مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ

Spread the love
مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ

20 مارچ، 1917ء تا 2 اپریل 1965ء

آپ کا نام نامی محمد یوسفؒ، والد کا نام محمد الیاس کاندھلویؒ ہے۔ آپ کے والد بانی تبلیغی جماعت ہیں اورچچازاد بھائی محمد زکریاؒ کاندھلوی ہیں۔ آپ والد کی وفات کے بعد باقاعدہ تبلیغی جماعت سے منسلک ہو گئے اور امیر مقرر ہوئے۔ تبلیغی جماعت کے اصول چلہ، چار ماہ وغیرہ کی ترتیب انہی کی بنائی ہوئی ہے۔ مشہور زمانہ کتاب حیاۃ الصحابہ (کتاب) آپ کی مرتب کردہ ہے۔ آپ جماعتوں کو سخت سے سخت تکلیف سہنے کے لیے تیار کرتے۔ ان کے بیان سحر انگیز ہوتے مرکز نظام الدین، بھارت میں آپ کا بیان سننے ہندو بکثرت آتے۔ آپ پاکستان کا سفر بھی اختیارکرتے۔

لاہو ر میں اجتماع کے دوران طبیعت خراب ہوئی اور ہسپتال کے راستہ میں انتقال ہوا۔ مسٹر گاندھینے خصوصی طیارہ میت لانے کے واسطے پاکستان بھیجا۔

ولادت

آپ کی ولادت کاندھلہ میں 25 جمادی اولیٰ 1335 ہجری بمطابق 20 مارچ، 1917ء بروز بدھ ہوئی۔ آپ کے والد اس وقت مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں مدرس تھے۔

ماحول اور بچپن

آپ نے جس ماحول میں پرورش پائی اس میں بچے بوڑھے جوان تقریباً سبھی قرآن کے حافظ ہوتے تھے۔ گھر کی بیبیاں تلاوت، ذکر و تسبیح اور نوافل وغیرہ کا اہتمام کرتیں، آپ کے خاندان میں علما و حفاظ بکثرت ہیں۔

حفظ قرآن

دس سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کر لیا۔ آپ کے حفظ کے استاذ امام خان میواتی ایک بڑے جید حافظ تھے۔ مشہور عالم دین سیدحسین احمد مدنیؒ کے بڑے بھائی جو خود عالم فاضل تھے، مدینہ منورہ ہجرت کرچکے تھے، انہوں نے آپ کے لیے مدینہ منورہ سے حفظ قرآن کی ایک اعزازی سند بھیجی، اس وقت آپ بستی نظام الدین اولیاء میں اپنے والد کے ہاں تھے۔

خلیل احمد سہارنپوری ؒ

مشہور عالم دین خلیل احمد سہارنپوری جو آپ کے والد کے شیخ تھے ان سے آپ کو بڑی محبت تھی۔ چنانچہ سید محمد ثانی حسن رقم طراز ہیں:

مولانا محمد یوسف صاحبؒ پر بچپن ہی سے بزرگوں کی اور مشائخِ وقت کی نظریں رہیں، مولانا ان بزرگوں کی گودوں میں پلے اور ان کے ناز پروردہ تھے، خصوصاً حضرت مولاناخلیل احمد سہارنپوریؒ جو اس وقت کے شیخ المشائخ اور مرجع خلائق تھے، اس روشن حبین اور بلند اقبال فرزند پر خاص عنایت کی نظر رکھتے تھے۔ خود مولانا محمد یوسف صاحبؒ حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ جو سے اس طرح پیش آتے تھے کہ جیسے کوئی لاڈلا بچہ اپنے بے پایاں شفقت کرنے والے باپ سے پیش آتا ہے۔ یہ حضرت مولاناؒ کو ابا کہہ کر پکارتے تھے۔ گھر میں رحمتی نام کی خادمہ کھانا پکاتی تھی۔ ایک روز مولانا محمد یوسف صاحب ؒمچل گئے اور کہنے لگے کہ میں تو ابا کے ہاتھوں کی پکائی ہوئی روٹی کھاؤں گا۔ حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ اندر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ: میں اپنے بیٹے کے لیے روٹی پکاؤں گا۔ اور بے تکلف اپنے ہاتھوں سے روٹی پکائی اور مولانا یوسف صاحبؒ کوکھلائی۔ ۱

سوانح حیات حضرت مولانامحمد یوسف کاندھلویؒ، صفحہ: 168، از سید محمد ثانی حسنی

ابتدائی تعلیم

ابتدائی تعلیم میں قاری معین الدین نے تجوید سکھائی، حفظ قرآن کے بعد 11 سال کی عمر میں اپنے والد سے مدرسہ کاشف العلوم بستی نظام الدین اولیاءؒ میں عربی پڑھنی شروع کی۔ سب سے پہلے میزان الصّرف پڑھی اور 15، 20 دن میں ختم کردی۔ اس وقت آپ کے ساتھیوں میں قاری رضا حسن بھوپالی اور مشہور عالم دین ادریس کاندھلوی اور بعض دوسرے حضرات تھے، جو مولانا محمد الیاس کاندھلوی ؒسے پڑھ رہے تھے۔
میزان الصّرف کے بعد منشعب، اس کے بعد صرفِ میر پڑھی۔ پھر پنج گنج دوسرے استاذ سے پڑھی۔
پنج گنج کے بعد پھر خود آپ کے والد نے اپنے طریقہ تعلیم کے مطابق کے مطابق نحو پڑھائی۔
اس کے بعد قصیدہ بردہ، قصیدہ بانت سعاد، اس کے بعد مجموعہ چہل حدیث جس میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، ملاجامی، قاضی ثناء اللہ پانی پتی کی چہل حدیث درج ہیں، حفظ کرائی، آپ کی ابتدائی تعلیم میں عالم دین مولوی منیر احمد نے بھی حصہ لیا اوت متعدد کتابیں پڑھائیں۔

متوسطات کی تعلیم

فقہ کی کتابیں، کنزلدقائق تک حافظ مقبول حسن گنگوہی سے پڑھیں۔ 1351 ہجری میں آپ کے والد حج کو جانے لگے تو آپ کو مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور میں داخل کر دیا۔ وہاں اس سال آپ نے ہدایہ اولین زکریا قدوسی گنگوہی سے اور میبذی مشہور عالم دین جمیل احمد تھانوی سے پڑھی۔ والد صاحب کی حج سے واپسی پر کچھ مدت کے بعد آپ پھر بستی نظام الدین اولیاءؒ میں آ گئے اور آگے کی کتابیں مشکوۃ شریف اور جلالین پڑھیں۔ مشکوٰۃ شریف والد سے اور جلالین عالم دین احتشام الحسن کاندھلوی سے پڑھی۔ ساتھیوں میں انعام الحسن کاندھلوی، قاری سید رضا حسن بھوپالی، مولوی عبد الغفور میواتی تھے۔

حدیث کی تعلیم و تکمیل

1354 ہجری میں آپ کے والد نے آپ کو دوبارہ مظاہرالعلوم سہارنپور میں داخل کیا اور آپ نے وہاں صحاح اربعہ پڑھیں، صحیح بخاری شریف، عالم دین مولانا حافظ عبد الطیف سے پڑھیں۔
صحیح مسلم شریف منظور احمد خان ؒسے، ترمذی شریف عبد الرحمٰن کیمبل ؒپوری سے، سنن ابی داؤد شیخ محمد زکریا کاندھلویؒ سے پڑھی۔ تعلیمی سال آخر میں علالت کی وجہ سے اپنے علاقے بستی نظام الدین اولیاءؒ میں واپس آ گئے اور باقی ماندہ دو کتابیں سنن ابن ماجہ اور سنن نسائی شریف اپنے والد سے پڑھیں۔

نکاح

3محرم 1354 کو مظاہر علوم سہارنپور کے سالانہ جلسے میں محمد زکریا کاندھلویؒ کی بڑی صاحبزادی کے ساتھ، آپ کا نکاح ہوا۔ آپ کے والد نے بلا کسی سابقہ اور طے شدہ امر کے اچانک اردہ کیا۔ نکاح سیدحسین احمد مدنی ؒنے پڑھایا۔ تقریباً ایک سال کے بعد رخصتی بھی اچانک اور پوری سادگی کے ساتھ ہوئی۔

دعوت تبلیغ

مولانایوسف دعوت تبلیغ کے ان اکابر میں سے ہیں جنکی روزوشب کی محنت نے اس مساعی جمیلہ کا دائرہ کار پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ ان کے دور امارت میں مسجد نبوی سے بیرونی تبلیغی اسفار شروع ہوئے۔ حضرت کی سنت تبلیغ سے اس درجہ وابستگی تھی کہ مسجد سے ملحق گھر ہونے کے باوجود کئی کئی ماہ گھر جانے کی نوبت نہ آتی تھی۔ مشہور ہے کہ انتقال پر والدہ محترمہ نے کہا بیٹا اب جی بھر آرام کرلے۔

وفات

29 ذی قعدہ 1384 ہجری بمطابق 2 اپریل 1965ء کو بروز جمعہ 02:50 منٹ پر دار فانی سے کوچ کر گئے۔

یہ بھی پڑھیں: امام الخطاطین

Leave a Reply