تکلفی کہ آداب برطرف کرتے ہوئے دونوںبے خود وبے خبرسے ہوجاتے۔ اسد صاحب کو دیکھ کر جون خوب نخرے میں آجاتے، بے ساختہ کہتے ’’ارے دیدی!کہاںرہ گئی تھی نامراد،کتنی دیر کردی۔ کب سے راہ تَک رہی ہوں۔ گھڑی دیکھی ہے۔ اب کیا خاک جانا ہوگا۔‘‘

اسد محمد خان اُسی انداز میں جواب دیتے ’’کیا بتاؤں بھِنّو!سمجھو، بس خیر ہوگئی۔ خدا جانتا ہے، کس مشکل سے پہنچی ہوں۔ کم بخت بس رستے میں تین مرتبہ ٹھپ ہوئی۔ معلوم تھا، تجھ سے تو انتظار برداشت ہی نہیں ہوتا۔ کھول رہی ہوگی…توُ تو۔‘‘ جون صاحب جواب دیتے ’’مَیں تو ہول رہی تھی۔ زمانہ برا آگیا ہے۔ جانے کیسے کیسے وہم آرہے تھے۔‘‘

ایسا نہیں تھا کہ جون شعوری طور پر بنتے ہوں۔ یہ کجی کہیے یاقلندری، اُن کی شخصیت میں یوں جذب تھی، جیسے نمکین سمندری پانی آبی گھاس میں۔ دنیا دو قطبی دیوؤں کے بیچ تقسیم تھی۔ امریکا نے سر مایہ دارانہ نظام اور سوویت یونین نے سوشلزم کا جھنڈا تھام رکھا تھا۔

جون صاحب کا واضح طور پر ذہنی جھکاؤ سوشلزم اورکمیونزم کی جانب تھا۔دنیا کی چند بڑی کتابوں میں ایک ’’داس کیپیٹال‘‘کا مصنّف ایک جرمن یہودی عالم، فلسفی اور معیشت دان، کارل مارکس!اُس کے پاس اپنی بیٹی کے علاج کے پیسے بھی نہ تھے۔

داس کیپیٹال کے فلسفے پر وجود میں آنے والے نظام نے تیسری دنیا کے بہت سے دانش وَروں کو اپنے رومان میں مبتلا کررکھا تھا۔پاکستان کے دائیں بازو کے دانش وَر اس ہمہ جہت نظام کے فقط ایک پہلو، یعنی دین سے دوری سے خوف زدہ تھے اور اسی کو مشتہر کرکے لوگوں کو اس سے برگشتہ کرتے تھے۔بہرحال، یہ معاملہ اب بحث طلب ہے اور بحث بڑی حد تک فرسودہ بھی کہ اس کے معاشی نظام ہی کو اپنا لیا جاتا اور مذہب سے متعلق پہلو کو نظر انداز کردیا جاتا،تودنیا کس قدر مختلف ہوتی۔

اسی اِزم سے متاثر ہوکے بھٹو نے اسلامک سوشلزم کا نعرہ بلند کیا تھا۔ایک رات جون ایلیا گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے۔ اُدھرماسکومیں گورباچوف کے زیرِانتظام سوویت یونین کا اِنہدام عمل میں آرہا تھا۔ ماسکو میں فوج داخل ہوگئی تھی اور لوگوں نے لینن کا مجسمہ گرادیا تھا۔ یہ سب پاکستان میں سی این این پر دکھایا جارہا تھا۔جون کے ہم دَم اور دانش ور انیق احمد اُس وقت ٹی وی پر یہ تاریخ ساز لمحے دیکھ رہے تھے۔

رات کے دو ، ڈھائی بجے کا عمل ہوگا۔ انھوں نے جون کو یہ برُی خبر سنانے کے لیے فون کیا۔ گھر والوں نے بتایا کہ وہ سوچکے ہیں۔انھوں نے جون کو جگانے پر اصرار کیا۔ گھر والوں نے جون کو اٹھایا اور انیق کے فون کا بتایا، تو جون انکار نہ کرسکے اور آنکھیں ملتے ہوئے فون سننے نیم خوابیدگی میں چلے آئے۔ انیق نے بتایا ’’بھائی جون!روسی باغی فوج ماسکو میں داخل ہوگئی ہے اور لینن کا مجسمہ روندا جارہا ہے ‘‘ جون ہڑبڑا گئے۔ انھوں نے بے یقینی سے انیق احمد سے کہا’’نہیں جانی، نہیں جانی۔‘‘

انیق نے بتایاکہ وہ بہ چشم خودسی این این پریہ ناقابلِ فراموش مناظردیکھ رہے ہیں۔جون چپ ہوگئے۔انیق نے دوبارہ مناظر کی روداد سنائی، تو جون گرفتہ آواز میں بولے ’’ہاںجانی، فوج کہیں کی بھی ہو، ہوتی پنجابی ہے۔‘‘انیق احمد ہی کے ساتھ اُن کا ایک دل چسپ واقعہ اورہے ۔انیق ٹھیرے زاہدِ خشک اور جون رند ِ بلا نوش۔ ایک مرتبہ جون صاحب رات گئے انیق کے ہم راہ رکشے میں جارہے تھے۔جون صاحب اپنے حال میں تھے۔

رستے میں خداداد کالونی کے نزدیک حسّاس ادارے کے اہل کاروں نے انھیں روک لیا۔ انیق نے جون سے درخواست کی کہ وہ کچھ نہ بولیں، وگرنہ اُن کی خمارزدگی کی بات کھل جائے گی اورخواہ مخواہ کوئی پیچیدگی ہوسکتی ہے۔

جون صاحب نے کہا’’ٹھیک ہے جانی، میں چپ بیٹھا رہوں گا۔‘‘اہل کاروں نے پوچھا کہ آپ لوگ کہاں سے آرہے ہیں۔انیق نے کچھ بتایاکہ جون صاحب یکایک رکشے کے دوسرے دروازے سے نکل آئے اور سینہ تان کربولے ’’شراب پی کر آرہے ہیں۔‘‘یہ کہہ کر جون صاحب نے جیب سے بوتل نکال کر بھی اہل کاروں کو بہ طور ثبوت دکھادی۔

انیق یہ سب ہکّا بکّا دیکھ رہے تھے۔ جون صاحب نے اعترافی بیان دینے کے بعد سڑک پر رقص کے اندازمیں ہاتھ لہرانے شروع کردیے ۔ساتھ ہی وہ اپنا قومی نغمہ بھی ترنم سے سنانے لگے،’’ہم اپنے صف شکنوں کو سلام کرتے ہیں۔‘‘ اپنے بڑے بھائی رئیس امروہوی کے لکھے ملی نغمے کے چند اشعار بھی سنائے اورگائے۔

اہل کارحیران و پریشان کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ مسکراتے ہوئے انھوں نے جانے کی اجازت دے دی ۔ انیق صاحب ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے رکشے میں بیٹھے تو جون صاحب فخریہ لہجے میں بولے ’’دیکھا؟ تیرا بھائی اتنا بھی بے ہوش نہیں۔‘‘

ڈاکٹر توقیر ارتضیٰ مستند شاعر اور منجھے ہوئے بیوروکریٹ ہیں۔ وہ اپنے آبائی شہر، ایبٹ آباد میں طب کی تعلیم حاصل کررہے تھے تو خبر اُڑی کہ جون ایلیا وہاں ایک مشاعرے کی صدارت کرنے آرہے ہیں۔وہ جون کی شاعری کے مدّاح تھے، سو مقررہ تاریخ کو مجوزّہ مقام پر مشاعرے میں بہ طور سامع پہنچ گئے۔مشاعرہ خوب جما اور جون نے تو گویا محفل لوٹ لی۔ اسی دوران جون کچھ زیادہ ہی خمار میں آگئے۔ جب مشاعرہ ختم ہوا تو توقیر صاحب صدرِمشاعرہ، جون سے اظہار ِ عقیدت کے لیے آگے بڑھے۔

تب تک اسٹیج خالی ہوچکا تھا اور جون کرسی ٔ صدارت چھوڑکراسٹیج پرقلابازیاں لگا رہے تھے۔وہ ایک کونے سے قلابازی لگانی شروع کرتے اور دوسرے کونے تک چلے آتے۔ یہ معمول دوسرے کونے سے تیسرے کے لیے شروع ہوجاتا۔

توقیرصاحب بہت صبر سے ایک کونے میں کھڑے ہوگئے اور انتظار کرنے لگے۔جون صاحب لوٹنیاں لگاتے ہوئے وہاں پہنچے اور اگلے مرحلے کے لیے تیار ہونے لگے تو توقیر صاحب نے انتہائی عِجز و ادب سے انھیں بتایا کہ وہ جون صاحب کے بہت مدّاح ہیں۔ یہ سن کر جون کی آنکھوں میں چمک آگئی اور بولے ’’جانی! اگر اتنے ہی مدّاح ہو،تو آؤمیرے ساتھ قلابازیاں لگاؤ۔‘‘ توقیر صاحب مدّاح تو ضرور تھے، پر اتنے بھی نہ تھے۔

بہ قول اُن کے ’’جون صاحب تو کراچی لوٹ جاتے۔ میں لوٹنیاں لگا کر ایبٹ آباد کے دوستوں کو کیا منہ دکھاتا‘‘ سو ،وہاں سے خاموشی سے کھسک لیا۔ یہ سنک جون صاحب طاری کرتے تھے، ڈراما سجا لیتے تھے یا ان کی عادات و حرکات مصنوعی ہوتی تھیں، سمجھنے کے لیے ایک حقیقت مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ جون بہت سی زبانوں کے عالم،کئی علوم پرقادر اور نفسیات کی گتھیوں کے شارح تھے۔

وہ زندگی کی بے معنویت اور کائناتی وسعت میں انسان کی بے اہمیتی سمجھ چکے تھے۔شاید زندگی کو ایک کھیل تماشے سے زیادہ نہ لیتے تھے۔ بالکل ویسے ہی جیسے کوئی بھی حقیقی صاحب علم و ادراک متکبّر نہیں ہوسکتا کہ وہ جانتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتا۔ جون دانائے راز تھے، سو کجَ روتھے۔ وہ پیچیدہ اور مجموعۂ اضداد بھی تھے۔ رقیق القلب تھے اور آمادئہ پیکار بھی۔عجب آدمی تھے۔ اپنے گرد فسوں کا ایک ہالہ رکھتے تھے۔

کتابوں میں لکھا ہے کہ جون ایلیا14دسمبر1931ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے۔ زاہدہ حنا کا خیال ہے کہ اُن کاسنِ پیدایش1928ء ہے۔ جب کہ شکیل عادل زادہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہاجاسکتا۔

وہ بتاتے ہیں کہ جون صاحب کو کم عمر نظر آنے اور کہے جانے کا جنون تھا، اِس لیے اپنی عمر چند برس کم لکھوائی ۔جب شکیل عادل زادہ مراد آباد میں ساتویں جماعت میں زیرِتعلیم تھے، تو جون صاحب وہاں امروہہ سے تقریری مقابلے میں بہ طور مہمان آئے تھے۔ یہ 1951-52ءکی بات ہے۔ مراد آباد امروہہ سے قریباً بیس میل کے فاصلے پر ہے۔

تقریری مقابلے میں ایک مقرر نوعمر شکیل عادل زادہ کو جون صاحب نے پہلے انعام سے نوازا تھا۔بعد میں مقابلے کے مہتمم، مولوی عتیق الرحمان نے شکیل کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ ’’یہ عادل ادیب مرحوم کے فرزندہیں۔‘‘ عادل ادیب کا نام سن کے جون صاحب اُچھل گئے اور جوش و جذبے سے شکیل کو گلے لپٹالیا۔’’ارے، تُم عادل بھائی کے بیٹے ہو۔‘‘جون ایلیا نے مولوی عتیق الرحمان سے کہا ’’ آپ کو معلوم ہے، یہ کون ہے؟

یہ ہمارے خاندان کا فرد ہے۔‘‘ شکیل کے والد، نام وَر ادیب شاعر اورصحافی عادل ادیب ہی رئیس امروہوی کو امروہے سے مرادآباد لائے تھے اور اپنے علمی و ادبی ماہ نامے’ ’مسافر‘‘ کی ادارتی ذمّے داری سونپی تھی، یعنی رسالہ ’’مسافر‘‘ کے ذریعے رئیس امروہوی عملی طور پر صحافت سے وابستہ ہوئے تھے۔مسافر میں اُن کا نام ’’ رئیس التحریر‘‘ کے لقب کے ساتھ شایع ہوتا تھا(رسالہ مسافر کی چند جلدیں کراچی کی بیدل لائبریری میں محفوظ ہیں)۔

رئیس امروہوی نے پھر بیوی اور بچّوں سمیت مراد آبادہی کو مسکن بنالیا تھا۔ جون صاحب کے بہ قول، ہم پیشگی، دوستی کے علاوہ خاندانی قسم کا تعلق عادل ادیب اور رئیس امروہوی کے درمیان بہت گہرا تھا۔1944ءدوسری جنگ عظیم کے دوران کاغذ کی نایابی سے ’’مسافر‘‘کو بند کرنا پڑاتھا۔

جون صاحب نے آہ بھر کے کہا’’اوراسی سال کے آخرمیں عادل بھائی کا انتقال ہوگیا۔ لوگ تو بہت کچھ کہتے ہیں، میں سمجھتا ہوں، ’’مسافر‘‘ کے بند ہوجانے کا صدمہ جان لیواثابت ہوا۔‘‘1951-52ءکے اُس تقریری مقابلے میں یوں جون اورشکیل صاحب کے خاندانی مراسم کا اعادہ ہوا۔ بعد میں دونوں کی قربت کے احوال سے بے شمار ادب دوست واقف ہیں۔ شکیل صاحب کہتے ہیں ’’جون صاحب اس وقت باقاعدہ جوان مرد تھے، پھر1931ء کی پیدائش کیسے تسلیم کی جائے۔‘‘

امروہہ میں بھوڑٹیلے، آگ دھونکتے سورج کی تپش میں گرمیوں کی آندھیوں اور تیز ہواؤں میں مقام بدلتے رہتے تھے۔ گلی محلوں میں ریت کے بھنور بنتے رہتے تھے اور جھکّڑ انھیں لیے پھرتے تھے۔ ان کے بارے میں معروف تھا کہ ریت اور ہوا کے بگولوں کی شکل میں چڑیلیں، ڈائنیں ہیں، جو چھوٹے بچّوں کو پکڑلیتی ہیں۔ بچّے دوپہروں میں گھروں سے باہر آوارہ گردی کرنے نہیں نکلتے تھے۔

وہاں کے مزار،ٹھنڈے سایوں والی اندھیر یا مسجد، اور عیدگاہ میدان تو گویا نیر مسعود کے کسی افسانے سے نکلے دکھائی دیتے تھے،پراسرار اور دھندلے۔’’جون کے والد علاّمہ شفیق حسن ایلیا عالم تھے، جنھیں فلکیات اور فلسفے سے خاص شغف تھا۔

حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں اُن کی تصنیف ’’حقیقت المسیح‘‘ خاصّے کی چیز تھی۔ امروہہ کے شیعہ سادات عموماً بہت پڑھے لکھے، عالم فاضل لوگ تھے۔ ہندوستان میں تین مقامات کے سادات معروف تھے، ساداتِ بارہ، ساداتِ بلگرام اور ساداتِ امروہہ۔

مصحفی جیسے استاد شاعر بھی امروہہ سے تھے۔ ایک پورا تہذیبی ماحول تھا۔‘‘ شکیل عادل زادہ یادکرتے ہوئے گویا ہوتے ہیں۔علامہ شفیق حسن ایلیا کے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی، رئیس امروہوی، سیّدمحمد تقی، سیّدمحمد عباس، جون ایلیا اور سیّدہ نجفی۔علوم و فنون خاندان کی گھٹی میں تھے۔

جون کے سگے چچا زاد بھائی، کمال امروہوی نے کئی باکمال فلمیں بنائیں اورکہانیاں لکھیں۔ اِن میں پکار، سکندر، محل، پاکیزہ، رضیہ سلطان کا شمار یادگار فلموں میں ہوتا ہے۔ شہر میں ایک پوری تہذیب زندہ تھی۔ ایسا تہذیبی ماحول تھا،جو صدیوں کے ٹھیراؤ اور رچاؤسے آتا ہے۔ جون کا خاندان حقیقی طور پر ایک خوش حال خانوادہ تھا، جس کی مناسب آمدنی اور حویلیاں تھیں۔

چار بیٹوں میں سے تین کی عرفیت تھی، رئیس امروہوی اچھن، سیّد محمد تقی چھبن اور محمد عباس بچھن تھے۔ سُناہے، عرفیت کی نسبت سے بچّے، بچیاں محلّے کی حویلیوں کے آنگن میں نعرے لگایا کرتے تھے۔ ’’اچھن، چھّبن، بچھن، جون ان چاروں میں اچھا کون؟‘‘ پھر کسی بچّے کی صدا بلند ہوتی ’’جون‘‘۔ جون کی کوئی عرفیت نہ تھی۔

وہ ابتدائی دنوں میں جون اصغر کے نام سے شاعری کرتے تھے۔ جون بہ یک وقت شوخ اور غم گین آدمی تھے اور اپنے آپ کو ’’ابوالحزن‘‘(دکھ کا باپ)کہتے تھے۔ جون کے معنی وضع، بھیس کے ہیں۔ ایلیادانش وَروں اور فن کاروں کی اساطیری بستی تھی۔ سو ،جون ایلیا کے معنی ہوئے ،اُس بستی کے اَن مول دانش وروں کی وضع کا۔ اسے غلط طور پر مسیحی یا مغربی نام بھی سمجھاگیا۔

وہ ابتدا سے منحنی جثّے کے حامل، معدے کی خرابی میں مبتلا اور کم خوراک تھے۔ انھیں دوسروں کو ستانے میں لطف آتا تھا۔جون اوربہن بھائیوں کو صبح ناشتے میں چائے کے پیالے میں روٹی بھگو کر دی جاتی تھی۔ وہ شرارتاً بڑی باجی (ریحانہ،بنت رئیس امروہوی)کو کہتے تھے کہ اُن کی چائے میں مکھی گر گئی ہے۔

باجی ناراض ہوکر اُٹھ کر چلی جاتیں اور جون خوب لطف اٹھاتے ۔یہ بات اُن کی بھتیجی شاہانہ رئیس ایلیا نے اپنی کتاب ’’چچا جون‘‘ میں بیان کی ہے کہ جب جون پیدا ہوئے تو انھوں نے باقاعدہ قہقہہ مارا تھا۔ بعد ازاں، وہ اتنے خشک مزاج اور ضدی ہوگئے کہ اُن کی اّماں مارتی بھی تھیں، تو وہ کہتے تھے ’’میری جان نکال دو، مگر میں بات نہیں مانوں گا۔‘‘

رئیس امروہوی کی شادی ہوئی، تو جون تین برس کے تھے۔ رئیس اپنی دلہن کے ساتھ کمرے میں چلے جاتے تھے، تو وہ کمرے کے دروازے سے لگ کر بیٹھ جاتے اور دلہن کو توتلی آواز میں برا بھلا کہتے، دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہتے ’’دروازہ کھول، میرا گھی اندر رکھا ہے۔‘‘ اب جو دروازہ نہ کھلتا، تو اُسے زور زور سے پیٹنے لگ جاتے اور چیختے ’’اس عورت سے کہو، میرے بھائی کو باہر بھیجے۔‘‘
رئیس امروہوی مراد آباد منتقل ہوئے، تو دس گیارہ برس کے جون اُنھیں ملنے، دیگر اہلِ خانہ کے ہم راہ امروہہ سے آئے۔ ایک روز جون کو خیال آیا کہ بڑے بھائی کی مدد کی جائے۔چناں چہ انھوں نے رئیس کی کاپیاں اور رجسٹر الماری سے نکالے اور بڑی احتیاط سے اُن کے لکھے ہوئے صفحات پھاڑ ڈالے۔ اُن صفحات پر اشعار اور دیگر تخلیقی کام لکھا ہوا تھا۔ یوں جون کی نظر میں لکھے ہوئے صفحات پھاڑ ڈالنے کے بعد کاپیاں صاف ستھری ہوگئی تھیں۔ جب شام کو رئیس واپس آئے اور جون نے اُنھیں شرماتے شرماتے یہ کارنامہ سنایا اور داد کے منتظر ہوئے، تو رئیس نے اپنے کام کو ضائع دیکھ کر غیظ وغضب میں زندگی میں پہلی مرتبہ انھیں تھپڑرسید کیا۔

جون کے مزاج میں ضد کے ساتھ طنز اور لااُبالی پن نے کچھ ایسا رنگ جمایا کہ وہ اپنی ذات میں انجمن اور فردِ واحد میں افراد ہو گئے۔ لڑکیوں سے شرمائے رہنا، اُن سے توقع رکھنا کہ وہ سامنے کچھ کھائیں پئیں نہیں اور تصوّراتی دوشیزہ اور محبوبہ کے مانند بنی رہیں، لڑکوں بالوں سے بے لحاظ ہوجانا، بے وجہ مسکرانا اور بے وقت رقّت طاری کرلینا ان کے مزاج کا حصّہ بن گئے۔بعض اوقات ایسی بے مروّتی طاری ہوجاتی کہ ایک دفعہ کوئی لڑکا شاعری پر اصلاح لینے گیا، تو اُس کی کاپی کا شاعری والا صفحہ پھاڑ کربولے ’’میاں بالے! بھول جاؤ، یہ تمھارے بس کا کام نہیں۔جاؤ کرکٹ کھیلو، فلمیں دیکھو، لونڈیوں سے عشق لڑاؤ ،مگر شاعری پر رحم کرو۔ یہ ایرے غیرے کا کام نہیں۔‘‘

اسی طرح ایک مرتبہ گھر پر منعقد ہونے والی ادبی نشست میں ایک نوآموز شاعر نے غزل میں لفظ ’’کِرچی‘‘استعمال کیا تھا۔یہ لفظ سن کر جون نے تحکّم سے اُسے بیٹھ جانے کو کہا۔ وہ بیٹھ گیا، تو جون نے اپنی بھتیجی ریحانہ کو آواز لگائی۔’’ریحانہ بتا، جب امروہے میں کئی دن تک لگاتار بارش ہوتی تھی، تو اماں ہم سے کیا کہلواتی تھیں؟‘‘ریحانہ نے جواب دیا’’چھلنی میں مرچیں،بادل کی کرچیں۔‘‘جون ترت لڑکے سے بولے’’بالے،سنا کچھ۔ ہماری امّاں پڑھی لکھی نہیں تھیں، مگراردو غلط نہیں بولتی تھیں۔

کِرچی غلط ہی نہیں، بالکل غلط ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ غزل پھاڑ کر پھینک دو۔‘‘جون کو لڑکپن ہی سے مطالعے کی لَت اور فلسفیانہ موشگافیوں میں سر کھپانے کی عادت تھی۔ تجسّس اور سیکھنے کا شوق ایسا کہ اردو، عربی اورفارسی میں حقیقی طور پر رواں، انگریزی اورعبرانی کی شُدبُد، ادب، فلسفے اور لسانیات میں مہارت، دیگر علوم پر مناسب دست رس رکھتے تھے۔ بچپن سے صحت ایسی تھی کہ ہلکا پھلکا سا بھی کھا لیتے تو معدے پر ایسی گرانی ہوتی کہ صحن میں تخت پر لیٹ جاتے۔

مزاج میں مبالغہ ایسا کہ اپنے لیے وہی تاریخِ پیدایش منتخب کی، جو حضرت علی ؓ کی تھی، یعنی تیرہ رجب۔ خود شاعر تھے، شاعری سے محبت تھی، پر شاعروں سے کد تھی۔ غالب کو پچیس اشعار کا شاعر مانتے تھے۔ یعنی غالب نے فقط پچیس قابلِ ذکر اشعار کہے تھے۔ البتہ میر تقی میرؔ کے عاشقِ صادق تھے۔ اپنے آپ کو سب سے برتر مانتے تھے۔ اپنے والد کو اپنے آپ سے بھی برتر کہتے تھے۔ اداکاری تھیٹر میں بھی فرماتے تھے اورزندگی میں بھی۔امروہہ میں تھیٹر میں باقاعدہ اداکاری کرتے رہے تھے، پہلوانی کا بھی شوق تھا۔

ایک مرتبہ امروہے میں مشاعرہ تھا۔ گرمیوں کے دن تھے، رات کا وقت۔ ہوا تھمی ہوئی تھی، حبس کا عالم کہ دم گھٹتا تھا۔ مشاعرے کے لیے شاعروں کی آمد جاری تھی۔ نوجوان شاعر، جون ایلیا کا انتظار تھا۔ اتنے میں عجب حلیے کے ایک صاحب پنڈال میں داخل ہوئے۔ اس گرم رات میں انھوں نے اوور کوٹ زیب تن کرکے، شب کی تاریکی میں سیاہ چشمہ لگا رکھا تھا۔ وہ انتہائی سنجیدگی اورمتانت سے چلتے ہوئے اسٹیج کی جانب بڑھ گئے۔

منتظمین نے غور سے دیکھا، تو معلوم ہوا کہ وہ پراسرار اجنبی، جون ایلیا صاحب ہی تھے۔ امروہہ کی بہت دل چسپ روایات تھیں۔ جب مہمان کسی شادی والے گھر کرائے کی سواری پر آتے، تو یہ میزبانوں کی ذمّے داری ہوتی کہ کرایہ دیں۔ اسے شگون مانا جاتا تھا، البتہ اگرکسی مرگ والے گھر جایا جاتا، تو کرایہ خود ادا کیا جاتا تھا۔ شاہانہ رئیس ایلیا نے ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ ایک شادی کے موقعے پر دلہن کو ڈولی میں روانہ کرنا تھا۔ رخصتی کا وقت آیا، تو دلہن کی ماں اور بڑی بہن کی کہاروں کے ساتھ کرائے پر بحث شروع ہوگئی۔خوب گرما گرمی ہوئی، تب جاکر ڈولی اُٹھی۔

بعدازاں، یہ عقدہ کھلا کہ ڈولی اٹھتے وقت بحث ایک قاعدہ تھا۔ بھلے طے شدہ کرائے سے زیادہ پیسے دیے جائیں، پر تکرار اس تقریب کا لازمی جزو ٹھیرا۔ امروہے کے لوگوں میں فن کاری کی پزیرائی حد درجے تھی۔ ہر شخص کے اندر کا فن کار نمایاں ہوجاتا۔ یہاں تک کہ گھریلو خواتین شادیوں میں سہاگ لکھ لیا کرتی تھیں۔ قصّہ کاری کا یہ عالم کہ ان کے آبائی قبرستان میں جون کے والد کی قبر کے پاس ایک پیڑ نما پودا تھا۔ اسے ’’بی بی بخوئی کی چوٹی‘‘ کہا جاتا تھا۔ شنید ہے کہ جب بی بی بخوئی کے لیے کسی نواب کے بیاہ کا پیغام آیا، تو وہ شرمندہ ہوگئیں کہ اُن کے والد شاہ ولایت تو درویش اور صوفی آدمی ہیں۔

ایک رئیس سے بیاہ اُن کے والد کی توہین ہے۔ یہ سوچ کر کہ پیغام خود بی بی کی وجہ سے آیا ہے، وہ بہت شرمندہ ہوئیں اور دُعاکی کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں۔ دعا قبول ہوئی، زمین پھٹی اور وہ اُس میں اِس طرح سمائیں کہ چوٹی باہر رہ گئی۔ وہ درخت نما پودا بی بی بخوئی کی وہی چوٹی تھی۔ اُس پر ایک دَور میں الائچی دانے لگتے تھے۔گرمیوں کی توَے کی طرح گرم تپتی دوپہروں میں سینگی بائی کوٹ اور ہبوڑے امروہہ کی گلیوں میں پِھرا کرتے تھے۔سیاہ رنگت، سرخ آنکھیں، گلے میں رنگ برنگے منکوں کی مالائیں ڈالے سینگی بائی کوٹ، جونکیں لگاتے تھے تاکہ فاسد خون نکل جائے۔

جب لوگ لُو کے لپٹوں سے بچنے کے لیے گھروں میں آرام کرتے یا سایہ ڈھونڈتے ہبوڑے خاموش گلیوں میں آوارہ گردی کرتے تھے۔لڑکپن میں جون کا تخیّل بھی تصوّر کی گلیوں میں پھرا کرتا۔ انھوں نے ایک تصوّراتی لڑکی ’’صوفیہ‘‘ کا خیال تراش رکھا تھا۔ اُسی سے عشق میں مبتلا تھے اور باتیں کیا کرتے تھے۔ تصوّر کی رسائی کا یہ عالم تھا کہ پسندیدہ شعرا، میر تقی میرؔ کے استثنا سے سوا، قدیم بابل، فارس اور جزیرہ نُما سے تعلق رکھتے تھے اور جون فکری طور پر تبھی سے ان میں زندگی بسر کرتے تھے۔ نوعمری ہی میں جون کو ’’پریا‘‘ نام کی ایک حقیقی لڑکی سے عشق ہوگیا۔

اس کی رنگت گوری، مگر چہرے پر چیچک کے داغ تھے۔ وہ جون سے اشعار سن کر لکھ لیا کرتی تھی۔ جون سے عمر میں بڑی تھی اور ایک دوسرے لڑکے کی محبت میں گرفتار تھی۔ سو، اُس لڑکے کو جون سے سنے اشعار لکھ بھیجتی تھی۔ جون پر تویہ راز تب کھلا، جب اُس لڑکی کی شادی اپنے محبوب سے ہوگئی۔ محلّے بھر کی لڑکیاں، بالیاں جون سے سہاگ، قصیدے، غزلیں لکھوایا کرتیں۔ جون کو دوسری محبت ایک منگنی شدہ لڑکی سے ہوئی۔

وہ بھی جلد بیاہ کر چلی گئی۔ اب جون تھے،اُن کی یادیں، شاعری تھی اور غم غلط کرنے کے ذرائع۔ اُس معاشرے میں ذاتی ملکیت پر اجتماعی ملکیت کو فوقیت حاصل تھی۔ ’’میں‘‘،’’میرا‘‘،’’میری‘‘ وغیرہ ایسے الفاظ غیرمہذّب، کرخت، پرُتکبّر سمجھے جاتے اور ’’ہم، ہمارا، ہماری‘‘ یا دیگر باہمی ملکیت کے الفاظ برتے جاتے تھے۔

جون نے لڑکپن ہی میں امروہہ میں بہ طور شاعر ایک پہچان بنانا شروع کردی تھی۔ دن کو پہلوانی اور تن سازی کرتے، رات میں مشاعروں میں شریک ہوتے۔ حلیے کے علاوہ مشاعرے میں حرکات بھی جدا ہوتی تھیں۔ کھچا کھچ بھرے مشاعرے میں اشعار سناتے سناتے رُک جاتے اور کسی سامع کو دیکھ کر آواز لگاتے ’’ارے نذر تُم… یہاں؟ پچھلی مرتبہ تمھارے ہاں خوب لطف رہا۔ بھئی میزبانی تو تم پر ختم ہے۔ کیا خوب آم کا اچار کھلایا تھا۔‘‘قیامِ پاکستان کے وقت وہ اور ان کی بہن ہندوستان ٹھیرگئے تھے۔

دیگربھائی پاکستان چلے آئے۔ رئیس امروہوی ’’جنگ‘‘ اخبار میں قطعات، سیاسی، سماجی کالم لکھنے لگے۔ سیّدمحمدتقی ادارتی شعبے کی سربراہی پر فائز تھے۔

رئیس امروہوی نے گاندھی جی کے قتل کے دن ایک فی البدیہ قطعے سے باقاعدہ قطعہ نگاری کا آغاز کیا۔ وہ نہایت قادرالکلام شاعرتھے، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے شعر کہنے کی قدرت انھیں حاصل تھی۔ گاندھی جی کی موت پرانھوںنے جو قطعہ کہا،وہ کچھ یوں تھا؎ زیست کی جس نے امید تھی باندھی…..لے اُڑی اُس کو موت کی آندھی…..گالیاں کھاکے، گولیاں کھا کے…..مر گئے اُف، مہاتما گاندھی۔

روزنامہ جنگ کے مالک، میرخلیل الرحمان نے، جو خود بھی ایک شان دار صحافی تھے، رئیس صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ ملک کے سیاسی وسماجی واقعات پر روز ایک قطعہ لکھ سکتے ہیں۔رئیس صاحب کے ہامی بھرنے پر یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔ روزایک قطعہ، ملک کے سیاسی سماجی حالات کی ترجمانی کرتا ہوا، کبھی طنز، کبھی مزاح سے مرصّع، ایسی کاٹ کہ اللہ اکبر، کوئی شبہ نہیں، سبھی ناقد اعتراف کرتے ہیں کہ رئیس امروہوی نے قطعہ نگاری کے فن میں کیا کیا تجربے کیے۔انھوں نے کئی بے مثال قطعات کہے، پھر جنگ کے ہم عصر اخبارات نے جنگ کی پیروی میں قطعہ نگاری کو مستقل جگہ دینی شروع کردی، مگر کوئی بھی رئیس امروہوی کا ہم سر نہ ہوسکا۔

کسی فن کار، قلم کار کی وفات پر ایک رسمی جملہ ادا کیا جاتا ہے کہ اُس کے خلاکا پرُ ہونا مشکل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ رئیس امروہوی کے انتقال کے بعد اُن جیسا باکمال قطعہ نگار سامنے نہیں آیا۔ اخبار ِجہاں نے رئیس امروہوی کی زندگی میں اُن کے قطعات کے تین مجموعے شایع کیے تھے، جو اَ ب نایاب ہیں۔

بھارت میں جون کے دن، تنگ دستی میں گزرے۔ سیّدتقی اور رئیس امروہوی اُنھیں اخراجات کے لیے پیسے بھیجتے تھے۔ اپنی تساہل پسندی کے باعث جون نے جم کر کوئی ذریعۂ روزگار اختیار نہ کیا۔ اُنھیں اپنی ماں اور بہن کے اخراجات بھی اٹھانا تھے۔وہیں انھیں تپِ دق نے آلیا۔ جب فروری، 1957ء میں کراچی آئے، تو بہت بیمار تھے، خالی نظروں سے گردونواح کو تکتے رہتے۔ یوں لگتا تھا، جیسے ان کا جسم توکراچی آگیا ہے، پر وہ اپنی روح امروہہ چھوڑ آئے ہیں۔

پاکستان میں رئیس صاحب ’’شیراز‘‘ نامی رسالہ نکال رہے تھے۔ میری ویدر ٹاور کے نزدیک نیوکلاتھ مارکیٹ میں دفتر ’’شیراز‘‘ واقع تھا۔ شکیل عادل زادہ بھی چند روز کے وقفے سے کراچی آئے تھے۔ جون، سیّدمحمد عباس اور شکیل عادل زادہ شیراز کے دفتر میں سوتے تھے۔ ایک صوفے پر، تو دوسرا تخت پر لیٹ جاتا تھا۔ جون کو قریباً سو انجیکشن لگے، توتپِ دق سے ان کی صحت بحال ہوئی۔ اب جو روزگار کے وسیلے پر سوچ بچار کی تو اپنا ایک رسالہ شروع کرنے کا خیال آیا۔اس وقت معروف بیوروکریٹ اور صاحبِ علم، الطاف گوہر کراچی میں کمشنر تھے۔

ان کے ہاں ماہ نامہ ’’انشا‘‘ کا ڈکلیریشن داخل کیا گیا۔ جس کی اُسی روز اجازت مل گئی۔ فروری 1958ء میں انشا کا اجرا ہوا۔ یہ سنجیدہ نوعیت کا ایک علمی پرچہ تھا۔ دورِ حاضر میں ادبی پرچے تو باقاعدہ نکلتے ہیں، جن میں چند علمی مضامین بھی ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس انشا ایک مکمل علمی پرچہ تھا۔ جون بہت عمدہ اداریہ لکھتے تھے۔ ان کی نثربھی اعلیٰ پائے کی تھی جو حبیب اشعر، مولوی عنایت اللہ اور مولانا ابوالکلام آزاد کی سی نثر کی جھلک دکھلا جاتی تھی۔ جون نے اپنی جداگانہ حیثیت منوائی۔ وہ رئیس اور تقی کے بھائی کے بجائے اپنے حوالے سے پہچانے جانے لگے ۔

بچپن سے جون میں سرکشانہ خوتھی، بائیں بازو سے مجنونانہ تعلق تھا اور خود مختاری کا جذبہ فزوں تر تھا۔ کراچی میں جون کا ابتدائی قیام، کھارادر میں بھائیوں کے ساتھ تھا۔ ڈیڑھ کمروں پرمشتمل دو فلیٹس میں دونوں بھائی اپنے اپنے بیوی بچّوں کے ساتھ رہتے تھے۔ ایک میں رئیس امروہوی ، دوسرے برابر والے فلیٹ میں سیّدمحمدتقی۔ بعدازاں، پورا خاندان گارڈن ایسٹ کے علاقے میں 2700 گزپرمحیط ایک وسیع کوٹھی میں منتقل ہوگیا۔ یہ کوٹھی اُنھیں کلیم میں ملی تھی۔

قریب میں خوجہ جماعت خانہ تھا۔ تب کوٹھیوں کے بھی دل کش اور پرمعانی نام رکھے جاتے۔ ہرمکان و بنگلے کی اپنی انفرادیت ہوتی تھی۔ کوٹھیاں اپنے عددی پتّے کے بجائے ناموں یا علامات سے پہچانی جاتی تھیں، جیسے گول بنگلا،باغ والی کوٹھی وغیرہ۔اس کوٹھی کا نام پہلے ’’ارسطاطایس‘‘ پھرجون کی والدہ کے نام پر’’نرجس‘‘ رکھاگیا۔ جلد ہی وہ بنگلا ایک تہذیبی اور ادبی مرکز کی حیثیت اختیار کرگیا۔ صادقین، جوش ملیح آبادی، مجنوں گورکھ پوری،عبدالعزیزخالد، شاہد احمد دہلوی، پروفیسر احمد علی، جمیل الدین عالی، احسن فاروقی، جی الانا، سیّد ہاشم رضا وغیرہ شاموں کو وہاں باقاعدگی سے اکٹھے ہوتے تھے۔

خوب محفل آرائی اور رونق ہوتی تھی۔ شاعرہ اور ادیبہ عذرا عباس نے اُس بنگلے کی لفظی عکس گری کی ہے۔ ’’دروازے ہی سے ایک راستہ شروع ہوکر برآمدے کی سیڑھیوں پر ختم ہوتا تھا۔ برآمدے کی بائیں طرف کسی اجاڑ باغ کی سی کوئی چیز تھی۔ ادھڑی ہوئی گھاس کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر ایک مضبوط پرانے درخت کے نیچے ایک دبلا پتلا، لمبا سا آدمی چوڑے پائنچے کا سفید پاجاما اور کُرتا پہنے کھڑا کسی دکھائی نہ دینے والی چیز کو گھور رہا تھا اور اس سے قدرے فاصلے پر لکڑی کے ایک کم زور تخت پر ایک خوب رو بیٹھا تھا۔’’یہ میرے باپ ہیں، تم نے نام تو ضرور سنا ہوگا، رئیس امروہوی۔‘‘

اس نے تیزی سے برآمدے کی طرف بڑھتے ہوئے درخت کے نیچے کھڑے آدمی کی طرف آنکھوں ہی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ میں نے دماغ پر زور ڈالا لیکن ابھی میں ’’ہاں‘‘ اور ’’نہیں‘‘ سے نکل بھی نہ پائی تھی کہ برآمدہ بھی ختم ہوگیا۔ اِدھراُدھر کئی کمرے آئے لیکن ان میں سے کسی میں بھی مجھے لے جایا نہیں گیا، پھر ایک لمبا کمرا اور اس کے بعد باورچی خانہ، کھانوں کی خوشبوؤں سے بھرا ہوا۔ کوٹھی کا تصوّر اب ضائع ہورہا تھا۔

ہرطرف کمرے، کمروں میں تخت، تختوں پر چاندنیاں اور چاندنیوں پر گاؤ تکیے، برآمدے کا تخت سب سے بڑا تھا اور اس پر ایک بھاری پان دان بھی رکھا تھا۔ اس پر ایک خاتون بیٹھی تھیں، ریشمی غرارے اور چوڑے ریشمی دوپٹے میں ملبوس۔ پان دان، تخت اور برآمدے کا ایسا میل میں نے نہ تو پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ پھر کبھی دیکھا۔
ساری فضا کہانیوں جیسی تھی، لیکن میں اس سے مانوس نہیں ہوپارہی تھی۔ اب ہم جس کمرے کے پاس تھے، اس میں کوئی روشن دان یا کھڑکی نہیں تھی، لیکن دروازے تین تھے، انھی میں سے ایک کی طرف منہ کرکے مجھے کوٹھی لانے والی نے زور سے کہا’’جون جاگ رہے ہو؟‘‘ ’’ہاں بالی، سوتا کب ہوں؟ مجھے تو یاد بھی نہیں کبھی سویا بھی تھا۔‘‘ کمرے کے ملگجے اندھیرے سے ایک غیرمانوس سی کھنکتی ہوئی آوازمیں، سر کو اس طرح حرکت دیتے ہوئے ایک سائے نے جواب دیا کہ بالوں کی ایک لَٹ خود بہ خود ماتھے پر آجائے۔

اب میں جون کے سامنے کھڑی تھی، جو مجھے کوٹھی لانے والی بالی کے چچا تھے، لیکن چچا، بھتیجی میں ایسا کوئی تکلّف نہیں تھا کہ رشتہ آڑے آتا۔ ’’یہ جون ہیں، شاعر ہیں، بہت مشہور شاعر‘‘ اس نے سامنے تخت پربیٹھے اس آدمی کی طرف اشارہ کرکے کہا، جو ٹانگ پر ٹانگ رکھے اس طرح بیٹھا تھا کہ گھیر دار پاجامے میں یہ پتا نہیں چل سکتا تھا کہ کون سی ٹانگ سیدھی ہے اور کون سی الٹی۔ اسی طرح بیٹھے بیٹھے جون بالی کو کوئی شعر سنانے لگے۔ شعر سناتے ہوئے انھوں نے دونوں انگلیاں بالوں میں پھنسا رکھی تھیں۔‘‘

جون ایلیا کی شہرت کے تین مدارج ہیں۔ پہلے درجے میں انھیں ایک صاحبِ علم شاعر، مفکّر اور ماہرِلسانیات کے طور پر کراچی کے ادبی حلقوں میں جانا جانے لگا۔ اُن کے بارے میں رفیقِ دیرینہ شکیل عادل زادہ بتاتے ہیں کہ جون کے اندر تجسّس کا مادّہ بہت زیادہ تھا۔ دوسروں کی محبت کی داستانیں اور گھریلو اسکینڈل خوب شوق سے سنتے اور مسالا لگا کر سناتے، علمِ نجوم، ہندسہ، دست شناسی اور ماورائی علوم سے شغف تھا، سائنسی فکر کے حامل اور روایت شکن تھے۔ دیسی کھانے کے شوقین اورمغربی لباس کے دل دادہ تھے۔

کئی زبانوں پر دست رس تھی، انگریزی میں رواں نہ ہونے پراُداس رہتے تھے ۔ بہ قول شکیل صاحب کے۔’’دوا خوری ایک مستقل مشغلہ اور ضرورت بھی۔ آیورویدک، یونانی، ایلوپیتھی، ہومیوپیتھی، نفسیاتی، روحانی، ایکوپنکچر،شمسی شعائیں، ہرطریقِ طب سے استفادہ۔ عام لوگوںکے مشوروں پر قسم قسم کے ٹوٹکے بھی آزمائے جاتے رہے۔ مہینوں تک کچی کلیجی نچوڑکرعرق پیتے رہے۔ چار مغز،سچّے موتی، زعفران، مشک اور سونے کے سفوف سے مرکب جوارشوں کے تجربے بھی کیے جاتے رہے۔

سرپر انڈوں، کبھی جسم پر سرسوں، زیتون اور روغنِ بادام کی مالش کی جارہی ہے۔ کسی حکیم ڈاکٹر نے نسخے پرہوالشافی، لکھ دیا یا نسخے پر پہلے ہی سے کندہ ہوا ہو تو مطب سے باہر نکلتے ہی بے زاری سے کہتے’’اسے تو خود پر اعتبار نہیں سارا ذمّہ تو اس نے خدا پر ڈال دیا ہے۔‘‘ معاشی مسائل اپنی جگہ، پر جون کے ہاں مختلف المزاج صاحبانِ سخن کے ہونے سے رونق لگی رہتی تھی۔ اُن کے برادرِ بزرگ، رئیس امروہوی صاحب کا ایک معمولی سا واقعہ ان کے مزاج اور حیوانات کی فطرت کی خبر دیتا ہے۔

ایک رات رئیس رات کا کھانا کھا رہے تھے۔ گھر میں رات کا کھانا صحن میں ہوتا تھا۔ روز رات کو کھانے کے وقت ایک کتّا آجایا کرتا تھا، جسے رئیس صاحب بہت محبت سے کھانا ڈال دیا کرتے تھے۔ ایک رات معمول کے مطابق وہ کتّا کھانے کے وقت آیا، تو رئیس صاحب کی اہلیہ کسی بات پر بَھری بیٹھی تھیں، انھوں نے کتّے کو ڈانٹ دیا۔ ’’کس قدر بے غیرت ہے۔ جانے کہاں سے یہ کھانے کے وقت آمرتا ہے۔‘‘ اُس کتّے نے اِس جانب دیکھا اور خاموشی سے باہر چلا گیا۔ یہ دیکھ کر رئیس صاحب سے رہا نہ گیا اور وہ افسردگی میں روٹی لیے کتّے کے پیچھے پیچھے باہر چلے آئے۔ باہر انھوں نے کتّے کو شفقت سے روٹی دی اور اس سے مخاطب ہوکر کہنے لگے۔’’تم میری بیوی کی بات کا برا مت مانو۔ اسے اندازہ نہیں کہ بھوک کیا بلا ہے۔‘‘ کتّے نے سر جھکا کر روٹی اٹھائی اور وہاں سے چلا گیا۔ اُس دن کے بعد وہ کتا دوبارہ ان کے گھر نہ آیا۔

چوں کہ انشا علمی نوعیت کا پرچہ تھا، سو اس کی اشاعت بہ مشکل ایک ہزار سے بڑھ پائی، لاکھ جتن کرلیے، ٹائٹل پرٹائٹل بدلے، حسین وجمیل عورتوں کی تصویر سجائیں، ساڑھے بارہ سو سے آگے اشاعت نہ بڑھ پائی۔ اس اشاعت میں معاشی استحکام ممکن نہ تھا۔ انھی دنوں ریڈرز ڈائجسٹ کی طرز پر اردو ڈائجسٹ نکالا گیا، جو بہت مقبول ہوا۔ اردو ڈائجسٹ کی مثال کو مدنظر رکھتے ہوئے انشا کو ’’انشا عالمی ڈائجسٹ‘‘ کے نام سے بدل دیا گیا۔ نتیجتاً اس کی اشاعت کچھ عرصے میں چار ہزار ہوگئی، البتہ پھر یہ اشاعت وہیں رک گئی۔ مقابلتاً اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ کی اشاعت بہ تدریج بڑھ رہی تھی۔

جون صاحب کے مزاج میں کاروباری چمک نہ تھی۔ شاعری ہی ان کا مسئلہ تھی۔رسالے کی اشاعت جم کے رہ گئی تھی اور اس جمود میں کوئی تحریک پیدا نہیں ہوئی، تو وہ بددل ہوگئے۔ انشا عالمی ڈائجسٹ سے انشا کا لاحقہ ہٹا کر ’’عالمی ڈائجسٹ‘‘ بنادیاگیا۔ اُس دور میں ڈائجسٹوں کو (اور کچھ حد تک آج بھی) سنجیدہ ادب سے نچلے درجے میں رکھا جاتا تھا۔ یہ امر بھی جون کے لیے حوصلہ شکن تھا۔ اس سے ہٹ کر محبت کے معاملے۔اوروہ ایک لڑکی!نام تو اُس کا کچھ اور تھا۔

فرض کرلیجیے ماریا۔ داستان ہر چند فرضی نہیں ہے۔ سانولی، سلونی، دل کش خال وخد، کسی قدر سنجیدہ ومتین اورعمر کے سب سے قیامت دَور میں۔ وہ جو جو ش صاحب کا شعر ہے؎ مہتران ہو کہ رانی، گنگنائے گی ضرور….. یہ جوانی ہے جوانی ، رنگ لائے گی ضرور۔ صورت یہ تھی کہ جون صاحب کی کوٹھی سے ملحق ایک بڑی کوٹھی کی انیکسی میں اینگلو انڈین خاندان مقیم تھا۔ انیکسی کی دیوار کے ساتھ ’’عالمی ڈائجسٹ‘‘ کا دفتر بنایا گیا تھا۔ انیکسی کی کھڑکیاں دفتر کی طرف کھلتی تھیں اور اینگلو خاندان کے لوگ تاک جھانک کرتے رہتے تھے۔ جانے کیسے، کیوں کر اور کب جون اورماریا کی رسم و راہ ہوگئی ۔

جون عام نوجوانوں کی طرح بھڑکیلے، مَن چلے اشاروں کنایوں کے متحمّل تھے، نہ انھیں جذباتی قسم کی شوخیاں، شعبدہ بازیاں آتی تھیں، نہ خطوط کا تبادلہ ممکن تھا۔ ماریا کو اُردو صرف بولنا آتی تھی، لکھنا نہیں، لکھنا آتی ہوگی تو بہت واجبی، نہ دوسری لڑکیوں کی طرح جون کی شاعری سے متاثر ہوجانے کا کوئی امکان تھا۔ رئیس امروہوی اور سیّد محمد تقی، کلیم میں ملی وسیع و عریض کوٹھی میں آکے بس تو گئے تھے، مگر ان کے رہن سہن اور سازوسامان سے صاف ظاہر تھا کہ سفید پوشی کا بھرم قائم کیے ہوئے ہیں۔ سید محمد تقی نے پرانی فورڈ ٹائپ کار خریدلی تھی، جس کا پیٹرول وہ پھونک پھونک کے استعمال کرتے تھے۔ پڑوسی خاندان کی لڑکیاں کبھی کبھار جون کے گھر کی خواتین سے ملنے آیا کرتی تھیں۔

اِن میں ماریا بھی ہوتی تھی، مگر بَھرے پرُے گھر کے سامنے اظہارِ عشق کے امکانات بھی بہت کم تھے۔پھر یہ سب کچھ کیسے ہوگیا۔ کس وقت، جون نے ماریا کو اسیر کیا اور کس دن ماریا نے کھڑکی سے جون پر تیر برسائے، اندازہ نہ ہوسکا۔ ویسے جون دنیا کی ہر لڑکی سے عشق کے آرزو مند تھے اوربہ یک وقت کئی لڑکیوں سے بھی۔ ایسا نہیں تھا کہ انھیں موقعے نہ ملے ہوں مگر یا تو کچھ عرصے بعد وہ ہچکچانے لگتے تھے یا پے روی کے لیے وقت نہیں دے پاتے تھے یا اُن سے عشق کے پیچیدہ مطالبے، تقاضے نبھائے نہیں جاتے تھے۔جون کو کسی مثالیے کی تلاش تھی۔

کچھ عرصے بعد اُنھیں احساس ہوتا کہ یہ تعبیر تو ان کے خوابوں، خیالوں کی ضد ہے۔ کسی کو مثالیہ نہیں ملتا اور مِل جاتا ہے تو مثالیہ نہیں رہتا۔ انھوں نے کہا تھا؎ جون کروگے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش….. اَب کئی ہجر ہوچکے، اب کئی سال ہوگئے۔ جون صاحب کے لیے کوئی پری بھی آسمان سے اُترتی تو وہ کچھ مدت بعد اس میں بھی عیب تلاش کرلیتے۔ کچھ اور نہیں تو جمالیاتی عیب۔رفتہ رفتہ ماریا بھی دور ہوتی گئی۔ جون صاحب اور اُس میں ایسی کوئی نسبت بھی نہیں تھی۔ شادی وغیرہ کے تو شاید عہد وپیمان ہی نہیں ہوئے تھے۔ یہ صرف دوستی تھی اوردوستی ہی رہا کرے، تو کیا اچھا ہے، لیکن یہ زن وشو کی دوستیاں عموماً بھٹک اور بہک جایا کرتی ہیں۔ماریا کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔

کنارہ کشی سے نہ کسی نے ماریا کو سرگشتہ و سرگرداں دیکھا، نہ جون پر جاں سوزی وجاں کنی کی کیفیت طاری ہوئی اور ہوا یہ کہ اچانک ماریا کے غریب خاندان کو انیکسی چھوڑنی پڑگئی۔بے شک اِس دوری کی جون صاحب کو توقع نہ تھی۔ ماریا کے اس طرح بچھڑ جانے کے بعد بہت دنوں تک وہ خاموش اور اداس دیکھے گئے۔ اداس اور شکایت کے بہانے تو خیر وہ ویسے بھی ڈھونڈتے رہتے تھے۔ خودمظلومی شعار تھی۔ کسی دوست نے مشورہ دیا تھا کہ ماریا کو تلاش کرنا چاہیے۔ وہ اِسی شہر کے کسی علاقے میں گئی ہوگی۔ جون نے مشورے پر عمل نہیں کیا اور آہ و زاری پر اکتفا کی۔

یہ 1965-66ء کی بات ہے۔ایک روز جون ایلیا کو ایک خط موصول ہوا۔ سادہ سے کاغذ پر ایک لڑکی کا خط،لکھا تھا کہ وہ جون کی شاعری کی دل دادہ ہے ، اُن کے بیش تر کلام کی حافظ۔ جون بہت سرشار ہوئے۔ اُس زمانے میں ان کے گہرے دوستوں میں اسد محمد خاں، محمدعلی صدیقی،راحت سعید، حسن عابد، قمر ہاشمی، انجم اعظمی، یوسف ضیغم، سحر انصاری اور انور شعور وغیرہ شامل تھے۔ سب نہیں، تو چند قریباً روز ہی گھر آتے تھے اور شکیل عادل زادہ تو گھر ہی کے ایک فرد تھے۔ جون باربار احباب کو خط دکھاتے۔ انھیں خط کی تحریر میں نہاں اصل مقصد و منشا دریافت کرنے بلکہ سراغ لگانے کی بڑی بے کلی تھی۔

لڑکی کا نام افشاں تھا۔ تحریر سے خوش ذوق، شایستہ وسنجیدہ اور تعلیم یافتہ نظر آتی تھی۔مسلم لیگ کوارٹرز کا پتا درج تھا، کوارٹر کا پتا درج نہیں تھا ۔اتنے بہت سے مسلم لیگ کوارٹرز میں افشاں کے گھر کی نشان دہی کیوں کر ہوپاتی۔ ابھی خط کے مندرجات پر تحقیق و تفتیش کے مراحل طے ہورہے تھے کہ دوسرا خط آگیا، دوسرا، تیسرا، چوتھا….. یک طرفہ خطوط کے اس سلسلے میں جون ایلیا کی شاعری ہی موضوع ہوتی۔ چند خطوط کے بعد کچھ باتیں واضح ہوگئی تھیں کہ افشاں کا تعلق متوسط گھرانے سے ہے۔ کسی کالج میں بی اے کے سالِ آخر میں ہے اور جون کی شاعری کی شیدائی ہے۔ ’’یونی ورسٹی کے حالیہ مشاعرے میں آپ کا لباس خوب جچ رہا تھا۔ یہی لباس پہنا کیجیے، شیروانی کوتو ترک کرہی دیجیے، صحت کا خیال رکھیے،مشاعروں میں کم جائیے۔‘‘ صرف بڑے مشاعروں میں شامل ہونے کے تبصروں، تاکیدوں کے علاوہ جون کی شخصیت کے بارے میں اشتیاق آمیز تجسّس سے یہ امر بھی واضح تھا کہ افشاں،ایک شاعرکی شیدائی ہی نہیں، ایک نوجوان کی بھی تمنّائی ہے۔

ہر اگلے خط میں یہ فریفتگی فزوں ہوجاتی تھی۔خطوط سے یہ شبہ بھی ہوتا تھا کہ افشاں نے جون کو قریب سے دیکھا ہے اوراُن کی بہت سی عادتوں ، خوبیوں اور خامیوں سے واقف ہے۔ جون تو پہلے ہی خط سے متزلزل ہوگئے تھے، ہر خط کے بعد ان کا اضطراب سوا ہوجاتا ۔ہرنیا خط دوستوں کے سامنے پیش کیا جاتا اور ایک ایک لفظ، ایک ایک سطر کے معانی و مطالب پر غور و خوض ہوتا۔ احباب آسرا دلاتے کہ دیکھنا،کسی روز اپنے پتے سے بھی آگاہ کردے گی۔ متوسّط خاندان کی لڑکیاں اپنے آپ سے بھی ڈرتی ہیں۔ دس اطراف کا انھیں خیال رکھنا ہوتا ہے۔ کوئی عجب نہیں کہ کسی دن اپنی سہیلی کے ساتھ وہ خود ملنے چلی آئے۔

جیسے جیسے خط آتے گئے، افشاں معمّا بنتی گئی۔ جون صاحب کی بے چینیاںبڑھتی گئیں اور صرف اُنھی کے لیے نہیں، ان کے سبھی رازداں دوستوں کے لیے بھی۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ جون پر والہ وشیدا، اتنی خوب صورت تحریر لکھنے اور جون کو اتنا جاننے والی لڑکی کون ہوسکتی ہے۔ سبھی کا اتفاق تھا کہ تحریر لڑکی ہی کی ہے۔ یہ اسلوب کسی مرد کا نہیں ہوسکتا۔ افشاں کے کسی خط میں کھل کر شیفتگی کا اظہار نہیں ہوتا تھا۔ سارا اظہار بالواسطہ تھا، جو اُس کی ذہنی بلوغت کا غمّاز تھا۔ جون کے آس پاس، نزدیک و دور ہر لڑکی کی ٹوہ لی گئی ۔کسی پر شک نہیں گزرا۔ دوست تسلیاں دینے کے سوا کیا کرسکتے تھے۔ اِس دوران جون صاحب سے کئی غزلیں، نظمیں سرزد ہوئیں ۔

یہ صدمہ مستزاد تھا کہ وہ یہ تازہ کلام افشاں کو نہیں بھیج سکتے تھے۔خط آتے رہے اور جون کے ہوش و حواس روزوشب پراگندہ کرتے رہے۔دوست بھی کچھ عاجز آنے لگے تھے کہ وہ جون کی دل جوئی کے لیے کیا تشریح وتفسیر کریں ۔ انھوں نے افشاں کا ایک خیالی پیکر بھی تراش لیا تھا۔ دوستوں میں سبھی شاعر و ادیب تھے، ایک سے ایک فسانے کو حقیقت، حقیقت کو فسانہ بنانے والا۔ انھی میں ایک شاعر دوست نے رنگ ونشاط کے عالم میں ایک شام جون کی بے تابیوں پر لطف کا اظہار کیا، تو شکیل عادل زادہ کو شبہ ہوا۔

بہت کریدنے ،بڑی منّتوں کے بعد شاعر دوست نے زبان کھولی کہ خطوط ایک لڑکی ہی لکھ رہی ہے مگر اُس کا نام افشاں نہیں ہے۔ کئی بار وہ جون صاحب سے مل چکی ہے۔ شکیل بھی اُسے اچھی طرح جانتے تھے ۔ صنف نازک کے لیے جون کی بے تحاشا دل چسپی، فطری قسم کی رغبت دیکھ کے شاعر دوست کو شوخی سوجھی اور انھوں نے بہن بنی ہوئی اس لڑکی کو آمادہ کیا کہ وہ یہ خطوط لکھے۔ خطوط کے متن میں شاعر دوست بھی اُس کی مدد کرتے تھے۔ اب کچھ صورت حال اس نوعیت کی تھی، جیسے قاتل خود مقتول کے سوگ واروں میں شامل ہواورجنازے کو کندھا دے ۔

وہ شاعر دوست جون صاحب کے ہیجان و انتشار کی بنیاد بھی تھے ،شاہد بھی۔دیگر دوستوں کے ساتھ وہ جوش و خروش سے مشورے دیتے، نکتہ طرازیاں کرتے اور نظارہ فرماتے رہے، اور کسی کو احساس نہ ہونے دیا کہ ساری تماشا بازی اُن کی ہے۔ شکیل عادل زادہ اِس انکشاف پر دنگ رہ گئے۔ شاعر دوست سے دست بستہ درخواست کی کہ اب تک جو ہوچکا ہے، ٹھیک ہے، مگر خدا کے لیے اب بس کیا جائے، یہ سلسلہ فوراً بند کردیا جائے۔ جون صاحب کی حالت کا انھیں اندازہ ہے، ایسے معاملات میں وہ کیسے جذباتی ہوجاتے ہیں، پاگل پَنے کی حد تک۔

صبح و شام اُن کی زبان پر اَب ایک ہی ذکر ہے۔ شکیل عادل زادہ نے لڑکی سے بھی بات کی۔ آخر دوست اس شرط اور وعدے وعہد کے بعد تیار ہوگئے کہ شکیل کسی اور سے اِس کا تذکرہ نہیں کریں گے۔ بہت سوچ بچار کے بعد ایک آخری خط ضرور لکھا گیا۔ لڑکی نے رقت و ندامت آمیز انداز میں اپنی مجبوریوں ،محرومیوں اور گھریلو قدامتوں کا ذکر کیا، لکھا کہ اُسے معاف کردیا جائے، شاید اب وہ کوئی خط نہ لکھ سکے۔ یعنی کچھ ایسے اشارے کیے گئے کہ وہ اپنے والدین کی مرضی و منشا کے آگے بے اختیار ہوگئی ہے اور کہیں دور جارہی ہے۔ متوسّط طبقے میں آدمی کو پیدا ہی نہیں ہونا چاہیے۔ اس نے منّت کی کہ جون شاعری کرتے رہیں، کیوں کہ وہ تو شاعری کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں۔
اُسے یقین ہے کہ شاعری میں ایک روز اُن کا بہت بلند مقام ہوگا،وغیرہ وغیرہ۔ یہ خط موصول ہوا تو جون صاحب پر تو جیسے پہاڑٹوٹ پڑا۔دل گیری و دل برداشتگی کا جو حال ہونا چاہیے تھا، ہوا۔ شکیل عادل زادہ نے بھی دیکھا اور اُس شاعر دوست نے بھی۔عرصے تک جون صاحب نے خطوط سنبھال کے رکھے اور عرصے تک وہ حسرت ویاس سے تذکرہ کرتے رہے اور یہ راز شکیل عادل زادہ، شاعر دوست اور اُس لڑکی کے درمیان ہی محدود رہا۔

جون صاحب کے علم میں آتا تو اُن کے غم و غصے کا کیا عالم ہوتا، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ وہ غضب ناک بھی اتنے ہی تھے، جتنے جمالی، اتنے جلالی۔ پھر یہ ہوا،جیسا کہ بہت قریبی احباب بتاتے ہیں۔ ’’عالمی ڈائجسٹ‘‘ شایع ہورہا تھا، جون کھارادرسے اب کراچی کے پوش علاقے، گارڈن ایسٹ کی بڑی کوٹھی میں منتقل ہوگئے تھے۔ عالمی ڈائجسٹ کے ساتھ وہ آغاخان انسٹی ٹیوٹ میں، پروفیسر جوادالمسقطی کے زیرِ نگرانی عربی اور فارسی کی کچھ نادرونایاب کتابوں کا ترجمہ کررہے تھے۔

اِس سے پہلے اردوکی سب سے بڑی لغت کی ترتیب و تدوین میں بھی وہ کچھ عرصہ ُاردوڈکشنری بورڈ میں بھی کام کرچکے تھے۔انشا اور عالمی ڈائجسٹ کے ذریعے اُن کی ادبی حیثیت مستحکم ہوچکی تھی۔ کراچی میں کثرت سے ہونے والے مشاعروں کے مقبول شعرا میں ان کا شمار ہونے لگا تھا کہ ایک اسکول کے مشاعرے میں انھوں نے اسکول کی کارکن، زاہدہ حنا کو دیکھا۔ زاہدہ تعلیم کے ساتھ ملازمت بھی کررہی تھیں اور گھر بھی دیکھ رہی تھیں۔ اُن کے والد ِگرامی، ابوالخیر صاحب علالت کے سبب خانہ نشین ہوچکے تھے۔بڑی وضع، نستعلیق قسم کے بزرگ تھے، طبّی امور سے دل چسپی، علم و ادب کے دل دادہ۔ زاہدہ گھر کی بڑی تھیں،ایک بھائی،ایک بہن اور والدہ پر مشتمل اِس خانوادے کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

زاہدہ نے زندگی میں بہت محنت کی اور محنت ہی سے مقام بنایا۔ تعلیم کے دوران اُن کے پاس کتابوں کا بڑا ذخیرہ تھا، قراۃ العین کی عاشق، ابتدا ہی میں اُردو کے نام ور ادیبوں، شاعروں کو پڑھ لیا تھا۔سانولی،خوش چہرہ، خوش قامت اور خوش شعارزاہدہ اُن بہت سی لڑکیوں سے مختلف تھیں، جن سے جون کا واسطہ ہوا تھا،یا رہا تھا۔ زاہدہ حنا سے پہلی ملاقات کے بعد بات بڑھتی گئی۔زاہدہ کی مصروفیات کی وجہ سے ملاقاتیں تو کم کم ہوتی تھیں،فون اور خطوط یہ کمی دور کردیتے تھے۔ دونوں جانب سے خطوط کا سلسلہ معمول بن گیا تھا۔ جن چند قریب ترین احباب نے یہ خطوط پڑھے ہیں، اُن کی رائے ہے کہ اُردو میں گنتی کے خطوط کے مجموعوں میں زاہدہ اور جون کے خطوط بیش قیمت اضافے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بہ وجوہ ان کی اشاعت ممکن نہیں۔

ایک مرتبہ عبیداللہ علیم نے جون کو ایک اطلاع دی، جس سے وہ حواس باختہ ہوگئے۔ قصّہ کچھ یوں تھا کہ کسی نے زاہدہ کو خبر سنائی تھی کہ جون کی مرضی اور خواہش کے مطابق ان کا رشتہ ایک لڑکی فیروزہ کو بھیجا گیا ہے۔ دروغ برگردنِ راوی، خبر اُڑی کہ پیام کی یہ بات سن کر اور جون کی بے وفائی و بے اعتنائی کا سوچ کر زاہدہ نے خود کشی کی کوشش کی تھی۔ ظاہرہے، خبر بے بنیاد اور جھوٹی تھی۔ خدا جانے، یہ جون کی محبت تھی ، اپنے اہم ہوجانے کا احساس کہ ایک لڑکی نے ان کی خاطر اپنی جان لینے کی کوشش کی ہے یا دروغ گوئی کا معاملہ کہ جون نے مایوس ہوکر کہا’’ایسا جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔‘‘ زاہدہ عالمی ڈائجسٹ میں باقاعدہ لکھنے لگی تھیں، ترجمے کرتی تھیں،مضامین بھی لکھتی تھیں۔ان کی نثر شروع ہی سے پختہ،رواں اور دل کش تھی۔

کوئی آٹھ سالہ رفاقت کے باوجود اُن کی شادی بہرحال ایک مسئلہ بن گئی تھی۔ رئیس امروہوی کا خاندان تو جون صاحب کی خوشی میں خوش تھا لیکن اُدھر زاہدہ کے گھر والے، خصوصاً والد صاحب آمادہ نہیں ہوپارہے تھے۔ بہت دنوں تک حجّت ہوتی رہی، لیکن یہ مسلک وفرقے کا قضیّہ ٹلے کہ دونوں پرعزم تھے۔1970ء میں زاہدہ جون کی دلہن بن کے گھر میں آبسیں۔ نومبر1969ء میں شکیل عادل زادہ کی علٰیحدگی کے بعد ’’عالمی ڈائجسٹ‘‘ کی مدیر وہ پہلے ہی بن چکی تھیں۔ اس بیاہ نے بعد ازاں انھیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا عطا کیا۔

زاہدہ حنا صاحب ِ طرز ادیبہ، جنھوں نے سفرِحیات میں اب تک عمدہ فکشن اور مضامین کے دو ہزار سے زیادہ فن پارے تخلیق کیے ہیں، ایک بااصول اور نظریاتی تخلیق کار بھی ثابت ہوئی ہیں۔ کئی انعامات، اعزازات اور ایوارڈ حاصل کرنے کے علاوہ سب سے بڑھ کر انھوں نے ایک تمغہ پایا ہے۔ ہمارے وطن میں ادیب، شاعر، تخلیق کار عمر بھر کی محنت کے بعد عزت اور گنتی کے چند ٹکے ہی کما پاتے ہیں۔ ایسے میں قومی اعزاز اُن کے لیے حوصلہ افزائی کا اَن مول تحفہ ہوتا ہے۔ حکومت ِ پاکستان نے 2006ء میں انھیں پرائڈ آف پرفارمینس دینے کا اعلان کیا، جسے انھوں نے اس وقت کی فوجی آمریت کے خلاف احتجاجاً لینے سے انکار کردیا اور رَد کردیا۔ اُن جیسے اور سلیم الرحمان صاحب جیسی شخصیات ہی معاشرتی ضمیر کے ماتھے پر سونے میں ڈھلا جھومرہیں۔

1971ء جون کی زندگی میں شہرت کا دوسرا درجہ لے کر آیا۔16دسمبر1971کو مشرقی پاکستان کی علٰیحدگی کا الم ناک سانحہ ہوا۔ اس آنسوؤں میں بھیگی رات کو عبیداللہ علیم نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے ان سے نظم لکھوائی ۔نظم کا عنوان تھا’’استفسار‘‘۔ اس کا شعر تھا’’کیا اِس قدر حقیر تھا اس قوم کا وقار، ہر شہر تم سے پوچھ رہا ہے، جواب دو!‘‘اس نظم نے لوگوں کے دل چھولیے اور یہ عوام کے جذبات کی آواز بن گئی۔ پاکستان ٹیلی وژن سب سے مقبو ل ومعروف ذریعۂ ابلاغ تھا۔

جون ایلیا کی شہرت خواص کے دائرے سے نکل کر عوام کے بحرِبیکراں میں موج درموج پھیلنے لگی۔ مبالغہ جون کی سرشت میں تھا۔ شاہ نامۂ فردوسی60ہزاراشعار پرمشتمل ایک عالم گیر شہرت و عظمت کا حامل رزمیہ ہے۔ جون نے فردوسی کے اتباع میں 50ہزار سطروں پرمشتمل ’’نئی آگ کا عہد نامہ‘‘ لکھنے کا اعلان کردیا۔ کئی برس گزر گئے۔ اس عہد نامے کے ہر حصّے کو لوح اور ان کی جمع کو الواح کہا گیا۔

سال ہا سال بعد جون نے دکھ سے اعلان کیاکہ بہت سی الواح چوری کرلی گئی ہیں۔ بعد میں کہا گیا کہ کئی الواح کھو گئی ہیں۔ بالآخر پانچ ہزار سطروں کی بات ہوئی اور یہ بات بھی نامکمل رہ گئی۔ زاہدہ حنا ان الواح کے ابتدائی سامعین میں سے تھیں۔ وہ رقم طراز ہیں۔ ’’نئی آگ کا عہدنامہ‘‘ کی ابتدائی الواح میں ن۔ م راشد کی جھلک نظر آتی تھی۔’’حسن کوزہ گر‘‘،’’اسرافیل کی موت‘‘ بہ طور خاص ’’دل مرے صحرانورد‘‘ جس میں راشد نے آگ کا ذکر سورنگ سے کیا ہے۔ وہ آگ، جو پرومی تھیس نے کوہ المپس سے چرائی اور اس نیم حیوان دوپایہ کو دی، جس کے لیے دیوتاؤں نے آگ ممنوع کر رکھی تھی۔ اسی جراَت کے سبب پرومی تھیس معتوب و مقہور ٹھیرا اور30ہزار برس کی سزا کاٹی۔

اسی نے آگ سے انسان کو آہن گری سکھائی، شکار کے کچے گوشت کو بھون کر کھانے کا سلیقہ عطا کیا، آگ جو اندھیری رات میں اسے بھیڑیوں اور لکڑبگھوں سے بچاتی تھی، وہ آگ جس نے خاک کے پتلے کو انسان بنایا، اسی آگ سے چرا غ جلے اور انسان پر علم و ہنر کے دروازے وا ہوئے۔ آگ جس کی تعظیم کا حق زرتشتیوں نے ادا کیا۔‘‘ وہ دور جون کی پرُگوئی کازمانہ ہے۔ ان کے ہاں خیال اور اس کی ترسیل جداگانہ اور حقیقی نظر آتے ہیں۔ جون نے اپنی شاعری سے سیکڑوں نئے خیالات ، تشبیہات اور استعارے متعارف کروائے۔ اُنھیں قبل ازاسلام کا عرب اپنی اور بلاتا تھا، وہ اُس دور کے کاہنوں سے تخلیقی تحریک حاصل کرتے تھے۔

اُن کے ہاں انجیلِ مقدس، قرآنِ کریم اور دیگر صحائف کے نشانات ملتے ہیں، متزلہ فلسفیوں کے مباحث، کانت، نطشے اور سارتر کے خیالات کا عکس نظر آتا ہے۔ اس علمی مرتبے ہی نے بابائے اردو، مولوی عبدالحق کو قائل کیا تھا کہ وہ جون کی نوجوانی ہی میں اُن کی آمد پر کھڑے ہوگئے تھے۔جون خوب جانتے تھے کہ فلسفے کی ابتدا حیرت و استعجاب سے ہوتی ہے۔ اس میں تشکیک کا رنگ بھی شامل ہوجاتا ہے۔ کائنات وسیع ہے اور فہمِ انسان میں آنے والے سوالات بے شمار۔ قدم قدم پر الجھنیں انسان کے قدموں سے لپٹ جاتی ہیں۔ انھوں نے اپنی بھتیجی شاہانہ کو سقراط کے حوالے سے اُس کے دمِ آخریں کا جملہ سنایا تھا’’افسوس کہ پیچیدہ گتھیاں سلجھاتے سلجھاتے وقت تمام ہوگیا۔ ہاتھ کیا آیا؟ کچھ بھی نہیں۔‘‘ اُن کا اپنی بھتیجی کو فلسفے کا درس دیتے ہوئے مکالمہ اُن کی ذہنی پختگی کا عکّاس ہے۔ ’’مذہبی لوگوں کو معلوم تو ہو کہ اسلام میں فلسفے کا کیا مقام ہے۔

جب فلسفہ یونان سے دنیائے اسلام میں پہنچا، تو وہیں سے ان دونوں میں ٹھن گئی اور جب غزالی نے ابونصر فارابی، ابنِ رشد اور ابنِ سینا جیسے دیوقامت فلسفیوں کی تعلیم سے انکار کیا تو شدت سے آگ بھڑک اٹھی۔‘‘’’مگر چچا آخر دنیائے اسلام کو فلسفے سے کیوں نفرت ہوئی۔‘‘ اُس نے دل چسپی سے پوچھا۔ ’’ہاں ، توُ نے اچھا سوال کیا۔ ایک فرانسیسی دانش ور، ارنسٹ رینان تھا۔ وہ کہتا ہے کہ سامی نسل یعنی عرب مسلمان اور یہودی ایک خاص مزاج کے حامل ہیں۔ وہ نظریہ توحید کے علاوہ اور کوئی نظر یہ ایجاد نہ کرسکے۔ رینان کہتا ہے کہ سامی نسل کے ذہن میں پیچ در پیچ مسائل کی گنجایش نہیں ہے۔

اس کا خیال ہے کہ سامی لوگوں کی عقل بدوی اور صحرائی ہے۔ عرب مختلف چیزوں کے درمیان ربط پیدا نہیں کرسکتے۔ یہ کمال آریائی قوم کا ہے۔‘‘ ’’چچا جون!رینان نے صحیح تو کہا تھا۔ اب تک یہی لگتا ہے کہ وہ واقعی رینان کے مطابق بدوی اور صحرائی ہیں۔‘‘’’نہیں بالی، اس طرح نہیں ہوتا کہ کسی قوم کو ایک خول میں بند کردیں، یہ غلط ہے۔ مزاجی کیفیات کوئی سائنس کا علم نہیں ہے، جو ’’دو اور دوچار‘‘ کے اصول پر پرکھا جاسکے۔ رینان کچھ زیادہ ہی بول گیا۔ میں تجھے بتاؤں کہ عربوں نے نظریہ توحید اور علمِ اصول فقہ میں تنظیمِ فکر اور تسلسل نظر کا بہت شان دار مظاہرہ کیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس علم کے ذریعے مسلمانوں نے ایک منطقی فکر پیدا کی، جس سے فیض حاصل کرکے یورپ جدید ثقافت کا بانی بن گیا۔‘‘’’چچا جون! ہم جو عصرِ حاضر میں عرب مزاج دیکھ رہے ہیں ، وہ توقطعی شان دار یا مرعوب کن نہیں ہے۔

میرا خیال ہے کہ رینان کا تجزیہ صحیح تھا۔میرا اندازہ یہی ہے کہ عام عرب کے پاس صرف دولت کی ریل پیل ہے، ورنہ باقی تو کوئی خوبی نظر نہیں آتی۔ چچا جون! نہ اس عہد میں وہاں کوئی غیر معمولی دانش وَر پیدا ہوا۔ ہم نے جو دیکھا کہ وہاں دولت کے بل پر صرف ٹھٹھول ہوتی ہے۔ ابونصر فارابی، ابنِ رشد، ابنِ سینا تھے اور بہت اہم تھے، مگر بہ قول تمھارے کہوں کہ غزالی نے ان کی دھجیاں اڑا دیں۔ بہرحال، اب تک جو تم نے بتایا اور پڑھایا، تھوڑی بہت آگہی سے میں رینان کے ساتھ ہوں۔‘‘’’اب میں تجھے یہ بتاؤں گا کہ امام شافعی ؒ اور ان کے شاگردوں نے علمِ اصولِ فقہ کے اصول وضوابط بنائے اور خاص توجّہ سے کام لے کر انھیں باقاعدہ علم کی حیثیت عطا کردی اور جیسا میں نے تجھے بتایا کہ یورپ نے اس علم سے فیض حاصل کیا۔

اب بتاؤ کہ تمھاری رائے کیا ہے۔‘‘’’چچاجون!کیا علمِ فقہ ایک مذہبی تفکر نہیں ہے، تو ایسی کون سی بڑی بات ہے، میں تم سے صرف اور صرف خالص فلسفے کی وضاحت چاہتی ہوں۔‘‘ شاہانہ نے جوش و خروش سے اپنا خیال پیش کیا۔’’چلو اچھا ہے کہ تو نے شک کرنا شروع کردیا ہے۔ مگر کسی ایک شخص کی رائے نہیں ماننی چاہیے۔ ورنہ تو فلسفہ کم، مذہب زیادہ بن جائے گا۔‘‘

تفکّر ان کے معدے پر اثر انداز ہوتا رہا۔ صحت بگڑتی رہی۔ آگہی کا بوجھ اُن کی کمر توڑتا رہا۔ وہ اس وزن سے نجات کے لیے چند پالتو خبطوں سے مدد لیتے رہے۔ اہلِ دانش میں سنک اور خبط عام رہے ہیں، بحیرئہ اسود کے یونانی دیوجانس کلبی سے لے کرآرمینیااور دلی کے سرمد تک ، مزنگ، لاہور کے میراؔجی سے لے کر امروہے کے جون ایلیا تک سبھی اس قافلے میں شامل رہے ہیں۔ ویسے بھی ایک مفکّر سے توقع کرنا کہ وہ ولی اللہ کی صفات کا حامل ہو، ایک کھلاڑی سے فلسفے کی اُمید کرنا اور شاعر سے انسان کامل ہونے کی خواہش کرناایسے ہی ہے، جیسے شیر سے مور کا انڈا دینے کی توقع کی جائے۔

جون کو پیٹ کا عارضہ بڑھ گیا۔ طبیب سے باقاعدہ علاج کرواتے ہوئے ایسے جملے بولتے، جو اُس کی سمجھ سے بالا ہوتے۔ ’’ڈاکٹر! ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے میرے معدے کی چھت گرگئی ہے اور اس کے ملبے میں میری بھوک دفن ہوگئی ہے۔‘‘ ’’ڈاکٹر! میری نیندوں کے پرندے میری آنکھوں کے گھونسلوں سے اُڑ گئے ہیں۔ بہتیرا دانہ ڈالتا ہوں، مگر کم بخت واپس ہی نہیں آتے۔‘‘ایک مرتبہ تو شاعرانہ تعلّی سے کام لیتے ہوئے کہنے لگے۔ ’’ڈاکٹر! میرے ذہن میں یہ آندھیاں سی کیوں چلتی رہتی ہیں۔ یہ تو آندھیوں کا موسم بھی نہیں۔ ہمارے امروہے میں تو جب آم کا موسم ہوتا تھا، تو آندھیاں چلتی تھیں اور ٹپ ٹپ آم گرتے تھے۔‘‘یہ باتیں سادہ مزاج طبیب کے سرسے گزر جاتیں، البتہ صاحبانِ ادراک پر ضرور کھل کھل جاتیں۔

مترجّم، افسانہ نگار اور شاعر صغیر ملال نے جون پر لکھتے ہوئے ان کی بھید بھری شاعری اور خیالات کو انوکھے انداز میں تشبیہ اور مقولے کی مدد سے بیان کیا۔ ’’ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ سے جنگ ہار گیا۔ فتح مند بادشاہ نے شکست خوردہ حریف کو محل کے ستون سے باندھ دیا۔ جب اس کی ملکہ پابہ زنجیر اس کے سامنے سے گزری تو وہ اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ ملکہ کے بعد فتح کے نشے سے چور سپاہی اس کے بیٹوں اور بیٹیوں کو بالوں سے گھسیٹتے لے گئے، تب بھی اس کی آنکھیں خشک رہیں، لیکن کچھ دیر بعد جب اس نے دیکھا کہ اس کے غلام کے ہاتھ پاؤں بندھے ہیں اور جیت جانے والے، اسے بھی زدوکوب کرتے لے جارہے ہیں تو اچانک وہ رونے لگا، چیخنے لگا اور اپنا سر ستون سے پٹخ پٹخ کر لہو لہان کرلیا۔‘‘ یہ قصّہ آج تک مجھ پر پوری طرح واضح نہیں ہوا لیکن جب بھی یہ واقعہ ذہن سے گزرا ہرمرتبہ محسوس ہوا کہ اس میں اَن گنت پیغامات، معانی اور اشارے ہیں۔ نطشے نے زرتشت کی زبانی یہ بھی کہا ’’مجھے شاعروں سے نفرت ہے۔

وہ اپنے پانی کو گدلا کردیتے ہیں تاکہ تہ اوجھل ہوجانے کے باعث وہ گہرے معلوم ہوں‘‘ لیکن جون ایلیا کے خیالات تو مٹیالے بھی نہیں۔ اس کے سلیس الفاظ کی شفّاف سطح سے، تہ میں پڑی سیپیاں جھل مِل کرتی نظر آتی ہیں مگر انھیں چھونے کی کوشش کرنے والا لذّت اور اذیّت کے طوفانوں سے گزرتا ہے۔ ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی؟ ایک مرتبہ جون ایلیا نے کہا کہ ’’لکھنا لکھانا دراصل غیر فطری کام ہے۔ اس لیے تمام باشعور ادیبوں کو لکھنے سے دست بردار ہو کر محض بولنے پراکتفا کرنا چاہیے۔‘‘یہ سن کر میں سنّاٹے میں آگیا۔

منطقی اعتبار سے اس کی بات درست تھی۔ بولنا فطری اور لکھنا غیر فطری ہے۔ ٹالسٹائی بھی ’’جنگ وامن‘‘ جیسے ناول سے دنیا کو ششدر کرنے کے بعد کچھ اسی طرح کے خیالات میں ڈوب کر خاموش ہوگیا تھا ۔‘‘ دوستوں کی ایک محفل میں تہذیب وتمدّن پر بحث جاری تھی۔ جون کہنے لگے’’سمندروں کے کنارے تجارت اور معیشت پروان چڑھتی ہے، دریاؤں کے کنارے تہذیب۔‘‘

کیا بامعنی جملے میں پوری فکر سمودی۔ ایک مرتبہ کہنے لگے ’’ہم ایک ہزار سال سے تاریخ کے دستر خوان پربیٹھے حرام خوری کررہے ہیں۔‘‘ فقرے بازی اورکلیے وضع کرنے میں انھیں کمال حاصل تھا۔ کیا چست اور شان دار فقرے اور کلیے تخلیق کرتے۔ ان کے نثری مجموعے’’فرنود‘‘ میں ایسے بے شمار جملے ملتے ہیں جو اِنھی کاخاصّہ ہیں۔ لکھتے ہیں’’اگرآپ کام یاب عشق کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک غیر عاشق اور عاقل قسم کا آدمی ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک بہت عیّار اور گھٹیا شخص۔‘‘ ایک پرُمعانی جملہ ہے’’کوئی جنازہ کبھی تنہا نہیں اُٹھتا، اُس کے ساتھ کئی جنازے اُٹھتے ہیں۔‘‘

اسی طرح ایک پیچیدہ گتھی کو جملے میں بیان کردیا’’اسلام ایک نظامِ حیات ہے اور فلسفہ وجود کی مطلق ومجردّبحث کا نام۔ اسی لیے فلسفہ مسلمانوں میں آکر فنا ہوگیا۔‘‘ ایک جانب جون کی فکر جولانی پرتھی، دوسری جانب سنک بڑھ رہی تھی۔ اُن کے مزاج کی آزاد روَی، احباب کے ساتھ تسلسل سے شامیں بسر کرنے اور معاشی ذمّے داریوں سے روگردانی شادی پر آنچ لے آئے۔ بچّوں کو نظر انداز کیے جانے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔چشم کشا امر تو یہ ہے کہ تمام تر شاعرانہ مزاج اور دل پھینک اطوار کے باوجود شادی کے دوران جون زاہدہ سے مکمل وفادار رہے۔اُن کا اور زاہدہ کا بیاہ آگ اور پانی کا ملاپ تھا۔

اب ایسا موقع آگیا تھا کہ یاتو پانی نے آگ کو بجھا ڈالنا تھا یاآگ نے پانی کو خشک کردینا تھا۔ بالآخر وہ وقت آگیا، جب زاہدہ نے جون صاحب سے طلاق کا مطالبہ کردیا ۔ان کے احباب کا کہنا ہے، یہ مطالبہ جون پر بجلی کی کڑک کی طرح ٹوٹا۔ انھوں نے اپنی سی بھرپور کوشش، منّت سماجت اور ناراضی اختیار کرکے دیکھ لی۔ پَر یہ علیٰحدگی قسمت کے صحائف پر رقم ہوچکی تھی۔ اس طرح یہ جوڑی ٹوٹ گئی۔

طلاق کے بعد جون کی زود رنجی بڑھ گئی اور توہّم پرستی بھی۔ توہم پرست تو وہ شروع سے تھے۔ اکیلے میں گھٹنوں کے بَل کچھ پڑھتے رہتے، پھر کھڑے ہوکر زیرِ لب پڑھنے لگتے۔لکھنے سے پہلے گیارہ کا ہندسہ لکھا کرتے تھے۔ غم گینی ان کی سرشت میں تھی۔ اکثررات کو جذباتی کیفیت میں رئیس امروہوی کی قدِآدم تصویر کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے، روتے تھے اور اپنے بال نوچتے ہوئے بڑے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے کہتے تھے ’’توُ کیوں مرگیا، توُڈراما باز ہے۔ جان کر ڈرامے کا اختتام ایسے کیا کہ سب تڑپ کر رہ گئے۔‘‘

علیٰحدگی کے بعد جون نے مزاروں پر جانا شروع کردیا۔ دِلّی میں نظام الدین اولیاؒ کے مزار پر گئے، تو دن بھر وہیں پڑے رہتے۔ کراچی سے لے کر سیہون تک اور لاہور سے لے کر دِلّی تک مزاروں کاطواف کرنا عادت سی بن گیا۔ پر دل کی بے قراری کو قرار نہ آتا تھا۔ ایک روز دن بھر شہر گردی کرکے جون گھر آئے تو اُن کے چہرے پر زردی کھنڈی ہوئی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے جسم سے خون نچوڑ لیا گیا ہو۔ کہنے لگے۔ ’’میرا بکسا تیار کردے، میں جارہا ہوں۔‘‘ پوچھا گیا۔’’کہا ںجارہے ہو؟‘‘انھوں نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا ’’مَیں،مَیں امروہہ جارہا ہوں۔

امّاں اور ابّا کے پاس۔میں اب یہاں رہ کر کیا کروں۔میں برباد ہوگیا۔ مجھے امّاں کے پاس جانا ہے۔‘‘بہت دیر بعد جون کا یہ جنون تھما۔ چند برس آہ وزاری، کچھ سال اداسی اور مزید گنتی کے برس آس میں گزر گئے۔ یہ آس ایک اور بیاہ رچانے کی، ایک اور رومان لڑانے کی تھی۔ ہردوسرے شخص سے درخواست، التجا، تقاضا کرتے کہ ان کا بیاہ کروادیا جائے۔ جلد ہی ان کی یہ خواہش معروف ہوگئی۔ اُن کی چند مدّاح لڑکیوں، بالیوں اور خواتین نے اس خواہش کا فائدہ یوں بھی اٹھایا کہ شاعری کی اصلاح لی، اپنے وقت کے اہم شاعر کے ساتھ بے ضرر سادہ وقت بِتا کر یادوں کے تتلی گھر میں لمحات کی چند تتلیاں سجائیں اور اُڑن چھو ہوگئیں۔

اُن میں سے ایک لڑکی گھنٹوں ان کے پاس بیٹھی رہتی۔ کوئی اور بیچ میں آن بیٹھتا، تو جون باقاعدہ شرما جاتے۔ آخر کو بڑی عمر کے لڑکے ہی تو تھے۔ آہستہ آہستہ وہ لڑکی ان کی زندگی میں پوری طرح داخل ہوگئی۔ جون کو زکام ہوتا، تو ادرک اور دار چینی کی چائے بناتی، جون اُداس ہوتے تو دِل لبھاتی۔ اہلِ خانہ کا خیال تھا کہ وہ جون کے ساتھ اپنا نام منسوب کرکے مشہور ہونا چاہتی تھی۔ایک دن شاہانہ ٹہلتی ہوئی جون کے دفتر جانکلیں تو وہاں اُس لڑکی کو جون کی کرسی کے پیچھے یوں کھڑا پایا کہ وہ ان کا سر دبا رہی تھی۔

بھتیجی نے چچا سے پوچھا کہ اُنھیں کیا ہوا تو وہ لڑکی بول اُٹھی۔’’جون صاحب کے سر میں درد ہے۔ باجی مجھے تیل لادیجیے ۔ میں ان کے سر میں مالش کردوں۔‘‘بھتیجی اندر چلی گئی، تو جون گھبرائے ہوئے پیچھے پیچھے آئے اور بولے ’’باؤلی ہوگئی ہے، میرے سر میں تیل کی مالش کرے گی تو اُسے معلوم ہوگا کہ میرے سر میں جوئیں ہیں، توُ واپس مت آنا۔‘‘وہ لڑکی جون کو اپنے گھر سے لائے ہوئے کھانے نوالے بنا بنا کر کھلاتی اورجون شرماتے ہوئے فرماںبر داری سے کھاتے جاتے۔ دونوں خوب بن ٹھن کر ادبی محافل میں جاتے۔

جون جوہرکسی سے اپنی شادی کا کہتے تھے، اس لڑکی سے بیاہ کا کسی کو نہ کہتے تھے۔ غالباً جون خود بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کیاچاہتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ تعلق کم زور پڑنے لگا۔ دونوں کی عمروں میں تیس برس کا فرق تھا۔ ابتدائی چمک ماند پڑی اور غیر محسوس انداز میں یہ تعلق دوستی سے ہوتا ہوا شناسائی تک آیا اور اجنبیت پر ختم ہوگیا۔

جون کی شہرت کا آخری درجہ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ’’شاید‘‘ کی اشاعت کے ساتھ آیا۔یہ تیسرا درجہ تھا۔ اب وہ صاحب ِکتاب تھے۔ اس سے پہلے ان کا کلام بکھرا ہوا تھا، سو اسے باقاعدہ تعارف مل گیا تھا۔ اُن کا پہلا مجموعہ کلام 1990ء میں تب سامنے آیا، جب وہ قریباً ساٹھ برس کے ہوچلے تھے۔ اس تاخیر کی بھی ایک وجہ تھی۔ جون نے اپنے والد علاّمہ شفیق حسن ایلیا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بڑے ہوکر والد کی تخلیقات شایع کروائیں گے۔

والد کی وفات کے بعد، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کے سارے مسوّدات کھوگئے۔ والد کی تصانیف نہ چھپوا سکنے کا جون کو بہت احساس تھا۔ ندامت کے اسی احساس نے جون کو ان کا اپنا کلام شایع کروانے سے روکے رکھا۔ چند ستم ظریف اس کا پہلوئے دیگر بھی کھوج نکالتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جون نے والد سے وعدہ کیا تھا کہ بڑے ہوکر وہ ان کا کام شایع کروائیں گے۔ جون تو ساری عمر بڑے ہوئے ہی نہیں۔ وہی من چلے انداز اور بانکپن کی زندگی۔ سو، اگر انھوں نے وعدہ ایفا نہیں کیا، اس کی مدلّل وضاحت موجود تھی۔ جون کے آخری ایام کے حوالے سے شکیل عادل زادہ فرماتے ہیں۔ ’’آخر میں شراب کی کثرت اور شراب بھی سستی یا جو بھی میسّر آجائے۔ ڈاکٹروں کی تنبیہ کے باوجود باز نہیں آئے۔

سب کو یقین دلاتے تھے اور اپنے آپ کو بھی ۔’’بھیا! اللہ پاک کی قسم، ٹیسٹوں میں جگر ایسا صاف آیا ہے، جیسے کسی بچّے کا ہو۔‘‘اُن کی قریبی عزیزہ کا بیان ہے ۔ ایک رات سردیوں کے موسم میں سلگتی سگریٹ ہاتھ میں تھی۔ بستر پہ آئے تو نیند نے آلیا۔ گھر میں کپڑا جلنے کی بو پھیلی تو افراتفری سی ہوگئی۔ اُن کے کمرے میں جاکے دیکھا تو رضائی جل رہی تھی۔ دھویں سے کمرا اَٹا ہوا تھا۔ وہ تو جانیے، بس خیر ہوگئی۔ دمَے کا عارضہ بھی لاحق تھا۔ کبھی کبھی تو بڑی شدت ہوجاتی تھی۔اِن ہیلرسے سانسیں بحال کرتے تھے۔ حساب کتاب میں صفر،پیسے پاس رکھنے سے بے نیاز۔

آخری برسوں میں جائداد کی فروخت سے ایک بڑی رقم ملی۔ رقم کی نگرانی کے لیے ایک دوست پر اعتماد کیا اورکچھ غلط نہیں کیا۔ایک روز مجھے فون کیا ۔کہنے لگے ’’اِن دنوں تجھے کچھ پریشان محسوس کیا ہے۔ مسئلہ کیا ہے؟‘‘ ’’سب رنگ‘‘ کی عدم تواتری سے اُس وقت میرا ہاتھ واقعی تنگ تھا۔میں نے جھجک کی تو بولے ’’جانی!میری باری بھی تو آنی چاہیے۔ جلدی سے فرماؤ، سرِدست کتنے میں کام ہوسکتا ہے؟‘‘انھوں نے دوسرے دن مجھے چیک بھجوادیا۔‘‘

آخری عمر میں جون کو دو بہت مخلص دوستوں کی قربت میسّر رہی۔ یہ اُن کی خوش نصیبی تھی اور ان احباب کی بھی۔ ایک خالد احمد انصاری ہیں، جنھوں نے جون کی وفات کے بعد ان کے تین شعری مجموعے ’’گمان‘‘،’’لیکن‘‘،’’گویا‘‘شایع کرکے ان کلام محفوظ کرلیا اور ان کی نثر کو بھی۔ جون کے شاہ کار مقالوں کی کتاب ’’فرنود‘‘ کی اشاعت کا بھی خالد انصاری نے اہتمام کیا۔ناقدین کی رائے میں یہ ایک بے پناہ نثری مجموعہ ہے۔

انھوں نے یہ بھی ثابت کردیا کہ مخلص اور جاں نثار دوست صدقۂ جاریہ ہوتے ہیں۔ دوسرے دوست علاّمہ کرّار تھے، جن کے گھر جون نے آخری ایام گزارے اور ایک طویل نظم ’’نئی آگ کا عہد نامہ‘‘ پر مبنی کتاب ’’راموز‘‘ نے وہیں تخلیق پائی۔ وہ جون کے عزیز تھے، بیماری میں اُن کا علاج کروایا،اُن کی دولت کی حفاظت کی اور جون کی وفات 8نومبر2002ء کے بعد جنازہ بھی ان کے ہاں سے اُٹھا۔ بعد ازاں، انھوں نے جون کی ایک ایک پائی اُن کی اولاد کو بہ حفاظت یوں سونپ دی، جیسے ایک بھاری ذمّے داری سے عہدہ برا ٓہوئے ہوں۔

زمانۂ حال میں ایسے لوگ کم یاب نہیں، نایاب ہیں۔ جون صاحب جس دنیا سے تھے، وہیں لوٹ گئے۔’’گمان‘‘ ہوتا ہے، ’’شاید‘‘ رئیس، تقی اور عباس صاحب کے ساتھ اندر سبھا سجائے بیٹھے ہوں۔ ’’گویا‘‘ وقت تھم چکا ہے اور کراچی کی کوٹھی ’’نرجس‘‘ ہی میں منجمد ہے ’’لیکن‘‘ وقت بھی کبھی رکا ہے۔

(نوٹ: جون صاحب کے خاکے میں بیان کیے گئے متعدد واقعات، ان کی بھتیجی شاہانہ رئیس ایلیا کی کتاب ’’چچا جون‘‘ سے ماخوذ ہیں)

Please follow and like us:

Leave a Reply