22 مارچ کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1945ء – عرب لیگ یا جامعہ الدول العربیہ قائم کی گئی۔

2009ء – چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دوبارہ اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔

2008ء اسرائیل نے تلکرم کا کنٹرول فلسطین کے حوالے کیا۔

1946ء برطانیہ نے اردن کو آزادی دینے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے۔

1888ء فٹ بال لیگ کا قیام۔

1956ء مارٹن لوتھر کنگ پر فرد جرم عائد کیا گیا۔ ان کا جرم تھا معروف امریکن سیاہ فام خاتون روزا پارک کی نسلی تعصب کے خلاف اٹھائی گئی آواز میں ان کا ساتھ دینا ۔

ولادت

1868ء رابرٹ انڈریو ملکین امریکیہ کے ایک طبیعیات دان تھے، جنھیں 1923ء میں نوبل انعام برائے طبیعیات دیا گیا جس کی وجہ بنیادی بار اور ضیا برقی اثر کی دریافت تھی۔ ان کا انتقال 19 دسمبر 1953 کو ہوا۔

1913ء صبیحہ گوکچن ، ترکی کی پہلی خاتون ہوا باز تھیں۔ وہ دنیا کی پہلی خاتون ہوا باز تھیں جنہوں نے کسی جنگ میں حصہ لیا۔ وہ ترکی کے پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک کے گود لیے گئے آٹھ بچوں میں سے ایک تھیں۔ان کی پیدائش کی طرح وفات کی تاریخ بھی 22 مارچ ہے۔ ان کا انتقال 22 مارچ 2001ء، انقرہ میں ہوا۔

1931ء برٹن رچر ایک امریکا کے طبیعیات دان تھے۔ انھوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا یہ انعام 1976 میں انھوں نے اپنے ہم وطن سائنس دان سیمیول چاؤ چنگ تنگ کے ہمراہ ایک نئے قسم کے بھاری عناصری زرات کو دریافت کرنے پر جیتی۔ ان کا انتقال 8 جولائی 2018 میں ہوا۔

1944ء عبد الحمید ڈوگر 22 مارچ 1944ء کو خیر پور، سندھ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کے سابقہ منصف اعظم ہیں۔ انہوں نے پرویز مشرف کے دور میں پی سی او کے تحت حلف اٹھایا۔ وہ 3 نومبر 2007 سے 21 مارچ 2009 تک عدالت عظمی میں بطور منصف اعظم تعینات رہے۔

1917ء مولانا محمد یوسف کاندھلوی، والد کا نام محمد الیاس کاندھلوی ہے۔ آپ کے والد بانی تبلیغی جماعت ہیں اورچچازاد بھائی محمد زکریا کاندھلویہیں۔ آپ والد کی وفات کے بعد باقاعدہ تبلیغی جماعت سے منسلک ہو گئے اور امیر مقرر ہوئے۔ تبلیغی جماعت کے اصول چلہ، چار ماہ وغیرہ کی ترتیب انہی کی بنائی ہوئی ہے۔ مشہور زمانہ کتاب حیاۃ الصحابہ (کتاب) آپ کی مرتب کردہ ہے۔ آپ جماعتوں کو سخت سے سخت تکلیف سہنے کے لیے تیار کرتے۔ ان کے بیان سحر انگیز ہوتے مرکز نظام الدین، بھارت میں آپ کا بیان سننے ہندو بکثرت آتے۔ آپ پاکستان کا سفر بھی اختیارکرتے۔ 2 اپریل 1965ء لاہو ر میں اجتماع کے دوران طبیعت خراب ہوئی اور ہسپتال کے راستہ میں انتقال ہوا۔ مسٹر گاندھی نے خصوصی طیارہ میت لانے کے واسطے پاکستان بھیجا۔

1933ء – ابوالحسن بنی‌صدر، پہلا ایرانی صدر

1951ء زلمے خلیل زاد، ایک تاجر، ماہر بین الاقوامی امور اور سفارتکار ہیں۔ جیورج بُش کابینہ میں امریکا کے جانب سے سفیر برائے اقوام متحدہ مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ امریکی سفیر برائے افغانستان اور پھر امریکی سفیر برائے عراق بھی مقرر ہوئے۔ زلمے خلیل زاد امریکی وائٹ ہاؤس، سٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور پینٹاگون میں امریکی پالسی تشکیل دینے والے کمیٹیوں کے رکن بھی رہے ہیں۔ نمائندہ خصوصی برائے افغانستان مقرر ہوئے اور 2019 میں امریکہ طالبان مذکرات کے لیے معاون خصوصی کی حیثیت سے پاکستان، افغانستان ترکی اور چین کے خصوصی دورے کئے اور قطر میں طالبان کے ساتھ امن مذکرات کامیابی کا سہرا بھی انہی کے سر ہے۔ زلمے خلیل زاد انگریزی، پشتو اور دری فارسی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ ان کی پیدائش شمالی افغانستان کے علاقے مزار شریف میں ہوئی۔

وفات

1300ء زینب بنت عمر بن الکندی، مسلم خاتون عالمہ، محدثہ اور مؤرخ تھیں۔وہ مؤرخ اسلام علامہ شمس الدین الذہبی کے اساتذہ میں شمار ہوتی ہیں۔ زینب بنت عمر کے متعلق ابتدائی تفصیلات نامعلوم ہے ۔ غالباً وہ 1213ء میں دمشق میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے شوہر ناصر الدین ابن قرقین بعلبک شہر کے ناظم تھے۔البتہ اُن کا تذکرہ علامہ شمس الدین الذہبی نے کیا۔ وہ لبنان کے شہر بعلبک میں رہا کرتی تھیں۔ علامہ شمس الدین الذہبی نے اِن سے صحیح بخاری کا جز کتاب النکاح پڑھا تھا۔ وہ محمد ابن قوالج کی بھی استاد تھیں جو علامہ ابن حجر عسقلانی کے شیخ الحدیث ہیں۔

1974ء حمید احمد خاں، ادیب، محقق، ماہر تعلیم، لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابھی چھ برس کے تھے کہ ان کے والد مولوی سراج الدین احمد خاں کا انتقال ہو گیا۔ ابتدائی تعلیم وزیر آباد میں حاصل کی۔ تحریک خلافت سے متاثر ہو کر حیدرآباد دکن چلے گئے۔ بی۔اے کی ڈگری جامعہ عثمانیہ حیدرآباد سے اور ایم۔اے کی ڈگری گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی۔ بعد ازاں کیمبرج یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور وہاں سے ایم۔ اے ’’لٹ‘‘ کی سند حاصل کی۔ اسلامیہ کالج لاہور میں انگریزی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اور پروفیسر محمد شریف کے مستعفی ہونے کے بعد پرنسپل ہو گئے۔ 1968ء میںپنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنائے گئے۔ 1971ء میں مستعفی ہو گئے اور مجلس ترقی ادب کے ناظم مقرر ہوئے۔ غالب و اقبال کے مداح تھے۔ 1976ء میں آپ کے خطبات و مقالات کا مجموعہ ’’تعلیم و تہذیب‘‘ مجلس ترقی ادب کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ آپ یکم نومبر 1902ء میں پیدا ہوئے۔

1999ء خواجہ زندہ پیر ،جن کانام پیر حضرت شاہ المعروف سرکار زندہ پیر ہے جو بانی گھمکول شریف کے نام سے شہرت رکھتے ہیں۔ آپ کی پیدائش کا سال 1912ء — بیان کیا گیا ہے۔

2004ء – احمد یاسین، فلسطینی رہنما

تعطیلات و تہوار

عالمی یوم آب

ہولی – ہندوستان کا ایک تہوار ہے جس میں لوگ ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے ہیں اور اس کو ایک عید کی طرح منایا جاتا ہے۔

پانی کا عالمی دن-

21 مارچ کے واقعات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Please follow and like us:

Leave a Reply