افسری آپا کا نیا گھر

Spread the love

ایک فکر انگیز افسانہ معاشرے کا حقیقی چہرہ جو بہت ہی بھیانک، بدنما اور بدبودار ہے

عزیز اعظمی اصلاحی
اسرولی سرائمیر 

سعودی عرب آنے کے بعد گاؤں کی اتنی ہی خبر ملتی جتنا واٹس اپ ، فیس بک پر شیئر ہوتی، شادی بیاہ، خوشی و غمی کی خبریں تو فیس بک سے مل جاتیں لیکن گاؤں کے تفصیلی حالات سے بے خبر ہوگیا، بیگم کو اپنے بیڈ روم اور کچن سے آگے کچھ  پتہ نہیں ہوتا، اماں ابا کی باتیں گھر یلو مسائل سے باہر نکلتیں نہیں اور بچوں کی اپنی خواہش اور شکایت کی باتیں تو ختم ہی نہیں ہوتیں کہ کسی اورموضوع پر بات ہو سکے ۔ یہاں ڈرائیور کی نوکری کی مختصر تنخواہ اور وہاں سعودی عرب کے نام پر بڑھتے اخراجات نے مجھے پانچ سال گھر جانے کا موقع ہی نہیں دیا، پانچ سال بعد جب سعودی عرب سے گھر گیا تو دیکھا گاؤں بدل گیا تھا، لڑکے موبائل میں مشغول تھے تو بزرگ مودی جی کی من کی بات میں، روڈ، بجلی، پانی کی حالت تو ویسی ہی تھی لیکن کئی نئےنئے بڑے عالیشان بڑے ہی خوبصورت خوبصورت گھر تھے، نئ نسل پہلے کی طرح لنگی بنیائن میں نہیں بلکہ ٹائٹ فٹنگ جینز اور ٹراؤزر پہنے چارپائی کی جگہ کرسیوں پر بیٹھی تھی، نوجوانوں میں اسکول، کالج، پڑھائی لکھائی سے زیادہ سستے نیٹ پیکج اور ڈیٹا کی باتیں تھیں ……….

تھوڑا اور آگے بڑھا تو دیکھا ایک خوبصورت سا بنگلہ جہاں گاؤں کے بہت سارے لوگ بیٹھے اے سی کی ٹھنڈی ہوا کا مزہ لے رہے تھے، مجھے پانچ سال بعد دیکھ کر کچھ احباب تو کرسی چھوڑ لپک کر آئے ہاتھ ملایا خیریت دریافت کی، لیکن کچھ لوگوں کو دیکھ کر ایسا لگا کہ وہ کرسی سے چپک گئے ہوں یا کرسی ان سے چپک گئی ہو جنھوں نے اُٹھنا ہی گوارا نہیں کیا کیونکہ کچھ لوگوں کی تشریف کرسی اس وقت چھوڑتی ہے جب کسی کی جیب میں کھنکتا سکہ، بڑی گاڑی، کالی صدری، ماڑی دار کرتا اور گلے میں کسی سیاسی پارٹی کا گمچھا (مفلر یا اسی طرح کی کپڑے کی پٹی) ہو اور بد قسمتی کہ میرے پاس ان میں سے کچھ بھی نہیں تو انکو مجھ سے ملکر کیا ملتا، اخلاقاً میں انکے پاس گیا ہاتھ ملایا۔

واپسی پر ایک عمارت کی طرف دیکھ کر بھائی سے پوچھا کہ’’یہ کس کا گھر ہے؟‘‘ تو اس نے بتایا کہ افسری آپا کا، میں نے تعجب سے پوچھا افسری آپا کا؟ ……….. ہاں بھائی افسری آپا کا ………. اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اسکے بیٹے جاوید نے بنوایا ہے، کچھ  سال پہلے دبئی گیا کسی شیخ کا اعتماد جیتا نوکری چھوڑ کاروبار کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چند سالوں میں آسمان چھو لیا، إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ!  بلاشبہ اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔

کل تک اس کو حقیر سمجھنے والے، کسی محفل میں اس کو اپنے پاس کھڑا دیکھ کر منہ بسورنے والے آج اسی کی چوکھٹ پر بیٹھے ہوتے ہیں، ہاں وہ تو میں نے دیکھاہے اور اس مادہ پرست دنیا میں کوئی تعجب کی بات نہیں، اب معاشرہ عزت، دولت، شہرت کو سلام کرتا ہے انسانیت کو کہاں ورنہ جاوید میں اس وقت بھی انسانیت تھی جب اس کے پاس کچھ نہیں تھا، وہی جاوید اس وقت بھی تھا، وہی آج بھی ہے بس فرق اتنا ہے کل تک اسکے جسم پر پرانے کپڑے تھے اور آج نئے، کل تک وہ نظر انداز کیا جاتا تھا اور آج منظور نظر ہے، آج اس کی چو کھٹ پر کرسی لگائے اگلی صف میں بیٹھے اُن ہی کو پایا جو کل تک اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے، اپنے بچوں کو اسکے ساتھ کھیلنے سے منع کیا کرتے تھے، بھری محفل میں اس کے بولنے پر ڈانٹ کر باہر نکال دیا کرتے تھے، وہ افسردہ ہوتا، دل شکستہ ہوتا لیکن یہ سوچ کر کبھی برا نہیں مانتا کہ دنیا میں غربت کی اتنی ہی عزت ہے لیکن اس کا ضبط اس کا صبر اس وقت ٹوٹ جاتا، جب کوئی یہ کہہ دیتا کہ’’تم تو ہماری اترن پہنتے ہوئے‘‘یہ سن کر وہ غصے میں اپنے بدن سے کپڑا نوچ کر اس کے منہ پر پھینکتے ہوئے کہتا جتنے کا یہ تمہارا پرانا کپڑا ہے اس سے کہیں زیادہ میری ماں تمہارے گھروں کا کام کرتی ہے، تمہارے جوٹھے برتن اور کپڑے دھوتی ہے، تمہارے گھروں کا گند اور کوڑا کرکٹ پھینکتی ہے، تمہارے گھروں میں جھاڑو اور پونچھا لگاتی ہے، بدلے میں تم جیسے مردہ ضمیر لوگ پرانے کپڑے اور بچے ہوئے کھانے کے سوا کیا دیتے ہو؟

باخدا جو تم دیتے ہو وہ میری ماں کی محنت کا معاوضہ بھی نہیں ہوتا، تم جیسوں کو کیا معلوم کہ پسینے اور خلوص کیا قیمت ہوتی ہے۔ یہ میری ماں کی خوداری اور اس کا ظرف ہے جو تمہارے گھروں میں اپنا پسینہ نچوڑ کر ہمیں کھلاتی ہے مانگ کر نہیں، شادی بیاہ کی محفلوں میں نمود و نمائش جس کو تم لوگ رواج کا نام دیتے ہو پر تم امیروں کی الماریوں سے سیکڑوں جوڑے کپڑے نکلتے ہیں لیکن کسی غریب کو دینے کے لئے تمہاری الماریوں سے اتارے اور پھٹے، پرانے کپڑوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ غربت کا مذاق اڑانے والو اللہ کے نزدیک دیر ہے اندھیر نہیں۔ اگر اللہ نے مجھے کبھی صاحب استطاعت بنایا تو نہ میں تم جیسے نام نہاد امیروں کی طرح غریبوں کو پرانے کپڑے دونگا اور نہ ہی اپنے بچوں کو ایسی تربیت دوں گا کہ وہ غربت کا مذاق اڑائیں با خدا یہ دیکھ کر کلیجہ پھٹ جاتا ہے جب کسی غریب کو غربت کا طعنہ دیا جاتا ہے، جب محفلوں میں ہنسی اور مذاق کے نام پر کسی غریب باپ یا کسی غریب بیٹے کا مذاق اڑایا جاتا ہے، ان کی عزت نفس کو مجروح کرکے ہنسا اور ہنسایا جاتا ہے، رب کریم تو گواہ ہے کہ میں نے آج تک کسی باحیثیت اور امیر شخص کی اولادوں کا نہ مذاق بنتے دیکھا ہے اور نہ کسی امیر باپ کی تضحیک ہوتے، تمسخر اور مذاق صرف غریبوں کا بنایا جاتا ہے اس بات کی پرواہ کئے بغیر کی اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی ۔ دکھ  اور فرط جذبات میں کہی گئیں جاوید کی یہ ساری باتیں مجھے آج بھی یاد ہیں۔

 بھیا، …….جاوید خاموش مزاج اور مہذب تو تھا لیکن اب پہلے سے بھی زیادہ مہذب اور مؤدب ہے، اسکے اندر پہلے سے بھی زیادہ سنجیدگی اور متانت ہے اللہ نے اسے جتنا نوازا ہے اتنا ہی سخی اور نرم مزاج ہے غرور و تکبر تو دور کسی سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کرتا، غربا و مساکین سے اسقدر خوش اسلوبی سے ملتا آتا ہے گویا اس کے مہمان ہوں، کبھی بات نکلتی ہے تو کہہ دیتا ہے میں کم ظرف، خود غرض اور مغرور کہا جاونگا اگر اپنا وقت بھول گیا اور میں وہ وقت کیسے بھول سکتا ہوں جس نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہو ۔

جاوید بھیا ………. اماں سے ملنے آتا ہے تو آپ کے بارے میں ضرور پوچھتا ہے سنے گا کہ آپ سعودی عرب سے آئے ہیں تو ملنے ضرور آئے گا، ہاں کیوں نہیں آئے گا افسری آپا ہماری پڑوسی تھیں، ہم کو بیٹے کی طرح مانتی تھیں، میں اور جاوید تو ایک ساتھ کھیل کود کر بڑے ہوئے ہیں مجھے یاد ہے کہ گرمیوں میں جب ان کے چھپر والے گھر میں تپش بڑھ جاتی تو افسری آپا اماں کے ساتھ چھت پر سو جاتیں اور جاوید ہمارے ساتھ باہر، یہ الگ بات ہے کہ انکا نیا گھر اب ہمارے گھر سے دور ہے، لیکن تھے تو ہمارے پڑوسی، ابھی ہم آپس میں بات کر ہی رہے تھے تب تک افسری آپا گرتے پڑتے آپہنچی اورمجھے برسوں بعد دیکھ کر رو پڑیں کہ بیٹا گھر سے اتنے دن دور مت رہا کرو، جاوید بھی تمہاری طرح برسوں بعد دبئی سے آیا تو میں اس پر برس پڑی کہ اب واپس جانے کی کوئی ضرورت نہیں، لیکن کیا کرے جب اللہ نے تم لوگوں کی روزی روٹی کا سلسلہ وہیں سے جوڑ دیا ہے پھر تو مجبوری ہے،………. جانا ہی ہوگا، لیکن بیٹا اتنے دن تک بال بچوں سے دور مت رہا کرو، اچھا ٹھیک ہے آپا اب کان پکڑتا ہوں اتنا لمبا سفر نہیں کرونگا کچھ پریشانیاں تھیں اس لئے رکنا پڑا اچھا یہ بتائیں جاوید کہاں ………. بیٹا جاوید تو آج سسرال چلا گیا اس کے سالے کی شادی ہے شام تک آئے گا ورنہ وہ تو بھاگا ہوا تم سے ملنے آتا روز تمہارے بارے میں پوچھتا تھا ……….ہاں آپا دس سال ہوگئے ہماری ملاقات نہیں ہوئی۔

ہم ایک ساتھ کھیل کود کر بڑے ہوئے لیکن جب سے پردیس گئے تو دوست، احباب، رشتہ، ناطہ  سب کچھ چھوٹ گیا۔

 ماشاء اللہ آپا ………. جاوید نے گھر بڑا شاندار بنوایا ہے دیکھ کر دل خوش ہوگیا ………. ارے بیٹا کیا بتاوں اسے بہت منع کیا اتنا بڑا گھر مت بنواو، یہ درست ہے کہ گھر کی تنگی ہے مگر چھوٹا سا دو تین کمرے کا گھر بنوالو لیکن وہ میری ایک نہ سنا، ……… تم تو جاوید کو بچپن سے جانتے ہو شریف تو بہت تھا لیکن بڑا حساس دل رکھتا تھا، کوئی کچھ کہہ دیتا تو اس کی شرافت اور غربت کبھی کسی کا جواب تو نہیں دیتی لیکن میرے پاس آکر بہت روتا، میں سمجھاتی کی بیٹا صاحب حیثیت صرف دولت سمجھتے ہیں غربت نہیں۔ انکی باتوں کو دل پر مت لیا کرو، بیٹا وقت ہمیشہ یکساں نہیں ہوتا سورج بھی صبح چڑھتا ہے تو شام کو ڈھل جاتا ہے آنے والی صبح کیسی ہوگی کسی کو نہیں پتہ عزت، دولت، شہرت، رتبہ، مرتبہ یہ سب اللہ کی حکمت پر منحصر ہے انسان کے بس میں نہیں، اللہ نے ہمیں جس حال میں رکھا ہے اسی میں ہماری بہتری اور رب کائنات کی حکمت ہے اور اگر کوئی اسکی حکمت کو نہ سمجھے اور غربت کا مذاق اڑائے، دولت و شہرت پر سر جھکائے تو اس کا معاملہ اللہ پر چھوڑو تمہیں رونے کی کیا ضرورت اللہ تو بڑا ہی مہربان اور رحم کرنے والا ہے، بابو جب اس طرح اسے سمجھاتی تو آنکھوں سے بہتی ہوئی اپنی غربت کو پوچھ کر اس طرح خاموش ہو جاتا جیسے طوفان کے بعد دریا اسکے بعد کبھی کھانا کھاتا کبھی بغیر کھائے سو جاتا۔ 

کوئی بات دل میں تو نہیں رکھتا لیکن جب کوئی غربت کا مذاق اڑاتا، غربت کے نام پر نظر انداز کرتا تو اس بات سے اس کا دل بڑا دکھی ہوتا، بچپن کی کون سی ایسی بات اس کے سینے میں پھانس کی طرح چبھتی رہی جو میرے لاکھ منع کرنے کے بعد بھی وہ اس گھر کو بنانے سے نہیں رکا، میں نے بہت سمجھایا کہ بیٹا ہم نے بہت برا وقت کاٹا ہے، بڑی مشقت اٹھائی ہے غربت کو قریب سے نہیں بلکہ اس میں رہ کر دیکھا ہے اگر اللہ نے آج ہم پر رحم کیا ہے عنایت کی ہے تو کوئی ایسا کام نہ کرو کہ لوگ پھر یہ کہتے ہوئے انگلی اٹھائیں کہ بڑی جلدی اپنا وقت بھول گئیں ۔۔ 

بیٹا عزیز ………. ہر بار میں اسے سمجھاتی تھی اس بار وہ مجھے یہ کہتے ہوئے سمجھا گیا کہ اماں میں یہ گھر باخدا کسی دیکھاوے کے لئے، نہیں اور نہ ہی نام نہاد عزت و شہرت کےلئے بنوارہا ہوں کہ لوگوں کا ظرف دیکھ سکوں، اماں میں اپنا برا وقت نہ کبھی بھولا ہوں اور نہ ہی کبھی بھول سکتا ہوں، مجھے اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ جھاکنے کی بہترین جگہ اپنا گریبان ……… اور رہنے کی بہترین جگہ اپنی اوقات ہے ……… اماں میں آپکی اس بات سے نا کبھی منحرف تھا نہ کبھی منحرف ہونگا، نہ کبھی اپنی اوقات بھولا ہوں اور نہ ہی کبھی بھولونگا آخر کھنکتی ہوئی مٹی سے پیدا ہونے والے اس ادنی انسان کی اوقات ہے ہی کیا جو بھول جائے …………..

اماں آج دولت و شہرت کا معیار واقعی اچھا گھر اور بڑی گاڑی ہے یا پھر انسانیت بھی ہے؟ میں صرف اس معیار کو سمجھنے کے لئے، اس معاشرے کا ظرف آزمانے کے لئے یہ گھر بنوانا چاہتا ہوں اور دیکھنا چاہتا ہوں کیا یہ معاشرہ اب بھی مجھے اپنی اسی حقیر نگاہوں سے دیکھے گا جس طرح پہلے دیکھتا رہا ہے، کیا یہ معاشرہ آج بھی اپنے بچوں سے کہے گا کہ اس کے گھر مت جانا اس کے ساتھ مت بیٹھنا، کیا یہ معاشرہ اب بھی میرا مذاق اڑائے گا جس طرح اڑاتا رہا ہے، کیا یہ معاشرہ آج بھی محفل سے میری کرسی چھین کر کسی صاحب حیثیت کو دے گا یا کسی کمزور کی کرسی چھین کر مجھے باعزت لوگوں میں شمار کرے گا، اماں بس لوگوں کا یہ ظرف دیکھنے کے لئے آج پہلی بار میں آپ کی کسی بات کو کاٹ رہا  ہوں ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا، میرا رب مجھ سے ناراض ہوا تو گڑگڑاکر اس سے معافی مانگ لونگا لیکن معاشرے کے اس ظرف کو ضرور آزماؤں گا۔

بیٹا اس طرح وہ میری ساری باتیں ٹھکرا کر یہ گھر بنوا لیا اور پھر میں نے بھی اس معاشرے کا ظرف دیکھا کہ آج جب باہر چائے جاتی ہے تو ایک کپ چائے اور پان کا بیڑا انکا بھی رہتا ہے جو کل تک میرے دروازے پر کھڑا ہونا تو دور وہاں سے گزرنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے، عام دنوں میں میری دہلیز پہ قدم رکھنا تو دور عید اور بقرعید کے موقعے پر رات کے اندھیرے میں بھی جو عورتیں میرے گھر آنے میں عار محسوس کرتی تھیں آج وہ دن کے اجالے میں میرے گھر آنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر تیں۔

اللہ مجھے معاف کرے میں یہ بات کہنا تو نہیں چاہتی تھی لیکن معاشرے کی یہی حقیقت اور یہی اسکا معیار ہے۔ آج دنیا دولت، شہرت، رتبے اور مرتبے کی قدر کرتی ہے انسانیت کی نہیں۔ با خدا میرے دل میں ذرہ برابر بھی کسی کے لئے کوئی میل نہیں، میں آج بھی سب سے اتنا ہی پیار کرتی ہوں جتنا پہلے، آج بھی اسی عاجزی و انکساری سے رہتی ہوں جیسے پہلے بلکہ اب تو اور زیادہ محتاط اور حساس ہوگئی ہوں کہ کوئی یہ نہ کہ دیں کہ افسری بدل گئی ہے، اس مختصر سی زندگی میں کیا بننا اور کیا بدلنا،

Please follow and like us:

Leave a Reply