جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لئے کمیشن آف انکوائری تشکیل دیا جائے ایف آئی ڈی ایچ

Spread the love

کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مانیٹر کرنے کا نئی دہلی اور اسلام آباد کے سفارتی مشنوں کے ذریعے میکانزم بنایا جائے۔


فوجی کارروائیوں میں 318 بچوں کو قتل کر دیا گیا تھا ہزار افراد بھارتی فورسز کی حراست کے دوران جبری طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں

بھارت کے زیر انتظام پونچھ میں 2717، راجوری میں 1127، بارہ مولہ بانڈی پورہ میں 2943 گمنام قبریں موجود ہیں

انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی 184 تنظیموں کا مشترکہ پلیٹ فارم ایف آئی ڈی ایچ نے رپورٹ جاری کردی

پیرس (کے پی آئی)دنیا کے 112 ممالک میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی 184 تنظیموں کا مشترکہ پلیٹ فارم انٹرنیشنل فیڈریشن آف ہیومن رائٹس (FIDH) نے بھارت سے کہا ہے کہ فوری طور پر جموں کشمیر کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندوں، انسانی حقوق کے اداروں اور میڈیا نمائندوں کے لئے کھول دیا جائے تاکہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکے۔ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لئے کمیشن آف انکوائری تشکیل دیا جائے۔ ایف آئی ڈی ایچ نے صدر دفتر پیرس سے جموں کشمیر میں انسانی حقوق بارے خصوصی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ پیرس میں جاری ہونے والی اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر میں بھارتی فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں بچے بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں۔ 2003ء سے 2017ء کے دوران فوجی کارروائیوں میں 318 بچوں کو قتل کر دیا گیا۔ ان میں سے 144 بچوں کو فوج کے آپریشنوں کے دوران قتل کیا گیا۔ ایف آئی ڈی ایچ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی حراست میں لاپتہ ہونے والے شہریوں کے لواحقین اے پی ڈی پی اور جموں کشمیر کولیشن فار سول سوسائٹی (جے کے سی سی ) کے اشتراک سے جموں کشمیر بارے رپورٹ تیار کی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1990ء سے اب تک تقریباً 70 ہزار کشمیری مارے گئے ہیں۔ آٹھ ہزار افراد بھارتی فورسز کی جبری حراست کے دوران لاپتہ ہو گئے ہیں۔ تقریباً 143 آبرو ریزی کے واقعات رونما ہوئے۔ جموں کشمیر میں خواتین کی آبرو ریزی جنگی ہتھیار کے طور پر کی جاتی ہے۔ بھارتی فوج نے 1990ء کی دہائی میں کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع کیا تھا جو اب محاصرے اور تلاشی آپریشنوں میں بدل گیا ہے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران بھارتی فوج نے 398 محاصرے اور تلاشی آپریشن کئے۔ ایف آئی ڈی ایچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1990ء کی دہائی میں بڑی تعداد میں نوجوان پاکستان اور آزادکشمیر آ گئے تھے۔ 2010ء میں تقریباً 400 نوجوان اپنی فیملیز کے ہمراہ واپس بھارت کے زیرانتظام جموں کشمیر آ گئے تھے۔ ان خاندانوں کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ ان کے پاس کوئی قانونی، شناختی دستاویز موجود نہیں جس کی وجہ سے یہ افراد مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ان افراد کے علاوہ تقریباً 30 ہزار سابق عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی ڈی ایچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ پونچھ میں 2717، راجوری میں 1127، بارہ مولہ بانڈی پورہ میں 2943 گمنام قبریں موجود ہیں۔ ان قبروں میں مدفون افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی جائے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے تجویز دی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لئے نہ صرف کمیشن آف انکوائری تشکیل دیا جائے بلکہ انسانی حقوق کی صورتحال کو مانیٹر کرنے کا نئی دہلی اور اسلام آباد کے سفارتی مشنوں کے ذریعے میکانزم بنایا جائے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply