مشال قتل کیس‘ پی ٹی آئی کونسلر سمیت 2 ملزمان کو عمر قید، 2 بری

Spread the love

انسداد دہشت گردی عدالت نے 12 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا
کیس میں مشال کے والد سمیت 46 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے

پشاور(کورٹ رپورٹر)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مشال خان قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی کے کونسلر عارف اور اسد کو عمر قید کی سزاسنائی ہے جبکہ ملزم صابر مایار اور اظہار کو بری کردیا گیا ہے۔انسداد دہشت گردی عدالت نے 12مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جبکہ 16مارچ کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر کیس کا فیصلہ موخر کیا گیا تھا۔ کیس میں مشال کے والد سمیت 46 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ ستمبر 2018 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس میں ملوث 4 ملزمان اسد کاٹلنگ، صابر مایار، عارف خان مردانوی اور اظہار اللہ پر فرد جرم عائد کی تھی۔

یاد رہے کہ 13 اپریل دو ہزار سترہ کو خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں عبد الولی خان یونیورسٹی میں مشتعل طلبا نے توہین رسالت کے الزام میں مشال خان کو تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔بعد ازاں پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران مشال خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے توہین آمیز کلمات کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے 16 اپریل2017کو مردان یونیوسٹی کے طالبعلم مشال خان کے قتل کے معاملے کا از خود نوٹس لیا اور چھتیس گھنٹوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کی۔

سپریم کورٹ نے19 اپریل2017کو مشال قتل کیس میں پشاور ہائی کورٹ کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے روک دیا ساتھ ہی سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے وضاحت طلب کی کہ جب تحقیقاتی ٹیم کام کر رہی ہے تو جوڈیشل کمیشن کی کیا ضرورت ہے؟انتیس اپریل دو ہزار سترہ کو اقوام متحدہ نے عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم مشال خان کے قتل پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

پولیس نے مشال خان قتل کے الزام میں اٹھاون افراد کو گرفتار کیا جن میں سے بیشتر کا تعلق عبدالولی خان یونیورسٹی سے ہی تھا ان میں یونیورسٹی کے ملازمین بھی شامل ہیں۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج جسٹس فضل سبحان نے19 ستمبر2017 کو مشال قتل کیس میں گرفتار 57 ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے17 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کی۔ایبٹ آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج فضل سبحان خان نے مقدمے کی سماعت کے بعد ستایئس جنوری کو کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو سات فروری کو سنایا گیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے مشال خان قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مقتول پر گولی چلانے والے عمران علی کو سزائے موت جبکہ پانچ مجرموں کو پچیس، پچیس سال قید کی سزا سنائی، عدالت نے پچیس مجرموں کو چار، چار سال قید کی سزا سنائی جبکہ چھبیس ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا تھا۔

Leave a Reply