لاہور پولیس جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے لئے پرُ عزم

Spread the love
صاحب مضمون

کرائم کنٹرول کرنے کے لئے جدیدمیکانزم اور اصلاحات متعارف جدید پولیسنگ پر مبنی اقدامات کی بدولت جرائم کی شرح میں 45فیصد کمی

تحریر: سید مبشر حسین

لاہورایک کروڑ دس لاکھ سے زائد آبادی کا شہر ہے جسکی آبادی اقوام متحدہ کے 122 رکن ممالک سے بھی زائد ہے۔ یہاں جرائم کی روک تھام اوران کا انسداد ایک بڑا چیلنج ہے جس کے لئے سائنسی بنیادوں پر استوارپولیس کا نظام اشد ضروری ہے۔گذشتہ سال الیکشن کا تھا چنانچہ اس وقت کی نگران حکومت کی تمام تر توجہ پرُ امن اور شفاف الیکشن کے انعقاد تک محدود تھی لہٰذا صوبہ کے دیگر محکموں کی طرح لاہور پولیس میں بھی انتظامی بنیادوں پر ٹرانسفرز پوسٹنگز عمل میں آئیں اور الیکشن کوشفاف بنانے کے لئے لاہور میں دیگر شہروں سے لائے گئے ایس ایچ اوز کوتھانو ں میں تعینات کیا گیا۔گذشتہ سال مئی سے ستمبر تک کے عرصہ میں شہر لاہور میں جرائم کی شرح میں نسبتاً اضافہ دیکھنے میں آیا۔تا ہم الیکشن کے پر امن انعقاد اور موجودہ حکومت کے قیام سے لے کر ابتک لاہور پولیس کی موثر حکمت عملی اور جدید میکانزم و انتظامی اصلاحات متعارف کروانے کے نتیجہ میں آج جرائم کی شرح میں واضح کمی دکھائی دے رہی ہے۔

اس کی ایک واضح وجہ وہ موثر اقدامات ہیں جو جرائم کنٹرول کرنے اور لاہور پولیس کو انتظامی حوالے سے بہتر بنانے کے لئے کئے گئے ہیں۔ جرائم کی روک تھام اور انسداد کے لئے اختیار کی گئی حکمت عملی کا اصل محور یہ جدید نظام وضع کرنا ہے تاکہ جرائم میں کمی کا ہدف مستقل بنیادوں پر حاصل کیا جا سکے اور لاہور کو خطے کا پر امن ترین میگا سٹی بنایا جا سکے۔کرائم کنٹرول کیلئے اقدامات کے پیش نظر سب سے پہلے لاہور شہر کے تمام تھانو ں کے جرائم کی شرح میں اتار چڑھاؤ کا حقیقی جائزہ لے کر مختلف کیٹیگریز بنائی گئی۔ اس مقصد کے لئے جدید آئی ٹی سہولیات کو بروئے کار لایا گیا۔ تجزیہ کے مطابق لاہور میں اے کیٹیگری کے35 تھانوں میں شہر کا 69فیصد کرائم سرزد ہوتا ہے،بی کیٹیگری کے 25تھانوں میں شہر کا 23فیصد جبکہ سی کیٹیگری کے 24تھانوں میں 08فیصد کرائم موجود ہے۔لہٰذا لاہور پولیس کی جانب سے مربوط حکمت عملی اپناتے اور حقیقت پسندانہ اقدامات کرتے ہوئے 69فیصد جرائم والے اے کیٹیگری کے 35 تھانوں میں نفری کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا گیا، کرائم بیٹس اور کرائم ہاٹ سپاٹس کی تشکیل نو کی گئی۔ جدید دنیا کی پولیسنگ کو سامنے رکھ کر ڈولفن سکواڈ اور پولیس رسپانس یونٹس کی ایک موثر کرائم فائٹنگ فورس کے طور پر تنظیم نو کی گئی ہے۔

ڈولفن سکواڈاور پولیس رسپانس یونٹس کی تعیناتیاں مخصوص اوقات میں زیادہ جرائم کی شرح والے علاقوں میں نئے سرے سے کی گئی ہیں۔ ان اقدامات کی مانیٹرنگ کی سہولت اب ہر ڈویژنل ایس پی کے آپریشن روم میں بھی میسر ہے۔ زیادہ کرائم شرح والے تھانوں کے ایس ایچ اوز اور سٹاف کو ہر قسم کی سکیورٹی اور لا اینڈ آرڈر ڈیوٹیوں سے مستثنیٰ قرار دیاگیا۔ ماڈرن پولیسنگ کے تحت آبادیوں اور جرائم کی شرح کو بنیاد بنا کرہر تھانے کی ضروریات کا حقیقی بنیادوں پرتعین کر کے وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں۔ تھانہ جات کو اضافی نفری، موٹر سائیکل و دیگر ضروری سازوسامان بھی دیا گیا ہے۔

باقاعدہ جرائم کے تجزیے کے بعد 03 ہزار اضافی نفری تھانوں کو دی گئی ہے جبکہ گشت کے لئے 400 موٹرسائیکل مزید دیئے جا رہے ہیں، 200 نئی بیٹس بنائی جا رہی ہیں تاکہ گشت کوموثر بنایا جا سکے اور کرائم کنٹرول ہو۔ لاہور پولیس کے سکیورٹی ڈویژن کو مزید مستحکم، مربوط، خود مختار اور زیادہ منظم و موثر بنایا گیا ہے۔ لا اینڈ آرڈر کے لئے سکیورٹی ونگ کو علیحدہ سے نفری فراہم کی گئی ہے۔ جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی کے لئے 150 سپیشل آپریشن ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ جرائم کی ایف آئی ار درج نہ کرنے کی حوصلہ شکنی کے لئے ریسکیو 15 کی کال کوکرائم میپنگ اور کارکردگی کا جائزہ لینے کی بنیاد بنایا گیا۔یاد رہے کہ لاہور میں 15 کی کالز پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے آئی سی تھری سیکشن میں موصول ہوتی ہیں اور ان کا تمام ڈیٹا خود کار نظام کے تحت مرتب ہوتا ہے۔ 15 کی کالز پر ایف آئی آر کے اندراج کو یقینی بنایا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ مستند اعداد شمار کے مطابق ایف آئی آرز کے انداراج میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ نومبر 2018 سے اس سال اب تک پراپرٹی سے متعلقہ کرائم میں ایف آئی آرز کی رجسٹریشن کی شرح 52 فیصد ہے۔ جس سے سائلین کی ایف آئی آرزدرج نہ ہونے کی دیرینہ شکایات کا خاتمہ بھی ممکن ہوا ہے۔ ستمبر2018 سے فروری 2019 تک بغیر نمونہ اور ممنوعہ نمبر پلیٹس والی موٹر سائیکلوں کو بڑی تعداد میں تھانوں میں بند کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکلوں کی چیکنگ کے نظام کو مزید موثر بنایاگیاہے۔ جولائی سے اکتوبر 2018 تک قانون کی خلاف ورزی پر اوسطاً 400 موٹر سائیکلوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی جبکہ دسمبر 2018 اور جنوری 2019 میں یہ شرح بڑھ کر 10 ہزار سے زائد تک پہنچ گئی۔ ناکوں پر اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف (AVLS) کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

عادی اور سنگین جرائم میں ملوث مجرمان ،اشتہاری ڈاکوؤں، موٹر سائیکل چوروں کو پکڑنے کے لئے 20 ہزار افراد پر مشتمل مفصل فہرستیں تشکیل دی گئیں ہیں جبکہ ٹاپ 700 مجرمان کی گرفتاری کے لئے بھی مربوط انتظامات کئے گئے ہیں۔ لاہور پولیس کے جدید اصلاحات پر مبنی اقدامات کی بدولت عمومی کرائم 45 فیصد جبکہ پراپرٹی کے خلاف ہونے والا کرائم کا گراف 23فیصد نیچے آیا ہے۔ گذشتہ سال اکتوبر سے دسمبر 2018 تک ڈکیتی کی وارداتوں میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اگست 2018 میں ڈکیتی کی 06 وارداتوں کے مقابلے میں فروری 2019 میں ڈکیتی کی صرف 03 وارداتیں ہوئیں۔ جبکہ اسی دورانیہ میں موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں 20فیصد کمی واقع ہوئی جو کہ 670فی مہینہ سے کم ہو کر فروری 2019 میں 559 رہ گئیں۔ اگست 2018 میں موٹر سائیکل چھیننے کی 58 وارداتوں کے مقابلے میں فروری 2019 میں موٹر سائیکل چھیننے کی 23 وارداتیں ہوئیں۔ یعنی اس جرم کی شرح میں بھی تقریباً 48فیصد کمی ہوئی۔ راہزنی کی وارداتوں میں اگست 2018 کی نسبت فروری 2019 میں کم و بیش 16 فیصد کمی اور جنوری 2019 کے دوران ڈکیتی کی وارداتوں میں 21 فیصد جبکہ موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں 16 فیصد کمی واقع ہوئی۔

تجزیاتی رپورٹ کے مطابق شہر کے زیادہ کرائم والے 35 تھانوں میں نومبر اور دسمبر 2018 میں جرائم کی شرح میں مجموعی طور پر 43 فیصد کمی واقع ہوئی۔ سٹی ڈویژن میں نومبر دسمبر میں جرائم کی شرح میں 29 فیصد، سول لائنز ڈویژن میں 32فیصد، ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں 59 فیصد، کینٹ ڈویژن میں 50 فیصد، اقبال ٹاؤن ڈویژن میں 23 فیصد جبکہ صدر ڈویژن میں 54 فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ تما م اعداد شمار پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے شعبہ آئی سی تھری میں موصولہ 15 کی کالز پر مبنی ہے جس کی رپورٹ کے مطابق لاہور شہر میں جرائم کے وقوع پذیر ہونے کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ پولیس کاردگی میں بہتری لانے کے لئے مختلف یونٹس کا انتظامی ڈھانچہ بھی مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

سنگین جرائم میں مطلوب اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لئے تھانوں کی سطح پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ سٹریٹ کرائم روکنے کے لئے ڈولفن اور پولیس رسپانس فورس کی کارکردگی میں بھی مزید بہتر ی لائی جا رہی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں گذشتہ سال ماہ نومبر اور دسمبر میں سٹریٹ کرائم میں 10 فیصد کمی جبکہ ٹاپ 30 کرائم ایریا ز کے سٹریٹ کرائم میں 12 فیصد کمی ہوئی۔ لاہور پولیس انتظامی سطح پر اصلاحات کے عمل سے بہتر کارکردگی کے ذریعے جان و مال کے تحفظ کے حوالہ سے عوامی توقعات پر پوراترنے کی حتی الاامکان کوشش کر رہی ہے۔

جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ جن میں سپیشل آپریشن ٹیموں کی تشکیل، عادی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن اور ان کی گرفتاری شامل ہے۔ تمام مہم کی نگرانی ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد وقاص نذیرذاتی طور پر کر رہے ہیں۔ ہر ماہ ڈویژن کی سطح پر کرائم میٹنگز باقاعدگی سے منعقد کر کے ایس ایچ اوز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے اور کارکردگی کی بنیاد پر جزا و سزا کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

ہر 15دن کے بعدتمام ایس پیز کی نگرانی میں جرائم کے انسداد کے لئے کی جانے والی حکمت عملی کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے ۔ سی سی پی او لاہور بی اے ناصر بھی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے باقاعدگی سے کرائم میٹنگز منعقد کرتے ہیں۔ لاہور پولیس کے امن و امان کے قیام اور جرائم کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات سے لاہور پولیس کی کارکردگی میں واضح بہتری آئی ہے۔شخصی کارکردگی کی بجائے ادارہ جاتی جدید نظام کے تحت جرائم کی بیخ کنی کے لئے مربوط حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ کرائم فائٹرز انسپکٹر کو تھانوں میں بطور مہتم تھانہ تعینات کیا گیا ہے۔ مختلف ونگز کو خود مختار بنایا جا رہا ہے تا کہ وہ ایک دوسرے پر انحصار کرنے کی بجائے آزادانہ زیادہ موثر انداز میں کارکردگی دکھائیں۔

شہر کے مختلف علاقوں میں 12 ماڈل تھانے بنائے جا رہے ہیں جہاں ایک ہی چھت تلے شہریوں کو تمام جدید سہولیات مہیا ہونگی۔ تھانہ نولکھا اور تھانہ بادامی باغ کی سٹیٹ آف دی آرٹ عمارات کو فنکشنل کیا جا چکا ہے۔ موبائل چوری کی روک تھام کے لئے جدید ایپ e-Gadgetسسٹم متعارف کروایا گیاہے۔ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کے لئے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں، انفارمیشن پول بنایا گیاتاکہ منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور ایکشن لیا جا سکے۔ لاہور پولیس نے ٹاپ 50 فیصد منشیات فروش بھی گرفتار کر لئے جن میں سے متعدد غیر ملکی ہیں، ان کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی عمارات کے قریب منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ 02 ماہ میں 02 کلو گرام آئس بھی پکڑی گئی ہے۔ 150 ایسے افراد جو تعلیمی اداروں کے قریب منشیات فروشی میں ملوث تھے، گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ لاہور پولیس منشیات کے مضراثرات بارے سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں کی انتظامیہ، اساتذہ، والدین اوربچوں کوآگاہی فراہم کر رہی ہے۔ لاہور پولیس کے افسران اور اہلکاروں کو شہریوں خاص طور پر سائلین اور ماتحتوں کے ساتھ بہتر رویہ اپنانے کی تلقین کی جا رہی ہے۔

بدسلوکی اور بد اخلاقی کرنے والے پولیس افسران اور ملازمین کے خلاف سخت اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ لاہور پولیس میں انٹرنیشنل سٹینڈرزکو لاگو کیا جا رہا ہے اورجدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر جرائم کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ شہر میں امن و امان کے قیام اور جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے لئے لاہور پولیس کی طرف سے کئے جانے والے ان موثر اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہونگے تاہم معاشرے میں امن کے قیام کے لئے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی اہم کردار ادا کرنا ہو گااور دشمن عناصر کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے ان پر کڑی نظر رکھنا ہو گی۔ اس حوالے سے شہریوں کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply